Teri Chah Mein By Farwa Khalid Readelle50119 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
” دنیا کی بڑی سے بڑی تکلیف برداشت کرسکتا ہوں مگر اِن آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھنا ختم کردے گا ابتہاج لغاری کو۔“
ابتہاج کی رینگتی اُنگلیوں نے جیسے ہی اُس کے ہونٹوں کو چھوا وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی تھی۔
ابتہاج نے بہت غور سے اُس کا یہ عمل دیکھا تھا۔
”ابتہاج لغاری آپ کو کیا لگتا ہے۔ آپ ایسا کرکے دوبارہ مجھے اپنے جال میں پھنسا لو گے۔ نفرت کرتی ہوں میں آپ سے۔ چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہوں اِس ناپسندیدہ رشتے سے۔ آئندہ میرے قریب آنے کی کوشش بھی مت کیجیئے گا ورنہ۔۔۔۔“
سُلین میں نجانے اتنی ہمت کہاں سے آئی تھی۔ کہ وہ اُس کے سینے پر ہاتھ جما کر اُسے پوری قوت سے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔
”ورنہ کیا، کیا کرو گی تم۔۔۔“
ابتہاج کی نظریں اُس کے ہونٹوں پر پڑتی اُس کے الفاظ وہیں روک گئی تھیں۔
” آپ کے خلاف۔۔۔۔۔“
سُلین آدھا جملہ ہی ادا کر پائی تھی۔ جب ابتہاج اُس کے چہرے پر جھکتا اُس کی سانسیں روک گیا تھا۔ سُلین کی آنکھیں ناقابلے یقین حد تک کھل چکی تھیں۔ اُسے ابتہاج سے ایسی حرکت کی اُمید قطعی نہیں تھی۔
ابتہاج کے گریبان پر اُس کی گرفت مزید مضبوط ہوئی تھی۔ جسے محسوس کرتے ابتہاج کے لمس میں مزید تیزی آگئی تھی۔ سُلین پر اپنا غصہ نکالنے کا اِس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں ملا تھا اُسے۔ مگر کوشش کے باوجود وہ اُس سے سختی نہیں برت پایا تھا۔ اُس کے لمس میں سُلین کے لیے نرمی اور احتیاط موجود تھی۔
سُلین کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی تھی۔ جب اُس پر رحم کھاتے ابتہاج نے اُسے آزادی بخش دی تھی۔ سُلین کا پورا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔ گرنے سے بچنے کے لیے اُس نے اُسی دشمنِ جاں کا سہارا لیا تھا۔ جس کی وہ شکل دیکھنے کی روادار بھی نہیں تھی۔
گہرے گہرے سانس لیتے اُس نے ابتہاج کے سینے پر سر ٹکاتے خود کو ریلیکس کرنا چاہا تھا۔ ابتہاج اُس کی کیفیت پر مسکراتا اُس کے گرد اپنی مضبوط بانہوں کا حصار قائم کرتے اُسے خود میں بھینچ گیا تھا۔
” تمہارے چہرے کی یہ سرخی اِس بات کی گواہی ہے۔ کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتی ہو۔ میری جان محبت کے ساتھ ساتھ تھوڑا سا اعتبار بھی کر لو۔ تو میری یہ مشکل زندگی آسان ہوجائے گی۔ لیکن اگر تم مجھ سے دور چلی گئی تو مجھے درندہ بننے سے کوئی روک نہیں پائے گا۔“
ابتہاج کا لہجہ جس قدر چنگارتا ہوا تھا۔ اُس کی نظروں میں سُلین کو دیکھتے اُتنی ہی نرمی تھی۔ اُس کے گرد سے اپنا حصار ختم کرتا، باری باری اُس کی دونوں آنکھوں پر لمس چھوڑتا وہ وہاں سے نکل گیا تھا۔
جبکہ سُلین تو ایسے سُن کھڑی تھی۔ جیسے اُس میں جان ہی باقی نہ رہی ہو۔
ابتہاج سچ کہہ کر گیا تھا۔ اُس کی اصلیت جان لینے کے بعد بھی سُلین اُس سے نفرت کرنا تو دور کی بات اپنے دل سے اُس کی محبت تک نکال نہیں پائی تھی۔
اپنے دل کی اِس دھوکا دہی پر وہ سر پکڑتی وہیں بیٹھتی چلی گئی تھی۔
★★★★★★★★★
ابتہاج لغاری اپنے بابا جعفر لغاری اور ماں سندس عالم کی اکلوتی اولاد تھا۔ وہ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والی کہاوت پر پورا اُترتا تھا۔
سندس بیگم بھی اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد اور کروڑوں کی جائیداد کی اکیلی وارث تھیں۔ وہ نہ صرف بے حد دولت مند بلکہ حُسن و جمال میں بھی بے مثال تھیں۔ اپنے ماں باپ کے فیصلے پر سر جھکاتے اُنہوں نے اپنے لیے آئے جعفر لغاری کے رشتے پر رضامندی دے دی تھی۔
جن کا تعلق ایک بہت ہی سلجھی ہوئی پڑھی لکھی فیملی سے تھا۔ سندس کی طرح وہ بھی اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے۔ شادی کے دو سال بعد اللّٰه نے اُنہیں بیٹے کی نعمت سے نوازا تھا۔ جس کا نام اُنہوں نے بہت محبت سے ابتہاج رکھا تھا۔ سندس شادی کے شروع کے سال تو اُن کی سنگت میں بہت خوش رہی تھیں۔ اُنہوں نے اپنا سارا بزنس اور جائیداد جعفر صاحب کے کہنے پر اُن کی محبت میں اُن کے نام پر شفٹ کرکے اپنی لائف کی سب سے بڑی غلطی کر دی تھی۔
کیونکہ اُس کے بعد سے آہستہ آہستہ جعمفر صاحب کا رویہ اُن کے ساتھ بدلتا چلا گیا تھا۔
وہ گھر پر بہت کم آنے لگے تھے۔ اور جب ہوتے تب بھی سندس بیگم سے نہ ہونے کے برابر بات کرتے تھے۔ وہ اُن سے پوچھ پوچھ کر تھک چکی تھیں۔ مگر وہ کوئی واضح جواب دینے کے بجائے بات ہمیشہ ٹال دیتے تھے۔
سندس بیگم تک کچھ جاننے والوں کے تھرو جعفر لغاری کے حوالے سے کچھ باتیں پہنچنے لگی تھیں۔ کہ وہ غلط عورتوں کے ساتھ غلط کاموں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ جن باتوں پر یقین اُنہوں نے تب کیا تھا۔ جب پولیس جعفر لغاری کو اریسٹ کرنے اُن کے گھر آن پہنچی تھی۔ اُنہیں کس قدر بدنامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ وہی جانتی تھیں۔ وہ ابتہاج پر اِن سب باتوں کا بُرا اثر نہیں پڑنے دینا چاہتی تھیں۔ اِسی لیے اُنہوں نے اُسے ہاسٹل بھیج دیا تھا۔
مگر ابتہاج نہیں جانتا تھا۔ کہ اِس کے بعد وہ کبھی اپنی ماں کا چہرا نہیں دیکھ پائے گا۔
جعفر لغاری نے سندس بیگم کی دولت ہتھیانے کے لیے اُن کے سامنے شرافت کا ڈھونگ کیا تھا۔ وہ پہلے دن سے ہی سمگلنگ میں ملوث تھے۔ اُنہوں نے گلشن آرا نامی عورت سے چھپ کر دوسری شادی کر رکھی تھی۔ جو اُن کے ساتھ اِنہیں غلط کاموں میں برابر کی شریک تھی۔
ملک میں انتشار پھیلانا، چوری ڈکیتی، اغوا، بے گناہ لوگوں کو مار پیٹ کر اُن کی دولت ہتھیانا اور نومولود معصوم بچوں سے لے کر بوڑھے افراد کو اغوا کرکے اُن کی سمگلنگ کرنے جیسے تمام گھٹیا کاموں میں ملوث تھے۔ سندس جیسی شریف اور پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کرکے اُس کی زندگی برباد کرنے کا مقصد بھی صرف اُس کی دولت حاصل کرنا تھا۔ جو کہ سندس جیسی معصوم لڑکی نے اُن کے بہکاوے میں آکر شادی کے کچھ سال بعد ہی سب کچھ اُن کے حوالے کردیا تھا۔
★★★★★★★★
زورین کراچی پہنچ چکا تھا۔ اُس کا یہاں آنے کا مقصد کوئی بزنس میٹنگ نہیں تھی۔ بلکہ وہ اپنے آدمی کی اطلاع پر فضیلہ نامی عورت کو ملنے آیا تھا۔ جس کی تلاش میں پچھلے اتنے سالوں سے اُس نے اپنے آدمیوں کو ملک کے ہر کونے میں چھپا رکھا تھا۔
وہ عورت اُن کے گھر کی پرانی ملازمہ اور ہمایوں کے حوالے سے بہت کچھ جانتی تھی۔ ہمایوں اور شہلا کے غائب ہوتے ہی وہ بھی غائب ہوگئی تھی۔ ثاقب سے ہی اُسے پتا چلا تھا۔ کہ وہ ہمایوں کے پلان میں شامل تھی۔ اور شاید اُس رات کی ہر حقیقت سے واقف بھی۔
زورین کو جیسے ہی اُس کے ملنے کی خبر ملی تھی۔ وہ فوراً وہاں پہنچ گیا تھا۔
تنگ گلیوں سے گزرتے وہ مطلوبہ گھر کے سامنے آن رُکا تھا۔ دو تین بار دروازہ ناک کرنے کے کافی دیر بعد جاکر ایک درمیانی عمر کی عورت نے دروازہ کھولا تھا۔
”جی صاحب کون ہیں آپ۔ اور کس سے ملنا ہے آپ کو۔“
زورین آج اپنے معمول کے حلیے سے ہٹ کر سفید قمیض شلوار میں ملبوس اپنی چھا جانے والی پرسنیلٹی کے ساتھ اُس عورت کو چونکا گیا تھا۔
جبکہ اتنے سالوں کی کوشش کے بعد سامنے کھڑی عورت کو دیکھ اُس کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھ گئی تھی۔
اُس نے تصویر دیکھ رکھی تھی. اِس لیے اُسے زیادہ مشکل پیش نہیں آئی تھی۔ یہ وہی عورت تھی جس کے لیے وہ اتنا خوار ہوا تھا۔
”زورین شاہ نام ہی میرا۔ ہمایوں شاہ کا بھتیجا ، فضیلہ بی بی سے ملنے کے ہوں۔“
زورین نے بات کرتے بہت غور سے اُس عورت کے متغیر ہوتے تاثرات کی جانب دیکھا تھا۔
” مم میں نہیں جانتی جسی فضیلہ بی بی کو۔ آپ پلیز جائیں یہاں سے۔“
شدید گھبراہٹ کا شکار ہوتے وہ عورت دروازہ بند کرنے ہی والی تھی۔ جب زورین بیچ میں ہاتھ رکھ کر ایسا کرنے سے روکتا اندر داخل ہوا تھا۔
“آپ مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتیں۔ آگر آپ نے ایسا کیا تو میں آپکو پولیس کے حوالے کر دوں گا۔ جو سوال پوچھوں گا اُس کا سچ سچ جواب دینا۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔“
زورین کی دھمکی پر وہ عورت چہرا جھکائے رونے لگی تھی۔
★★★★★★★★
سندس ایک پڑھی لکھی مضبوط لڑکی تھی۔ وہ اتنی جلدی اور آسانی سے یہ دھوکا برداشت نہیں کرسکتی تھیں۔ اِس لیے اُنہوں نے جعفر صاحب پر کورٹ میں اپنی جائیداد دھوکے سے اپنے نام کروانے کا کیس دائر کردیا تھا۔ جس کا نوٹس ملتے ہی جعفر لغاری اور گلشن آرا اُس عام سی کمزور عورت کی اتنی جرأت پر دھنگ رہ گئے تھے۔
اِس سے پہلے کے بات مزید بڑھتی اور اُن کے لیے یہ کیس کوئی بڑی ہرابلم کھڑی کرتا۔ گلشن آرا نے اپنے شاطر دماغ سے ایک بہت بڑی چال چلی تھی۔ جس پر عمل پیرا ہوتے جعفر صاحب سندس کے پاس واپس لوٹ گئے تھے۔ اور اُس کے سامنے آنسو بہا کر اِن سب باتوں کو خود پر لگایا جھوٹا الزام ثابت کرنے لگے تھے۔
سندس یقین نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ مگر اپنے شوہر کو یوں قدموں میں گر کر گڑگڑاتے دیکھ اُن کا دل پسیج گیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھیں، اُن کی سادگی اُنہیں کتنی بڑی سازش کا شکار بنا دے گی۔
جعفر صاحب کو معاف کرتے اُنہوں نے اپنا کیس واپس لے لیا تھا۔ یہ سب ہوئے ابھی ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا۔ جب گلشن آرا نے اُن کے گھر آکر جعفر صاحب کی دوسری شادی کا بم اُن کے سر پر پھوڑا تھا۔
سندس یہ سب سن کر بہت روئی تھیں۔ اُن دنوں کو اِس دھوکے پر بُرا بھلا کہتے اُن دونوں کی اصلیت سب کے سامنے لانے کی دھمکی بھی دی تھی۔
مگر گلشن آرا تو پہلے سے ہی سب کچھ پلان کرچکی تھیں۔ جعفر صاحب کو یہاں بھیجنے کا مقصد صرف سندس کو بہلا پھسلا کر وہ کیس واپس لینا تھا۔ اصل کام کرنے تو وہ خود آئی تھیں۔ گلشن آرا نے سندس کو زہر کا انجکشن لگا دیا تھا۔ جس کے بعد وہ صرف ایک دن ہی زندہ رہ پائی تھیں۔
ابتہاج اپنی ماں کے ساتھ پیش آنے والے ہر واقع سے انجان لندن کے سکول میں اپنی تعلیم حاصل کرتا رہا تھا۔ سندس کے بابا کے خاص دوست جنہوں نے جعفر صاحب پر کیس کرنے میں سندس کی مدد کی تھی۔ بہت حد تک اِس سارے قصے سے واقف تھے۔ مگر اُن کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔ کہ وہ ابتہاج کو اُس کے باپ کی اصلیت بتا پاتے۔
ابتہاج اپنی ماں کی یوں اچانک ڈیتھ کی خبر سن کر بہت رویا تھا۔ وہ پاکستان واپس آنا چاہتا تھا۔ مگر سندس کے کزن جو لندن میں ہی رہتے تھے۔ اور ابتہاج کا سگے بھانجوں کی طرح خیال رکھتے تھے۔ اُنہوں نے بہت مشکل سے ابتہاج کو سنبھالا تھا۔
ابتہاج نے اپنی آگے کی تعلیم صرف اپنی ماں کی خواہش پوری کرنے کے لیے حاصل کی تھی۔ اعلٰی تعلیم حاصل کرکے وہ پاکستان واپس لوٹ آیا تھا۔ جہاں اُس کے بابا نے اُس کا پُرتپاک استقبال کیا تھا۔
گلشن آرا جو جعفر صاحب سے اُن کے بیٹے کا ذکر سن چکی تھی۔ ابتہاج کی پرسنیلٹی دیکھ مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہ پائی تھی۔
ابتہاج جیسا بے حد وجیہہ اور سٹرانگ شخصیت کا مالک شخص اُن کے کام کو مزید ترقی کی اُونچائیوں تک پہنچا سکتا تھا۔ اِس لیے ایک بار پھر اُن کا اور جعفر صاحب کا ناٹک ابتہاج کے آگے بھی شروع ہوچکا تھا۔ اُنہوں نے ابتہاج کے سامنے زرا سا بھی ظاہر نہیں ہونے دیا تھا۔ کہ وہ اُس کی ماں کے قاتل تھے۔ اور نہ ہی یہ کہ وہ کن جرائم پیشہ کاموں میں ملوث تھے۔
ابتہاج اپنی ماں کی وفات کے صدمے کے بعد سے کافی کم گو ہوگیا تھا۔ صرف اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ غصہ اور ایگریشن اُس میں پہلے دن سے بہت تھا۔ سندس بیگم نے اُس پر قابو پانے کی بہت کوشش کی تھی۔ اور کافی حد تک کم بھی کر لیا تھا۔ اور کافی حد تک اُس پر قابو بھی پالیا تھا۔ مگر اُن کے جانے کے بعد اُس کا غصہ مزید بڑھ گیا تھا۔ اپنے باپ سے تو وہ ویسے ہی دور رہا تھا۔
اُس کی ماں ہی واحد قریبی رشتہ تھی اُس کے پاس۔ جسے ظالم لوگوں نے چھین لیا تھا۔ اُس سے بڑا ستم یہ تھا کہ وہ اپنی ماں پر ہوئے ظلم سے ناواقف تھا۔
گلشن آرا سے اپنے باپ کی دوسری شادی کا بھی اُس نے کچھ خاص نوٹس نہیں لیا تھا۔
اُس نے بس خاموشی سے اپنی ماں کا بزنس سنبھال لیا تھا۔ جس کا پرافٹ اب جعفر لغاری اپنے دھندے میں استعمال کرتا تھا۔ لیکن ابتہاج کے آنے کے بعد اُس نے سارے اکاؤنٹس کلیئر کردیئے تھے۔ ابتہاج تو ویسے بھی اپنے باپ پر کسی قسم کا کوئی شک نہیں کرسکتا تھا۔
گلشن آرا کی جانب سے اُس کے بابا کی دو اولادیں تھیں۔ نیہا اور قاسم۔ ابتہاج نے اُن دونوں سے ہی اپنا رویہ لیا دیا رکھا تھا۔ مگر وہ دونوں خود بخود ہی اُس کے قریب ہوتے چلے گئے تھے۔
نیہا اور قاسم دونوں ہی اپنے پیرنٹس کی اِس غلط روش سے اچھی طرح واقف تھے۔ مگر ابتہاج کی طرف وہ اپنی ماں کی طرح کسی غلط نیت سے نہیں بڑھے تھے۔ وہ ابتہاج کو دل سے اپنا بڑا بھائی تسلیم کرتے تھے۔ ابتہاج بھی اُن کی محبت دیکھ خود کو مزید دور نہیں رکھ پایا تھا۔ اُن میں اتنا پیار تھا کہ کوئی دیکھ کر یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہ سگے بہن بھائی نہیں ہیں۔
لیکن ابتہاج کو گلشن آرا کی حرکتیں کچھ مشکوک لگنے لگی تھیں۔ وہ اُسے مخلتف غیر مردوں کے ساتھ دیکھ چکا تھا۔ جب ایک دن اُسے ہوٹل کے روم سے کسی مرد کے ساتھ باہر نکلتا دیکھ اُس کا شک یقین میں بدل گیا تھا۔
اُسے اپنی سوتیلی ماں کے اِس دھوکے پر شدید غصہ آیا تھا۔ جس پر قابو نہ رکھ پاتے وہ اُن کو اِس سب سے باز رہنے اور اپنے بابا کو سب بتا دینے کی دھمکی دے گیا تھا۔
گلشن آرا تو پہلے ہی ابتہاج کے تیور دیکھ سمجھ گئی تھیں۔ کہ یہ شخص اُن کے قابو میں آنے والا نہیں ہے۔ اِسے اِس کی ماں کی طرح راستے سے ہٹانا ہی بہتر تھا۔
اُس کے شاطر دماغ نے ایک نیا پلان بننا شروع کیا تھا۔ جس میں اُس نے اپنی ہی سگی بیٹی کو مہرے کی طرح استعمال کرنا چاہا تھا۔
نیہا اُن کی بات سن کر سرے سے انکاری ہوئی تھی۔ اُس نے ابتہاج کو دل سے اپنا بھائی مانا تھا۔ وہ اُس کے خلاف کچھ غلط نہیں کرسکتی تھی۔ مگر سناٹوں کی زد میں تو وہ اُس وقت آئی تھی۔ جب اُس کی سگی ماں نے اُس کے بوائے فرینڈ کے حوالے سے اُسے بلیک میل کیا تھا۔
نیہا کے پاس اپنی ماں کی بات ماننے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ خاموشی سے اُن کے کہے پر عمل کرتی گئی تھی۔ اُسے تب احساس ہوا تھا۔ کہ اُس کی ماں کا دل دولت کی ہوس نے بالکل ختم بے رحم کردیا تھا۔ دوسروں کو سازشوں میں پھنساتے وہ اب اپنے ہی بچوں کو بھی نہیں بخش رہی تھیں۔
گلشن آرا نے محسوس کیا تھا کہ جعفر صاحب کے دل میں کہیں نہ کہیں بیٹے کی محبت انگڑائی لیتی رہتی تھی۔ وہ سندس کی طرح ابتہاج کو راستے سے نہیں ہٹا سکتی تھی۔ اِس لیے اُس نے پہلے ابتہاج سے جعفر کو بدظن کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اُس کے پلان کے مطابق نیہا گلشن آرا کے بتائے گئے ہوٹل کے روم میں گئی تھی۔ جہاں پہلے ہی گلشن آرا اپنے ایک خاص آدمی کے ساتھ موجود تھی۔ اُس کے کہنے پر نیہا نے پہلے گھبرائی ہوئی آواز نکال کر ابتہاج کو کال کرتے یہاں بلوایا تھا۔ اور ساتھ ہی پھر جعفر لغاری کو بھی کال ملا دی تھی۔ اُس کی روتی بلکتی آواز سن کر دونوں نے ہی وہاں پہنچنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔ قاسم بھی جعفر صاحب کی کال پر وہاں آن پہنچا تھا۔
مگر آگے کا منظر اُن تینوں کے لیے ہی شاک کا باعث تھا۔ نیہا کے ساتھ روم میں کوئی غیر لڑکا موجود تھا۔ اُن سب کے آنے سے پہلے ہی گلشن آرا وہاں سے نکل گئی تھی۔
ابتہاج اُن دونوں سے چند منٹ ہی پہلے پہنچا تھا۔ اِس سے پہلے کے وہ سچویشن سمجھنے کی کوشش کرتا۔نیہا جلدی سے اُس کے پیچھے آتے جعفر صاحب کے گلے لگتی بلک بلک کر رو دی تھی۔
“تھینک گارڈ بابا آپ آج آگئے۔ ورنہ ابتہاج بھیا مجھے آج اِس شخص کے ہاتھ بیچ ہی دیتے۔“
نیہا کے الفاظ اُن سب سمیت ابتہاج پر بھی پہاڑ بن کر ٹوٹے تھے۔ وہ بے یقینی سے اپنی بہن کے اِتنے بڑے جھوٹ پر اُس کی جانب دیکھے گیا تھا۔ جسے اُس نے سگی بہنوں کی طرح عزت، پیار اور مان بخشا تھا۔ وہ اُس کے خلاف کیا زہر اُگل رہی تھی۔
جعفر صاحب نیہا کی حالت دیکھ اُس کی بات کا انکار کر ہی نہیں پائے تھے۔ قاسم کے اُس لڑکے کو پیٹنے پر اُس نے گلشن آرا کا رٹا رٹایاں سبق سنا دیا تھا۔ کہ اُس کی ابتہاج کے ساتھ ڈیلنگ ہوچکی ہے۔ ابتہاج نے پانچ کڑور میں نیہا کا سودا کیا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں پکڑا نوٹوں سے بھرا بیگ دیکھ شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچی تھی۔
”مجھے زرا اندازہ نہیں تھا۔ ابتہاج لغاری چند پیسوں کے عوض تم میری بہن کا سودا کر دو گے۔ تمہیں بڑا بھائی سمجھا تھا۔ مگر تم نے تو ہماری ہی پیٹھ پر خنجر کھونپ دیا۔ “
قاسم کا بس نہیں چل رہا تھا۔ ابتہاج کو شوٹ کردے۔ جبکہ جعفر لغاری جتنا بھی ضمیر فروش کیوں نہ سہی مگر اپنی بیٹی کا یوں سودا ہوتا دیکھ اُس نے ابتہاج کو ایک زور دار تھپڑ رسید کرتے نجانے کتنا بُرا بھلا کہا تھا۔
اُس دن سے قاسم اور ابتہاج کی دشمنی کی شروعات ہوئی تھی۔ قاسم ابتہاج کو زچ کرنے کے لیے ہر اُلٹا کام کرتا۔ کبھی اُس کے بزنس میں نقصان کردیتا تو کبھی اُس کی ذاتی زندگی میں زہر گھول دیتا۔ ابتہاج نے نہ ہی کسی کو اپنے بے گناہ ہونے کی وضاحت دی تھی۔ اور نہ ہی اُس کے بعد سے نیہا کی شکل دیکھنے کا روادار ہوا تھا۔
قاسم کو جس چیز نے ابتہاج سے زیادہ بدظن کیا تھا۔ وہ تھی ابتہاج کو خاموشی۔
اُسی دوران ابتہاج کی ملاقات حبیب صاحب سے ہوئی تھی۔ جو اُس کے نانا کے قریبی دوست کے بیٹے اور ایک سائنٹسٹ تھے۔ ابتہاج نے نوٹ کیا تھا۔ وہ اُسے کچھ بتانا چاہتے ہیں۔ مگر کسی خوف کے زیرِ اثر بتا نہیں پارہے۔
اُنہوں نے اُسے رات گئے سب سے چھپ کر، اُسے اپنے گھر آنے کا کہا تھا۔
ابتہاج کو اُن کی بات کافی عجیب لگی تھی۔ مگر اُن کے بے حد اصرار پر وہ حامی بھر گیا تھا۔ اُن سے وعدے کے مطابق رات کے اندھیرے میں بلیک ہُڈی پہنے وہ دیوار پھلانگ کر اُن کے گھر میں داخل ہوا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
