No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
”پھوپھو جان اِس سب میں صرف دل کا قصور نہیں ہے۔ ہم تینوں بھی اُس کے ساتھ تھیں۔ آپ اِسے اتنا کیوں ڈانٹ رہی ہیں۔“
سویرا رقیہ بیگم کو دل پر بُری طرح برستا دیکھ روہانسے لہجے میں بولی۔
”تم چپ کرو۔ اِسی نے ہی تم لوگوں کو ہر وقت اُلٹے سیدھے کاموں پر لگایا ہوتا ہے۔ تقی کے ساتھ بھی کتنی بدتمیزی کی ہے اِس نے۔ بالکل اپنی ماں پر گئی ہے۔ بے حیا بے شرم۔۔۔۔۔جیسے وہ بھاگ گئی ہے ویسے ہی اِس نے بھی ایک دن بھاگ جانا ہے۔ ہمارے منہ پر کالک مل کر۔ خبردار جو تم لوگ آئندہ مجھے اِس کے ساتھ نظر آئیں۔ تم لوگوں کے دماغ بھی خراب کردے گی۔ یہ آوارہ ماں کی آوارہ بیٹی۔“
رقیہ بیگم سویرا کے بولنے پر اُس کے بجائے واپس دل پر برسی تھیں۔ جو خاموشی سے سر جھکائے اُن کی ساری باتیں بے تاثر چہرے کے ساتھ سن رہی تھی۔ رقیہ بیگم کے اتنے سنگین الفاظ بھی اُس کی بے نیازی میں کوئی فرق نہیں لائے تھے۔ جو بات رقیہ بیگم کو زیادہ غصہ دلا دیتی تھی۔
وہ ہر بار دل آویز کو ہرٹ کرنے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے اُس کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی پر نجانے کیا کچھ نہیں کہتی تھیں۔ مگر اُس نے کبھی پلٹ کر جواب دینا تو دور کی بات یہ ظاہر تک نہیں کیا تھا کہ وہ اندر سے دکھی ہورہی ہے یا نہیں۔
”پھوپھو جان آپ اب زیادتی کررہی ہیں۔ بات کیا تھی اور آپ اُسے کہاں تک لے کر جارہی ہیں۔ دل نے تقی بھائی سے کوئی بدتمیزی نہیں کی۔ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ “
سویرا اُن کے ہتک آمیز لہجے پر خود کو کچھ بولنے سے روک نہیں پائی تھی۔ وہاں موجود لائبہ اور صوفیہ کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ تقی رقیہ بیگم کے قریب صوفے پر بڑے سکون سے بیٹھ کر دل کو بے عزت ہوتے دیکھ رہا تھا۔ جبکہ گھر کے باقی لوگ ڈرائنگ روم میں ہوتے اِس ڈرامے سے بے نیاز اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھے۔ یہ سب تو روز کا ہی معمول تھا۔ دل کی ہر روز کسی نہ کسی سے بے عزتی ہونا لازم تھی۔ آج رقیہ بیگم سے تو کل بڑی ممانی فاخرہ بیگم سے اور پرسوں کسی اور سے۔ بچپن سے یہ سب ہوتا آرہا تھا وہ اب عادی ہوچکی تھی۔ اُس کے لیے حیرت انگیز بات تب ہوتی تھی۔ جب کوئی ایک دن بنا بے عزت ہوئے گزر جاتا تھا۔
“میں زیادتی کررہی ہوں۔ شکل دیکھو زرا اِس لڑکی کی۔ زرا سی بھی ندامت ہے اِس کے چہرے پر۔ ہر بار غلطی کرکے ایسے کھڑی ہوجاتی ہے۔ جیسے اِس سے زیادہ معصوم اِس دنیا میں کوئی نہیں۔ مگر میں اِس دھوکے میں آکر اِس کی غلطی معاف نہیں کروں گی۔ اگلے دو دن نہ تم کالج جاؤ گی۔ نہ ہی تمہیں ایک وقت کے کھانے کے علاوہ کچھ ملے گا۔ وہ بھی ایک روٹی اور دال سے زیادہ کچھ نہیں۔ رشیدہ اِس کو اِس کے کمرے میں بند کرکے تالا لگا کر چابی مجھے دو۔ میں بھی دیکھتی ہوں۔ اِس تک کھانا کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ اِس بار عقل اِس لڑکی کی ٹھکانے نہ آئی تو میرا نام بھی رقیہ نہیں۔“
رقیہ بیگم سفاکیت کی انتہا کرتیں دل کی جانب حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی تھیں۔ جیسے اُس نے کوئی بہت ہی بڑا گناہ کردیا ہو۔
دل نے اُن کی اِس قدر نفرت پر سر اُٹھا کر اُن کی جانب دیکھا تھا۔ دل کے چہرے پر ہر وقت ایک شرارتی سی مسکراہٹ رہتی تھی۔ مگر اُس کی بھوری معصومیت سے لبریز خوبصورت گول مٹول آنکھوں میں ہر وقت ایک ویرانی سی چھائی رہتی تھی۔ جن میں کبھی بھی خوشی یا مسکراہٹ کی زرا سی جھلک بھی دیکھائی نہیں دیتی تھی۔ دل کا چہرا ہی اُس کا بھرم رکھے ہوئے تھا۔ جس کی ہنسی بھی اِس گھر کے بہت سارے لوگوں کو کھٹکتی تھی۔
” چپ کرو ڈفر تمہارے بولنے سے میری سزا میں اضافہ ہوجائے گا۔“
سویرا کو دوبارہ منہ کھولتا دیکھ دل نے اُسے کُہنی مارتے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی۔ اُس کی وجہ سے سویرا رقیہ بیگم سے بدتمیزی کرے۔
” خالہ امی کی دوائی اُس سیکنڈ نمبر والے دراز میں رکھی ہے۔ کھانے سے پہلے اُنہیں لازمی دینا۔ وہ اکثر بھول جاتی ہیں۔“
دل رشیدہ کے ساتھ دروازے کی جانب بڑھتے پلٹ کر سویرا کو نہایت عام سے لہجے میں ہدایت دیتی وہاں سے نکل گئی تھی۔ جبکہ رقیہ بیگم کو اُس کی یہ بات اُس کے لیے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے کے بجائے مزید آگ لگا گئی تھی۔
” دیکھا کیسے چھوٹی سی بات کا احسان جتا کر گئی ہے۔ اِس کو پال پوس کر بڑا کیا ہے ہم نے۔ آج تک اِس بات کا احسان نہیں جتایا۔ نکلی نا آخر ماں کی طرح خود غرض۔“
رقیہ بیگم جلتی کڑہتیں واپس اپنی کرسی پر جا بیٹھی تھیں۔ وہ تینوں افسوس بھری نظروں سے اُن کی جانب دیکھتیں باہر نکل گئی تھیں۔ قصور اُن کا بھی اُتنا ہی تھا۔ مگر اُن سے کسی نے پوچھا تک نہیں تھا۔ اور دل کو اتنی بڑی سزا سنا دی گئی تھی۔
★★★★★★★
” صبا آپ چلی جائیں آپ کو دیر ہورہی ہے۔ میرا بس تھوڑا سا کام رہ گیا ہے۔ میں کچھ دیر میں نکلتی ہوں۔“
سُلین اپنی سیکرٹری صبا کو جانے کا کہتی واپس فائل پر جھک گئی تھی۔ ریسٹورنٹ کی ٹائمنگ ختم ہوچکی تھی۔ مگر وہ کچھ دنوں بعد یہاں ہونے والے ایک سیمینار کے حوالے سے کام کررہی تھی۔ یہ فنکشن بہت بڑے پیمانے پر ارینج کیا جانا تھا۔ اِس لیے سُلین آج کل کافی زیادہ مصروف تھی۔
” صبا باقی سب چلے گئے نا۔“
سُلین نے کسی خیال کے تحت اُسے پکارا تھا۔
”یس میم باقی سب تو چلے گئے۔ مگر قاسم سر ابھی یہیں موجود ہیں۔“
دروازے کے قریب پہنچتے صبا نے پلٹ کر جواب دیا تھا۔ جسے سن کر سُلین گہری سانس بھر کر رہ گئی تھی۔
”اُنہیں میرے آفس میں بھیج دیں۔“
سُلین کی بات پر صبا سر ہلاتے باہر نکل گئی تھی۔
“یس میم آپ نے بلایا مجھے۔“
اگلے پانچ منٹ میں قاسم سر جھکائے اُس کے سامنے موجود تھا۔
”آف ٹائم سے ایک گھنٹہ اُوپر ہوچکا ہے۔ آپ گئے کیوں نہیں ابھی تک۔“
سُلین کرسی کی پشت سے کمر ٹکاتی قاسم کو گھورتے ہوئے بولی۔ اُس کے نہ جانے کی وجہ سے وہ اچھی طرح واقف تھی۔ مگر پھر بھی پوچھنا ضروری سمجھا تھا۔
”میم کافی دیر ہوچکی ہے۔ یہاں پر صرف ایک چوکیدار ہی موجود ہے۔ مجھے جانا مناسب نہیں لگا۔“
ہاتھ باندھے سر جھکائے وہ نہایت مؤدبانہ لہجے میں مخاطب تھا۔ اُس کی بات سن کر سُلین اُسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔ شاید اِس وقت دنیا میں یہ واحد شخص ہی تھا۔ جسے اُس کی اتنی فکر تھی۔ مگر سُلین یہ سب نہیں چاہتی تھی۔
” مگر میں کہہ رہی ہوں۔ آپ جاسکتے ہیں۔آپ کی ڈیوٹی ختم ہوچکی ہے۔ میرے لیے ڈرائیور موجود ہے۔“
سُلین کا لہجہ ہنوز تھا۔
” اوکے میم۔۔۔۔“
سُلین کی بات کا انکار کرنا قاسم علی نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ وہ ایک نظر اُس کی جانب دیکھ کر اثبات میں سر ہلاتا باہر نکل گیا تھا۔
اُس کے جاتے ہی سُلین فائل بند کرتی چیئر کی پشت پر سر ٹکاتی آنکھیں موند گئی تھی۔
اچانک زندگی نے اُسے بالکل اکیلا کردیا تھا۔ اُس کا سب سے اہم رشتہ اُس کے بابا اُس کے پاس ہوتے ہوئے بھی نہیں تھے۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اُس کے دوپٹے میں جذب ہوا تھا۔
اپنا پرس اُٹھاتی وہ باہر نکل آئی تھی۔ قاسم کا آفس خالی دیکھ سُلین کو زیادہ حیرانی نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ پورچ میں اپنی گاڑی کی جانب بڑھتے سُلین کی نظر کچھ فاصلے پر کھڑی قاسم کی گاڑی پر پڑی تھی۔ جس کے بند شیشے دیکھ کر بھی سُلین اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ اندر اُسی کے انتظار میں بیٹھا ہے۔
★★★★★★★
” یار آخر ہمیشہ دل کے ساتھ سب بڑے اتنا غلط کیوں کرتے ہیں۔ نفیسہ پھوپھو نے جو بھی کیا۔ اُس کی سزا دل کو کیوں دی جارہی ہے۔ وہ بھوک کی اتنی کچی ہے۔ چار گھنٹے ہوچکے ہیں اُس نے کچھ نہیں کھایا۔ اب کیا کریں ہم۔“
صوفیہ نم آنکھوں سے اُن دونوں کی پریشان صورت دیکھتے ہوئے بولی۔ اُنہوں نے بھی سب کے بلانے کے باوجود ڈنر نہیں کیا تھا۔
” سب سے کتنا پیار کرتی ہے وہ۔ کتنا خیال رکھتی ہے۔ اگر تھوڑی شرارتی ہے تو ہم بھی اُس کے برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اتنی بڑی سزا بھلا کونسے گھر والے دیتے ہیں۔ “
لائبہ کمرے میں مسلسل چکر کاٹتے بے چینی سے بولی تھی۔ وہ چاروں ہم عمر ہونے کی وجہ سے آپس میں بہت کلوز تھیں۔ ایک پل بھی اُن کا ایک دوسرے کے بغیر گزارا ممکن نہیں تھا۔ دل آویز اُن کو بہت عزیز تھی۔ ہمیشہ اُس کی خاطر وہ تینوں ہی اپنے گھر والوں سے لڑتی آئی تھیں۔
ابھی وہ اِسی سوگ میں گم تھیں۔ جب ٹیرس سے آنے والی زور دار آواز پر وہ تینوں دہل گئی تھیں۔
“یہ کیسی آواز ہے۔“
سویرا حیرت زدہ سی ٹیرس کی جانب بڑھی تھی۔ وہ دونوں بھی متجسس سی اُس کے پیچھے گئی تھیں۔ مگر ٹیرس کا نظارہ دیکھ اُن تینوں کا منہ کُھل چکا تھا۔ دل زمین پر بیٹھی اپنی ہتھیلیاں سہلا رہی تھی۔
” تم ۔۔۔۔۔۔تم کہاں سے آئی۔۔۔“
وہ تینوں آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہی تھیں۔
”آسمان سے ٹپکی ہوں۔۔۔۔۔ظاہر سی بات ہے یار اپنے ٹیرس سے ہی کود کر یہاں آئی ہوں۔ مجھے اُٹھاؤ اور جلدی سے اپنے روم کا دروازہ بند کرو۔ “
دل اُن کو ہونق بنا دیکھ گھور کر بولی تھی۔ جب ہوش میں آتے صوفیہ جلدی سے دروازے کی جانب بڑھی تھی۔ دونوں کمروں کے ٹیرس کے درمیان دو فٹ کا فاصلہ تھا۔ جسے عبور کرنا دل آویز کے لیے زیادہ بڑی بات نہیں تھی۔
“تم لوگ رو رہی تھی۔“
دل اُن کی اُتری صورتیں دیکھ ہنستے ہوئے بولی تھی۔
”تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔ پھوپھو بالکل ٹھیک کہتی ہیں۔ تم سے بڑا ڈھیٹ اِس پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے۔“
اُس کے مذاق اُڑانے پر لائبہ جل کر بولی تھی۔ دل کو ہنستا مسکراتا اپنے سامنے دیکھ اُن کی پریشانی اُڑن چھو ہوچکی تھی۔
“مجھے اپنی ڈھیٹائی پر فخر ہے۔ اب اِس سب کو چھوڑو اور میری کیریاں نکالو۔ “
دل کو اِس وقت بھی صرف اپنی کیریوں کی ٹینشن تھی۔ وہ سب اُس کا وہی بے فکری بھرا انداز دیکھ مسکرا دی تھیں۔ دل آویز کی زندہ دلی سے وہ سب ہی بہت متاثر تھیں۔ اُن کے مطابق اگر اُن میں سے کسی کو صبح شام ایسی باتیں برداشت کرنی پڑتیں تو وہ نجانے کیا کرچکی ہوتیں۔ مگر دل اِس سب کے باوجود نہ صرف خود ہر وقت ہنستی رہتی تھی۔ بلکہ اُنہیں بھی ہنساتی رہتی تھی۔
”واؤ مزا آگیا۔۔۔۔“
کیریوں سے لطف اندوز ہوتے وہ کھلکھلاتے چہرے سے بولی تھی۔
ابھی وہ اِس طرف سے فارغ ہوئی ہی تھیں۔ جب دروازے پر ہونے والی دستک نے اُن سب کے ہوش اُڑا دیئے تھے۔
” اوہ نو۔ کہیں پھوپھو کو پتا تو نہیں چل گیا تم یہاں ہو۔“
صوفیہ فق ہوتے چہرے سے بولتی اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔
“نہیں چلا ہوگا پتا۔ تم لوگوں نے کھانا نہیں کھایا نا۔ اِس لیے ٹینشن ہوگی سب کو۔ اب جو بھی دینے آیا چپ کرکے لے لینا۔“
دل پردے کے پیچھے چھپتی اُنہیں ہدایت دیتے بولی۔
” ہونہہ تمہیں ہفتہ ہفتہ بھوکا رکھ سکتے ہیں۔ اور ہمارے ایک ٹائم کا کھانا نہ کھانے سے اتنی پرابلم ہورہی ہے۔“
سویرا اپنے گھر والوں کے اِس دوغلے پن پر بڑبڑاتی دروازہ کھول گئی تھی۔
” آپی آپ۔۔۔۔۔۔“
سویرا دروازے کے عین درمیان میں کھڑے ہوتے نرمین کو کھانے کی ٹرے پکڑے دیکھ باقی سب کو بھی سنانے کے لیے زرا اُونچی آواز میں بولی۔
” ہٹو آگے سے۔ یہ کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے تم لوگوں نے۔ کھانا سے مسلسل کیوں انکار کررہی ہو۔“
نرمین اُسے خوشمگی نظروں سے گھورتی پرے دھکیلتی اندر داخل ہوئی تھی۔
” کیونکہ دل کو پھوپھو نے بلاوجہ کمرے میں بند کررکھا ہے۔ اور کھانا بھی نہیں دے رہیں۔ تو اِس لیے ہمییں بھی نہیں کھانا۔“
لائبہ منہ پھلائے ناراضگی سے بولی تھی۔
” جیسے دل میڈم کمرے میں بند ہیں۔ ویسے ہی تم لوگ بھی کھانا کھا لو۔ کسی کو تمہاری یہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا نہیں بتاؤں گی۔“
نرمین ہلتے پردے کو دیکھتی طنزیا لہجے میں بولی۔
”کیا مطلب آپی۔ اور آپ یہ چار لوگوں کا کھانا کیوں لائی ہیں۔“
صوفیہ نرمین کے چہرے کے تاثرات دیکھ سوالیہ لہجے میں بولی۔
” بڑی بہن ہوں تم لوگوں کی۔ رگ رگ سے واقف ہوں۔ تم تو باہر نکلو شرارتی بندریا۔“
نرمین دل کو کان سے پکڑ کر پردے کے پیچھے سے نکالتے ہوئے بولی۔ نرمین ڈوپلیکیٹ کیز لے کر پہلے اُس کے کمرے میں ہی اُسے کھانا دینے گئی تھی۔ جسے وہاں نہ پاکر وہ سارا معاملہ سمجھ گئی تھی۔
”اُوئی۔۔۔۔آپی درد ہورہا ہے۔ اُتارنے کا ارادہ ہے کیا۔ بنا کان کے کتنی بُری لگوں گی میں۔“
دل اپنا کان چھڑواتے چلائی تھی۔ اُس کی ایکٹنگ پر باقی سب کے چہروں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
” میں جانتی تھی۔ میری پیاری آپا مجھے بھوکا نہیں رہنے دیں گی۔ یہ پاگل ایسے ہی بھوک ہڑتال کرکے بیٹھی ہیں۔ شکر ہے آپ کھانا لے آئیں۔ اب تو چوہے پیٹ میں اودھم مچا رہے تھے۔“
دل نرمین کا گال چومتی کھانے کے قریب جا بیٹھی تھی۔
اُن چاروں کو ندیدوں کی طرح کھانے پر ٹوٹتا دیکھ نرمین مسکراتی باہر نکل گئی تھی۔
” تم جانتی ہو پرسوں سفیان بھائی آرہے ہیں۔“
سویرا کی بات پر دل کا منہ کی جانب نوالہ لے جاتا ہاتھ وہی رُکا تھا۔ چہرے پر خوبصورت سے رنگ بکھرے تھے۔
”واقعی۔ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔“
دل فوراً کھانے سے ہاتھ روکتی ایکسائیٹڈ ہوتے بولی۔
”دیکھو سفیان بھائی کا نام سنتے ہی کیسے اِس کے چہرے کا بلب روشن ہوا ہے۔ اُنہی کی آمد کی وجہ سے ہی۔ تمہیں صرف دو دن کے لیے نظر بند کیا گیا ہے۔ ورنہ بقول پھوپھو جان کے جتنی بڑی غلطی کی ہے تم نے۔ تمہیں ہفتے کے لیے سزا ملنی چاہئے تھی۔“
لائبہ اُس کی خوشی دیکھ چھیڑتے ہوئے بولی۔
مگر دل کا دھیان ہی کہاں تھا اب اُس کی باتوں کی جانب۔ اُس کی خوشی کا تو لیول ہی بدل گیا تھا۔ پورے دو مہینے بعد سفیان واپس لوٹ رہا تھا۔ جاتے ہوئے سفیان نے اُس سے وعدہ کیا تھا۔ اِس بار وہ ضرور گھر والوں سے اُن دونوں کے بارے میں بات کرے گا۔ دل آویز کو اُمید تھی۔ وہ ہر بات کی طرح یہ بات بھی گھر والوں سے منوا لے گا۔
★★★★★★★★
“زندگی بھی انسان کے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیل جاتی ہے۔ کبھی نہیں سوچا تھا۔ کہ ایم بی بی ایس کے فائنل ایئر میں پہنچنے کے بعد میرے ہاتھ میں ڈگری کی جگہ ہتھکڑیاں پہنا دی جائیں گی۔“
آصف یاسیت بھرے لہجے میں بولا تھا۔ آج پھر اُس پر اُداسی کا دورہ پڑا ہوا تھا۔
” تو تمہیں کہا کس نے تھا.زندگی اور دنیا والوں سے اتنی اُمیدیں وابستہ کرنے کو۔ دونوں ہی اِس کائنات کی سب سے زیادہ بے وفا چیزیں ہیں۔ انسان کو چاہیے اِس معاشرے میں رہنے کے لیے خود کو ایسا پتھر بنا لے کہ کسی کے ہونے نہ ہونے سے فرق ہی نہ پڑے۔ اور نہ ہی کسی قسم کے خواب و خواہشیں رکھنی چاہئیں۔ ہر کی تکلیف سے بچنے کا آسان حل ہے۔“
ابتہاج کے گھمبیر بے حسی بھرے لہجے پر وہ تینوں اُس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔ اتنے سالوں میں پہلی بار اُس نے اپنی سوچ واضح کی تھی۔
”ہر انسان تم جیسا پتھر دل تو نہیں ہوسکتا نا۔“
اُس کے الفاظ پر شایان نے کھوجتی نظروں سے اُس کا چہرا پڑھنے کی کوشش کرتے دل کا حال جاننا چاہا تھا۔
”ٹھیک کہا۔ اِس مقام تک پہنچنے کے لیے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے۔ جو ہر ایک کے دل گردے کا کام نہیں۔“
ابتہاج لغاری کی آنکھوں میں وہی تلخ مسکراہٹ اُبھری تھی۔ جو مقابل کو خوفزدہ کرکے رکھ دیتی تھی۔
”ابتہاج لغاری کل کوٹ میں پیشی ہے تمہاری۔ مبارک ہو تمہاری بقیہ سزا تقریباً معاف ہوچکی ہے۔ کچھ دنوں تک تم اِن سلاخوں سے آزاد ہوجاؤ گے۔“
جیلر کی اطلاع پر وہ سب اُس کی جانب متوجہ ہوئے تھے۔ سب کے چہرے خوشی سے جگمگا اُٹھے تھے۔ اُن میں سے کسی کو تو رہائی نصیب ہورہی تھی۔ مگر ابتہاج پتھریلے تاثرات سمیت سلاخوں کے قریب جیلر کے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔
” کس نے کیا ہے یہ سب۔“
لب بھینچے وہ بھسم کرتے لہجے میں بولا تھا۔ اپنے گھر والوں کا احسان وہ مر کے بھی نہیں لینا چاہتا تھا۔
” میں نے۔ کیا مجھ پر بھی اعتراض ہے تمہیں۔“
جانی پہچانی آواز پر ابتہاج نے نظریں گھما کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ جہاں کھڑے شخص کو دیکھ اُس کے چہرے پر موجود غصہ غائب ہوا تھا۔
” پاشا تم۔۔۔تو تم نے اپنا کہا پورا کردیکھایا۔“
ابتہاج اُس کی جانب سے بڑھایا گیا ہاتھ تھامتے اب اپنی پہلے والے انداز میں واپس آچکا تھا۔
”پاشا کیسے باہر سکون سے رہ سکتا تھا۔ جب اُس کا یار اِس قید میں بند ہو۔ بس ایک دو دنوں کی بات ہے۔پھر تمہیں اِن سلاخوں کے بغیر گلے لگا سکوں گا۔“
پاشا کے لہجے میں ابتہاج کے لیے بے پناہ پیار تھا۔ کوئی یقین نہیں کرسکتا تھا۔ کہ اتنا بڑا گینگ لیڈر نمبر ون غنڈہ کسی کے لیے ایسے جذبات بھی رکھ سکتا ہے۔
پاشا ابتہاج کے ساتھ دو سال یہاں قید رہا تھا۔ پاشا کو کوٹ سے پیشی کے بعد واپسی پر ایک پلاننگ کے تحت مارنے کی سازش کی گئی تھی۔ جو اُس کی خوش قسمتی سے ابتہاج نے پولیس والوں کو باتیں کرتے سن لیا تھا۔ ابتہاج کی مدد اور اپنی حاضر دماغی کی وجہ سے پاشا اُن کی ہی پلاننگ کا فائدہ اُٹھاتے وہاں سے فرار ہوگیا تھا۔ پولیس والے اور باقی سب یہی سمجھے تھے۔ تصادم کے دوران گاڑی کھائی میں گرنے کی وجہ سے پاشا مر چکا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ زندہ تھا۔ اور آج بھیس بدل کر ابتہاج سے ملنے آیا ہوا تھا۔ اُس کی کوششوں کی وجہ سے ہی ابتہاج کی مزید چودہ سال کی سزا معاف ہوگئی تھی۔
”تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھا۔ خطرہ ہوسکتا ہے تمہارے لیے۔“
ابتہاج کا فکرمند لہجہ بھی اپنے اندر ایک سختی سمیٹے ہوئے تھا۔
”تمہاری وجہ سے ہی تو یہ دوسری زندگی ملی ہے۔ تم پر تو پاشا کا سب کچھ قربان ہے۔“
پاشا درمیانی عمر کا سانولی رنگت کا مالک تھا۔ ابتہاج کی سحر انگیز شخصیت سے وہ ہمیشہ مرعوب نظر آتا تھا۔
” احسان اُتارنا چاہتے ہو۔“
ابتہاج اُس کی جانب طنزیا نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولا تھا۔
” بھائیوں میں کیسا احسان۔ ایک پل میں پرایا کردیا تم نے۔ “
پاشا اُس کے اجنبی لہجے پر خفا ہوا تھا۔ مگر پھر خود ہی سنبھل گیا تھا۔ وہ ابتہاج لغاری کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھا۔ جو بات ہی ایسے کرتا تھا جیسے پتھر کھینچ مارا ہو۔ اِس لیے اُس کی باتوں کا بُرا مان کر بھی کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اُسے کونسا فرق پڑنا تھا۔
★★★★★★★★
”کیا ہوا۔ اندر سب ٹھیک ہے۔ یہ سب اتنے پریشان کیوں ہیں۔“
سب بڑوں کو پریشان حال ڈرائنگ روم میں جمع دیکھ وہ آپس ميں استفسار کرتیں حیرت سے گویا ہوئی تھیں۔
”کوئی سیریس معاملہ ہی لگ رہا ہے۔ ورنہ سارے مرد اِس طرح دن کے وقت تو کبھی گھر نہیں آئے۔“
دل سویرا کے ساتھ جڑ کر کھڑکی سے کان لگاتے سرگوشی میں بولی تھی۔
”ایسے کیسے ہوسکتا ہے بھلا۔ ہمارا کاروبار تو اچھا جارہا تھا نا۔ پھر اچانک یہ سب کیسے ہوا۔“
فاخرہ بیگم کی پریشانی میں ڈوبی آواز ڈرائنگ روم میں گونجی تھی۔
“پچھلے دو سال سے ہماری یہ دونوں فیکٹریاں مسلسل خسارے میں جارہی ہیں۔ گھر میں سب پریشان نہ ہوں۔ اِس لیے کبھی اِس بات کا ذکر نہیں کیا۔ چھے مہینے پہلے ہی حالات کافی بگڑ گئے تھے۔ جس کی وجہ سے فیکٹری گروی رکھوا کر رقم لی تھی۔ مگر اُس کی مدت بھی اب ختم ہوچکی ہے۔ اب وہی کمپنی مالکان ہم سے سارے واجبات ادا نہ کرنے پر فیکٹری خالی کروانے کی بات کررہے ہیں۔“
تنویر صاحب کے تھکے تھکے انداز میں کہی جانے والی بات پر ڈرائنگ روم میں سناٹا سا چھا گیا تھا۔
”کس کے پاس گروی رکھوائی تھی آپ نے یہ فیکٹریاں۔ ہم اُن سے کچھ مہنیوں کی مزید مہلت بھی تو مانگ سکتے ہیں نا۔“
سفیان اپنے باپ کو پریشان دیکھ تجویز پیش کرتے بولا تھا۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی لوٹا تھا۔ اِس پریشانی نے اُس سمیت پورے گھر والوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
” زورین شاہ ملک کا نامور بزنس مین۔ کافی اصول پسند اور سخت گیر قسم کا بندہ ہے۔ اگر ایک بار فیصلہ کرلے۔ تو اُس سے کچھ منوانا ناممکن سی بات ہے۔ میں نے اُوپر کے کچھ جان پہچان والے لوگوں کے تھرو بات کرنے کی کوشش کی ہے اُس سے۔ مگر وہ کسی کی بات ہی سننے کو تیار نہیں ہے۔“
تنویر صاحب پیشانی مسلتے بے بسی کی انتہا پر تھے۔ اُنہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کیا کرنا چاہیے۔ کیسے وہ اپنے پورے خاندان کو سڑک پر آنے سے بچا سکتے تھے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
