Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 12)

Meri Pathani by RB Writes

” اففف شکر ہے سر قاسم کی کلاس ختم ہوئی۔” سر قاسم کے جاتے ہی حالے نے کتاب بند کرتے گہری سانس ہوا میں خارج کرتے ہوئے کہا۔ تو نین اور لیلی اس کی بات سنتے ہوئے مسکرا دی۔

” تمہیں سر قاسم کیوں اتنے برے لگتے ہیں؟” نین نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے معصومانہ سوال کیا۔

” میری معصوم سی جان وہ مجھے برے نہیں لگتے بس بہت غصہ کرتے ہیں اور بات بات پہ جو طنز کرتے ہیں نہ بس اس وجہ سے مجھے ان کی کلاس لینا پسند نہیں۔” حالے نے شروع میں نین لے گال کھینچتے پھر اپنی بات پوری کرتے منہ بنا کر کہا۔ لیلی اس کے منہ بنانے پر ہنس دی۔

” شکر ہے ماڑا سر قاسم نے آج تک ام کو کچھ نہیں کہا۔” لیلی نے ان کو چڑاتے ہوئے کالر جھاڑتے ہوئے کہا۔

” میری بہن جتنا تم کیوٹ بولتی ہو نہ کس پاگل کا دل کرے گا تمہیں کچھ کہنے کو۔” حالے نے ہنس کر کہا تو نین بھی مسکرا دی۔

” اوئے ماڑا ام کو تم لوگوں کو کچھ بتانا ہے؟” ان کو اپنے گھر بلانے کی بات یاد آتے لیلی نے فورا سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔

” ہاں ہاں بولو۔” حالے اور نین اس کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے بولے۔

” وہ ام نے نہ تم دونوں کو دعوت دینا تھا۔ بابا کو پروفٹ ہوا ہے تو بس اسی بہانے ہم تم دونوں کو ٹریٹ دے رہا ہے۔ تو کل تم دونوں آئے گا ہمارے گھر۔ ” لیلی کی بات سن حالے تو سوچ میں پڑ گئی۔ جبکہ نین تو ارحان کا سوچ گھبرا کر رہ گئی۔

” یار میں ماما سے پوچھوں گی۔ بلکہ میں اپنے بھائی سے بولوں گی وہ منا لے گا انہیں۔ ٹھیک ہے برو ڈن کرو۔” حالے پہلے تو سکینہ بیگم کے انکار کا سوچ خاموش تھی پھر اسفند کا خیال آتے ہی اس کو ہاں کر گئی۔ کیونکہ جانتی تھی کہ اسفند ماما کو منا لیگا۔

” یار میں تو۔۔۔” نین نے اس کو انکار کرنے کے کوئی مناسب الفاظ ڈھونڈنا چاہے۔ وہ ارحان کی نظروں سے ہمیشہ چھپنا چاہتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں جو چمک وہ دیکھتی تھی وہ برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ دل کی دھڑکنوں کو ترتیب میں نہیں لاسکتی اس کی موجودگی میں۔

اس کی تھوڑی سی بات سنتے ہی لیلی نے اس کی بات کاٹی۔

” اوئے تم چپ کرو۔ ہم تم کو خود لینے آئے گا۔ اور تم کو آنا پڑے گا۔ اب تو دیکھو حالے بھی آرہا ہے۔” لیلی نے اس کو کہا تو وہ بھی سر ہلا گئی۔

یوں ہی باتیں کرتے کرتے ان کا آج کا دن بھی گزر گیا۔

❤
❤

” مورے میں نے اپنی دوستوں کو بلا لیا ہے کل کر لئے۔” لیلی فریش ہوکر آتی کچن میں کام کرتی رضیہ بیگم کو بولی۔

” چلو بس صحیح ہے۔ ام ساری تیاری کرلے گا اور جو سامان نہیں ہے وہ ذوہان لالہ دے گا۔” رضیہ بیگم بولی تو لیلی سر ہلا گئی۔ پھر باہر آکر ٹی وی لاونج میں فون لے کر بیٹھ گئی۔

” مورے وہ میری بلیک شرٹ نہیں مل رہی۔” وہ بیٹھ کر فون یوز کر رہی تھی کہ اس کے کانوں میں ارحان کی جھنجھلائی آواز آئی۔

” وہ ادھر تمہارا الماری میں رکھا تھا کہاں گیا۔” رضیہ بیگم بولی۔

” مورے نہیں ہے میں نے ہر جگہ دیکھ لی ہے۔” ارحان نے کہا۔

” لالہ اسکا وقت تم کیا کرے گا اپنی شرٹ کو؟” لیلی اس کی بات سنتے موبائل سے سر اٹھاتے سوال کرتے بولی۔ تو ارحان گڑبڑا گیا۔ کیونکہ اس نے وہ کل نین کے آنے کے لئے پہننی تھی۔ ظاہر سی بات ہے لشکارے تو مارنے ہی تھے اس نے۔

” وہ بس مجھے چاہیے میری فیورٹ شرٹ ہے اب مل نہیں رہی۔” اس کے پاس آکر بیٹھتا وہ بولا۔ تو لیلی سر ہلا گئی۔

” ویسے کل آرہی ہیں تمہاری دوستیں؟” ارحان کے سوال کو گھر میں داخل ہوتے ذوہان نے سنا اور وہ فورا لیلی کا جواب سننے کے لئے رک گیا۔ اور دل و جاں سے اس کی جانب متوجہ ہوا۔

” ہاں لالہ وہ آرہی ہیں۔ میں نے بول دیا کل کا۔ کل ہم لوگ یونی سے بھی چھٹی کرے گا۔” لیلی نے دلچسپی سے اسے بتایا تو دونوں بھائیوں کے چہرے پر گہری اور خوبصورت سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ دونوں کی روح تک میں سکون اتر گیا۔ جبکہ بے چینی بھی ہو رہی تھی کل کے آنے کی۔

اب پتہ نہیں یہ صبح کب ہونی تھی۔۔۔۔۔۔😕

” اسلام علیکم۔” ذوہان اندر آتا مسکرا کر بولا۔

” وعلیکم اسلام بھئی بڑا مسکرایا جا رہا ہے خیر تو ہے ہممم؟” ارحان اس کے سلام کا جواب دے کر اسے آنکھ مارتا کمینی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔

اس کی بات سن کر ذوہان گڑبڑا کر رہ گیا۔ جو ارحان بہت اچھے سے محسوس کر گیا ظاہری سی بات ہے لڑکا پولیس والا جو ہے۔۔

” بکواس بند کرو تم۔ ہر وقت فضول ہی بولا کرو تم۔” اسے جھڑک کر وہ آگے بڑھا اور پانی پی کر اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔ پیچھے ارحان اس کی بات پر ہنس دیا۔

” اور بھئی تم بتاو تمہاری وہ ڈرپوک دوست کیسی ہے؟” لیلی کے گرد بازو پھیلاتے وہ شرارت سے بولا تو لیلی نے غصے سے اسے دیکھا۔

” لالہ میں نے کتنی بار کہا ہے میری دوست کو ایسے مت کہا کرو تم۔” لیلی اسے غصے سے گھورتے ہوئے بولی۔ تو ارحان نے آنکھیں گھمائی۔

” بھئی اب ڈرپوک کو ڈرپوک نہیں بولوں گا تو کیا بولوں گا؟” ارحان اسے دیکھتا مزے لیتا بولا۔ جبکہ دل تو آج بہت خوش تھا کیونکہ کل اس کی یہی ڈرپوک محبوب سے جو مل لینا تھا اس نے۔

” وہ ڈرتا ہے نہ تو تم کو کیا مسئلہ ہے۔ تم اس کو ایسے نہ کہا کرو۔ ورنہ میں بات نہیں کرے گا میں تم سے۔” لیلی اسے دیکھ آخر میں خفگی سے بولی۔

” ارے میری جان سوری اب نہیں بولتا۔” اس کا ماتھا چومتے وہ مسکرا کر بولا تو لیلی بھی مسکرا دی۔

❤
❤
❤

” اسفی یار میرا ایک کام تو کردو۔” حالے اسفندیار کے کمرے میں اس کے پاس آتے اپنے لہجے میں شہد جیسی مٹھاس لئے بولتی اسفندیار کو حیران کر گئی۔ جو کہ اس کے لہجے کی وجہ سے خود کو خواب میں محسوس کر رہا تھا۔ مگر پھر خیال آیا کہ محترمہ کام کے بہانے آئی ہے ورنہ حالے اور اسفی سے پیار سے بولے ناممکن۔۔۔۔۔۔

” کیوں میں نے ابھی صبح تمہیں کہا تھا کہ وہ چاکلیٹ دے دو مجھے۔ دی تھی تم نے؟” اسفند اس کو دیکھ منہ بنا کر بولا۔ تو حالے دانت پیستے رہ گئی۔ مگر کچھ بولی نہیں کیونکہ کام جو تھا اسے۔

” پلیز یار بھائی نہیں ہو میرے پلیززززز۔” حالے معصوم سی شکل بنا کر بولی کہ اسفندیار کا بچارہ چھوٹا سا دل پگھل کر رہ گیا۔

” اچھا ٹھیک ہے بولو کیا کام ہے۔” اسفند بولا تو حالے خوشی سے اس کے قریب آئی۔

” یار وہ میری دوست نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے تو تم مما کو۔۔۔۔۔” حالے ابھی بول ہی رہی تھی کہ اسفند نے اسے بیچ میں کاٹا۔

” کوئی ضرورت نہیں ہے کسی کے گھر جانے کی۔اور یہ کونسی دوست نکل آئی تمہاری؟” اسفند نے اسے سختی سے منع کرتے کہا۔

” یار پلیز اسفی بھائی نہیں ہو میرے۔ اور یار وہ نہیں جس نے تمہیں ذلیل کیا تھا توووو۔” حالے گھبرا گئی کہ اگر اسفند بھی نہ مانا تو وہ لیلی کو کیا جواب دے گی تبھی گھبرا کر اس کو بولی۔

جبکہ اسفند کے ذہن میں فورا لیلی کی تصویر بنی۔ اور لیلی تو اسے ہمیشہ سے ہی اچھی لگی۔ اس سے ہمیشہ اسے پازیٹو وائبز آتی تھی۔ اس کے پہناوے وغیرہ سے ہمیشہ اسے اس کے شریف گھرانے کے ہونے کا ثبوت دیتی۔ اور دوسرا اس کو بھی موقع مل جائے گا لیلی سے ملنے کا۔

” اچھا چلو ٹھیک ہے ماما کو میں منا لیتا ہوں اور لینے اور چھوڑنے میں خود جاوں گا۔” اسفند بولا تو حالے خوشی سے اچھل کر رہ گئی۔

” ہائے اسفی تم کتنے اچھے ہو تھینک یو تھینک یو سو مچ۔۔۔” حالے خوشی سے اس کے گلے لگتے ہوئے بولی۔ تو اسفندیار اس کی خوشی پر ہنس کر رہ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *