Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 05)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 05)
Meri Pathani by RB Writes
” یہ کون بول رہا ہے کلاس میں؟” سر امجد کسی کی مسلسل آواز پاتے غصے سے کرخت لہجے میں بولے تو پوری کلاس میں یکدم خاموشی چھا گئی جب کہ کچھ سٹوڈنٹس نے بےاختیار اسفندیار اور اس کے گروپ کو دیکھا۔
” مجھے پتہ تھا کہ یہ صرف ایک ہی انسان ہو سکتا ہے۔ کھڑے ہو جاو اسفندیار اور اس کے گروپ والے۔” کچھ سٹوڈنٹس کی نظریں اسفندیار کی جانب اٹھتی دیکھ وہ جان گئے تھے کہ یہ اسفندیار ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ایک وہ ہی واحد سٹوڈنٹ تھا جس نے ساری ٹیچرز کو تنگ کر کے رکھا تھا۔
” سر میں نہیں بولا کچھ بھی۔” اسفندیار معصوم سا منہ بنا کر بولا۔ تو سر امجد نے آئبرو اچکائے اسے دیکھا جیسا وہ اسے جانتے ہی نہ ہو۔ جب کہ اس کے گروپ والوں نے ہنسی چھپانے کے لئے منہ نیچے کر لئے۔
” اگر آپ نہیں بولے تو کیا آپ کے بھوت بولے ہیں؟” سر امجد نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا مگر مجال ہے کہ اسفندیار عرف اسفی پر اس بات کا اثر ہو جائے۔
” سر اب بھوتوں کا مجھے کیا پتہ؟ وہ تو ان سے جاکر پوچھیں وہ میرا مسئلہ تھوڑی ہے۔” اسفند کندھے اکچا کے بولا تو پوری کلاس میں دبی دبی ہنسی گونجی۔ جبکہ اسکی بات سن کر سر امجد مزید کھول گئے۔
” گیٹ آوٹ فرام مائے کلاس۔” سر بنا کوئی بحث کئے اس کو بولے تو وہ تھینک یو سر بول کر اپنا بیگ اٹھا کر کلاس سے نکل گیا۔
” آپ لوگوں کو میں انویٹیشن دوں کیا؟” اس کے گروپ کو وہی کھڑا دیکھ سر امجد طنزیہ لہجے میں بولے تو وہ بھی جلدی سے باہر چلے گئے۔


” اوئے ماڑا ام امارا بیگ ہی کلاس میں بھول آیا ہے یار۔۔۔” ان سب کے کینٹین میں بیٹھتے ہی لیلی اپنے سر پہ ہاتھ مارتے زبان دانتوں تلے دبائے بولی۔ اس کے اس معصوم انداز پر نین اور حالے ہنس دی۔
” اچھا چلو چل کر لے کر آتے ہیں۔” حالے بولی تو نین نے بھی سر ہلایا۔
” ارے نہیں ماڑا تم لوگوں بیٹھو میں لے کر آتی ہوں۔” لیلی بولی تو وہ دونوں ٹھیک ہے بولی۔
” اور ہاں ماڑا نین کا خیال رکھنا اس کو اکیلا نہیں چھوڑنا۔” لیلی جانے سے پہلے ایک بار اس کو بتانا لازمی سمجھتے ہوئے بولی۔
” ہاں ہاں بھئی میں خاص خیال رکھوں گی اس کا۔” حالے نین کے گال کھینچتے ہوئے بولی تو نین کے گال شرم سے لال ہوگئے۔ جبکہ اسکو یوں شرماتے دیکھ حالے اور لیلی ہنس دی۔
لیلی وہاں سے نکل کر کوریڈور سے ہوتے اپنی کلاس میں جارہی تھی کہ اس کے فون پر میسج کی بیپ ہوئی۔ اس نے چلتے چلتے فوم آن کر کے دیکھا تو یوفون کمپنی کی طرف سے تھا۔
وہ اسی دھیان میں جا رہی تھی کہ یک دم کسی سے ٹکرائی اور گرتے گرتے بچی۔ جبکہ گر بھی جاتی اگر سامنے والا اسے نہ تھامتا۔
اسفندیار جو کلاس سے نکالے جانے کے بعد اپنے گروپ کے ساتھ کینٹین جا رہا تھا باتیں کرتے کرتے اس نے سامنے سے بےخبر آتے وجود سے ٹکرا گیا اور اسے گرنے سے بچانے کے لئے اس کی کلائی تھام گیا۔
مگر جب نگاہ اس لڑکی پر پڑی تو ایک دم رک سی گئی۔ وی نہیں جانتا تھا وہ کیوں اسے دیکھ رہا تھا۔ حالانکہ اسے کبھی لڑکیوں میں انٹرسٹ ہی نہیں رہا تھا۔
وہ ایک خوبرو نوجوان تھا مگر ایسا بھی نہیں تھا کہ پوری یونی کی لڑکیاں اس پر مر تی نہیں تھیں ![]()
ہاں البتہ ساری اس کی شرارتوں سے تنگ ضرور تھیں۔ ایسا بندہ بچا نہیں تھا جو اسفندیار کے وار سے بچ گیا ہو۔
لیلی نے جب دیکھا کہ وہ گری نہیں ہے تو آنکھیں کھولی۔ اور سامنے ہی وہی لڑکا جس سے اس کی پہلے دن ملاقات ہوئی تھی وہ دکھا۔ اس کو خود کی جانب یک ٹک دیکھتے لیلی کو غصہ آیا۔
” اگر دل بھر گیا ہو تو چھوڑ دو مجھے۔” لیلی نے اس پر طنز کرتے کہا اس کی آواز سن کر اسفند فورا سے ہوش میں آیا۔ اور ہڑبڑا کر اس کو کھڑا کر اس کی کلائی چھوڑ کر اس سے دور ہوگیا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنا بے خود کیوں ہو گیا تھا۔
” تمارے پاس آنکھیں نہیں ہے ماڑا۔ دیکھ کر چلا کرو۔” وہ اس پر بھڑک کر بولی۔ جب کہ غلطی دونوں کی برابر تھی مگر لیلی کیوں اپنی غلطی مانے گی۔
” او ہیلو تمہارے پاس تو ہے نہ آنکھیں تم دیکھ کر چل لیتی نہ۔۔۔ ہنہہ آئی بڑی۔” اسفندیار سارا الزام خود پر پاکر فورا سے جوابی کاروائی کرتے ہوئے بولا۔
” اوئے تمہارا مطلب کیا ہے ہاں یعنی میں تم سے ٹکرایا ہے ہاں؟” لیلی اس کا جواب سنتے فورا سے غصہ کرتے بولی۔
” ہاں تو کیا میں ٹکرایا ہوں تم سے جان کر؟” اسفند بھی فورا سے اپنے حق میں آتے اسے گھورتے ہوئے بولا۔
” ہاں تو ہو سکتی ہے کہ تم مجھ سے ٹکرائے ہو جان بوجھ کر۔ تم لڑکوں کو میں اچھی طرح جانتا ہے سمجھ گیا نہ۔” لیلی اچھی طرح سے میدان میں اتر آئی۔
” او ہیلو میڈم تھوڑا نہ سوچ سمجھ کر بولو شکل دیکھی ہے تم نے اپنی۔ میں کیوں ٹکراو گا تم سے۔ آئی بڑی کتینہ کیف۔” اسفند بھی مقابل کی ہر بات کا اچھے سے جواب دیتا اسے آگ لگا رہا تھا۔
” ہاں تو تم نے اپنی شکل دیکھی ہے۔ تم خود پولیو کا مریض لگتا ہے۔” لیلی بھی اس کا مذاق اڑاتے اسے برابر آگ لگا گئی۔
” اور تم خود کوئی پانی میں کھڑی بھینس لگتی ہو۔” اسفند بولا تو لیلی کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔
اسفندیار کے سارے گروپ والے منہ کھولے کبھی لیلی تو کبھی اسفند کو دیکھتے۔ کسی کو سمجھ ہی نہ آرہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔
” تمہارا اتنی ہمت۔” لیلی نے آگے بڑھ کر اس کے بال پکڑ لئے تو اسفند نے کراہ کر اپنے بال اسکی گرفت سے نکالنے چاہے۔
” ارے باجی چھوڑ دیں معاف کردیں اسے۔” عادل فورا آگے بڑھتا لیلی کے ہاتھوں سے اس کے بال نکالتے بولا۔تو لیلی نے فورا اسکے بال چھوڑ دئے۔
” آئندہ سوچ سمجھ کر بولنا۔” لیلی غصے سے بولتی آگے بڑھ گئی۔
” تمہیں تو میں دیکھ لوں گا موٹی۔” اسفند اونچی آواز میں بولا مگر لیلی نظرانداز کرتی آپنی کلاس کی جانب اپنا بیگ لینے چلی گئی۔ جبکہ اسفندیار کا اپنے گروپ میں صحیح مذاق بن رہا تھا۔ مگر جب اسفند کو صحیح غصہ ہوتے دیکھا تو سب چپ ہوگئے اور گراونڈ میں چلے گئے۔



” کیا ہوا ماڑا تم پریشان کیوں ہو؟” نین کے چہرے پر پریشانی دیکھتے لیلی نے اس سے استفسار کیا۔
” یار وہ بابا ابھی تک آئے نہیں ہیں۔” نین پریشان لہجے میں بولی۔ وہ دونوں گیٹ کے پاس تھیں۔ جبکہ حالے کچھ دیر پہلے ہی اسفندیار کے ساتھ جا چکی تھی۔ اسفندیار نے ہیلمٹ پہنا تھا اس لئے لیلی اسے پہچان نہ پائی۔
” تم انکو فون کر لو نہ ماڑا پریشان کیوں ہوتا ہے۔” لیلی نے حل بتاتے ہوئے کہا تو نین نے فورا سے پہلے فون نکال کر اپنے بابا کو کال کی جو دو رنگز کے بعد اٹھا لی گئی۔
” بابا آپ کہاں ہیں؟” نین نے روہانسے لہجے میں کہا۔
” بابا کی جان بابا بہت ہی بڑی طرح سے کام میں پھنس گئے ہیں آپ ایک کام کرو لیلی کے ساتھ آ جاو میری جان ٹھیک ہے؟” ایاز صاحب افسردگی سے بولے کہ وہ بہت ہی بڑی طرح سے پھنس چکے تھے۔
” ٹھیک ہے بابا۔” نین نے اچھے بچوں کی طرح فورا سے ان کی بات مان کر کہا پھر کال کٹ کردی۔ اس نے لیلی کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
اس نے فورا ساری بات اس کے گوش گزار کی تو لیلی اسے لیکر گیٹ کے باہر آئی۔ اس نے نگاہ دوڑائی تو کچھ ہی دور ارحان گاڑی کے ساتھ ٹیک لگایا نظر آیا۔
لیلی اس کا ہاتھ تھامے ارحان کے پاس آئی۔ ارحان نے جب لیلی کے ساتھ نین کو دیکھا تو اس کی آنکھیں چمک گئی۔
جبکہ اس کو دیکھ نین بھی اسے پہچان گئی تھی کہ یہ ذوہان نہیں بلکہ ارحان ہے۔
اسے وہاں جانے سے ڈر لگ رہا تھا۔ اس نے لیلی کے ہاتھوں پہ گرفت مضبوط کردی تو لیلی نے آنکھوں سے اسے تسلی دی۔
” حان لالہ آج تم؟” لیلی نے پوچھا تو وہ مسکرا دیا۔ اس کے مسکراتے ہی اس کے ڈمپلز بھی اپنی جھلک دکھا گئے۔ اس کی مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی۔ نین نے چور نگاہوں سے اس کو مسکراتا ہوا دیکھا پھر فورا ہی گھبرا کر نگاہیں جھکا دی۔
” کیوں میں نہیں آسکتا کیا؟” ارحان بولا تو لیلی نے ہاں میں سر ہلایا پھر نین کے ساتھ گاڑی میں پیچھے بیٹھ گئی۔ سارے راستے لیلی اور ارحان باتیں کرتے آئے تھے جبکہ نین خاموشی سے انہیں سن رہی تھی۔
کچھ کچھ دیر بعد ارحان بیک مرر سے اس پر نگاہ ڈالتا رہتا جو اپنی انگلیوں سے کھیل رہی ہوتی۔


