Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Last Episode)

Meri Pathani by RB Writes

اگلا دن طلوع ہو چکا تھا اور آج وہ لوگ نین کے گھر رشتہ لے کر جانے والے تھے۔

ارحان سے تو اپنی خوشی سنبھلنے نہیں سنبھل رہی تھی۔

اسے یقین تھا کہ اسکو ابو انکار نہیں کریں گے۔

خانزادہ صاحب نے انکو بولا کہ آج وہ لوگ ارحان کا رشتہ لے کر جائیں گے اور پھر اس سے اگلے دن ذوہان کا رشتہ جہاں وہ کہے وہیں لے کر جائیں گے۔

“نین بچے جاو جاکر دروازہ دیکھو کون آیا ہے؟” آج چونکہ سنڈے تھا تبھی ایاز صاحب اور نین دونوں گھر پر ہی تھے۔

دروازے کی آواز سن کر وہ اخبار سے اپنا چہرہ ہٹاتے نین سے بولے جو اپنے موبائل میں گیم کھیل رہی تھی۔

ایاز صاحب کی بات سن کر وہ سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی اور دروازے کی جانب بڑھ گئی۔

جب اسنے دروازہ کھولا تو سامنے رضیہ بیگم اور خانزادہ صاحب اور لیلی کو دیکھ وہ کافی حیران ہوئی۔

” ارے انکل آنٹی آپ لوگ؟ آئیں اندر آئیں۔” نین نے خوشدلی سے راستہ چھوڑتے کہا۔

تینوں مسکرا کر اسکو دیکھ رہے تھے۔

” نین بیٹا کون آ۔۔۔۔” ایاز صاحب جو نین کو آتا دیکھ بول رہے تھے کہ اچانک ان کے پیچھے خانزادہ صاحب حورم اور رضیہ بیگم کو دیکھ کر ان کی بات منہ میں ہی رہ گئی اور ان کو دیکھ وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔

“ارے آپ لوگ؟ آئیں بیٹھے۔” ایاز صاحب خوشدلی سے بولے تو وہ لوگ مسکراتے وہاں صوفے پر بیٹھ گئے۔

“نین بیٹا جاو کچھ بنا کر لاو۔” ایاز صاحب نے کہا تو وہ سر ہلاتے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔

دل تھوڑا سا گھبرا رہا تھا شاید تھوڑا بہت تو وہ انکے آنے کا مقصد سمجھ ہی گئی تھی۔

” اور بتائیں بھائی صاحب کیسے ہیں؟” ایاز صاحب ان کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے بولے۔

” بھئی میں بلکل ٹھیک الحمدللہ آپ بتائیں۔” خانزادہ صاحب نے مسکرا کر کہا۔

” الحمدللہ میں بھی ٹھیک۔ آپ کیسی ہیں بھابھی؟ لیلی بیٹا آپ کیسے ہو؟” ایاز صاحب نے ان سے بھی حال احوال پوچھتے ہوئے کہا۔

” الحمدللہ ہم بھی ٹھیک ہیں۔” وہ بھی مسکراتی نرمی سے بولی۔

” بھائی صاحب ہمیں پتہ ہے کہ آپ ہمیں یوں اچانک یہاں دیکھ کر حیران ہوئے تو ہونگے ہی مگر ابھی ہم آپکو مزید حیران کرنے لگے ہیں۔ کیونکہ ہم نین کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں۔” خانزادہ صاحب نے بات کا آغاز کرتے کہا تو ایاز صاحب واقعی میں کافی حیران ہوئے۔

جبکہ اپنی بیٹی کے لئے اتنے اچھے رشتے کو دیکھ انکی آنکھیں نم ہوگئی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے نین کو ان سے زیادہ پیار کوئی نہ کرسکتا۔ مگر پھر نین کا خیال آتے وہ تھوڑے پریشان ہوئے۔

” بھئی آپ نے اس قابل سمجھا میں بہت شکر گزار ہوں آپکا۔ مگر مجھے بس نین کی پریشانی ہے۔ وہ مانے گی یا نہیں بس۔۔۔” ایاز صاحب نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ساتھ پریشانی کا اظہار بھی کیا۔

” ارے انکل تم نین کا فکر نہیں کرو ہم ابھی اس کو پوچھ کر آتا ہے۔” لیلی فورا سے بولتی کچن کی جانب بڑھ گئی جبکہ ایاز صاحب مسکرا دئے۔ وہ جانتے تھے کہ لیلی اسے منا ہی لیتی۔

اور واقعی ایسا ہوا بھی کچھ دیر بعد لیلی مسکراتے ہوئے واپس آئی۔

” دیکھا انکل ہم نے تمہیں بولا تھا نہ کہ ہم اسکو منا لیگا۔ اس نے ہاں کردی دیا ہے۔” لیلی نے کہا تو سب سکون کا سانس بھرا۔

اور پھر اسی طرح ان لوگوں نے رشتہ پکا کر لیا۔ شادی کی تاریخ ان لوگوں نے بعد میں طے کرنے کا سوچا تھا۔

لیلی تو بہت زیادہ خوش تھی کہ اس کی دونوں دوستیں ہی اسکی بھابھی بنیں گی۔ وہ جتنا اپنی خوشی کا اظہار کرتی اتنا ہی کم تھا۔

🔺️
🔺️
🔺️

” لالہ خوش ہوجاو ہاں کردیا ہے انہوں نے۔” لیلی نے گھر میں داخل ہوکر صوفے پر بیٹھے ارحان کو دیکھتے خوشی سے کہا جو فون یوز کر رہا تھا۔

اسکی بات سن کر ارحان کو خوشی تو بہت ہوئی مگر اس نے ظاہر نہ کی۔

” ہاں بھئی مجھے پتہ تھا ہاں ہی ہونی ہے۔ ظاہر سی بات ہے اب مجھے کوئی انکار کر سکتا ہے کیا؟ اتنا ہینڈسم جو ہوں میں۔” ارحان نے فخریہ اپنے کالر جھاڑتے کہا۔

” ہاں بھئی کچھ زیادہ ہی۔” خانزادہ صاحب سامنے بیٹھے طنزیہ لہجے میں کہا تو وہ خجل ہوگیا۔ اور شرمندہ سی ہنسی ہنس دیا۔

جبکہ اسکو دیکھ لیلی قہقہہ لگا کر ہنس دی۔

🔺️
🔺️
🔺️

” حالے تمہیں پتہ ہم لوگ آج ارحان بھائی کا رشتہ لے کر گیا تھا نین کے لئے۔” لیلی نے فورا سے حالے کو کال کرتا خوشی سے کہا تو حالے کو خوشگوار حیرت ہوئی۔

” ارے واہ بھئی واہ لیلی مبارک ہو۔ مطلب تمہاری بچپن کی دوست ہی تمہاری بھابھی بن رہی ہممم۔” حالے نے خوش ہوتے مسکرا کر کہا تو لیلی بھی ہنس دی۔

” ہاں نہ میں بھی تو تبھی خوش ہو رہا ہے۔ اور تمہیں پتہ ہم کل ذوہان بھائی کا رشتہ لے کر جائے گا۔” لیلی نے خوش ہوتے کہا۔ مگر یہ بات فلحال پیٹ میں ہی رکھی کہ اس کا ہی ہاتھ مانگنے جائیں گے۔

جبکہ اس کی بات سن کر حالے کے دل کو ناجانے کچھ ہوا مگر پھر فورا ہی سر جھٹک گئی۔

اور لیلی کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئی۔

🔺️
🔺️
🔺️

اگلے دن کا سورج چڑھ چکا تھا۔ اور وہ سب تقریبا دن کے دو بجے جانے کا سوچ رہے تھے۔

ذوہان کا تو سوچ سوچ کر ہی برا حال ہوتا جا رہا تھا کہ اگر ان لوگوں نے انکار کر دیا تو۔؟

مگر پھر بھی دعائیں کرتا دل کو تسلیاں دے رہا تھا۔

*جس دن میں اور تم ملیں گے وہ دن صدی کا سب سے خوبصورت دن میں شمار ہوگا۔۔ تمھارا میرے روبرو آنا وقت کے بہترین لمحوں میں سے ایک بہترین لمحہ ہوگا ❤*

وہ سب نکل گئے تھے۔ اور اس وقت حالے کے گھر کے باہر تھے۔ لیلی نے بیل بجائی تو کچھ ہی دیر میں دروازہ کھولا جو کہ اسفند نے کھولا۔

اسفند اپنے سامنے لیلی اور اس کے گھر والوں کو دیکھ کافی حیران ہوا۔ جبکہ لیلی نے اسے دیکھ منہ پھیر لیا جیسے ناراضگی ظاہر کی ہو۔ جبکہ اسے دیکھ اسفندیار کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔

اسفند نے فورا ہوش میں آتے اس کے گھر والوں کا خیال کرتے ان کو اندر بلایا۔

حالے تو ان کو اپنے گھر دیکھ کافی حیران ہوئی۔ مگر پھر لیلی کی کل بات یاد آنے پر مزید حیران ہوئی ساتھ ساتھ دل کی دھڑکنیں بھی عروج پر تھی۔

لیلی کے گھر والوں نے سکینہ بیگم اور کبیر صاحب سے بات کی تو انہوں نے کچھ وقت مانگا سوچنے کا۔

جبکہ اسفندیار کو اس رشتے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ذوہان ایک اچھی نیچر کا لڑکا ہے۔ مگر اس وقت اس کے لئے سب سے زیادہ ضروری حالے کی رضامندی تھی۔

کچھ دیر وہاں بیٹھ کر وہ لوگ وہاں سے واپس چلے گئے۔

اور ساتھ ساتھ دعائیں کرنے لگے کہ ان کی طرف سے ہاں ہی ہو۔

🔺️
🔺️

” امی میں نے نہیں کرنی شادی۔” حالے نے بیٹھتے منہ بنا کر کہا۔ تو سکینہ بیگم نے اسے گھورا۔

” کیوں کیوں نہیں کرنی ہاں اور ویسے بھی کیا مسئلہ ہے تمہیں اس رشتے سے اچھا خاصا لڑکا ہے۔” سکینہ بیگم نے اس کے انکار پر بھڑکتے کہا تو وہ مزید منہ بسور گئی۔

” امی میں نے نہیں کرنی ارینج میرج میں لو میرج کروں گی۔” حالے کے کہنے کی دیر تھی کہ ایک اڑتا جوتا اس کی کمر کو لگا تو وہ کراہ اٹھی۔

جبکہ اسفندیار قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔

” کرواتی ہوں میں تمہاری لو میرج۔” سکینہ بیگم غصے سے کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔ جبکہ اسفندیار ہنستے ہوئے حالے کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اور اسکے گرد اپنا بازو باندھا۔

اسکی شرارتی بہن اتنی جلدی بڑی ہوگئی تھی کہ اب اسکی شادی کا وقت آگیا تھا۔ یہ سوچ کر اسکی آنکھیں نم ہوگئی۔ اس نے بےساختہ حالے کے سر کو چوما۔

” کیا وجہ ہے بھئی کیوں انکار کر رہی ہو تم۔” خود کو سنبھالتے اس نے حالے کی جانب متوجہ ہوتے کہا۔

” بس ویسے ہی یار مجھے نہیں کرنی۔” حالے سے جب کوئی بہانہ نہ بنا تو بولی۔ پتہ نہیں وہ کوئی انکار کر رہی تھی جبکہ دل تو راضی تھا مگر پھر بھی وہ پتہ نہیں کیوں نخرے کر رہی تھی۔

” بھئی یہ تو کوئی بات نہ ہوئی نہ ویسے بھی ایک نہ ایک دن شادی تو کرنی ہی ہے نہ تو ذوہان کیوں نہیں اور ویسے بھی وہ ایک اچھا انسان ہے۔ خوش رکھے گا تمہیں۔ ان اتنے اچھے انسان کو ہاتھ سے تو نہ جانے دو بلکہ قبضہ کرلو فورا۔” اسفند نے شرارت سے کہا تو وہ ہنس دی۔

اسفندیار نے محبت سے اسکی ہنسی کو دیکھا۔

” ٹھیک ہے اگر تم کہہ رہے تو میں مان جاتی ہوں۔” حالے نے یوں کہا گویا اسفند پر احسان کر رہی ہو وہ۔

اس کی بات پر اسفند نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا کہ وہ ہنس دی۔

🔺️
🔺️
🔺️

لیلی لوگ جب گھر پہنچے تو ذوہان نے بےچینی سے ان کی جانب دیکھا۔

مگر لیلی کو خوشی سے اچھلتے کودتے نہ دیکھ اس کا دل کافی گھبرایا۔

ذوہان کا چہرہ دیکھ ہی لیلی نے اس کی بےچینی کا اندازہ لگا لیا۔

” وہ لوگ کہہ رہا ہے کہ ہم سوچ کر بتائے گا۔” لیلی نے کہا تو ذوہان کا چہرہ بجھ گیا۔

جو کہ ان سب نے کافی محسوس کیا۔

” کوئی بات نہیں انشاءاللہ اللہ بہتر کرے گا سب۔” خانزادہ صاحب نے اسے تسلی دی اور اٹھ کر چلے گئے۔ جبکہ ذوہان کو تو ابھی بھی ڈر ستا رہا تھا کہ کہیں وہ انکار نہ کردے۔

🔺️
🔺️
🔺️

ان کو جواب دینے سے پہلے اسفندیار نے اپنی امی سے بات کی کہ وہ ہاں کرتے ساتھ لیلی کا ہاتھ بھی مانگ لیں۔

جس پر سکینہ بیگم نے کبیر صاحب سے بات کی اور دونوں نے اسفند کی خوشی کو مد نظر رکھتے لیلی کے گھر والوں سے اس بارے میں بات کی۔

لیلی تو کافی حیران تھی کہ اچانک یہ سب کیا ہوگیا۔ جبکہ دل کا ایک کونے بےحد خوش تھا۔

سمجھ ہی نہ آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔

ارحان خود حد سے زیادہ حیران تھا کہ اسفندیار حالے کا بھائی ہے کیونکہ ذوہان تو اسفندیار سے ملا تھا مگر ارحان نہیں۔ ارحان کے بتانے پر کہ اسفند ایک سیکریٹ ایجنٹ ہے لیلی تو غش کھا کر گرنے کو ہوئی۔

مگر پھر اس نے اس شادی کے لئے ہاں کردی۔ جسے سن اسفندیار پھولے نہ سما رہا تھا۔

بعد میں لیلی نے حالے کو کال کرکے صحیح سنائی کہ اس نے اسے کیوں نہیں بتایا کہ اس کا بھائی آرمی آفیسر ہے۔

جس پر حالے نے اسفند کے منع کرنے کا بتایا اور بالآخر اسے منا ہی لیا۔

تینوں جوڑیوں کی شادی ایک ہی دن طے ہوئی تھی۔

جس کا انتظار زیادہ طویل نہ تھا۔

🔺️
🔺️
🔺️

آج ان سب کا نکاح تھا۔ لڑکیاں تو تینوں ہی بےحد گھبرائی ہوئی تھی مگر تینوں لڑکے حد سے زیادہ خوش تھے۔

مانوں خوشی ان کے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔

خانزادہ صاحب نے ارحان اور ذوہان دونوں کو اکٹھے ایک علیحدہ کمرے میں بلایا اور دونوں کو پاس بٹھایا۔

” میرے بچوں آج تم دونوں کے ساتھ ایک جان جڑنے والی ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ وہ اپنا گھر اپنے رشتے اپنا سب کچھ چھوڑ کر تمہارے لئے یہاں آرہی ہیں۔ کبھی انکو تکلیف مت پہنچانا۔ ہمیشہ ان سے پیار سے بات کرنا۔

ورنہ پھر مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔”

خانزادہ صاحب نے پہلے نرمی سے اور آخر میں تنبیہ کرتے کہا کہ دونوں ہیہنس دئے۔

” فکر مت کریں بابا ہم کبھی آپکو شرمندہ نہیں کریں گے۔” دونوں محبت سے بولے اور اٹھ کر خانزادہ صاحب کے گلے لگ گئے۔

🔺️

نکاح کا وقت آپشن آ پہنچا۔

مولوی نے سب سے پہلے اسفندیار اور لیلی کا نکاح پڑھوایا پھر حالے اور ذوہان کا اس کے بعد ارحان اور نین کا۔

*”من چاہی عورت سے نِکاح ہوجائے تو وہ ستّر ہزار حُوروں سے بھی زِیادہ عزیز ہوتی ہے!*❤

سارے ہی اپنے رب کے بہت شکرگزار تھے۔

🔺️

ان سب کی شادی کے بعد سمیر بھی اپنے گھر والوں کو لے کر زینب کے گھر لے کر گیا۔

شکیل صاحب کی تو آنکھیں نم ہوگئی۔ کہاں امید تھی کہ اپنی بیٹی کو اتنے اچھے انسان کے ساتھ بیاہ ہیں گے۔

اپنے رب کا بےحد شکر کرتے انہوں نے زینب کا رشتہ اس کے ساتھ پکا کر دیا۔

ارحان کی پروموشن ہوچکی تھی۔

جبکہ عیشا، جلال اور ازمیر جیسے شیطان صفت انسان اب ان کی زندگی سے دور چکے تھے۔

اب ہر طرف خوشیاں ہی تھی۔ وہ سب اللہ کا جتنا شکر کرتے اتنا ہی کم تھا۔

🔺️

تین مہینے بعد۔۔۔۔

” تم اب ہم سے بات مت کرنا۔” لیلی نے غصے سے کہا تو اسفندیار بوکھلایا۔

” مگر میں نے کیا کیا ہے۔” اسفند نے بیچاری سی شکل بنا کر کہا۔

” ام نے تم کو بولا تھا نہ کہ تم اس میرب سے بات مت کرنا پھر کیوں کی؟” لیلی نے غصے سے اسے گھورا مانو سالم نگل لے گی۔

” یار اب وہ بلا رہی تھی تو میں کیا کرتا۔” اسفند نے مسکراہٹ ضبط کرتے معصوم بنتے کہا۔

” چلے جاو تم ام سے بات نہ کرو۔” لیلی غصے سے کہتے وہاں سے چلی گئی جبکہ اسفندیار بوکھلا کر اس کے پیچھے بھاگا۔

تھوڑے دور سے یہ منظر دیکھتے حورم اور آریان مسکرا دئے۔

” دیکھا بیچارا کتنا شریف ہے۔ اور اس کی پٹھانی نے کیا ہی حالت کردی ہے۔” آریان نے اسے تنگ کرتے کہا۔

” تو ماڑا تمہارا مطلب ہے کہ ہم پٹھانیاں ظالم ہوتا ہے ہاں؟” حورم نے دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے اس کی جانب مڑتے کہا۔

” ارے نہیں میری جان میں نے ایسے تھوڑی کہا ہے۔” آریان نے فورا اسے صفائی دیتے کہا۔

” تم جاو اب ام سے بات مت کرنا۔” حورم غصے سے پیر پٹخ کر وہاں سے چل دی۔

” ہائے میری پٹھانی پھر سے ناراض ہوگئی۔ حورم یار بات تو سنو۔۔۔۔”

🔺️
🔺️

ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *