Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 09)

Meri Pathani by RB Writes

“ذوہان لالہ چلو نہ۔” لیلی تیار ہوکر ناشتہ ختم کرکے ذوہان کو بولی جو ابھی ناشتہ کر رہا تھا۔

ذوہان نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو بڑی جلدی میں لگ رہی تھی۔

” صبر کر جاو گڑیا مجھے ناشتہ تو کر لینے دو۔” ذوہان نے اسے دیکھ ہنس کر کہا مگر اس کی بات سن کر بھی لیلی کی جلدبازی نہ ختم ہوئی۔

” لالہ جلدی کرو نہ۔” لیلی منہ بنا کر بولی۔

” اچھا بھئی چلو تمہیں چھوڑ آوں میں۔” ذوہان ناشتہ سائڈ پر کرتے بولا اور اٹھ کر اپنا کوٹ پہنا پھر گاڑی کی چابی اٹھائے لیلی کو لئے باہر آیا۔

” ویسے اتنی جلدی کس بات کی ہے تمہیں؟” ذوہان نے گاڑی چلاتے اس کے چہرے کو دیکھ کر کہا۔

” وہ لالہ میں گھر میں بور ہوگئی تھا تو مجھے اس لئے یونی جانے کا جلدی ہے۔” لیلی نے کہا اور اس نے سچ ہی کہا تھا کہ وہ گھر میں یہ دو دن رہ کر بور ہوگئی۔

” آج تو حالے نہیں آئے گا بس میں اور نین ہونگے۔” لیلی نے کہا تو ذوہان نے اس کے لئے گئے نام پر چونک کر اسے دیکھا۔

” تمہاری اس دوسری دوست کا پورا نام کیا ہے؟” ذوہان نے اسے دیکھ کر کہا۔

” لالہ اسکا نام حالے نور ہے۔” لیلی نے کہا تو ذوہان کو لگا کہ شاید یہ وہی لڑکی ہے جس سے اسے کشش محسوس ہوئی تھی مگر پھر یہ لگا کہ اس نام کہ اور لوگ بھی تو ہوسکتے ہیں۔

” اچھا اور وہ کیوں نہیں آرہی آج۔” ذوہان نے ایک بار کنفرم کرنے کے لئے اس سے ایک مزید سوال پوچھا۔

” وہ لالہ وہ نہ بیمار ہوگیا ہے۔ میں نے اس کو کہا تھا کہ وہ ہسپتال گیا تو اس نے کہا کہ وہ گیا تھا اور پتہ ہے وہ اسی ہسپتال میں گئی کہ جس میں تم جاتا ہے۔” لیلی نے تو بتا دیا جبکہ ذوہان کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کو پتہ چل گیا کہ یہ وہی ہے۔

” اب کیسی طبیعت ہے تمہاری دوست کی؟” اس کے بارے میں بات کو مزید بڑھاتے کہا۔

” اب وہ کہہ رہا تھا کہ بہتر ہے مگر پورا ٹھیک نہیں ہوا ہے وہ۔” لیلی نے کہا تو ذوہان نے دل میں اس کی صحت یابی کی دعا کی۔ اور کچھ ہی دیر میں وہ لیلی کو اس کی یونی چھوڑ کر ہسپتال کی جانب بڑھ گاڑی موڑ دی۔

❤
❤

” ہاں بھئی اس شکیل نے پیسے ادا کئے کہ نہیں؟” سردار ازمیر کرسی پہ پاوں پہ پاوں رکھے اپنے مونچھوں کو تاو دیتے مغرورانہ لہجے میں کریم سے بولا جو کہ اس کا خاص ملازم تھا۔

” نہیں سائیں پیسے تو نہیں دئے مگر ہاں وہ پتہ لگا ہے کہ وہ کہیں پولیس سٹیشن میں آپ کے نام کی رپورٹ درج کروانے گیا ہے۔” کریم نے اسے ساری تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تو ازمیر طنزیہ مسکرایا۔

” اچھا تو اب چیونٹی کے بھی پر نکل آئیں ہیں۔ ویسے بھی کوئی پولیس والا کیا بگاڑ لے گا میرا۔” وہ اپنے مونچھوں کو تاو دیتے مغرور لہجے میں بولا۔

” مگر سائیں پتہ لگا ہے کہ یہ پولیس والا بڑا بہادر اور ایماندار ہے کہیں ہمارے لئے خطرہ نہ بن جائے۔” کریم نے اپنا خدشہ ظاہر کرواتے کہا تو سردار ازمیر نے آئبرو اچکائے اسے دیکھا۔

” بھئی آج تک ایسا کبھی ہوا ہے کہ کوئی سردار ازمیر کے خلاف کھڑا رہ سکے۔ اسے بھی دیکھ لیں گے۔” سردار ازمیر مسکرا کر بولتا اٹھ کر حویلی کے اندر چلا گیا۔

سردار ازمیر غرور کا ایک پتلا تھا۔ غریب لوگوں کی بے بسی سے کھیلنا اسے بےحد پسند تھا۔ وہ لڑکیوں کو بیچ بھی دیتا تھا۔ یوں کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ سردار ازمیر برائی کی ایک مثال تھی۔ ناجانے کتنے ہی غریب لوگوں کی بد دعائیں اس نے سمیٹی تھی۔ مگر اس کو لگتا تھا کہ یہ سب سے اس کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ لیکن ایک بات وہ شاید بھول گیا تھا کہ یہ کائنات بنانے اور اسے بنانے والا سب دیکھ رہا ہے لوگ بھول جاتے ہیں مگر وہ نہیں بھولتا۔

جتنی ہی اس کی رسی دراز کی گئی تھی وقت آنے پر وہ کھینچ لی جائے گی۔ جو لوگ اپنے رب کو بھلائے خود ہی خدا بننے کے چکر میں ہوتے ہیں ان کا انجام دردناک ہوتا ہے ایسا انجام جو کہ لوگوں کے لئے ایک عبرت کا نشان بن جاتا ہے۔

اور ایسا ہی کچھ حال شاید ازمیر کا بھی ہونا تھا۔ جو اپنے رب کو بھول گیا تھا اب اس کا جو انجام ہونا تھا اس پر وہ پچھتائے گا کہ کاش وہ ایسا نہ کرتا۔

❤
❤
❤

” بیڈ نمبر 26 کی رپورٹس بھیج دیں زرا۔” ذوہان ایک ڈاکٹر پاس سے گزرتا ہوا بولا تو وہ سر ہلا کر رپورٹس لینے چلا گیا۔

” یہ لیں یہ رہی بیڈ نمبر 26 کی رپورٹس۔” ڈاکٹر نے اپنے ہاتھ میں موجود رپورٹس ذوہان کو تھمائی جو اس نے شکریہ کہہ کر تھام لی۔ اس کے بعد وہ رپورٹس دیکھنے میں مصروف ہوگیا۔

کچھ دیر بیٹھے رہنے کے بعد وہ اٹھا کیونکہ اس کا راونڈ تھا۔

” کیسی طبیعت ہے آپکی چاچا ۔” ذوہان شفیق چاچا کے پاس آتا مسکرا کر بولا۔ تو شفیق چاچا نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

” میں ٹھیک ہوں لیکن تھوڑا تھوڑا درد ہو رہا ہے۔ پتہ نہیں کب ٹھیک ہوں گا میں۔” شفیق چاچا مایوس لہجے میں بولے۔ جو کہ معدے کے مریض تھے۔

” ارے چاچا مایوس کیوں ہوتے ہیں۔ اور ویسے بھی بیماری تو اللہ کی نعمت ہے۔ جو کہ بڑی ہی پیاری ہے جو انسان کے گناہ دھو دیتی ہے۔ اگر اللہ نے اپکو اپنی نعمت کے قابل سمجھا ہے تو شکر ادا کریں۔ اور جیسے وہ بیماری عطا کرنے والا ہے ویسے ہی شفا دینے والا بھی وہی ہے۔ تو بس ہمت رکھیں۔ باقی اللہ بہتر کرے گا انشاءاللہ۔” ذوہان مسکرا کر بڑے ہی پیارے لفظوں میں ان کے دل کی الجھنے مٹاتے بولا۔

” بیٹا بڑے ہی خوش نصیب ہیں تمہارے والدین جن کو تم جیسی خوبصورت سیرت والی اولاد ملی ہے۔ اللہ خوش رکھے تمہیں بیٹا۔ آمین۔” شفیق چاچا مسکرا کر نم آواز میں بولے تو ذوہان نے مسکراتے ان کا کندھا تھپتھپایا۔ پھر ان کو انجیکشن لگا کر دوسرے مریضوں کی جانب چلا گیا ۔

❤
❤
❤

” ہنہہ موٹی ۔” لیلی کے پاس سے گزرتے اس نے منہ میں بڑبڑا کر کہا۔ مگر وہ اتنا تیز ضرور تھا کہ پاس سے گزرتے لیلی نے سن لیا۔

لیلی آج اکیلی ہی تھی جس کی وجہ سے اس کا موڈ بہت آف تھا۔ ایک تو حالے نہیں آئی تھی اور دوسرا نین بھی نہیں آئی کسی وجہ سے۔ جتنی ہی لیلی کو آج آنے کی جلدی تھی اتنے ہی اب جانے کی جلدی ہو رہی تھی۔

جبکہ اسفندیار جس کے آنکھوں کے پردوں پر آج کل کچھ زیادہ ہی لیلی آرہی تھی۔ پتہ نہیں کیوں یہ چہرہ ہر وقت اسکی آنکھوں کے سامنے آتا۔ اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ سجا جاتا۔

ایک تو یہ بات اسے حیران کرتی تھی کہ لیلی کے پاس سے گزرتے اسے کبھی کسی بھی پرفیوم کی خوشبو نہیں آئی۔ ورنہ آج کل تو زیادہ تر لڑکیاں خوشبو لگا کر ہی نکلتی تھی۔ جبکہ اس نے خود حالے کو منع کیا ہوا تھا کہ خوشبو لگا کر نہ جائے۔

اس یونی میں وہ جتنی لڑکیوں کے پاس سے گزرا تقریبا ساروں نے ہی بےحد تیز خوشبو لگائی ہوتی۔ جو کہ لڑکوں کو بری طرح سے اپنی جانب متوجہ کرتی۔

لیلی اور نین کبھی خوشبو لگا کر نہیں گئی کیونکہ اس نے جب سے یہ حدیث سنی تھی کہ جو عورت خوشبو لگا کر باہر جاتی ہے وہ زانی ہے تب سے اس نے کبھی بھی خوشبو نہیں لگائی اور نین کو بھی تاکید کی جو کہ اس نے بھی مانی۔

( اس میں آپ سب لڑکیوں کے لئے ایک سبق ہے کہ خوشبو لگا کر باہر نہ نکلا کریں کیونکہ اس کا بہت زیادہ گناہ۔ آپ سب چاہو تو اس کے بارے میں سرچ کر سکتے ہیں۔ باقی آپ سب کی مرضی ہے۔ اور اگر میری بات بری لگی ہو تو معذرت۔)

” اوئے ماڑا موٹی کس کو کہا تم نے؟” لیلی کڑے تیوریوں سے اسے گھورتے ہوئے ہاتھ اپنی کمر پہ ٹکائے بولی۔ تو اسفندیار نے اس کے اس انداز پر مسکراہٹ دبائی۔

” تمہارے علاوہ کوئی موٹی عورت دکھ رہی ہے کیا تمہیں۔” اسفندیار نے بھی اسی کے انداز میں کہا تو لیلی نے منہ کھولا یعنی وہ اس کو موٹی کہہ رہا تھا ۔

” اوئے تم امارے سے پنگے نہ لو تم بھول گیا کیا پچھلا حال تم اپنا۔” لیلی اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے اسکا پچھلا حال یاد دلاتے ہوئے بولی۔

” وہ تو میں نے اس لئے جانے دیا کہ لڑکی ہو ورنہ۔” اسفند مصنوعی غصے سے بولا تو لیلی نے آئبرو اچکائے اسے دیکھا۔

” ورنہ ورنہ کیا کر لیتا تم ہاں۔” لیلی اس کو دیکھ غصے سے بولی۔

” ورنہ میں چپ کر کے سائڈ پر ہوجاتا۔” اسفندیار دانت نکالتا ہوا بولا لیلی اس کی بات سن کر ہنسنے لگ گئی۔ اسے یہ امید نہیں تھی کہ اسفندیار یوں بولے گا۔

جبکہ اسفند مبہوت سا اس کی ہنسی دیکھ رہا تھا۔ شاید ہی اتنا پیارا کوئی ہنستا ہو جتنا کہ وہ ہنس رہی تھی۔ اس نے جلد ہی خود کو کمپوز کر کے نظریں پھیر لی ورنہ اسے ڈر تھا کہ اسی کی نظر نہ لگ جائے کہیں اسے۔

” اوئے ماڑا جاو جاو تم پہلے تھوڑا مضبوط کرلو خود کو پھر آنا۔” لیلی ہنس کر بول کر وہاں سے چلی گئی اس کے جانے کے بعد اسفندیار بھی اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر ہنس دیا۔

❤
❤
❤

” اسلام علیکم۔” ارحان گھر میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔

” وعلیکم اسلام لالہ۔” لیلی کچن سے باہر آتے مسکرا کر بولی تو ارحان بھی اسے دیکھ مسکرا دی۔

” دا والہ بچیا اوبع۔”

( یہ لو بیٹا پانی۔)

رضیہ بیگم اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس پکراتے بولی۔ تو ارحان نے شکریہ مورے کہہ کر گلاس تھام کر ہونٹوں سے لگایا لیا۔

کچھ ہی دیر میں ارحان اوپر گیا پھر فریش ہونے کے بعد وہ نیچے آیا کھانا کھانے۔ کھانے کے بعد وہ لاونج میں بیٹھ گیا۔

لیلی اس کے ساتھ بیٹھ کر چاکلیٹ کھا رہی تھی مگر آج حیرت کی بات یہ تھی کہ ارحان خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ نہ ہی اسے تنگ کر رہا تھا اور نہ ہی اس سے چاکلیٹ مانگ رہا تھا۔

” کیا ہوا ہے لالہ تم پریشان ہے؟” لیلی نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ اس کا چہرہ اپنی جانب موڑ پریشان ہوتے کہا۔

ارحان اس کی بات سن مسکرا دیا۔ وہ آج کے واقعہ کے بعد تھوڑا سا ڈسٹرب تھا۔ مگر ابھی فلحال اس نے اپنا سر جھٹک دیا۔ اور مسکرا کر اپنا سر نفی میں ہلایا۔

اس کے یوں کرنے پر لیلی بھی مسکرا دی۔ پھر ارحان اسے خود کے ساتھ لگا گیا۔ اور اس کے ہاتھ سے چاکلیٹ بھی لے لی تو لیلی کو یقین آیا کہ وہ ٹھیک ہے۔ اسی طرح وہ آج پھر سے اسے تنگ کرنے لگا۔

ذوہان کے آنے تک وہ اسے تنگ کرتا رہا۔ لیلی رونے والی ہوگئی آخر میں۔ پھر ذوہان نے آکر اس کی جان بچائی۔ اور لیلی کے کہنے پر ذوہان نے ارحان کو دو چار تھپڑ بھی لگائے۔ جو ارحان نے ہنس کر سہے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *