Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 19)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 19)
Meri Pathani by RB Writes
” لالہ تم کدھر گیا تھا؟” ارحان کے واپس آنے کا سن وہ سیدھا اس کے کمرے میں آتے بولی۔
ارحان کا موڈ ابھی بھی بےحد خراب تھا۔ بار بار یہی خیال آرہے تھے۔ کہ اگر وہ وقت پر نہ پہنچتا یا آج وہ وہاں نہ جاتا تو نین کے ساتھ جو ہوتا وہ سوچ ہی اس کی روح کو تڑپا دیتی۔
نین بہت زیادہ ہی معصوم تھی۔ اور اس سے بھی زیادہ ڈرپوک۔ وہ اپنے بچاو کے لئے کچھ نہ کر پاتی۔ بس اس واقعہ کے بعد بھی اب تک اس کا دماغ خراب ہوا پڑا تھا۔
اسی وجہ سے لیلی نے بھی اسے سلیم والی بات نہ بتائی کیوں کہ وہ اپنے بھائی کے غصے سے بخوبی واقف تھی۔
” ہممم بس کوئی ضروری کام تھا تو چلا گیا۔” ارحان نے سنجیدگی سے موبائل میں گھسے جواب دیا۔ اور لیلی کو اس کا یہ انداز بہت ہی بڑا لگا۔
” کیا کام تھا۔” لیلی نے بات کو مزید بڑھاتے ہوئے کہا۔ اس وقت وہ یہ نہ جان پائی کہ ارحان غصے میں ہے۔ ورنہ چپ کر کے یہاں سے چلی جاتی۔ مگر شاید آج اس کو ڈانٹ پڑ جانی تھی۔
” بس تھا کوئی کام۔” ارحان نے اسی طرح جواب دیا۔ تو اب کی بار لیلی کو کافی غصہ آیا۔
” ادھر اس کو چھوڑو تم میری بات کا جواب دو۔” لیلی نے جھنجھلا کر اس کے ہاتھ سے موبائل فون لیا۔ ارحان جو پہلے سے غصے میں تھا اب کے مزید سلگ گیا۔
” لیلی میں نے کہا ہے نہ کہ کوئی کام تھا۔ کیوں دماغ خراب کر رہی ہو میرا۔ جاو یہاں سے۔ تھوڑی دیر تو سکون سے رہنے دو۔” ارحان غصے سے پاگل ہوتا اس پر برس کر بولا۔
اس کے غصے سے لیلی سہم گئی۔ آنکھوں میں آنسو لئے وہ فورا ہی اس کے کمرے سے بھاگ گئی۔ ارحان گہری سانس بھر کر اپنی مٹھیوں کو بھینچ گیا۔
لیلی روتے ہوئے ذوہان کے کمرے میں گئی۔ ذوہان جو اس وقت کوئی کتاب کھولے اس کا مطالعہ کر رہا تھا۔ کسی کی آہٹ پر نظر اٹھا کر دیکھا تو لیلی کو روتا دیکھ تڑپ کر اس کے قریب آیا۔
” لیلی میری جان کیا ہوا ہے؟” ذوہان اس کو سینے سے لگاتے ہوئے پریشان ہوتے ہوئے بولا۔لیلی بھی مزید رونے لگی۔ آج سے پہلے ارحان نے کبھی اسے اتنا نہیں ڈانٹا تھا تو آج اس کی اتنی ڈانٹ سن کر اس کا رونا تو بنتا تھا۔
” وہ وہ۔” لیلی روتے بول رہی تھی اور ذوہان اس کے بولنے کا منتظر تھا۔۔
” بتاو میری جان کیا ہوا کسی نے کچھ کہا تمہیں۔” ویسے تو اسے کبھی کسی نے اتنا کچھ نہیں کہا کہ وہ یوں رونے لگ جائے۔ تو اس وقت ذوہان کو لگ رہا تھا کہ شاید رضیہ بیگم نے اسے ڈانٹ دیا ہے اور اسی وجہ سے وہ رو رہی ہے۔
‘” حان لالہ نے ڈانٹا ہے مجھے بہت زیادہ۔” لیلی نے اپنی آنکھیں صاف کرتے کہا مگر کہتے اس کے آنسو تیزی سے پھر سے اس کے چہرے پر بہہ آئے تھے۔۔
” کیوں ڈانٹا ہے۔ تم چلو میرے ساتھ میں کلاس لیتا ہوں اسکی۔” ذوہان نے اس کا چہرہ صاف کرتے کہا۔ اسے ارحان پر بہت غصہ آرہا تھا۔
” نہیں میں نہیں جائے گا وہ پھر ڈانٹے گا مجھے۔” لیلی نے فورا انکار کرتے کہا۔ وہ واقعی ہی اس وقت ارحان سے سہم گئی تھی۔
” میرے ہوتے وہ تمہیں نہیں کچھ کہہ سکتا چلو میرے ساتھ۔” ذوہان بول کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ارحان کے کمرے میں لے آیا۔ لیلی خاموشی سے اس کے ساتھ چل رہی تھی۔ ارحان کے کمرے میں پہنچنے پر وہ ذوہان کے پیچھے چھپ گئی۔
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی لیلی کو ڈانٹنے کی ہاں ں ؟” ذوہان اس کے پاس کھڑے ہو کر اس کے سر پر تھپڑ مار کر بولا۔ ارحان نے بھی تب تک خود کو کافی سنبھال لیا تھا اور لیلی کے جانے کے بعد اسے کافی بڑا لگ رہا تھا کیونکہ وہ اسے بہت بڑی طرح سے سنا گیا تھا۔
” یار مجھے غصہ آیا ہوا تھا۔” ارحان نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
” تمہارے غصے کی ایسی کی تیسی آئندہ تم نے اسے کچھ کہا نہیں تو دیکھ لوں گا میں تمہیں۔ منہ توڑ دوں گا میں تمہارا۔” ذوہان نے ایک اور تھپڑ اس کے سر پر مارتے کہا۔
لیلی ایک کونے میں کھڑی خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
” ادھر آو لیلی۔” لیلی پر نظر پڑتے ارحان نے ہاتھ پھیلا کر اسے اپنے پاس بلایا۔ تو وہ فورا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے اس کے قریب آئی۔
‘” اس کے قریب آتے ارحان نے فورا اسے سینے سے لگا لیا۔
ارحان کو پھر سے نارمل دیکھ کر لیلی کے پھر سے آنسو نکلنے لگ گئے۔
” آئی ایم سوری میری جان۔ لالہ کو معاف کردو۔” ارحان نے اس کے سر پر ہونٹ رکھتے کہا۔ اسے بہت شرمندگی ہو رہی تھی کہ اسکی پیاری بہن اس کی وجہ سے اتنا روئی۔
” تم نے ام کو اتنا ڈانٹا۔” لیلی نے گیلی آواز میں کہا۔
” لالے کی جان آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا بس مجھے معاف کردو۔” ارحان نے اس کے آنسو صاف کر کے کہا۔ ذوہان ان دونوں کی صلح دیکھ مسکرا رہا تھا۔
” پھر تم ام کو چاکلیٹ لے کر دے گا؟” لیلی نے فورا سے شرط رکھی۔ جس پر ارحان ذوہان دونوں ہنس دئے۔
” ہاں ڈھیر ساری لے کر دوں گا۔” ارحان نے اس کو کہا تو وہ بھی خوشی سے مسکرا دی۔
” ذمہ زڑگیہ “
(میرا دل)
ارحان نے اس کی پیشانی چوم کر اسے گلے لگایا۔
” اوئے مجھے بھی شامل کرلو اس بھائی چارے میں۔” ذوہان فورا سے انکے قریب آکر بولا تو وہ دونوں ہنس کر اس بھی جگہ دے گئے۔ اور انکے کمرے میں داخل ہوتی رضیہ بیگم ان کا پیار دیکھ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔
♡■■♡![]()
” اسفند میرا آئسکریم کھانے کا بہت من کر رہا ہے۔” حالے اس کے کمرے میں آتے منہ بنا کر بولی۔
” تمہارا کب کچھ کھانے ک دل نہیں کرتا۔” اسفند نے اس پر طنز کیا تو وہ دانت پیس گئی۔
” زیادہ بکواس نہ کرو۔ میرا آج بہت دل کر رہا ہے بہہہہت زیادہ لیکن میرب اور پھپھو کے ہونے کی وجہ سے ہم جا بھی نہیں سکتے۔” پہلے تو اسے جھڑکتے اس نے گھور کر کہا پھر میرب لوگوں کا خیال آتے وہ اداس سا ہوکر بولی۔
” کیوں نہیں جا سکتے۔ چلو چادر لے لو چلتے ہیں۔” اس کی اداس سی شکل دیکھ اسفندیار بولا تو حالے حیران ہوئی۔
” لیکن پھپھو بولیں گی کہ میرب کو بھی لے جاو۔پھر گاڑی میں جانا پڑے گا۔ اور مجھے گاڑی سے زیادہ بائک پہ مزا آتا ہے۔” حالے بولی تو اسفند مسکرایا۔۔
” تم اس بات کو چھوڑو جاو چادر لے کر آو چلتے ہیں۔” اسفند بولا تو وہ فورا سے چہکتے اپنے کمرے میں گئی اور وہاں جا کر اپنا حجاب ٹھیک کیا پھر اس کے بعد ایک بڑی سی شال اپنے گرد اوڑھ لی اور پھر خود کو ایک آخری نظر دیکھ وہ اسفند کے پاس آئی جو بائک کی چابی لئے اسی کے انتظار میں کھڑا تھا۔
” چلو ” اسفند کے قریب آکر بولی تو وہ سر ہلا کر اسے لئے آگے بڑھ گیا۔ لاونج میں پھپھو بیٹھ کر کچھ کھا رہی تھی جبکہ میرب ہمیشہ کی طرح موبائل میں گھسے ہوئی تھی۔
ان کو کہیں جاتے دیکھ پروین بیگم نے فورا سے میرب کا بازو ہلایا تو وہ بھی چونکتی ان کی جانب متوجہ ہوئی۔
” کدھر جا رہے ہو اسفند بیٹا۔” اپنے لہجے میں چاشنی سی مٹھاس لئے وہ اسے روکتے بولی تو اسفند نے ضبط سے انہیں دیکھا۔جب کہ میرب کو تو دیکھنے کا بھی اس کا دل نہیں تھا۔
” وہ پھپھو باہر جارہے ہیں۔” اسفند نے زبردستی کا مسکرا کر کہا۔ ان کے یہاں آنے کی چال وہ ہمیشہ سے جانتا تھا۔
” ارے اچھا اچھا پھر تو میرب بھی بہت زیادہ بور ہو رہی تھی اسے بھی لے جاو بیٹا۔” پروین بیگم نے فورا اپنے مطلب کی بات کرتے میرب کی جانب دیکھتے کہا جس نے فورا سے زوروشور سے سر ہلایا۔
” نہیں وہ دراصل پھپھو حالے کی دوست کی طبیعت بہت خراب ہے تو اسی کے گھر چھوڑنے جا رہا ہوں اس کے بعد مجھے اپنے دوست کے ساتھ کہیں جانا ہے تو۔” اسفندیار نے فورا سے بہترین سا بہانہ بنا دیا جسے سن دونوں نے منہ بنایا۔
” اچھا چلو ٹھیک ہے۔” پروین بیگم نے کڑوا سا منہ بنا کر کہا تو وہ دونوں خوش ہوتے باہر آگئے۔ جبکہ حالے کو تو آج اسفند پر بےحد پیار آرہا تھا۔ اوپر سے اسکی حاضر دماغی کی وہ داد دیتی رہ گئی۔
♡■■♡![]()
” نین بیٹا جاو جاکر وہ رائتہ بھی لے آو۔” ایاز صاحب بولے تو وہ سر ہلا کر کچن کہ جانب بڑھ گئی۔
آج کے واقعے نے کافی ڈسٹرب کر دیا تھا۔ بہت زیادہ ہی ڈر اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا۔ پہلے جو تھوڑا بہت یہ ڈر دھیرے دھیرے جا رہا تھا اب ایک بار پھر شدت سے اپنی جڑیں اس کے اندر مضبوط کر گیا۔
” بابا وہ ارحان کہہ رہے تھے کہ اب سے نہ ذوہان بھائی مجھے لینے بھی جائیں گے اور چھوڑنے بھی لیلی کے ساتھ تو آپ نہ لے کر آئیں اب۔” نین سے نہ جانے کیوں اس کو ارحان بھائی نہ بولا گیا جو کہ ایاز صاحب نے محسوس نہ کیا۔
” وہ کیوں بیٹا؟” ایاز صاحب حیرانی سے پوچھنے لگے۔
” پتہ نہیں بابا وہ بول رہے تھے اپنے بابا کو بتا دینا۔” نین نے مکمل لاتعلقی کا اظہار کرتے کہا۔
” اگر ارحان کہہ رہا ہے تو ٹھیک ہے پھر۔” ایاز صاحب جانتے تھے کہ ارحان نے کسی وجہ سے ہی کہا ہوگا تبھی سر ہلا کر بولے پھر وہ دونوں کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے۔
جاری ہے۔
