Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 07)Part 2
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 07)Part 2
Meri Pathani by RB Writes
” چلو اندر ماڑا۔” نین کو دروازے پر قدم روکتے دیکھ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔ نین دل ہی دل میں دعائیں کئے جا رہی تھی کہ اس کا سامنا ارحان سے نہ ہو۔
اب اس کی یہ دعا قبول ہونی تھی کہ نہیں یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا۔
” مورے دیکھو میں کسے لایا ہے؟” اندر آکر وہ اونچی آواز میں بولی۔ تو رضیہ بیگم جو کچن میں تھی۔ اس کی بات سن کر باہر آئی اور نین کو لیلی کے ساتھ دیکھ انہیں خوشگوار حیرت ہوئی۔
” ارے میرا بیٹی آیا ہے آج تو۔ ادھر آو۔” نین کو دیکھ کر وہ مسکرا کر بولی تو اسے اپنے پاس بلایا۔ ان کا محبت بھرا انداز دیکھ نین مسکرا دی اور ان کے پاس گئی۔
” کیسا ہے میرا بیٹی ہاں۔ آتا کیوں نہیں تم؟” اس کو محبت سے گلے لگاتے وہ اس کا ماتھا چومتے بولی۔ ان کا لمس محسوس کر نین کو سکون سا ملا۔ یوں لگا جیسے ماں کے سائے میں آگئی ہو۔ جیسے دنیا سے ڈر ڈر کر تھکتے وہ اپنی ماں کی محفوظ پناہوں میں سما گئی ہو۔
ماں کی ممتا کو ترسا انسان ذرا سی محبت پر ہی پگھل جاتا ہے۔ جبکہ یہاں تو رضیہ بیگم اس سے یوں پیش ہوتی تھی ہمیشہ جیسے وہ اس کی سگی اولاد ہو۔
صرف دو بار ہی وہ ان کے گھر آئی تھی مگر ان دو بار میں ہی وہ رضیہ بیگم کو اس قدر بھا گئی کہ بس۔
” میں ٹھیک ہوں آنٹی۔ آپ کیسی ہیں؟” ان کا دوسرا سوال اس نے نظرانداز کر دیا۔ کہ اب وہ انہیں کیا کہتی کہ وہ ان کے گھر کیوں نہیں آتی۔ وہ تو ارحان سے ڈر کی وجہ سے نہیں آتی کیونکہ ان دو بار وہ اسے تنگ کر چکا تھا اب وہ اسے کوئی اور موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔
” میں بھی ٹھیک ہے میرا بچہ۔ آو بیٹھو میں تمہارے لئے کچھ لاتا ہے۔” اس کو مسکرا کر خود سے الگ کرتی وہ بولی۔
” مورے اسے میں اپنے کمرے میں لے جا رہا ہے۔ تم ادھر لے آنا ۔” نین کا ہاتھ تھامتے وہ بولی تو رضیہ بیگم سر ہلا گئی اور پھر لیلی اسے لے کر اوپر کی جانب بڑھ گئی۔


ارحان اس وقت اپنے کمرے میں پڑا سو رہا تھا۔ آج اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو اس وجہ سے وہ پولیس سٹیشن نہیں گیا تھا۔
ابھی اچانک ہی اس کی آنکھ کھلی تو کچھ لمحے تو غائب دماغی سے وہ چھت کو گھورتا رہا پھر اس نے نظر گھما کر سائڈ میں گھڑی کو دیکھا جو اس وقت دن کے بارہ بجا رہی تھی۔
ارحان اٹھا اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔ چہرے کو ہاتھوں میں چھپائے۔ پھر ہمت کر کے اٹھا اور باتھروم تک گیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ فریش ہو کر باہر آیا۔ اور شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنا کر نیچے چلا گیا۔
حالانکہ اسے اپنی طبیعت میں سستی محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن وہ اسے نظرانداز کرگیا۔
” مورے ناشتہ دے دو۔” آج وہ خلاف توقع چیخنے کے بجائے آہستہ سی آواز میں بولا۔ اس کی آواز سن کر رضیہ بیگم پلٹی۔
” ارے تم یہاں کیوں آگیا۔ تم جاو اوپر میں دے جاتا ہے۔” رضیہ بیگم اسے دیکھ پریشانی بھرے لہجے میں بولی۔ ان کے لہجے کی پریشانی محسوس کرتا وہ مسکرا دیا۔
” کوئی بات نہیں مورے ادھر ہی دے دو۔ اور ویسے یہ اتنا سارا کچھ کس کے لئے تیار کر رہی ہیں۔” ان کو مسکرا کر بولتا وہ ان سب سامان کو دیکھتا بولا جو رضیہ بیگم نین کے لئے تیار کر رہی تھی۔ کیونکہ وہ اتنے وقت بعد جو آئی تھی۔
” یہ وہ لیلی کا دوست آیا ہے نہ نین تو اس کے لئے بنا رہا ہے۔ اور تم جاو تمہارا طبیعت ٹھیک نہیں ہے میں تمہیں اوپر دے جائے گا۔” اس کو جواب دیتے وہ بولی۔
جبکہ ارحان کو نین کے آنے کا سن کر یوں لگا جیسے ساری سستی غائب ہو رہی ہو۔ اس کے دن کی شروعات اتنی حسین ہو گی وہ جانتا بھی نہیں تھا۔ یکدم چہرے پر حسین سی مسکراہٹ آگئی۔ وہ مسکرا کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور یہ سوچنے لگا کہ نین سے بات کیسے کرے کیونکہ ہر وقت تو اس کی باڈی گارڈ اس کے ساتھ موجود ہوتی تھی۔
لیلی کا خیال آتے اس نے منہ بنایا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ اسے بات نہ کرنے دے گی۔ اپنے دماغ کے گھوڑے اس نے تیز دوڑائے کہ یکدم ایک خیال اس کے دماغ میں جو اس کے چہرے پر مسکراہٹ سجائے گیا۔


” بازو آگے کریں میم۔” نرس اس کو بولی تو اس نے سہمتے اسے دیکھا۔
” دیکھیں مجھے کوئی نہیں انجیکشن لگانا میں بتا رہی ہوں سمپل دوائیاں دے دیں۔” حالے کو لگا کہ وہ اسے انجیکشن لگانے والی ہے۔ تبھی اس کو بولی۔
حالے کا انجیکشن سے ڈر دیکھ اس نرس نے مسکراہٹ دبائی۔
” میم میں آپکا بی پی چیک کرنے والی ہوں انجیکشن وغیرہ ابھی ڈاکٹر آکر لگائیں گے۔” نرس اسے سمجھاتے بولی مگر حالے نے پھر بھی بازو آگے نہ کیا۔
” حالے بازو آگے کرو۔” اسفند نے اس کا بازو زبردستی آگے کیا۔ تو نرس نے اس کا بی پی چیک کیا۔
اس کے کچھ ہی دیر بعد ڈاکٹر ذوہان روم میں آیا۔
” جی کیا نام ہے پیشنٹ کا؟” ذوہان نرس کے پاس آتا بولا اور ایک نظر اس کالے حجاب میں چمکتے چہرے پر پڑی۔ جو کہ اس وقت بخار کی وجہ سے لال ہوگیا تھا۔ ناجانے کیوں اس کی نظریں اس کے نقوش میں الجھ رہی تھی۔
اس نے فورا اس کے چہرے سے نظریں ہٹائی۔ اور سر جھٹک کر نرس ہی جانب متوجہ ہوا۔
” حالے نور نیم ہے ان کا۔” نرس نے نیم بتا کر ساری رپورٹس اس کو پکڑائی جو اس نے تھام لی۔ جبکہ دل نے ایک بار اس کا نام دھیرے سے پکارا۔
حالے کبھی اسفند تو کبھی ذوہان کو دیکھتی۔ جبکہ اسفندیار اس وقت سنجیدگی سے ڈاکٹر ذوہان کو دیکھ رہا تھا۔
” ایکسکیوز می۔” کمرے میں خاموشی کو ایک میل نرس نے آکر توڑا۔ جس نے آکر اسفندیار کو پکارا جو اس کی جانب متوجہ ہوا۔
” آپ ذرا دوبارہ منٹ باہر آکر فارم بھر دیں پلیز۔” اس آدمی نے کہا تو اسفندیار سر ہلا کر اس کے ساتھ چل دیا۔
” آپ ایک انجیکشن تیار کریں جن سے ان کا بخار کچھ کم ہوجائے گا۔” اس نے نرس کو کہا تو نرس سر ہلا کر انجیکشن تیار کرنے لگے۔ جبکہ حالے کی آنکھیں انجیکشن کے نام پر پھٹنے کے قریب ہوگئی۔
” نن۔نہیں میں نے انجیکشن نہیں لگانا میں بتا رہی ہوں۔” حالے نے آنکھوں سے بولی تو ذوہان نے اسے دیکھا جبکہ اس کی نم آنکھوں اسنے ڈوبتا محسوس کیا۔
” دیکھیں مس نور کچھ بھی نہیں ہے بس ایک چھوٹی سی سوئی چبھے گی زیادہ درد نہیں ہوگا۔” ذوہان اس کو نرمی سے تسلی دینے لگا اور نرس کی دی ہوئی انجیکشن تھام گیا۔
اس کو انجیکشن تھمانے کے بعد نرس کچھ لینے روم سے باہر چلی گئی۔ اب پورے کمرے میں صرف ذوہان اور حالے موجود تھے۔
” بازو آگے کریں۔” ذوہان بولا تو حالے نے ڈرتے ڈرتے بازو آگے کیا۔ تو ذوہان نے انجیکشن کی سرنج اس کے بازو پہ رکھی۔ ابھی اسنے لگائی بھی نہ تھی کہ حالے نے ڈرتے ڈرتے اس کا ہاتھ تھاما۔
حاکے تو اس وقت اپنے ہوش میں نہیں تھی۔ انجیکشن کا ڈر ہی اس پر اس قدر سوار تھا کہ جان ہی نہ پائی کہ وہ اس وقت کیا حرکت کر گئی تھی۔ جبکہ ذوہان کی دھڑکنیں شور مچانے شروع کر گئی۔ وہ سمجھ ہی نہ پایا کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔
اس نے جیسے ہی انجیکشن اس کے بازو میں لگایا حالے نے اس کے ہاتھ کو دانتوں میں کاٹ لیا۔ ذوہان نے درد برداشت کرتے لب بھینچ لئے۔ اس نے مشکل سے جا کر اسے انجیکشن لگایا تو حالے نے اس کا ہاتھ اپنے دانتوں سے آزاد کیا۔ اس کے ہاتھ پر حالے کے دانتوں کے نشان بن گئے۔ اس کے ہاتھ آزاد کرتے ہی ذوہان نے سکھ کی سانس خارج کی۔
” آپ نے یہ اچھا نہیں کیا ڈاکٹر۔ اللہ پوچھے آپ کو ۔ اللہ کرے صحیح کوئی موٹی سی بیوی ملے آپکو۔ جو دن میں تارے دکھائے آپکو۔” وہ روتے ہوئے بولی تو ذوہان کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئی۔
اسے سمجھ نہ آیا کہ اس نے ایسا کیا کیا جو وہ اسے یوں بد دعائیں دے رہی تھی۔ اس نے تو اسے ٹھیک کرنے کے لیے انجیکشن لگایا۔
اس سے پہلے وہ کچھ بولتے اسفندیار اور نرس ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔ حالے کو سوں سوں کرتے دیکھ وہ سمجھ گیا کہ اسے انجیکشن لگ چکا ہے۔ اس نے سکون بھرا سانس خارج کیا اور ڈاکٹر کی جانب بڑھا۔
جبکہ اسے دیکھ حالے شرر بار نگاہوں سے اسے گھور رہی تھی۔ اس کا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ اسے نظروں ہی نظروں میں قتل کر دیتی۔
” میں یہ کچھ دوائی لکھ کر دے رہا ہوں۔ آپ نے یہ اسے تین دفعہ کھلانی ہے صبح شام۔” ڈاکٹر ذوہان نے پیپر پر میڈیسن لکھ کر اسے دی اور اسے دی۔ جو اسفندیار نے تھام لی۔
” اوکے تھینک یو ڈاکٹر۔ چلو حالے۔” وہ ذوہان کا شکریہ ادا کر کے حالے کے پاس آیا اور اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا۔ جسے حالے نے غصے میں تھاما۔ اس کا غصہ دیکھ اسفندیار مسکرا دیا۔
” بس میری بہن اتنا غصہ اچھا نہیں۔” اسفندیار بولا اور اسے لئے آگے بڑھ گیا۔ اس کے جاتے ذوہان نے اپنا ہاتھ دیکھا جہاں حالے کے دانتوں کے نشان تھے۔ اس نے اپنے انگلیوں کے پوروں سے اس نشان کو چھوا اور وہ لمحہ یاد کیا مسکرا دیا۔ اور آج پہلی بار نین لیلی اور اس کی امی کے علاوہ کوئی لڑکی اس کے مسکرانے کی وجہ بنی تھی۔ اور کیوں بنی تھی یہ وہ خود نہیں جانتا تھا۔
روم کے دروازے سے یہ سارا ماجرا دیکھتے عیشا غصے سے پاگل ہو رہی تھی۔ وہ سارا معاملہ دیکھ چکی تھی۔ اور ذوہان کا اسے اتنی نرمی سے ڈیل کرنا اسے آگ لگا گیا تھا۔ اسے حالے کے وجود سے نفرت محسوس ہوئی۔ اس کا دل کیا کہ اس کے حسین چہرے پر تیزا ب ڈال دے۔ اور آخر میں اسنے جب ذوہان کو اس کے دئے نشان کی وجہ سے مسکراتے دیکھ اس کا بس نہیں چلا کہ وہ کچھ کر گزرے۔
اپنے پاس سے گزرتے حالے کو اس نے نفرت بھری نظروں سے اس کی پشت کو دیکھا۔


لیلی اور نین اس وقت کمرے میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی ساتھ ساتھ رضیہ بیگم کی دی گئی چیزوں کو کھا رہی تھی۔
ابھی وہ کچھ کہتی کہ یکدم دروازے پر دستک ہوئی۔
” لیلی مورے بلا رہی ہیں تمہیں وہ جو تمہیں میں نے ایک جیکٹ دی تھی جو تم نے سٹور روم میں رکھی تھی وہ نکال دو ذرا۔” لیلی کو دیکھتا وہ ایک پل کے لئے نین کو دیکھا جو اس کی موجودگی میں نیچے دیکھتے اپنی دھڑکنیں معمول پر لانے کی کوشش کر رہی تھی۔
” اچھا ٹھیک ہے ۔ نین تم بیٹھو میں آتا ہے۔” ارحان کو بول کر وہ نین کو دیکھ کر بول کر چلی گئی۔ اور پیچھے نین نے اسے آواز دینا چاہی مگر نہ دے پائی۔ ارحان کی اسے دیکھ کر آنکھیں مسکرائی۔
” کیسی ہو؟” ارحان اس کو جانب قدم بڑھاتا مسکرا کر بولا۔ تو اسے اپنی جانب قدم لیتے دیکھ وہ پیچھے کی جانب قدم لینے لگی۔
” مم۔میں ٹھیک ہ۔ہوں۔” پیچھے کی جانب قدم لیتے وہ گھبرا کر بولی۔ آنکھوں میں ڈر واضح تھا۔
” مجھ سے نہیں پوچھو گی؟” اس کے قریب کھڑے کو کر وہ خمار بھرے لہجے میں بولا۔
” آ۔۔ا۔آپ کی۔کیسے؟” اس کی بات سن کر وہ نظریں جھکا کر بولی۔ اس کی اس ادا کو دیکھتے وہ گہرا مسکرایا تو اس کے گال میں ڈمپل ابھرا۔
” پہلے تو بالکل ٹھیک نہیں تھا مگر اب لگ رہا ہے کہ بالکل ٹھیک ہوں۔” وہ ذومعنی انداز میں بولی تو نین کی پلکیں لرز گئی۔ گال یکدم گلابی پڑ گئے۔
” آتی کیوں نہیں تم؟” یکدم سنجیدہ پڑتے اس نے سخت لہجے میں کہا کہ نین نے اس کا لہجہ بھانپتے فورا سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ تو اس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے دل پسیج گیا۔
نچلا ہونٹ وہ باہر نکالے آنکھوں میں نمی لئے وہ رونے کو تیار ہوئی۔ اس کو رونے کی تیاری پکڑتے دیکھ وہ گھبرا گیا۔
” ہے نین رونا مت پلیز رونا نہیں۔ اچھا نہیں کچھ کہتا تم رو تو مت۔” وہ گھبرا کر اسے چپ کروانے کی کوشش کرتا بولا۔ جبکہ اس کی بات سن نین کے رونے میں شدت آئی اور وہ دونوں ہاتھوں کی مٹھی بنائے آنکھوں پہ رکھتے بچوں کی طرح رونے لگی۔
” نین میری جان آئی ایم سوری ۔ اب نہیں کرتا پلیز چپ ہوجاو۔ ورنہ وہ تمہاری ڈائن دوست میری جان لے لے گی۔ ” معصوم سا منہ بنا کر وہ بے بسی سے بولا تو نین چپ ہو گئی۔ جبکہ ہلکی ہلکی ہچکی ابھی بھی جاری تھی۔
اس کے چپ ہوتے ہی ارحان اس کے بالکل قریب جھکا اس کے کان کے قریب تو نین نے سانس روکی اور پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“چلو ایسا کرتے ھیں,
تم موم بن جاؤ,
میں دھاگا بن جاؤں,
تم مجھ میں پگھل جاؤ,
میں تجھ میں جل جاؤں.”
اس کے کان میں سرگوشی کرتا وہ پھونک مار کر چلا گیا جبکہ نین ابھی بھی اس کے الفاظوں کے سحر میں گرفتار تھی۔ دل کی دھڑکنیں شور مچانے میں لگ گئی۔ تو اس نے گھبرا کر اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھا اور باہر سے لیلی کی آواز سنتے فورا سے اپنی حالت ٹھیک کی۔
