Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
۔
” میڈم عفت میری گڑیا کو تو بہت سخت بخار ہے۔ اِس کو میڈیسن کیوں نہیں دی گئی۔ یہ کتنی ویک ہوگئی ہے.“
ابتہاج ایک بہت ہی کیوٹ سی لڑکی کو گود میں اُٹھائے کافی برہم لگا تھا۔ میڈم عفت اُس کے بگڑنے پر گھبراتی فوراً اُس جانب بڑھی تھیں۔
سُلین وہی پلر سے ٹیک لگائے کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔ دراز قد، مضبوط جسامت، چوڑی پیشانی والا وہ شخص شکل سے ہی کافی مغرور لگتا تھا۔
مگر جس طرح سے وہ اپنے سے منسلک لوگوں کی کیئر کرتا تھا۔ سُلین کو محسوس ہونے لگا تھا۔ کہ اُس نے ابتہاج پر شک کرکے بہت غلط کیا۔ ابتہاج نے تو ہمیشہ اُس کی مدد کی تھی۔ اُسے ہر بار مصیبت سے بچایا تھا۔ اُس کے ریسٹورنٹ کی رپوٹیشن کو خیال رکھا تھا۔
سُلین کو اُس لمحے اپنی سوچ پر پچھتاوا ہونے لگا تھا۔ یہ شخص نفرت کے نہیں چاہے جانے کے قابل تھا۔ سُلین مبہوت سی یک ٹک اُسے دیکھے گئی تھی۔ اُس کی نظروں کا احساس ہی تھا۔ جب اُس بچی کو کسی ٹیچر کے حوالے کرتے اُس نے نظریں موڑ کر سُلین کی جانب دیکھا تھا۔
مگر سُلین اُس کی وجیہہ شخصیت کے سحر میں کھوئی۔ اُس کا اپنی جانب متوجہ ہونا نہیں دیکھ پائی تھی۔
ابتہاج نے اُنہیں بچوں میں گھرے اُسے ایک خوبصورت سی پیار بھری سمائل پاس کی تھی۔ جس نے سُلین کی رہی سہی کسر بھی پوری کردی تھی۔ یہ شخص مسکراتا ہوا کس قدر خوبصورت لگتا تھا۔ وہ بیان نہیں کر سکتی تھی۔
بچوں کو کلاسز کی جانب روانہ کرتے ابتہاج اُس کے قریب آیا تھا۔
“کیا ہوا۔ “
ابتہاج نے اُس کے ہونٹوں پر رینگتی مسکراہٹ دیکھتے سوال کیا تھا۔
“یہ سارے بچے ہیں آپ کے۔ آپ اِن کی بات کررہے تھے۔“
سُلین نے اُسے خفگی بھری نظروں سے دیکھا تھا۔ جس نے باہر اُس کی کنفیوژن کلیئر کرنے کے بجائے اُس کے تاثرات سے لُطف اُٹھایا تھا۔
“ہاں۔ یہ سب میرے بچے ہی ہیں۔ ویسے تمہیں کیا لگا تھا۔ میں پہلے سے شادی شدہ ہوں۔“
ابتہاج اُس کی کہی بات کو دوہراتے محظوظ ہوا تھا۔
“ہو بھی سکتے ہیں۔ آپ کی پُر اسرار شخصیت کی کچھ سمجھ نہیں آتی مجھے تو۔ “
سُلین کو ٹھنڈ محسوس ہورہی تھی۔ اُس کے پاس ایک پتلے سے دوپٹے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ اُس کو ہولے ہولے کپکپاتا دیکھ ابتہاج نے ملازمہ کو اشارہ کیا تھا۔ اگلے چند سیکنڈز بعد ملازمہ ہاتھ میں ایک گرم شال لیے حاضر ہوئی تھی۔
“تم جاننا چاہتی ہو مجھے۔“
ابتہاج اُس کے گرد شال اوڑھاتا اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا تھا۔
” ہاں جاننا چاہتی ہوں۔ آپ کے بارے میں سب کچھ۔ آپ اتنے سرد مہر کیوں ہیں۔ آپ کی فیملی کہاں ہیں۔ اکیلے کیوں رہتے ہیں آپ۔ اور وہ لڑکی جو اُس دن آئی تھی۔ وہ کون تھی۔ کیا رشتہ ہے آپ کا اُس سے۔“
سُلین ایک ہی سانس میں سب بول گئی تھی۔
جب اُس کا دل ابتہاج کے حق میں اُس سے بغاوت کر ہی گیا تھا۔ تو وہ اُس کے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں یہ ویرانی کیسی تھی۔
” میں شروع سے ایسا ہی ہوں۔ ہنسنا بہت کم سیکھا ہے میں نے۔ کیونکہ لائف میں کوئی ایسا انسان یا ایسی وجہ ہی نہیں رہی کہ میں ہنستا خوش رہتا۔ اور رہی بات فیملی کی تو میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں۔ میرے پیرنٹس کی ڈیتھ ہوچکی ہیں۔ میرا اِس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔“
آج اتنے ٹائم بعد ابتہاج شاید ہی کسی سے اپنی فیملی کے بارے میں ڈسکس کررہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں ہلکورے لیتے دُکھ کے ساتھ ساتھ ایک وحشت سی چھائی ہوئی تھی۔
اُس کے بارے میں سن کر سُلین کو دل سے افسوس ہوا تھا۔ پرنٹس کے بغیر لائف گزارنا کس قدر مشکل تھا۔ یہ بات بھلا اُس سے بہتر کون جان سکتا تھا۔
“آئم سوری۔ مجھے یہاں یہ سب نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔ آپ اتنے خوش تھے۔ میں نے آپ کو سیڈ کردیا۔“
سُلین اُس کو واپس کچھ دیر پہلے والے رُوپ میں دیکھنا چاہتی تھی۔ اُسے ابتہاج کی آنکھوں میں اُبھرتی وحشت سے ڈر لگتا تھا۔
”تم واپس مجھے خوش کر دو۔ تم ہی واحد انسان ہو جو ایسا کرسکتی ہو۔“
ابتہاج نے اُسے شال اُوڑھانے کے ساتھ ہی اپنے بازو کے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ یہ بات کہتے وہ ہلکا سا اُس کی جانب جھکا تھا۔
”ابتہاج لغاری آپ سرد مہر زیادہ بہتر ہیں۔ پلیز دور رہیئے مجھ سے۔“
سُلین نے اُس کے سینے پر بازو رکھتے خود سے دور کیا تھا۔ یہ شخص ہر رُوپ میں اُس کی سمجھ سے باہر تھا۔
“اتنے ٹائم سے دور ہی تو رکھا ہوا ہے خود کو۔ جس دن قریب آؤں گا۔ تمہاری یہ کمزور مزاحمت تمہیں مجھ سے بچا نہیں پائے گی۔ آٹھ سال دور رہنے کے لیے کم نہیں ہوتے۔“
ابتہاج اُس کا گال چومتا آخری جملہ زیرِلب بڑبڑاتا اُس کا ہاتھ تھامے اندر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ جبکہ سُلین ہر بار اُس کے اِس شدت بھرے لمس پر جی جان سے لرز اُٹھتی تھی۔
ابتہاج کے آخری الفاظ اُسے سمجھ نہیں آئے تھے۔ اُس کے لمس نے سُلین کو کچھ اور سمجھنے کا موقع ہی کہاں دیا تھا۔
ابتہاج کے مضبوط گرفت میں اپنا ہاتھ دیکھ اُس کے ہونٹ آپ ہی آپ مسکرا دیئے تھے۔ اُسے ابتہاج کا یوں اُس کا ہاتھ تھام کر چلنا اچھا لگنے لگا تھا۔
ابتہاج سُلین کی بدلتی نظریں اچھی طرح نوٹ کررہا تھا۔ جو کہ اُس کے لیے نہایت خوش کن تھا۔
سُلین حبیب ہمیشہ سے اُس کی تھی۔ اور آگے بھی اُسی کا رہنا تھا۔ اپنے دشمنوں کے ارادے ناکام بنانے کا اُس کا عزم مزید مضبوط ہوچکا تھا۔
★★★★★★★★★
” واٹ دا ہیل۔ یہ سب کیا ہے۔ سر پر چوٹ لگنے سے پاگل تو نہیں ہوگئی تم۔“
زورین روم میں قدم رکھتے ہی چیخ پڑا تھا۔ دل اپنے ڈھیروں کی تعداد میں کپڑے اُس کے بیڈ پر پھیلائے اُنہیں گھورتی نجانے کیا کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اُس کے ایک دم چلا کر پوچھنے پر وہ ڈر کے مارے دو قدم پیچھے اُچھلی تھی۔
” سر پر چوٹ میرے لگی ہے۔ مگر لگتا ہے دیکھائی دینا آپ کو بند ہوگیا ہے۔ کپڑے ہیں یہ۔ “
وہ تڑخ کر جواب دیتی واپس اپنے کام میں مصروف ہوگئی تھی۔ زورین نے ایک نظر اُس کی ماتھے پر لگی بینڈیج کی جانب دیکھا تھا۔ جو اُس کی ہی کی ہوئی تھی۔ دل نے ڈاکٹر کے پاس جانے کی زحمت نہیں کی تھی۔
“میں نے پوچھا ہے آدھی رات کو اِن سب کو بیڈ پر کیوں پھیلا رکھا ہے۔ یہ بیڈ سونے کے لیے ہیں تمہارے کپڑوں کے لیے نہیں۔ ایک منٹ کے اندر خالی کرو اِسے۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔“
زورین اُس کی جانب جارحانہ تیور لیے بڑھتا اُس کو لمحہ بھر کے لیے سہما گیا تھا۔ مگر وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی۔
“مجھے یہ سارے کپڑے پریس کرکے اپنی کبڈ میں سیٹ کرنے ہیں۔ آپ ایک سائیڈ پر جگہ بنا کر سوجائیں۔ مجھے میرا کام کرنے دیں۔“
دل اُس کی دھمکی کو سیریس لیے بغیر اپنے کام میں مصروف ہوئی تھی۔ جبکہ زورین اُس کے اِس ضدی انداز پر مزید سیخ پا ہوگیا تھا۔
“تم سمجھتی کیا ہو خود کو۔ یہ میرا روم اور میرا بیڈ ہے۔ تم یہاں کی کسی بھی چیز پر کوئی حق نہیں رکھتی۔“
زورین دل کی کلائی سختی سے تھام کر اُس کا رُخ اپنے جانب موڑتا غصے سے اُبلتے دماغ کے ساتھ گویا ہوا تھا۔
اُس کے سخت ترین الفاظ پر دل کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔ جسے پلکیں جھپک کر اندر اُتارتے اُس نے زورین سے پوشیدہ رکھی تھی۔
“مجھے آپ سمیت کسی چیز پر حق چاہیئے بھی نہیں مسٹر زورین شاہ۔ مگر میری بدقسمتی ہے کہ مجھے یہیں اِسی روم میں آپ کے ساتھ رہنا ہے۔ اور یہاں لانے والے آپ ہیں مجھے۔ اِس لیے چاہے جیسے بھی سہی برداشت تو اب کرنا ہی ہوگا۔“
دل اُس کی گرفت سے اپنی لال ہوتی کلائی چھڑوا کر پیچھے ہٹی تھی۔
”تم یہ سب کرکے اپنے لیے ہی مزید مشکلیں پیدا کررہی ہو۔“
زورین اُسے نفرت آمیز نظروں سے دیکھتا بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔ بازو پھیلا کر بیڈ پر رکھے سارے کپڑے اکٹھے کرکے اُٹھاتے اُس نے صوفے کی جانب اُچھال دیئے تھے۔
”یہ کیا بدتمیزی ہے آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرے کپڑے وہاں پھینکنے کی۔“
دل صبح سے اپنے اندر بہت سارا غصہ لیے بیٹھی تھی۔ جو اب موقع ملتے ہیں عود آیا تھا۔ وہ آگے بڑھ کر صوفے پر اور کچھ نیچے گرے اپنے کپڑے اُٹھاتی واپس بیڈ کی جانب بڑھی تھی۔
زورین پورا دن آفس میں کافی بزی رہنے کے بعد اب گیارہ بجے کے قریب گھر لوٹا تھا۔ وہ بہت زیادہ تھک چکا تھا۔ اِس وقت صرف آرام چاہتا تھا۔ جو دل کی حرکتیں دیکھ اُسے کسی صورت ملتا نظر نہیں آرہا تھا۔ ایک پل کے لیے تو غصے کے مارے اُس کا دل چاہا تھا۔ اِس لڑکی کو اُٹھا کر روم سے باہر پھینک آئے مگر باہر موجود ملازمین کے آگے اُس کی اپنی ہی انسلٹ تھی۔
“تمہارے ساتھ پرابلم کیا ہے۔“
زورین اُسے کپڑے واپس بیڈ پر پھینکتے دیکھ غصے سے دانت بھینچتا اُس کی جانب بڑھا تھا۔ جب دل کے بازوؤں سے نیچے لٹکتے کپڑوں میں اُس کا پیر اُلجھ گیا تھا۔ دل بھی جھٹکا لگنے سے اُس کے قریب ہوئی تھی۔ اِس سے پہلے کے زورین خود سنبھلتا دل کے بھی اپنے اُوپر آجانے کی وجہ سے وہ دونوں ایک ساتھ زمین بوس ہوئے تھے۔ زورین فرش پر جگہ دل اُس کے اُوپر گری تھی۔
دل کے ہونٹ زورین کی گردن سے مس ہوئے تھے۔ جن کے نرم لمس نے زورین شاہ کو کچھ پل کے لیے ساکت کردیا تھا۔ پھولوں جیسا نرم و ملائم خوشبوئیں بکھیرتا وجود اُس کے انتہائی قریب اُسے اپنے دلفریب احساس میں قید کرگیا تھا۔
دل کی حالت بھی اِس اچانک نازل ہونے والی افتاد پر بگڑ چکی تھی۔ اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ اُس نے زورین کے اُوپر سے اُٹھنا چاہا تھا۔ مگر وہ خود ہی اپنے کپڑوں میں اِس بُری طرح اُلجھ گئی تھی کہ اُس سے اُٹھا ہی نہیں جارہا تھا۔
زورین نے سر اُوپر کرکے اُس کی کاروائی ملاحظہ کی تھی۔ جو اُس کے سینے کو ہلے گراؤنڈ سمجھتی اُس پر اُچھلنے میں مصروف تھی۔
زورین کی زرا سی قربت پر اُسکا چہرا خطرناک حد تک لال ہوچکا تھا۔ اُوپر سے زورین کی خود پر پڑتی گہری نظریں اُسے مزید پزل کررہی تھیں۔ اِسی احساس سے اُس کی گھنیری پلکیں لرز اُٹھی تھیں۔
” ویٹ آ منٹ۔۔۔۔ “
دل خود کو کپڑوں سے نکالنے کے بجائے مزید اُن میں اُلجھ رہی تھی۔ زورین کی گھمبیر بوجھل آواز پر اُس نے پلکیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ جب زورین نے کروٹ بدلتے اُسے نیچے لیا تھا۔ اب دل فرش پر جبکہ زورین اُس کے اُوپر جھکا ہوا تھا۔
” ہوگیا شوق پورا یہی چاہتی تھی نا تم۔ زورین شاہ کے قریب آنا۔ اتنا ڈرامہ اِسی لیے کیا نا تم نے۔“
دل کا اُلجھا بازو اُس کے دوپٹے سے نکالتے اُس نے ہر بار کی طرح طنز کرتے دل کو سُلگا کہ رکھ دیا تھا۔
جو چہرا پہلے شرم کی وجہ سے سُرخی مائل تھا۔ وہ اب غصے اور اہانت کے احساس سے لال انگارہ ہوا تھا۔
” آپ ۔۔۔۔۔آپ آخر سمجھتے کیا ہیں خود کو۔۔۔۔۔میں اُن لڑکیوں میں سے قطعی نہیں ہوں۔ جو آپ کے پیچھے پاگل ہیں۔ اور اللّٰه نہ کرے ایسا کبھی ہو۔ آپ جیسے سنگدل اور خود پسند انسان سے دشمنوں کا واسطہ بھی نہ پڑے۔ اب آپ کی مجھ سے شادی کرکے ضد پوری ہوچکی ہوگی نا۔ تو پلیز اب مجھے آزاد کردیں۔ میں آپ کے اِس محل میں گُھٹ کر مرنا نہیں چاہتی۔“
دل کو اُس کی توہین آمیز بات بہت بُری طرح چبھی تھی۔
دل کے گرد اُلجھے بکھرے کپڑوں سے زورین اُسے آزاد کروا چکا تھا۔ مگر اُس نے جو بات کہی تھی۔ اُسی کے غصے میں دل یہ فراموش کر گئی تھی۔ کہ اِس وقت وہ اُس کی بانہوں کے حصار میں اُس کے چوڑے وجود کے نیچے دبی ہوئی اُسے گھوری جارہی تھی۔
” میں تمہیں آزاد کردوں۔ اور تم جاکر اپنے اُسی کزن سے شادی کرلو۔ جس سے وہ فضول سی محبت تھی تمہیں۔ ایسا تو میں کبھی نہیں ہونے دوں گا۔“
زورین اُسے مزاحمت کرتا دیکھ اُس کے اُوپر سے اُٹھا تھا۔ مگر دل کی چیخ پر اُسے واپس نیچے ہونا پڑا تھا۔ کیونکہ دل کے گلے میں پہنا نیلکس زورین کی ی شرٹ کے بٹن سے اُلجھ چکا تھا۔ زورین کے جلدی سے اُوپر اُٹھنے پر دل کی گردن کو بُری طرح زخمی کرگیا تھا۔
“تم ٹھیک ہو؟؟۔۔۔زیادہ لگی تو نہیں۔“
زورین اُس کے نیکلس کی چین اپنے بٹن سے چھڑواتے پوچھنے لگا تھا۔ جس پر دل اُسے شکوہ کناں نظروں سے گھورتی جلدی سے اُس کے سائیڈ سے نکلتی اُٹھ گئی تھی۔
“تمہاری گردن پر لگی ہے۔ دیکھاؤ مجھے۔“
دل نے حیرت سے اِس دھوپ چھاؤں جیسے انسان کو دیکھا تھا۔ جو ایک پل میں تکلیف دیتا تھا۔ اور اگلے ہی لمحے مرہم رکھنا چاہتا تھا۔ دل کو اب اُس کے اِس دوغلے پن پر چڑ ہونے لگی تھی۔ وہ اُس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ پھر وہ یہ سب کرکے اُس کے جذبات کو مزید ہرٹ کیوں کرتا تھا۔
“آپ کو آخر کیا تسکین ملتی ہے یہ سب کرکے۔ ہر بار میں آپ کی وجہ سے ہرٹ ہوتی ہوں۔ اور پھر آپ یہ جھوٹی فکر کا ناٹک کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ اب میں اچھے سے سمجھ رہی ہوں۔ آپ ایسا کیوں کررہے ہیں۔ آپ میری فیلنگز سے کھیلنا چاہتے ہیں۔ ویسے بھی آپ کے لیے میں ایک شوپیس سے زیادہ کچھ نہیں ہوں۔“
دل اُس کی آنکھیں نم اور چہرا بالکل لال ہوچکا تھا۔ زورین نے نہایت ہی خاموشی سے اُس کی ہر بات سنی تھی۔ دل کو اُس کے لفظ شوپیس نے کتنا ہرٹ کیا تھا۔ وہ اب بھی اُس کی آنکھوں سے ظاہر تھا۔
اُسے نظر آرہا تھا۔ کہ دل کی گردن میں چین اچھی خاصی کھب گئی تھی۔ جس کا درد وہ اُس کے چہرے پر دیکھ سکتا تھا۔
دل اُس کے آگے سے ہٹتی صوفے پر جابیٹھی تھی۔ وہ اِس وقت زورین شاہ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اِس لیے چہرا گھٹنوں میں دیئے وہ ایک جگہ سمٹ کر بیٹھ گئی تھی۔ زورین کچھ سیکنڈز خاموش نظروں سے اُسے دیکھتا واش روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
واپس آکر لائٹ آف کرتے وہ اپنے آرام دہ بیڈ پر نیم دراز ہوگیا تھا۔ اِس بات سے انجان کے روم میں ایک دم اندھیر گھپ ہوجانے پر کچھ فاصلے پر بیٹھا وجود بُری طرح سہم گیا تھا۔
★★★★★★★★
زورین کافی تھکا ہونے کے باوجود سو نہیں پارہا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ ابھی اُسے بیڈ پر لیٹے کچھ ہی ٹائم گزرا تھا۔ جب روم میں پھیلتی دبی دبی سسکیوں پر وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔ لائٹ آن کرتے اُس نے دل کی جانب دیکھا تھا۔ جو خود میں سمٹنے کی کوشش کرتے رونے کا شغل فرما رہی تھی۔
اب حقیقت میں اُسے شدید غصہ آنے لگا تھا۔ زورین نے اُٹھ کر اُس کے پاس جاتے اُسے بازو سے کھینچ کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا۔
دل اِس سب کے لیے بالکل بھی تیار نہیں تھی۔ زورین کے جارحانہ انداز پر اُس کے منہ اس چیخ نکل گئی تھی۔ اگلے ہی لمحے وہ مکمل اُس کے حصار میں تھی۔
“اب کیا پرابلم ہے تمہیں رو کیوں رہی ہو۔ اِس کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے تمہارا۔“
زورین نے اُس کی گلابی پڑتیں سوجی آنکھیں اُٹھا کر اُس کی جانب غور سے دیکھا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
