Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 28)

Meri Pathani by RB Writes

” ہمیں یہ کام پوری احتیاط کے ساتھ ساتھ کرنا ہوگا۔ ہماری ایک غلطی سے کافی سارے لوگوں کی جان جا سکتی ہے۔ ” ایک بار پھر وہ سارے میٹنگ روم میں موجود تھے۔

اور کل کئے جانے والے بلاسٹ کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

” ہم سب کو کل عام لباس میں ہی اس مسجد میں داخل ہونا پڑے گا۔ سب نے چاروں طرف پھیل جانا ہے۔

زیادہ تر لوگ مین گیٹ کے پاس رہیں اور جو بندہ مشکوک لگے اسے وہیں گھیر لیا جائے۔”

اسفندیار نے ان سب کو پلین سمجھاتے کہا جو سب سنجیدگی سے سن رہے تھے۔

اسفندیار نے اپنی بات سمجھا کر عادل کی طرف اشارہ کیا تو وہ سر ہلاتا باقی بات سمجھانے لگا۔

” ہم میں سے آدھے لوگ اسفند کے ساتھ ہونگے جو کہ مین گیٹ کے پاس ہوگا۔ اور باقی کے آدھے میرے ساتھ۔

ہم اندر موجود لوگوں میں اس کی تلاش کریں گے۔ اور جیسے ہی وہ بندہ ملتا ہے پھر ہم انہیں محفوظ طریقے سے باہر نکالیں گے۔” عادل نے انکو مزید سمجھایا۔

” پلین سب کو سمجھ آگیا ہوگا یقینا؟” اسفند نے کہہ کر سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔

اس کے کہنے پر سب نے یس سر کہا تو اسفندیار سر ہلا گیا۔

” بس اللہ ہمیں کامیاب کرے آمین۔” اسفند نے گہری سانس بھر کر کہا۔

” آمین۔” سب نے اس کی بات پر کہا۔

یہ کام جتنا آسان لگ رہا تھا اتنا تھا نہیں۔ مگر وہ لوگ خود کو پوری طرح سے تیار کر کے جا رہے تھے۔

آج کی رات ان سب میں سے کسی کو نیند نہیں آتی تھی۔

باقی سب تو پرسکون سے سو رہے تھے مگر وہ لوگ اپنے وطن کے لوگوں کی حفاظت کے لئے جاگ رہے تھے۔

یہ خبر غلط ہے کہ تم پر نظر نہیں

مصروف ھم بہت ہے مگر بے خبر نہیں

❤
❤

صبح کا سورج نکل آیا تھا۔ اور وہ سب تیار تھے ملک کو بچانے کے لئے۔

” تو تیار ہو جوانوں؟” اسفند ساری تیاری مکمل کر کے ان کے پاس آیا جو خود بھی ساری تیاریاں مکمل کر چکے تھے۔

” یس سر ۔” سب نے کہا تو اسفندیار سر ہلا گیا۔

” تو چلیں پھر چلتے ہیں ہمیں دیر ہو رہی ہے۔ ” اس نے کہا تو سب اس کے ساتھ چل دئے۔

اور سب الگ الگ ہو کر مسجد کی جانب روانہ ہوگئے۔

تقریبا دس منٹ پیدل چلنے کے بعد وہ مطلوبہ مسجد پہ پہنچ چکے تھے۔

دھیرے دھیرے لوگ مسجد آنا شروع ہوچکے تھے۔ مسجد دھیرے دھیرے بھرتی جارہی تھی۔ کافی سارے لوگ آچکے تھے۔ چونکہ آج جمعہ تھا تبھی باقی دنوں کے نسبت زیادہ لوگ تھے۔

” تم اندر کی طرف جاکر دیکھو میں باہر جارہا ہوں۔ اور اگر مجھے جیسے ہی پتہ لگے میں تمہیں آواز دے دوں گا۔ تم بھی ایسا ہی کرنا۔ ” اسفند نے بلکل دھیمی آواز میں اپنے ساتھ کھڑے عادل کو کہا۔ جو اس کی بات پر سر ہلا کر اندر کی جانب بڑھ گیا۔

اس کے جاتے ہی اسفندیار بھی مین گیٹ کے پاس آگیا اور اور ارحان کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگا۔ جس سے لوگوں کو ان پر کوئی شک نہ ہو رہا تھا۔

اسفندیار اور ارحان تیزی سے اپنی نگاہیں اردگرد گھما رہے تھے۔ ایک ایک انسان کو باریکی سے دیکھ رہے تھے۔ یونہی عادل اور باقی کے لوگ بھی مسجد کے اندر غور سے دیکھ رہے تھے۔

سب کے ماتھے پر اس وقت پسینہ تھا۔ سارے اس وقت یہی سوچ رہے تھے کہ اگر وہ انہیں بچا نہ پائے تو۔

وہاں پر کافی سارے بچے بھی تھے۔ جن کو دیکھ وہ مزید گھبرا رہے تھے۔

یونہی اردگرد دیکھتے اسفندیار اور ارحان کی نظر اندر آتے ایک شخص پر پڑی جو مسجد میں داخل ہو رہا تھا۔

اس نے اپنے گرد ایک بڑی سی شال لپیٹ رکھی تھی۔ اور اس کے ماتھے پر کافی پسینہ بھی تھا۔ کافی گھبرا کر وہ اردگرد کے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ جس سے وہ واضح طور پر مشکوک نظر آرہا تھا۔

اسفندیار اور ارحان نے گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھا اور بھاگ کر اس کے قریب گئے۔

اس سے پہلے کو بندہ اپنی شال پھینکتا اسفندیار نے اسے دھکا دے کر زمین پر گرایا۔

اچانک ہوئی اس حملے پر وہ گڑبڑا کر اوندھے منہ زمین پر گرا۔ اسفندیار اور ارحان نے اس کے دونوں ہاتھوں اور ٹانگوں کو قابو کر لیا۔ جس سے وہ حرکت نہیں کر پارہا تھا۔

” عادل ل ل ل۔” اسفند نے چیخ کر عادل کو پکارا۔ جس سے عادل کو پتہ لگ گیا کہ اسفند کے ہاتھوں وہ بندہ لگ چکا ہے۔

ٹیم کے باقی آدمیوں نے سب کو خبر کی کہ یہاں خودکش حملہ ہونے والا ہے۔ جس سے لوگوں میں بھاگ دوڑ لگ گئی۔ ہر کوئی اپنی جان بچانے کو بھاگ رہا تھا۔

” تم لوگ جاو باہر جاو میں یہ بم defuse کرتا ہوں۔ ‘” لوگوں کے جانے کے بعد اسفندیار نے اس بندے کے گرد سے سارے اسلحے احتیاط سے نکال دئے۔ اس کے اس بندے کو ان کے آدمی پکڑ چکے تھے۔

” تم پاگل ہو۔ میں تمہیں کہیں چھوڑ کر نہیں جارہا۔” عادل نے کہا تو اسفندیار نے لب بھینچ کر اس دیکھا۔

” عادل سر ٹھیک کہہ رہے ہیں سر۔ ہم آپکو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔” عادل کی بات سن کر ارحان نے بھی سنجیدگی سے کہا۔

” یہ ضد کا وقت نہیں ہے۔ تم لوگ جاو اور ان تمام لوگوں کو اس مسجد سے دور کردو۔ جاو۔” اسفند نے انہیں بات نہ مانتا دیکھ چیخ کر کہا مگر وہ پھر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلے۔

” ارحان پلیز تم لے کر جاو انہیں۔ میں فورا آتا ہوں۔” اسفندیار نے اس بم کو دیکھا جس میں دو منٹ باقی رہ گئے تھے۔ اور اسفندیار کو پتہ لگ گیا تھا کہ وہ بم واقعی میں پھٹے گا۔ تبھی وہ ان سب کی پرواہ کرتے چیخ کر بولا۔

اسفندیار کے بے حد اصرار وغیرہ پہ وہ دل پہ پتھر رکھ کر وہاں سے باہر آئے۔

مگر اسفند اس بم کو روکنے کی ایک آخری کوشش کر رہا تھا۔

عادل اور باقی کے لوگ باہر کھڑے اسفندیار کا انتظار کر رہے تھے۔

” میں جارہا ہوں اندر۔” عادل جیسے ہی بولا تبھی ایک تیز دھماکے کی آواز آئی جس کی وجہ سے وہ سارے دور جا گرے۔

عادل فورا سے اٹھ کھڑا ہوا اور پتھرائی نگاہوں سے مسجد کو دیکھ رہا تھا۔ یہی حال باقیوں کا بھی تھا۔

” اا۔ اسفند۔” عادل کے منہ سے بے آواز سرگوشی نکلی۔

❤
❤

” اسفند۔۔۔۔۔۔۔” عادل نے چیخ کر کہا۔ اور اس نے اندر جانے کی کوشش کی کہ ارحان اور باقیوں نے اسے روک لیا۔

” سر سر یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔” اس کے ٹیم ممبرز نے کہا مگر عادل سن کہاں رہا تھا۔

” چھوڑو مجھے اسفند اندر ہے مجھے اسے بچانا ہے اسفند۔۔۔۔” عادل روتے ہوئے بولا۔ اس سے یہ بات برداشت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اسفند کو کچھ ہوگیا ہے۔

عادل کی حالت دیکھ ان سب کی آنکھیں نم ہوگئی۔

” کیا ہوگیا ہے کیوں لڑکیوں کی طرح رو رہا ہے؟” اسفند کی شرارتی آواز پہ سب نے حیرت سے مڑ کر دیکھا۔

جب کہ عادل تو ایک بار پھر سے صدمے میں چلا گیا تھا۔

اس کی حالت دیکھ اسفند نے مسکراہٹ ضبط کی۔

عادل کو جیسے ہی ہوش آیا وہ فورا بھاگ کے اسفند کے گلے لگ گیا۔ اور اس کے گرد مضبوط حصار باندھ دیا۔

” اسفند تو ٹھیک ہے۔ میں اتنا ڈر گیا تھا یاررر۔” عادل کی نم آواز پر اسفند سمیت سب کی آنکھیں نم ہوگئی۔

” بس کردے میری معشوقہ ٹھیک ہوں میں۔” اسفندیار نے مسکراتے ماحول کو تبدیل کرنا چاہا۔

اس کی بات پر جہاں سب قہقہہ لگا گئے وہیں عادل خجل ہوتا اس سے دور ہوگیا۔

” کسی کو کوئی نقصان تو نہیں ہوا؟” اسفند نے ان کے قریب آتے پوچھا۔

” نہیں سب سیف ہیں الحمدللہ سے۔ ‘” ارحان نے کہا تو وہ سب مسکرا دئے کہ شکر تھا کہ انہوں نے وقت پر پہنچ کر سب کو باہر بھیج دیا ورنہ اتنے سارے لوگوں کا جانی نقصان بہت بڑا نقصان ہوتا۔

❤
❤

جیسے ہی بم کو پھٹنے میں تیس سیکنڈ رہ گئے تھے اسفند نے ہمت ہارتے فورا سے کھڑا ہوا اور پچھلا دروازہ جس کے وہ قریب تھا بھاگ کر گیا اور وہاں سے تیزی سے نکل گیا۔

جیسے ہی اس نے پاوں باہر رکھا زوردار دھماکہ ہوا۔

جس کی وجہ سے وہ بھی گر گیا۔ اور پھر خود کو سنبھالتا اٹھ گیا۔

وہاں سے نکلنے کے بعد وہ عادل لوگوں کے پاس گیا اور عادل کو روتا دیکھ فورا سے اس کے پاس گیا۔

اس وقت وہ بس اس بات کا شکر ادا کر رہے تھے کہ کسی کو جانہ نقصان نہیں ہوا تھا۔ اور اللہ کے فضل و کرم سے وہ ان کو بحفاظت نکال چکے تھے۔

ورنہ اگر وہ ان سب کو اطلاع نہ دے پاتے وہ اس بندے کو نہ دیکھ پاتے اور اگر کسی ایک کو بھی کچھ ہو جاتا تو وہ خود کو کبھی معاف نہ کرپاتے۔

سب اللہ کا شکر ادا کرتے وہاں کی پولیس اور آرمی کو اطلاع دیتے وہاں سے نکلتے چلے گئے۔

❤
❤

وہاں سے آتے وہ لوگ سیدھا اپنے گھر آئے اور ازمیر کے پاس آئے جو کہ پسینے میں شرابور پڑا ہوا تھا۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے فورا سے آنکھیں کھولی اور خوفزدہ نگاہوں سے سامنے دیکھنے لگا۔

” تم لوگوں کا یہ والا پلین بھی ہم چوپٹ کر چکے ہیں۔” اسفند نے پراسرار سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے کہا۔

“پاک فوج اور خفیہ ایجنسیوں پر پروپیگنڈا کرنے والے اس خوش فہمی میں نہ رہیں کے ہم پکڑے نہیں جا سکتے

ڈیڑھ لاکھ فوج چھیالیس ملک اور سترہ ایجنسیوں کی چینخیں نکالنے والوں کے لیے تم آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اب تک اس لئے بچے ہوئے ہو کہ تم پاکستانی ہو اپنے ہو لیکن برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔ اور وہ حد اب ختم ہو چکی ہے۔”

اسفند نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھوں سے ازمیر کو خوف محسوس ہو رہا تھا۔

سب کی آنکھوں میں موجود نفرت وہ صاف صاف دیکھ سکتا تھا۔

ازمیر ان کے جانے کے بعد کافی کوشش کر چکا تھا کہ کسی طرح یہاں سے نکل جائے۔

مگر وہ یہ بات بھول چکا تھا کہ وہ کس کے ہاتھ لگا ہے۔

اور ایجنسی کے ہاتھ جب کوئی مجرم لگ جائے تو اس کے بھاگنے کا راستہ سو فیصد ختم ہو جاتا ہے۔

” تم آج کے دم آرام کرلو پھر ہمیں کل نکلنا بھی تو ہے کشمیر کے لئے۔ ٹھیک ہے۔” اسفند اس کے گال تھتپاتے وہاں سے نکل گیا اس کے جاتے ہی سارے وہاں سے چلے گئے۔

جب کہ ازمیر کو ایک بار پھر اس کال کوٹھڑی میں گھٹن محسوس ہونے لگی تھی۔

جن جن پر اس نے ظلم کیا تھا ان سب کی چیخیں اس کے کانوں میں گونجتی اسے بے چین اور پاگل کر دینے کے ڈر پہ تھی۔

❤
❤

” میں جا کر گاڑی سٹارٹ کرتا ہوں تم حالے کو لے آو۔” کبیر صاحب بولے۔ اور گاڑی کی چابی اٹھائے باہر چل دئے۔

ان کی بات سن کر سکینہ بیگم کمرے کی جانب چلی گئی۔

اور حالے کو سہارا دئے باہر گاڑی تک لے آئی۔

آج کے دن حالے کی appointment تھی۔ تبھی وہ دونوں اسے ہسپتال لے کر جارہے تھے۔

حالے کا دل بالکل نہیں تھا جانے کا۔ اور جب اس نے یہ بات سکینہ بیگم کو کہی تو اس کو کافی ساری سننی پڑی جس کی وجہ سے وہ منہ بنائے چل رہی تھی۔

کچھ ہی وقت میں وہ لوگ ہسپتال پہنچ چکے تھے۔

ذوہان نے جب حالے کو دیکھا تو کھل اٹھا۔ اتنے دنوں بعد اس کا دیدار کر کے اب وہ کافی سکون محسوس کر رہا تھا۔

ذوہان کی گہری نظروں کو اپنے اوپر محسوس کر کے وہ کافی گھبراہٹ کی شکار ہو رہی تھی۔ اور کنفیوز سی پوری کوشش کر رہی تھی کہ اسے اگنور کرے۔

اور اس کی یہ حرکت دیکھ ذوہان کو وہ مزید پیاری لگ رہی تھی۔

کچھ دیر بعد ایک لیڈی ڈاکٹر آئی جس نے حالے کا چیک اپ سٹارٹ کیا۔

اور پھر سارے ٹیسٹ وغیرہ کر کے وہ واپس چل دئے۔

❤
❤

عیشا جو کہ آج ہسپتال کے سامنے سے گزر رہی تھی وہاں پر حالے کو دیکھ وہ چونک گئی۔

اور اس کو آج کے دن پھر سے ہسپتال سے نکلتے دیکھ وہ سمجھ گئی تھی کہ ذوہان سے تو لازمی ملی ہوگی۔

وہ گھور گھور کر حالے کو دیکھ رہی تھی مگر پھر اسفندیار کی بات یاد آئی تو گھبرا کر اس سے نظریں ہٹائی اور اردگرد دیکھنے لگی کہ کہیں وہ پھر سے نا آجائے۔

اپنے اسی ڈر کی وجہ سے وہ تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔

کہ کہیں دوبارہ وہ آگیا تو اب کہ اس کی خیر نہیں تھی۔

اس واقعے کے بعد وہ واقعی میں ہی ڈر گئی تھی اور اس نے دوبارہ سے ذوہان سے ملنے کا اور حالے کو نقصان پہنچانے کا سوچا بھی نہیں تھا۔

اور اب کہ اس نے ذوہان کو بھولنے کا ہی فیصلہ کر لیا تھا۔

کیوں کہ اس کو اسی میں اپنی بھلائی نظر آرہی تھی۔

❤
❤

” ناظرین آپ کو بتاتے چلیں کے دھماکے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ لوگوں سے پوچھنے پر پتہ لگا کہ ان کو کچھ آدمیوں نے باخبر کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ سب تیزی سے وہاں سے نکل۔۔۔۔” مزید اس سے سنا گیا تبھی اس نے غصے سے ٹیلی ویژن بند کر دیا۔

وہ غصے سے کھولتا ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا۔ اس نے فون نکال کر ازمیر کو کال کی۔ مگر اس کا نمبر بند جا رہا تھا۔

جس نے اسے مزید غصہ دلایا اور اس نے غصے سے فون صوفے پر اچھال دیا۔

” کیسے کیسے پتہ لگ گیا کسی کو۔۔۔” جلال غصے سے دھاڑا۔

اس کا غصہ ہونا تو بنتا تھا کہ یہ اس کا دوسرا پلین تھا اور یہ بھی ناکام ہو گیا تھا۔

کافی پیسہ لگا تھا اس کا مگر اس بار بھی اس کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

اس نے ایک بار پھر سے ازمیر کو کال کرنے کی کوشش کی مگر اب بھی اس کا نمبر بند ہی جارہا تھا۔

❤
❤

” حالے ماڑا تمہارے بغیر مزا نہیں آتا۔ تم کب آئے گا۔” لیلی نے منہ بنا کر کہا۔

ان دونوں کو واقعی میں ہی حالے سے کافی انسیت ہوگئی تھی۔

” یار میں خود یہ چاہتی ہوں کہ میں جلد از جلد ٹھیک ہو جاوں۔ کیونکہ اسفی بھی نہیں ہے تو میں بور ہوجاتی ہوں۔”

اب کہ بھی حالے نے اسی کا ذکر کیا جس سے وہ اتنے وقت سے بھاگ رہی تھی۔

پتہ نہیں کیوں وہ اس کو سوچنے پر مجبور ہو جاتی۔ وہ بہت بھاگتی خود سے اور اس کے نام سے مگر ہر بار ناکام ہو جاتی۔

وہ اب کہ خود سے تنگ آچکی تھی۔ مگر اس معاملے میں وہ خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔

تجھ کو میری ذات سے رغبت نہیں, معلوم ہے..!!♧

فرض کر بیٹھے بِٹھائے پیار ہو جائے تو پِھر..!! ♡♡

” کیا ہوا چپ کیوں ہوگئی؟” اس کی خاموشی محسوس کرتے حالے نے کہا۔

” آآ نہیں ماڑا۔” لیلی نے خود کو نارمل کرتے کہا۔ اس کے بعد وہ دونوں دوبارہ سے باتیں کرنے میں مصروف ہوگئی۔

نین اس وقت خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی تبھی اس وقت صرف وہ دوں ایک دوسرے سے بات کر رہی تھی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *