Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
ذکریا منزل کے ڈرائنگ روم ميں اِس وقت موت کا سا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ وہاں موجود تمام نفوس صدمے کی کیفیت میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ کچھ کی آنکھوں میں بے پناہ خوشی چھائی ہوئی تھی۔ جب کے کچھ کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا۔ کہ اُن کی تو دنیا ہی لُٹ گئی ہو۔
“زرینہ تم اتنی بڑی بے وقوفی کیسے کرسکتی ہو۔ تم نے اِتنی اہم بات نہیں بتائی ہمیں۔ کہ جس کے رشتے کی تم بات کررہی تھی وہ زورین شاہ تھا۔ “
رقیہ بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا۔ زرینہ کا حشر بگاڑ دیں۔ وہ ایسا کر بھی گزرتیں اگر اِس میں اُن کی اپنی غلطی بھی شامل نہ ہوتی۔
”آپا آپ کیسی باتیں کررہی ہیں۔ میں نے تو آپ کو بتانا چاہا تھا۔ آپ نے ہی اُس معصوم بچی کو سر سے اُتارنے کی اتنی جلدی تھی۔ کہ آپ نے میری بات سنی ہی نہیں۔ میرا اِس بات میں کوئی قصور نہیں ہے۔ میں نے آپ کو یہ بھی بتایا تھا کہ آپ لوگوں کا اُن سے کوئی جوڑ نہیں ہے۔ مگر آپ اِس سے زیادہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں ہوئیں۔ آپ کے دل کو تو یہی بات بھا گئی کہ لڑکا پہلے سے شادی شدہ ایک بچے کا باپ ہے۔“
زرینہ خالہ زرا سا بھی لحاظ رکھے بغیر سب گھر والوں کے سامنے اصل بات رکھ گئی تھیں۔ جس پر وہاں دل کے حامی تمام ینگ پارٹی نے تاسف بھری نظروں سے اُن کی جانب دیکھا تھا۔
رقیہ بیگم اپنا ماتھا پیٹ گئی تھیں۔ اُسے یہی لگ تھا کہ زرینہ نے بے جوڑ اِس سینس میں کہا ہے۔ کہ لڑکے والی شاید بہت غریب تھے۔
مگر وہ اِس بات سے بالکل انجان تھے کہ شہزادوں کی سی آن بان اور حیثیت رکھنے والا لڑکا دل کا ہزبینڈ بنے گا۔ اُونچے گھر آنوں میں خاندان کی کئی لڑکیاں بیاہی گئی تھیں۔ مگر اُن کے سسرال والے اتنے ویل آف اور رچ نہیں تھے۔ اُن کا سٹیٹس زورین شاہ کے مقابلے میں کچھ نہیں تھا۔ شہلا کی بیٹی اتنی اچھی جگہ بیاہی جارہی تھی۔ یہ بات ہضم کرنا رقیہ بیگم کے لیے کافی مشکل ہورہا تھا۔
”آپ کو کیا لگا تھا پھوپھو۔ جتنی مرضی گھٹیا پلاننگ کریں گی، دل کے ساتھ ویسا ہی ہوگیا۔ بھول گئیں اُس پروردگار کو۔ جو ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے انسان سے۔ دل کے پاس اُس کی فکر کے لیے سگی ماں نہیں ہے۔ مگر اُس کا اللّٰه تو ہے نا۔ جس نے اُس کے خلاف چلنے والی آپ کی چال آپ پر ہی اُلٹ دی۔ میں جانتی ہوں آپ اب انکار کرنا چاہیں گی اِس رشتے سے۔ مگر زورین شاہ جو انکار کر کے کہیں آپ لوگ ہی نہ پھنس جائیں۔ غصے میں آکر وہ کہیں ایک مہینے کی دی گئی مہلت چھین ہی نہ لے۔ انکار کرکے زورین شاہ سے دشمنی مول لینے والی بات ہی ہے۔“
دل کے لیے اتنا اچھا ہوتا دیکھ سویرا کا دل خوشی سے جھوم رہا تھا۔ مگر ساتھ ہی اپنے بڑوں کی زہنیت کے بارے میں جان کر اُسے بہت دکھ ہوا تھا۔
” تو پھر اب کیا کروں میں۔ انکار کردوں یا کل نکاح ہوگا۔“
زرینہ نے اُن سب کے زخموں پر نمک چھڑکتے سوال کیا تھا۔ زرینہ جب بھی یہاں آئی تھی۔ رقیہ بیگم ہر بار اُسے دل کے لیے کوئی بُرے سے بُرا رشتہ تلاش کرنے کو کہتی تھیں۔ زرینہ اُن کی بات پر حامی بھرنے کے باوجود خود کو ایسا کرنے کو تیار نہیں کرپاتی تھیں۔ ایسا کرنے پر رقیہ بیگم نے اُنہیں منہ مانگی رقم دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ دل بہت شرارتی تھی اکثر اوقات اُنہیں تنگ بھی کرتی تھی۔ مگر وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ وہ نیک سیرت اور دل کی کتنی اچھی لڑکی ہے۔ اُن کا دل اِس معصوم محرومیوں میں پلی لڑکی کے ساتھ غلط کرنے کے لیے کسی صورت نہیں مانتا تھا۔جب اُن کی اپنی بیٹی بھی اِسی عمر کی تھی۔ وہ ایسا کرکے پوری زندگی ضمیر کا بوجھ نہیں سہنا چاہتی تھیں۔
اُس دن رقیہ بیگم کے سامنے اُنہوں نے خود بھی جان بوجھ کر زورین شاہ کا نام نہیں لیا تھا۔ اُن نے ایک چھوٹی سی چال چلی تھی۔ جو کہ اب کامیاب ہوچکی تھی۔ کل زورین اور دل کا نکاح تھا۔ یہ لوگ اب چاہ کر بھی ایسا نہیں کرسکتے تھے۔ کیونکہ ایسا کرکے زورین شاہ سے سیدھا دشمنی مول لینے والی بات تھی۔
” اب کیا کریں آپا۔“
فاخرہ بیگم بے دلی سے بولی تھیں۔
” اب کیا ہوسکتا بھلا۔۔۔۔۔تیاری کرو سب کل نکاح ہے۔ جس لڑکی کی اوقات دو کپڑوں میں رخصت کرنے کی ہے۔ اب صرف زورین شاہ کے شیانے شان محفل تیار کرنی پڑے گی۔“
رقیہ بیگم دانت پیستے خفگی سے بھرپور لہجے میں بولی تھیں۔ جبکہ اُن کی بات سن کر صوفیہ دل کے روم کی جانب بھاگ گئی تھی۔
” مبارک ہو مبارک ہو۔ فائنلی کل ہماری دل آویز میڈم کا نکاح ہے۔ وہ بھی زورین شاہ سے۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے۔ جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہی ہوں۔ دل تم کتنی لکی ہو یار۔ رونا بند کرو اب۔ اندر سے تو تمہارے بھی لڈو پھوٹ رہے ہونگے۔“
صوفیہ خوشی سے دل کے گرد چکر کاٹتی جھومتے ہوئے بول۔ جبکہ باقی تینوں بھی اِسی طرح بے حد خوش تھیں۔ سوائے دل کے۔
” بکواس بند کرو۔ اور دفع ہوجاؤ یہاں سے۔“
دل نے جوتا اُٹھا کر اُس کی کمر پر مارتے غصے سے چلا کر کہا تھا۔
” اُؤئی جنگلی لڑکی تمہیں تو زورین شاہ ہی سیدھا کرے گا۔ اُس دن نجانے کیا جلوے دیکھا کر آئی ہو۔ کہ شاہ صاحب نے سیدھا رشتہ ہی بھیج دیا۔“
صوفیہ نے رازدانہ انداز میں اُس کے قریب جھکتے شوخی سے کہا تھا۔
”سویرا اِسے کہو میری نظروں سے دور ہوجائے ورنہ آج میرے ہاتھوں اِس کا قتل تو ہو کے رہے گا۔ پھر تو میرا نکاح لازمی رک جائے گا۔“
دل جلے کٹے انداز میں بولی۔ اُس کو اِس وقت اِن سب کو خوشیاں مناتے دیکھ مزید رونا آرہا تھا۔
“دل تم جانتی نہیں ہو۔ انجانے ميں تمہارے ساتھ کتنا اچھا ہوگیا ہے۔ زورین شاہ کا نام ابھی تمہارے ساتھ جُڑا بھی نہیں ہے۔ اور دیکھو کیسے سب لوگ بے بس ہوگئے ہیں۔ میں مانتی ہوں سفیان بھائی بہت اچھے ہیں۔ مگر چاہنے کے باوجود وہ تمہیں اِس گھر میں کوئی مقام نہ دلا پاتے۔ وہ تو رشتے کے لیے منانے کے لیے بھی سب کے آگے ہار گئے ہی۔ سوچو پھر آگے تمہاری لائف کیسی ہوتی۔ سفیان بھائی رشتوں میں اُلجھ کر تمہیں تمہارا مقام نہیں دلا پائیں گے۔ اور میں یہ بھی جانتی ہوں۔ کہ تم اُن سے محبت نہیں کرتی۔ بچپن سے سب لوگوں کے سخت رویے کے بیچ ایک نرم مزاج شخص جس نے تمہارا خیال رکھا ہے۔ اُس سے صرف ایک اُنسیت سی ہوگئی تھی تمہیں۔ اِسے محبت نہیں کہتے میری جان۔ میرا مخلصانہ مشورہ مانو تو خاموشی سے اِس نکاح کے لیے مان جاؤ۔ اِسی میں سب سے زیادہ بھلائی ہے تمہاری۔ اب جب کہ گھر میں سب کو پتا چل گیا ہے کہ سفیان بھائی تمہیں لائک کرتے ہیں۔ تو تمہارا اِس گھر میں رہنا مزید مشکل ہوجائے گا۔ “
سویرا اُس کے قریب بیٹھتی محبت سے اُس کا ہاتھ تھامے سمجھا رہی تھی۔ دل نے نم آنکھیں لیے بے بسی سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ وہ اُسے کیا بتاتی کہ جس انسان کی وہ اتنی تعریفیں کررہی ہے۔ وہ اتنا اچھا بالکل بھی نہیں تھا۔ وہ سخت ناپسند کرتا تھا اُس کے گھر والوں کو، صرف ضد میں آکر ہی اُس سے شادی کرنے والا تھا۔ زیادہ ٹینشن میں وہ اِسی بات پر تھی۔ جس شخص کو وہ ایک منٹ برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ اُس سے شادی کرنا اُسے کسی عذاب سے کم نہیں لگ رہا تھا۔
★★★★★★★★
” تو آخر ابتہاج لغاری رہاع ہوگیا ہے۔ اور ہمیں خبر بھی نہیں ہوئی۔ میں بھی کہوں. اچانک ایسا کونسا مائی کا لال پیدا ہوگیا۔ جو ہر بار اتنی بے دردی سے میرے آدمیوں کو پیٹ کر خالی ہاتھ لوٹا رہا ہے۔ “
اپنے کرل کیے بالوں کو اُنگلی پر لپیٹتے وہ ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ سجائے بولی تھیں۔
” ہاں اپنی پوری سزا کاٹے بغیر نکلا ہے وہ۔ اتنے سال جال میں گزارنے کے بعد بھی اکڑ ویسی ہی ہے اُس کی۔ جتنا بڑا نقصان کرکے وہ ہمارا گیا تھا۔ دل تو چاہ رہا تھا۔ دیکھتے ہی گولی مار دوں اُسے۔“
سپیکر پر نفرت میں ڈوبی زہر خند آواز سن کر اُس عورت کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
” اوہ ہو۔ اتنی جلدی بھی کیا ہے۔ ہمیں اُسے مارنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اُس کا غصہ ہی اُس کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اُس کے اتنے سال جیل میں رہنے کی وجہ بھی یہی تھی۔ اور اب آگے بھی یہ غصہ ہی اُسے مزید تباہ کرے گا۔“
ابتہاج لغاری کی ساری باتوں سے واقف تھیں وہ۔ مقابل موجود قاسم اُس کی بات سن کر مسکرایا تھا۔
” اِس کمزوری کے ساتھ ساتھ ایک اور کمزوری بھی پتا چل گئی ہے مجھے۔ جس سے ابتہاج لغاری کو تڑپانے میں بہت مزا آئے گا۔“
کچھ یاد آتے قاسم کا غصہ کافی حد تک کم ہوا تھا۔
” کہیں اُس کمزوری کا نام سُلین حبیب تو نہیں۔“
اب کی بار وہ عورت خباثت سے قہقہ لگا گئی تھی۔ جس کا قاسم نے پورا پورا ساتھ دیا تھا۔
” اب زیادہ مزا آئے گا۔ ابتہاج لغاری سے بدلہ لینے اور اُسے تڑپانے کا۔“
اُس عورت کا لہجہ ایکدم سفاک ہوا تھا۔
” ہممہ. آپ اِس کھیل میں مجھے اپنا ہم قدم پائیں گی۔ اتنے سال سُلین حبیب کی جو چاکری کی ہے۔ اُس کا فائدہ اُٹھانے کا ٹائم آگیا ہے اب۔“
قاسم آنکھوں میں نفرت بھرے بولتا فون بند کرگیا تھا۔
★★★★★★★
” مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے سویرا پتا نہیں کیا ہوگا۔“
دل باہر جاتی سویرا کا ہاتھ تھام کر روکتے روہانسے لہجے میں بولی تھی۔ ابھی کچھ دیر میں اُس کا نکاح تھا۔ وہ اِس وقت وائٹ کلر کے موتیوں سے سجے لانگ فراک میں نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔ زرا سے میک اپ نے اُس کا دو آتشہ حُسن مزید نکھار دیا تھا۔ نازک سراپے پر نیٹ کے دوپٹے کو بہت ہی سٹائلش انداز میں سیٹ کیا گیا تھا۔ جس کے اُوپر لال اورگنزا کے دوپٹے سے گھونگھٹ ڈالا گیا تھا۔ دوپٹہ ہلکا سا پیچھے کیے وہ آنکھوں میں نمی لیے خوفزدہ سی حُسن کی مورتی سویرا کو بھی ایک پل کے لیے مبہوت کرگئی تھی۔
جیولری کے نام پر سسرال والوں کی جانب سے بھیجا گیا ڈائمنڈ کا سیٹ زیب تن کیا ہوا تھا۔ اُس کے لیے آئی بے پناہ قیمتی چیزیں دیکھ سب گھر والوں کو نجانے کتنی بار غش پڑ چکے تھے۔ مگر رقیہ بیگم کے پاس ہاتھ ملنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
ماتھے پر سجی ماتھا پٹی اور ناک میں پہنی ڈائمنڈ کی نتھ اُس کے چہرے کی معصومیت اور دلکشی میں مزید اضافہ کررہی تھی۔ نازک ملائم ہونٹوں پر سجی لال لپسٹک اُس کے ہوش ربا حُسن کی رعنائیوں کو مزید بڑھا رہی تھی۔
” تمہارے شاہ صاحب کی خیر نہیں ہے آج۔ بہت افسوس ہونے والا ہے اُنہیں اِس بات پر۔ کہ رخصتی آج کیوں نہیں رکھی اُنہوں نے۔“
لائبہ اُسے چھیڑتے ہوئے بولی تھی۔
” تم سب دور ہوجاؤ میری نظروں سے شکل دیکھانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔ سمجھ رہی ہوں میں تم لوگوں کی اِس خوشی کو۔ مجھ سے جان جو چھوٹ رہی ہے۔“
دل اُن سب کے مسکراتے چہروں کو دیکھتی دل برداشتہ سی فراک دونوں ہاتھوں میں تھامے اپنی جگہ سے اُٹھی تھی۔ جبکہ اُس کے روٹھے انداز پر اُن سب کی ہنسی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔ وہ سب دل کے اچھے مستقبل کے لیے پُر اُمید تھیں۔ کم از کم اُن کے خودغرض گھر والوں سے تو جان چھوٹ رہی تھی اُس کی۔
” کہاں جارہی ہو۔ اتنی جلدی ہے اپنے شاہ صاحب سے ملنے کی۔“
صوفیہ کی زبان میں ایک بار پھر کھجلی ہوئی تھی۔
”جہنم میں۔“
دل دانت پیس کر جواب دیتی واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی۔
جبکہ وہ سب پیار بھری مسکراہٹ اُس پر اُچھالتی برائیڈل روم سے باہر نکل گئی تھیں۔
زورین نے اُس کے گھر والوں کو کوئی بھی ارینجمنٹ کرنے سے منع کرتے نکاح کے فنکشن کے لیے شہر کا سب سے مہنگا ترین ہال بک کروایا تھا۔ وہ اچھے سے جانتا تھا یہ لوگ چایے جتنی بھی کوشش کرلیں۔ اُس کے سٹینڈر تک فنکشن آرگنائز نہیں کروا سکتے تھے۔ فنکشن میں اُس کا سارا سوشل سرکل انوائیٹڈ تھا. وہ اپنی رپوٹیشن کو لے کر کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا۔
ذکریا منزل کے سبھی لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ اُس نے یہ سب اُن کے خیال سے کیا ہے۔ لیکن دل یہاں کی لوکیشن اور اتنے اعلٰی پیمانے پر کیا گیا ارینجمنٹ دیکھ کر ہی سمجھ گئی تھی۔ کہ زورین شاہ نے یہ سب اچھائی میں بالکل بھی نہیں کیا۔ اُس مغرور انسان نے صرف اپنے سٹیٹس کی وجہ سے کیا ہے یہ۔ زورین شاہ کی سوچ سے وہ اب اچھی طرح واقف ہوچکی تھی۔ مگر چاہ کر بھی اِس نکاح سے انکار نہیں کرسکتی تھی۔ جب ہمیشہ اُس کا خیال رکھنے والا سفیان بھی اُس کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔ کسی اور سے بھلا وہ کیا اُمید کرتی۔
★★★★★★★
”خوش آمدید خوش آمدید۔ میرا شیر آیا ہے آج تو میرے غریب خانے پر۔ یہاں کی روشنیاں بڑھ گئی ہیں۔ “
ابتہاج کو اندر آتا دیکھ پاشا اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا اُس کے استقبال میں آگے بڑھا تھا۔ جبکہ اردگرد موجود تمام آدمی سر جھکائے احتراماً کھڑے ہوئے تھے۔
“کیسے ہو پاشا۔“
اُس کے اتنے والہانہ انداز پر ابتہاج نے بھی جواباً گرمجوشی دیکھاتے اُسے سینے سے لگا لیا تھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں۔ اور تمہارے مضبوط سینے سے لگ کر تو مزا آجاتا ہے۔ “
پاشا نے ہر بار کی کہی جانے والی بات دوہرائی تھی۔ جس کا جواب ابتہاج نے سر ہلا کر دیا تھا۔
”تم نے تو خود کو مزید پاورفل کرلیا ہے۔“
ابتہاج نے آس پاس سیاہ وردی میں گھومتے اسلحہ سے لیس آدمیوں کو دیکھ کر کہا تھا۔ وہ دونوں چلتے پاشا کے سٹنگ روم ميں داخل ہوئے تھے۔
”تمہارے دشمنوں کو بھی دھول چٹانی ہے پاورفل تو ہونا ہی پڑے گا۔ “
پاشا اُس کے ساتھ صوفے پر براجمان ہوتے بولا۔ پاشا کی بات پر ابتہاج کے چہرے کا رنگ بدلہ تھا۔
”تمہارا زخم کیسا ہے۔ دلاور بتا رہا تھا۔ وہ لڑکی تمہارے گھر بھی آئی تھی۔ اور نجانے کیا کچھ کہہ رہا تھا۔ شاید انٹرسٹڈ ہو تم اُس لڑکی میں۔“
پاشا اُس کا موڈ خراب ہوتا دیکھ جلدی سے بات تبدیل کر گیا تھا۔ یہاں کا ڈان تھا وہ۔ جس کے صرف نام سے ہی لوگ خوف کھاتے تھے۔ مگر ابتہاج کے سامنے وہ ایسے ہوجاتا تھا۔ جیسے اُسی کے انڈر کام کرتا اُس کا کوئی ماتحت ہو۔
” زخم ٹھیک ہے۔ لیکن تمہارا یہ آدمی کچھ زیادہ بکواس نہیں کرتا ہے۔اُس لڑکی کے بارے میں ایک لفظ نہیں سننا چاہتا میں۔
مجھے کیوں بلایا ہے یہاں۔“
ابتہاج کا موڈ اب خراب ہوچکا تھا۔ جسے دیکھ پاشا اپنی بات پر پچھتانے لگا تھا۔
” آج ایک پارٹی میں انوائٹڈ ہیں ہم۔ میں چاہتا ہوں تم بھی وہاں میرے ساتھ آؤ۔ پلیز منع مت کرنا۔ بہت قریبی دوست ہے میرا۔“
پاشا چاہتا تھا وہ نارمل لوگوں کی طرح بی ہیو کرے۔ اپنی یہ سرد مہری ختم کردے۔
” مجھے کسی بھی پارٹی میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔“
ابتہاج نے اُس کی اُمید کے عین مطابق انکار ہی کیا تھا۔
” کچھ دیر کے لیے آجاؤ۔ میں وہاں سب کو تمہارے آنے کا بتا چکا ہوں۔ اتنی سی بات تو مان سکتے ہونا تم میری۔ سب تمہارے نہ آنے پوچھیں گے مجھ سے۔“
پاشا جانتا تھا وہ اتنی آسانی سے نہیں مانے گا۔
” تو بول دینا وہ نہیں آیا۔ تم جانتے ہو اِس طرح کے بی ہیوئیر سے سخت الرجک ہوں میں۔ سٹاپ دس۔“
ابتہاج کی جانب سے دوٹوک انکار تھا.
جس پر پاشا نے اُمید بھرے انداز میں اُس کی جانب دیکھا تھا۔
”ٹھیک ہے چلو۔ مگر میں زیادہ دیر نہیں ٹھہروں گا وہاں۔“
ابتہاج اُس کے بار بار فورس کرنے پر کچھ سوچتے آخر مان گیا تھا۔
” ہاں بس تھوڑی دیر ہی رکھیں گے۔“
پاشا خوش ہوتا اُس کے ساتھ باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔ جہاں گاڑی اُن کے لیے تیار کھڑی تھی۔
★★★★★★★★
” ہیلو سُلین بیٹے کیسی ہیں آپ۔“
قریشی صاحب سُلین کے ہاتھ سے بکے تھامتے خوش اخلاقی سے گویا ہوئے تھے۔ وہ اُس کے بابا کے پرانے جاننے والے تھے۔ اُن کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کے بعد سے قریشی صاحب نے اُس کی بہت مدد کی تھی۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں انکل۔ آنٹی اور حرا نظر نہیں آرہیں۔“
سُلین نے مسکرا کر جواب دیتے اردگرد نظریں دوڑائی تھیں۔ قریشی صاحب سے کچھ دیر بات کرنے کے بعد وہ اُن کی نشاندہی پر حرا کی جانب بڑھ گئی تھی۔
” ارے قاسم صاحب آپ یہاں۔ بتایا ہی نہیں آپ نے۔ آپ بھی اِس پارٹی میں آرہے تھے۔“
سُلین قاسم کے اچانک سامنے آجانے پر خوش اخلاقی سے مخاطب ہوئی تھی۔
جس پر قاسم نے بھی مسکرا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ لائٹ پرپل کرتا شلوار میں بالوں کو کھول کر آگے کی جانب کندھے پر ڈالے شیفون کا دوپٹہ ہلکا سا سر اور کندھوں پر اُوڑھ رکھا تھا۔ اُس کے کھلے بالوں کی دلکشی دیکھنے لائک تھی۔ قاسم چاہنے کے باوجود ایک نظر ڈالنے کے بعد اپنی نگاہ ہٹا نہیں پایا تھا۔ مہرون لپسٹک سے سجے ہونٹوں کے اُوپری حصے پر دھمکتا تل سُلین کے حُسن کو ایک الگ ہی دلفریبی بخشے ہوئے تھا۔
“جی وہ قریشی صاحب کے بیٹے سے بہت اچھی دوستی ہے میری۔ اُسی کے بار بار اسرار کرنے پر آگیا ورنہ ارادہ نہیں تھا میرا۔“
قاسم کے جواب پر سُلین سر ہلا گئی تھی۔ اُسے کچھ دیر سے عجیب سا محسوس ہونے لگا تھا۔ جیسے وہ کسی کی نگاہوں کے حصار میں ہوں۔ کئی بار وہ ادھر اُدھر دیکھ چکی تھی۔ مگر کوئی ایسا دیکھائی نہیں دیا تھا اُسے۔
جب اچانک کسی احساس کے تحت اُس کی نظریں دائیں جانب بیٹھے لوگوں کی جانب اُٹھتیں واپس پلٹنا بھول گئی تھیں۔ سامنے ہی صوفے پر ٹیک لگائے بڑے شاہانہ انداز میں ابتہاج لغاری براجمان اُسے ہی گھور رہا تھا۔ پارٹی میں ہونے کے باوجود اُس کی اُنگلیوں میں آدھ پیا سگریٹ دبا ہوا تھا۔
اُس کی اپنے وجود پر پڑتی گہری نظریں محسوس کرتے سُلین کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئی تھیں۔ دل کی دھڑکن ابتہاج لغاری کو دیکھ اپنی رفتار پکڑ چکی تھیں۔ سُلین نے ایک بار پھر لرزتی گھنیری پلکیں اُٹھا کر اُس کی جانب دیکھا تھا۔ جس کی انکھوں میں ناچتا غصہ اُس کی سانسیں روک گیا تھا۔ اُس نے سُلین کو قاسم کے قریب ہونے سے منع کیا تھا۔ اور وہ کب سے اپنی مخصوص مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اُس سے باتیں کررہی تھی۔
سُلین انڈیپینڈنٹ لڑکی تھی۔ کسی کی دھمکیوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی اُسے۔ مگر ابتہاج لغاری کو دیکھ کر ہی اُس کے دل میں خوف بھر جاتا تھا۔جو شخص اکیلا اتنے غنڈوں کو پیٹ سکتا تھا۔ میڈیا تک کو ہینڈل کرسکتا تھا۔ اُس کے لیے کیا چیز مشکل تھی بھلا۔
سُلین نے جلدی سے قاسم کے پاس سے ہٹنا چاہا تھا۔ جب اُس کے پیر میں پہنی سلور کلر کی پائل کھل کر اُس کے سینڈل کی سٹریپ میں اُلجھتی اُسے لڑکھڑانے پر مجبور کر گئی تھی۔
”میں ٹھیک ہوں۔“
قاسم کو سہارا دینے کے لیے آگے بڑھتا دیکھ سُلین ہاتھ اُٹھاتی فوراً انکار کر گئی تھی۔ قاسم کو سُلین کافی گھبرائی سی لگ رہی تھی۔ مگر ابتہاج پر ابھی تک نظر نہ پڑنے کی وجہ سے وہ اِس بات سے انجان تھا۔
” آئی تھنک آپ کے پیر پر لگی ہے۔ میں نکال دیتا ہوں۔“
قاسم اُس کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھ اُس کے پیر کے قریب جھکا تھا۔
” نہیں میں پلیز دور رہے مجھ سے۔ میں ٹھیک ہوں۔“
سُلین تیز لہجے میں کہتی اُسے وہی روک گئی تھی۔ اور ایک خوفزدہ نظر ابتہاج پر ڈالی تھی۔ جو اب وہاں موجود نہیں تھا۔ اُسے نہ پاکر سُلین کے منہ سے بے اختیار سکھ کی سانس برآمد ہوئی تھی۔
پائل شاید ٹوٹ کر اُس کے سینڈل کی سٹریپ میں پھنس چکی تھی۔ جس کی کوئی نوکیلی چیز اب اُس کے پیر کو بُری طرح تکلیف میں مبتلا کررہی تھی۔ سُلین ہکا بکا بیٹھے قاسم سے ایکسکیوز کرتی ایک کونے میں پڑی کرسیوں کی جانب بڑھ گئی تھی۔ اِس پارٹی کا ارینج باہر لان میں کیا گیا تھا۔ اِس حصے میں شاید لائٹس کم تھیں۔ اِس لیے وہ ابتہاج کی نظروں سے آرام سے بچ سکتی تھی۔
ابھی وہ کرسیوں کے قریب پہنچی ہی تھی۔ جب اچانک اپنے سامنے آجانے والے ابتہاج کو دیکھ اُس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ روکی تھی۔
بلیک جینز اور وائٹ شرٹ کے اُوپر بلیک جیکٹ زیب تن کیے وہ پوری محفل پر اپنا سحر طاری کررہا تھا۔ وہ سُلین کے کافی قریب آن کھڑا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے اُس کے وجود سے اُٹھتی دلفریب خوشبو سُلین کے حواس جکڑ گئی تھی۔
” ویری گڈ کافی عقل مند ہو تم۔ ایک بار کہے میں میری بات سمجھ گئی۔“
اُس کے کندھے پر بکھرے بالوں پر دوپٹہ ٹھیک کرتا وہ پاکٹ سے ٹشو نکالتے بولا تھا۔ نگاہیں اُس کی ہونٹوں کے گرد پھیلی لپسٹک پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اُس کو ہونٹوں کی جنانب ٹشو بڑھاتا دیکھ سُلین فوراً پیچھے ہٹی تھی۔
” آہ۔۔“
روکنے کی کوشش کے باوجود درد سے اُس کی کراہ نکل گئی تھی۔ ابتہاج کی نظریں اُس کے پیر کی جانب گئی تھیں۔ جہاں سے نکلتی خون کی ہلکی سی لہر ابتہاج کی روشن پیشانی پر شکنوں کا جال بن گئی تھی۔
” تمہیں چوٹ لگی ہے۔ اور تم ایسے ہی کھڑی ہو۔“
ابتہاج ایک سیکنڈ کی بھی دیر کیے بغیر اُس کے پیر کی جانب جھکا تھا۔ جب سُلین کو پیر پیچھے کرتا دیکھ وہ اُسے ایک زبردست گھوری سے نوازتا کمر میں ہاتھ ڈالتے کسی گڑیا کی طرح اپنی بانہوں میں اُٹھا گیا تھا۔
” آپ پاگل ہیں کیا۔ اُتاریں مجھے نیچے۔ “
سُلین اُس کے اب جارحانہ عمل پر اُس کے گریبان سے جیکٹ دبوچتی غصے سے بولی تھی۔
مگر دوسری جانب پرواہ کسے تھی۔ وہ اُسے اُٹھائے بنا کسی کی نظروں میں لائے بغیر پیچھے سے گزرتا اندر بنے گیسٹ روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
★★★★★★★★
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
