Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 29)

Meri Pathani by RB Writes

ان سب نے واپس آنے کی تمام تیاریاں کر لی تھی۔ وہ سب اچانک جاکر اپنے گھر والوں کو سرپرائز کرنا چاہتے تھے۔

ازمیر اور جلال کو وہ پہلے ہی کچھ آفیسرز کے ہاتھوں بھیج چکے تھے۔

کہ اب انکا جو حال ہونا تھا وہ تو سوچ کہ ہی روح کانپ جاتی۔

وہ سب کچھ ہی دیر میں نکلنے لگے تھے۔ اسفندیار نے تو ویسے ہی سب تیار کر لیا تھا اس لئے کچھ دیر اپنا مائنڈ سیٹ کرنے وہ باہر نکل آیا تاکہ تھوڑا گھوم سکے۔

ان خوبصورت گلیوں میں گھومتے اسفندیار کی نظر چوڑیوں کی سٹال پڑی۔ اس نے بے ساختہ اپنے قدم ان کی جانب بڑھا دئے۔

” جی صاحب کونسی سائز کی چوڑیاں دوں۔ ” چوڑیوں والے نے اشتیاق سے اسفند کو چوڑیاں دیکھتے کہا۔

تو اسفند کا دھیان اس کی جانب گیا۔ اس کی بات سن کر تو وہ پریشان ہوگیا تھا۔ کیونکہ اس کو تو پتہ ہی نہیں تھا لیلی کے ہاتھ کا سائز۔

مگر پھر اندازہ لگاتے اس نے بلیو کلر کی چوڑیاں لی۔ اندازے کے مطابق اس سائز کی چوڑیاں تو اسے فٹ آ ہی جاتی۔

اب وہ اسے فٹ آنی تھی یا نہیں یہ تو جب لیلی پہنتی تب ہی پتہ لگتا۔

پیلی کے خیال سے اسکے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھل دئے۔

دل میں گدگدی سی ہوئی۔ ابھی وہ کچھ سوچتا کہ فورا سے عادل بوتل کے جن کی طرح نمودار ہوا۔

” واہ جی واہ۔ اسفی چوڑیاں کب سے پہننا سٹارٹ کی تم نے؟” عادل نے مصنوعی حیرت سے اسے دیکھ کر کہا۔ اسفند کو کہیں نہ پاکر وہ بھی اسی بازار میں آگیا۔

اس کی بات سن کر اسفند نے دانت پیستے اسے دیکھا۔

” میرا دماغ نہ خراب کرو ۔” اسفند نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے کہا۔

اس کی بات پر عادل ہنس دیا۔

” ویسے کس کے لئے لے رہے ہو یہ چوڑیاں ہاں۔” عادل نے اسے چوڑیاں پکڑے مسکراتے دیکھ لیا تھا تبھی وہ مشکوک انداز میں اسے دیکھتے ہوئے بولا۔

اس کے انداز پر اسفندیار گڑبڑا گیا۔

” کس۔۔ کس کے لئے لینا میں نے۔ ظاہر سی بات ہے حالے کے لئے لینا۔” عادل سے صحیح بات چھپاتے اسفند نے نگاہیں چراتے کہا۔

” اچھااااااا۔” عادل اس کی بات سے مطمئن تو نہ ہوا مگر پھر بھی بولا۔

اسفند نے فورا سے وہ چوڑیاں پیک کروا لی اور اس کے بعد وہ لوگ وہاں سے نکلتے چلے گئے۔

🔺️
🔺️

ایک لمبے طویل سے سفر کے بعد وہ اپنے شہر پہنچ گئے۔ گاڑی سے اتر کر سب نے ایک گہری سی سانس اپنے سینے میں بھری۔ وہ ایک بار پھر اپنے شہر کو آگئے تھے انہیں تو یہ لگا کہ شاید زندگی اتنا موقع نہ دے۔

” اوکے جنٹلمین اب سب اپنے اپنے گھر کو ہو جائیں اور دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھئے گا۔” اسفند نے ان کی جانب مجھ کر نرم لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا۔

اس کی بات پر سب سر کو خم کرتے مسکرا دئے۔

اس کے بعد اپنے اپنے راہ کو چل دئے۔

اسفندیار جب اپنے گھر کے سامنے آکھڑا ہوا تو مسکرا دیا۔ اور دھیرے سے چلتے اس نے چابی سے گھر کا دروازہ آرام سے کھولا۔ اور اندر چل دیا۔

اندر سے سکینہ اور حالے کی آوازیں آرہی تھی جو کہ شاید کسی بات پر لڑ رہی تھی۔ اسفندیار نے آنکھوں سے مسکرا دیا کتنا ترس گیا تھا وہ ان کی آوازیں سننے کو۔

” امی پلیز دے دیں یہ مجھے۔” حالے نے منہ بنا کر کہا۔

” حالے میرا دماغ مت کھاو۔ ابھی پوری طرح سے ٹھیک ہوئی نہیں ہو اور یہ مرچ مصالحے والی چیزیں کھانا شروع کر دیا ہے۔” سکینہ بیگم نے غصے سے کہا۔

” بھئی کیا ہوگیا ہے امیییی۔” اسفند نے اچانک سے سامنے آتے ہوئے کہا۔

” یہ دیکھو اسفی یہ۔۔۔۔۔۔۔” سکینہ بیگم بے دھیانی میں بول رہی تھی کہ اچانک ان کا منہ اسفند کو سامنے دیکھ کر کھل گیا۔

یہی کچھ حال حالے کا بھی تھا۔

” اسفیییییی۔” وہ دونوں فورا ہی اس کے قریب آتی اس کے گلے لگ گئی۔

” کیسا ہے میرا بیٹا؟” سکینہ بیگم نے نم آنکھوں سے مسکرا کر کہا۔

” بالکل ٹھیک ہوں الحمدللہ۔” اسفند کے کہنے پر سکینہ بیگم اس کا ماتھا چوم کر اس سے دور ہوئی۔۔

” اسفی تمہیں پتہ میں نے تمہیں کتنا یاد کیا۔” حالے نے اس کے گلے لگتے شکوہ کنا لہجے میں کہا تو اسفند نے اس کے سر پر لب رکھے۔

” میں نے بھی تم سب کو بہت یاد کیا۔” اسفند نے کہا تو وہ اس سے دور ہوئی۔

” مشن کیسا گیا؟” حالے نے پوچھا تو اس نے مسکراتے آنکھ ونک کی۔

” بھئی کیسا جاسکتا۔۔۔۔۔۔؟”” اسفند کی بات پر وہ مسکرادی اس کے بعد وہ لوگ دوبارہ سے اپنی چھوٹی سی دنیا میں مصروف ہوگئے۔ اور ان گزرے دنوں کا حال احوال سننے اور سنانے لگے۔

🔺️
🔺️

” ذوہان لالہ۔۔؟” لیلی نے اسکے کندھے پر سر رکھتے منہ بنا کر کہا تو ذوہان اس کی جانب متوجہ ہوا۔

” ہاں گڑیا کیا ہوا؟” ذوہان نے اس کے ڈھلکتے دوپٹے کو سر پر ٹھیک کرتے کہا۔

” میں بور ہو رہا ہے ” لیلی کے منہ بنا کر کہنے پر وہ ہنس دیا۔

” اچھا اور میرا بیٹا کیوں بور ہو رہا؟” ذوہان نے مسکراہٹ ضبط کرتے کہا۔

” پتہ نہیں بس ۔۔۔۔۔” لیلی کہہ رہی تھی کہ اچانک کسی نے پیچھے سے اس کی آنکھوں پہ اپنے ہاتھ رکھے۔

” ارحان لالہ اااااااا۔” لیلی نے بغیر دیر کئے اس کے ہاتھ ہٹاتے چیختے ہوئے کہا۔ اس کی چیخ پر ذوہان اور ارحان دونوں نے کان بند کئے۔

جبکہ رضیہ بیگم بھی اپنے کمرے سے نکل آئی اور ارحان کو سامنے دیکھ آنکھوں میں آنسو لئے اس کے قریب آئی۔

” ارحان ذمہ زڑگیہ۔”

( میرا دل )۔

رضیہ بیگم اس کے قریب آئی اور اس کو اپنے گلے لگایا۔ ارحان بھی آنکھیں بند کئے اپنی ماں کے لمس کو محسوس کر رہا تھا جس کے لئے وہ ان دس دنوں میں ترس سا گیا تھا۔

” مورے ہم کو بھی ملنے دو نہ۔”

لیلی نے منہ بنا کر کہا تو رضیہ بیگم آنسو صاف کر کے ہنس کر ارحان سے دور ہوئی۔ تب لیلی اس سے ملنے لگی اس کے بعد ذوہان اس سے ملنے لگ گیا۔

کافی دیر تک سب اس کے گرد ایسے جمع تھے جیسے وہ دس دن بعد نہیں بلکہ سال بعد آیا ہو مگر ان سب کے لئے تو وہ سب سال کے برابر ہی تھا۔

🔺️
🔺️

اس وقت وہ تینوں ارحان ذوہان کے کمرے میں تھے اور ساری سٹوری سن رہے تھے اس سے۔

” لالہ تم نے کہا تھا کہ جب تم آئے گا تو پھر تمہارا شادی ہوتا ہے نہ۔” ارحان کی شادی کا یاد آتے اس نے فورا سے اچھلتے خوشی سے کہا۔ ذوہان اور ارحان اس کی اتنی خوشی پر مسکرائے بنا نہ رہ سکے۔

” ہاں بلکل لالے کی جان کیوں نہیں۔” ارحان نے اسکے گال کھینچتے کہا۔

” اچھا تم نے لڑکی کا نام نہیں جاننا؟” ارحان نے آنکھوں میں شرارت لئے کہا تو ذوہان نے فورا لیلی کی جانب دیکھا کہ کہیں وہ کوئی گڑبڑ نہ کردے۔

” ہاں لالہ بتاو نہ۔” لیلی نے نقلی ایکسپریشن چہرے پر سجائے کہا۔

” نین۔” ارحان نے مسکرا کر کہا۔

” ارے واہ سچ میں لالہ۔ میں بہت خوش ہوں۔” لیلی نے اپنی جانب سے پوری کوشش کرتے یوں واضح کیا جیسے وہ پہلی بار سن رہی تھی۔

” یہ کچھ اصلی نہیں لگ رہے مجھے۔ ” ارحان کو اس کے ری ایکشن پر شبہ ہوا کیونکہ وہ جانتا تھا گھنٹہ تو وہ خوشی سے پاگل ہی رہتی مگر اسے کیا پتہ تھا کہ یہ سب وہ پہلے ہی کر چکی تھی۔

” ایک منٹ تو نے بتایا ہے نہ اسے۔؟” یکدم ذوہان کی جانب مڑتے اس نے خطرناک ایکسپریشن لئے کہا تو ذوہان گڑبڑا گیا۔

” نن۔نہیں میں کیوں بتاوں گا لیلی بتاو لالہ کو کہ میں نے نہیں بتایا۔” ذوہان نے اپنی جان بخشی کی لئے لیلی کی جانب دیکھتے چہرے پر مسکینی طاری کرتے کہا۔

” ہاں ہاں لالہ مجھے تو ذوہان لالہ نے نہیں بتایا وہ تو ابھی تم نے بتایا۔” لیلی کی ایکٹنگ شاید کچھ زیادہ ہی خراب تھی تبھی وہ کچھ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ کیا کرے کیا بولے۔

مگر ارحان سب سمجھ چکا تھا۔ تبھی خطرناک تیوریاں لئے اس نے ذوہان کو پکڑا اور اپنا سارا غصہ نکالا جبکہ ذوہان بچارہ تو اپنا بچ بچاو کرتا رہ گیا۔

” بدتمیز۔ تو نے میرا سرپرائز خراب کیا ہے نہ اب دیکھ۔” ارحان نے دانت پیستے کہا تو ذوہان گڑبڑا گیا وہ جانت اٹھا کہ اب ارحان کیا کرنے والا ہے۔

” لیلی تمہیں پتہ ہے ذوہان کسی کو پسند کرتا ہے اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ تمہاری دوست حالے ہی ہے۔” ارحان نے ذوہان کے کچھ بھی سمجھنے سے پہلے فورا سے جلدی جلدی بول دیا۔

اس کی بات سن کر لیلی کا منہ کھل گیا۔ اسے کم از کم ذوہان سے یہ امید نہیں تھی۔ جبکہ ذوہان اب شرمندہ سا اپنی نظریں ادھر ادھر کر رہا تھا۔

اور لیلی بس آنکھوں میں افسوس لئے ان کو گھور رہی تھی۔

” کیا؟ ایسے گھور کیوں رہی ہو؟” ارحان نے اسے کب سے خود کو گھورتا پاکر کہا۔

” وہ اس لئے کہ تم لوگ کتنا میسنا ہے۔ ہماری ہی دوستوں کو پسند کر کے بیٹھا ہے۔ آئندہ میں اپنی کسی دوست کو گھر تم سے ملانے نہیں لائے گا۔ کیا پتہ تم کو وہ بھی پسند آجائے۔” لیلی نے منہ بگاڑ کر کہا۔

جبکہ اس کی بات پر ارحان اور ذوہان دونوں کا منہ کھل گیا۔ انہیں سمجھ ہی نہ آئی لیلی نے انہیں کہہ کیا دیا ہے۔

” لیلی ااااااا۔” دونوں بات کو سمجھتے ایک ساتھ چیخے۔ ظاہر سی بات تھی اس کی بات پر تڑپ اٹھے تھے وہ دونوں۔ اب ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ دونوں ایسے تھے مگر کیا کرتے محبت ہی ایسی لڑکی سے ہوئی جو اس کی بہن کی دوست تھی اس میں ان کا قصور تو نہیں تھا نہ۔۔۔۔۔

کافی دیر وہ لوگ بیٹھے آپس میں باتیں کرتے رہے اور لیلی تو ابھی سے بیٹھ کر شادی کے لئے کیا کیا لینا تھا سب گنوا رہی تھی دونوں کو۔ جو دونوں ہی سر کو خم کرتے سن رہے تھے۔

🔺️
🔺️

صبح کی نئی کرن نکل آئی تھی۔ جو اپنے ساتھ ڈھیر سارا سکون اور خوشیاں لائی تھی۔

کچھ غم بھی تھے مگر غم کے بعد خوشی بھی تو آتی ہے۔

جیسے رات کے بعد دن آتا ہے ویسے ہی ہر پریشانی کے بعد خوشی اور سکون بھی آتی ہے۔ تو کبھی امید نہیں ہارنی چاہیے۔

اس وقت سارے ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔ کہ تبھی خانزادہ صاحب کی آواز نے ان سب کے درمیان موجود خاموشی کو توڑا۔

” ہاں تو ارحان کچھ کہہ کر گئے تھے شاید تم۔ اس بارے میں سنجیدہ ہو یا نہیں؟” خانزادہ صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔

تو سب انکی جانب متوجہ ہوئے۔

” جی ابو میں سنجیدہ ہوں۔” ارحان نے کہا تو وہ سر ہلاگئے۔

” تو پھر بتاو کون ہے ؟” خانزادہ صاحب نے نوالہ منہ میں ڈالتی کہا تو ارحان کی حالت عجیب ہوگئی۔ اسے سمجھ ہی نہ آیا کہ اب وہ کیسے ان کو بتائے۔

اس نے ملتجی نظروں سے لیلی کی جانب دیکھا جو اس کی مشکل سمجھ گئی تھی۔

ذوہان بھی ان کو بتانا چاہتا تھا مگر ارحان جب نہیں بتا پا رہا تھا تو اسے خود اپنے آپ پر بھی یقین تھا کہ نہیں بتا پائے گا۔

لیلی نے ایک نظر ارحان اور پھر ذوہان کو دیکھا۔

” ابو وہ ارحان لالہ نہ نین سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اور ہم ارحان کے ساتھ ساتھ ذوہان لالہ کی شادی بھی کر دیتا ہے کیا کہتا ہے تم لوگ۔؟” لیلی نے دونوں کی مشکل آسان کرتے کہا۔تو خانزادہ صاحب نے آنکھیں ترچھی کئے انہیں دیکھا۔

” ذوہان نے بھی کسی کو پسند کر رکھا ہے کیا؟” خانزادہ صاحب اپنے بچوں سے اچھی طرح واقف تھے تبھی بولے۔

” آآاا ہاں ابو۔” لیلی نے کہا۔

” واہ ماشاءاللہ ۔” خانزادہ صاحب کی طنزیہ آواز پر وہ دونوں شرمندہ سے ہوگئے تھے۔ جبکہ لیلی کو تو اپنا قہقہہ روکنا مشکل لگ رہا تھا۔

” چلو ٹھیک ہے پھر ایک دو دن تک ہم نین کے گھر رشتہ لے کر جاتے ہیں پھر اس کے بعد ذوہان جہاں بولے وہاں۔ شادی کی تاریخ ایک ہی رکھیں گے دونوں کی۔” خانزادہ صاحب کی بات پر دونوں پرسکون ہوئے اور سر جھکائے مسکرا دئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *