Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 15)

Meri Pathani by RB Writes

” سمیر اس ازمیر کی ڈیٹیلز نکالی کہ نہیں؟” ارحان اپنے آفس میں آتے ہی اپنی کرسی پر بیٹھ کر فائل کھولتے ہوئے بولا۔

” ہاں ساری ڈیٹیلز میں نے اس فائل میں رکھ دی ہے۔ جس میں صاف لکھا ہے کہ وہ بہت سے غلط کاموں میں ملوث ہے۔ اور غیر ملکی کے ساتھ سمگلنگ کرتا کے۔ بہت ساری لڑکیوں کی زندگی تباہ کی ہے اس نے۔ ” سمیر اس کے فائل کھولتے ہی ساری باتیں اسے بتا گیا۔

ارحان جیسے جیسے اسکی باتیں اور فائل پڑھ رہا تھا اسکی آنکھیں ضبط کے مارے لال ہوتی جا رہی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ کی مٹھی کس کے بھینچ رکھی تھی۔

اس کا دل کیا کہ بس کسی طرح ازمیر اسکے سامنے آجائے اور وہ اس کو سخت ترین سزا سے۔

” اور اب وہ زینب اور اسکے گھر والوں کو اپنا نشانہ بنا رہا ہے۔” ارحان دانت پیستے ہوئے ضبط سے بولا تو سمیر نے اپنے ہونٹ بھینچ لئے۔ اب اسے ازمیر پر نئے سرے سے غصہ آرہا تھا۔

” بس اب میں کمشنر سر سے بات کرتا ہوں کہ وہ میری پوسٹنگ اس گاوں میں کر دیں پھر مل کر ازمیر کو عبرت ناک انجام دیں گے۔” ارحان بولا تو سمیر انشاءاللہ بول کر سر ہلا گیا۔

” اور بتاو شکیل صاحب سے پوچھ آئے کہ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے انہیں۔” ارحان فلحال کے لئے خود کو پر سکون کرتا سمیر کو دیکھ آنکھوں میں اپنی مخصوص شرارت لئے بولا تو سمیر گڑبڑا گیا۔

” نن۔نہیں وہ ۔۔وہ مجھے لگا کہ شاید انہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو پوچھ لوں۔” سمیر گڑبڑا کر بولا تو ارحان نے اچھا اچھا کہہ کر سر ہلاتا رہا۔ اور آنکھوں میں شرارت لئے اسے ہی دیکھتا رہا۔

” تم تمہیں کیسے پتہ لگا۔” سمیر نے چور نگاہوں سے اسے دیکھ کر کہا تو ارحان مسکرا۔ سمیر کو اسکی مسکراہٹ سے چڑ محسوس ہوئی۔

” بیٹا تو دنیا سے چھپا سکتا لیکن مجھ سے نہیں۔” ارحقن نے کہا تو سمیر بھی مسکرا دیا۔

” ویسے بہن ہے وہ میری کچھ بھی الٹا سیدھا کیا یا کہا نہ تو چھوڑوں گا نہیں۔” ارحان نے اسے باور کروانا لازمی سمجھا۔

” لو جی ابھی لڑکی پٹی نہیں کہ اسکا بھائی پہلے ہی مارنے کو تیار بیٹھا ہے۔ ” سمیر بڑبڑایا اسکی بڑبڑاہٹ سن ارحقن مسکراہٹ دبا گیا۔ اور سمیر کے ساتھ کام ڈسکس کرنے لگ گیا۔

❤
❤

” لیلی چہ چرتا قدم کیدی۔”

)لیلی جہاں قدم رکھے)

لیلی اپنے کوریڈور سے ہوکر گزر رہی تھی۔ جب اسکی کلاس کے آوارہ لڑکوں نے اسے گزرتے دیکھ گانا گایا۔ لیلی کا تو دیا کہ منہ توڑ دے مگر پھر اگنور کر کہ آگے بڑھ گئی۔

” او ہو میڈم جی کبھی ہمیں بھی ٹائم دے دیا کریں۔” سلیم نے اپنے ہونٹوں پہ مکرو مسکراہٹ لاتے کہا۔ تو اسکے سارے دوست ہنسنے لگے۔

لیلی جانتی تھی وہ ان سب کا اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔تبھی بس کسی طرح سے یہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔

اسی لئے وہ انکے سائڈ سے ہوکر نکلنے لگی۔

” ارے ارے اتنی جلدی کیوں ہے تمہیں ہم سے دور جانے کی۔ ایسے ظلم تو نہ کرو۔” سلیم ہنستے ہوئے بولا۔ اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے چہرے کو چھونا چاہا جب لیلی نے فورا سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔

” ہاتھ مت لگانا۔” لیلی نے انگلی اٹھائے اسے وارن کرتے کہا۔ تو سلیم اور اسکے دوست ہنسنے لگے۔

” ارے ارے دیکھو تو کیا کہہ رہی ہے یہ۔ ہمت ہے تو روک کے دکھاو۔” سلیم نے یہ کہہ کر پھر سے ہاتھ بڑھانا چاہا کہ تبھی کسی مضبوط ہاتھ نے اسکا ہاتھ ہوا میں ہی روکا۔

” تمہاری اتنی ہمت۔۔۔” سلیم نے کچھ کہنا چاہا کہ اسفند نے فورا سے اسکا ہاتھ پکڑ کر مروڑ دیا جس سے سلیم کی چیخیں نکل گئی۔ اسکے کچھ دوست تو گھبرا کر اسی وقت بھاگ گئے جب کہ ایک کھڑا تھا۔

” تمہاری ہے کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی کوشش کرنے کی۔” اسفندیار نے غصے سے دھاڑتے اسکے منہ پر مکا مارتے کہا۔ اسکے بعد اسکے دوست کو پکڑ کر مارنے لگ گیا۔

دونوں دوست اسفند کے آگے کچھ نہ کر پا رہے تھے۔

” اج تمہیں ایسا سبق سکھاو گا کسی کو دیکھنے لائق نہیں رہو گے۔ ” اسفند کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا تبھی وہ ان دونوں کی حالت بڑی کر چکا تھا۔ لیلی ایک کونے میں کھڑی نم آنکھوں سے اسے ان کو مارتا دیکھ رہی تھی۔

اسفندیار کینٹین جا رہا تھا جب اسنے سلیم اور اسکے گروپ کو ہنستے دیکھا اسنے مارے تجسس ان کی جانب دیکھا تو لیلی کو وہاں کھڑے دیکھ وہ سارا معاملہ دمجھ گیا اور فورا سے غصے سے کھولتا ان کے قریب گیا۔

” اسفی اسفی یہ کیا کر رہا ہے چھوڑ اسے مر جائے گا یہ۔” عادل اور اسفند کے مزید دوست فورا سے بھاگ کر آئے اور اسفند کو سلیم اور اسکے دوست سے دور کرنے لگے۔

” میں نہیں چھوڑوں گا اسے اسکی ہمت کیسے ہوئی۔ مار دوں گا میں اسے۔” اسفند پھر سے ان پر جھپٹتے ہوئے بولا مگر عادل نے اسے فورا قابو کر لیا۔

” اسفند اسفند چپ کر جاو دیکھو لیلی ڈر رہی ہے۔” عادل نے اسے لیلی کی جانب متوجہ کرتے کہا جو واقعی ہی اس واقعے سے کافی ڈر گئی تھی اور اب تو باقاعدہ رونے کو ہونے والی تھی۔

عادل کے کہنے پر اس کا دھیان لیلی کی جانب گیا۔ تو فورا ہی رک گیا اور گہری سانس لے کر اس نے سلیم اور اسکے دوست کو دیکھا جو زمین پر پڑے کراہ رہے تھے۔

وہ فورا لیلی کی جانب بڑھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے گیا۔

لیلی نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ بس کسی کٹی ہوئی پتنگ کی طرح اس کے ساتھ کھینچی چلی جا رہی تھی۔

اسفندیار اسے پکڑ کر کینٹین والی سائڈ جہاں نین اور حالے تھی وہاں کے قریب لے آیا۔ اور اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔

” آج کے بعد مجھے اکیلی کہیں بھی جاتی نظر نہ آو تم سمجھی؟” اسفند نے ٹھہرے مگر سرد لہجے میں کہا۔تو لیلی نے فورا سے سر ہاں میں ہلایا تو اسفند وہاں سے چلا گیا۔ لیلی بھی اپنا حلیہ ٹھیک کرتے حالے لوگوں کے پاس چلی گئی۔

❤
❤

” ڈاکٹر ذوہان ایمرجنسی ہے ایک۔ جلدی کریں۔” ذوہان اس وقت اپنے کیبن میں تھا کہ نرس نے آکر اطلاع دی۔ تو وہ فورا سے کھڑا ہوا اور باہر آیا۔

باہر آکر دیکھا تو ایک جوان لڑکا جو کہ اپنی ماں کے لئے رو رہا تھا۔ اس کی ماں کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔

اپنی ماں کے علاوہ اسکا کوئی نہیں تھا۔ حالات پہلے ہی اچھے نہ تھے اسکے۔

” ڈاکٹر۔ ڈاکٹر صاحب ممم۔میری م۔ماما کو بچا لیں مہربانی کرکے انہیں بچا لیں۔” ذوہان کو دیکھ کر وہ فورا اسکے قریب آیا اور ہچکیوں سے روتے اسنے کہا۔ تو ذوہان کو اسکی حالت پر ترس آگیا۔

” دیکھو بچے تو مت ہم ابھی جا کر دیکھتے ہیں حوصلہ رکھو اور دعا کرو۔” ذوہان اسکا کندھا تھپتھپا کر بولا اور آپریشن تھیٹر کی جانب بڑھ گیا اور وہ لڑکا روتا وہیں اپنی ماما کے لئے دعا کرنے لگا۔

تقریبا آدھے گھنٹے بعد وہ وہاں سے نکلا تو وہ لڑکا بھاگ کر فورا سے اسکے پاس آیا۔

” ڈاکٹر کیا ہوا میری ماما ٹھیک تو ہیں نہ۔” وہ لڑکا بولا۔

” دیکھو بچے تمہاری ماما کا ایکسیڈنٹ بہت بڑی طرح ہوا تو ایک آپریشن کرنا ہوگا ہمیں انکا۔” ذوہان بولنے لگا تو وہ لڑکا پھر بولا۔

” لی۔لیکن مم۔میرے پاس تو اتنے پیسے نہیں ہیں۔ ” وہ پریشان ہوکر بولا

” کوئی بات نہیں پیسوں کی فکر نہ کرو بس ابھی ایک نرس آئے گی تو جو پیپر پکڑائے گی اس پر سائن کر دینا ٹھیک ہے۔ باقی ہم آپریشن سٹارٹ کرنے لگے ہیں دعا کرنا۔” ذوہان بول کر دوبارہ سے کچھ ڈاکٹرز کے ساتھ اندر چلا گیا۔

” مبارک ہو اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔” گھنٹے بعد وہ آیا اور آکر خوشی سے اس لڑکے کو بولا جو یہ خبر سن کر کھل سا گیا تھا۔

” آپ سچ کہہ رہے ہیں؟ میری ماما ٹھیک ہیں اب؟” وہ لڑکا خوش ہوتے ہوئے بولا تو ذوہان نے مسکراتے سر کو ہاں میں ہلایا۔

” آپ کا بہت بہت شکریہ ڈاکٹر۔ میرا اس دنیا میں اپنی ماما کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ اگر انہیں کچھ ہو جاتا تو میں بھی مر جاتا۔” وہ لڑکا بولا تو ذوہان کی آنکھیں بھی نم ہوگئی۔ اس دنیا بھی کتنے لوگ ہیں جن کی حالت اور دکھ دیکھ کر انسان کا دل پھٹنے کو ہو جاتا ہے۔ مگر پھر بھی کوئی اپنے حالات سے خوش نہیں۔ ہر ایک کو شکوہ ہے۔ کاش کہ ہم سمجھ جائیں۔۔۔۔۔۔۔

❤
❤

” کیا ہوا اسفی آج بڑے غصے میں ہو۔” حالے نے اسفند کی خاموشی اور سنجیدگی کو محسوس کرتے کہا تو بائک چلاتے اسفند چونک گیا۔

” نہیں ایسا کچھ نہیں ہے بس تھک گیا ہوں تھوڑا۔” اسفند نے سانس ہوا کے سپرد کرتے کہا تو حالے نے سمجھتے سر ہلایا۔

کچھ ہی دیر میں وہ لوگ گھر پہنچ چکے تھے۔ دونوں جب اندر آئے تو سکینہ بیگم کو گھر کی صفائیاں کرتے دیکھ کر چونک گئے۔

” کیا ہوا ماما اتنی صفائیاں کس لئے ہو رہی ہیں۔” حالے نے کہا تو انہوں نے ان کو دیکھا جو اپنے سوال کے جواب کے منتظر تھے۔

” پھپھو آرہی ہیں تمہاری۔” سکینہ بیگم کہہ کر کچن کی جانب بڑھ گئی تاکہ ان دونوں کو کھانا لاکر دیں۔

جبکہ وہ دونوں ابھی بھی صدمے میں تھے۔

” کیا ماما نے وہی کہا ہے جو میں نے سنا ہے۔” حالے نے کہا تو اسنے منہ بناتے سر ہاں میں ہلایا۔

” بھئی اسفی تم تو تیار رہو اس بار تو وہ میرب سے تمہارا رشتہ پکا کر کے ہی جائیں گی۔ ” حالے نے اسے کہا تو اس نے اسے گھورا۔

” دفع ہو بندہ کوئی اچھی بات ہی نکال لے منہ سے۔” اسفند نے اسے ہاتھ سے لعنت بھیجتے کہا۔ تو حالے ہنسنے لگی۔

” بھئی میں تو حقیقت ہی بتا رہی۔ اب دیکھنا کل وہ میرب آئے گی تو کیسے تمہارے آگے پیچھے اسفی اسفی کرتے گھمے گی۔” حالے نے ہنستے مزید اسے آگ لگائی۔

” اچھا جو بھی ہے اب دیکھیں گے۔ ابھی نہ دماغ کھاو میرا۔” اسفند نے کڑوا سا منہ بنا کر کہا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد حالے بھی اپنے کمرے ہی جانب چلدی۔

جاری ہے۔

❤
❤

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *