Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 17)

Meri Pathani by RB Writes

” ارحان لالہ کھانا کھانے آجاو۔” لیلی نے ارحان کے کمرے میں جاتے ہوئے کہا تو ارحان نے سر ہلایا۔

” ٹھیک ہے تم چلو میں آتا ہوں۔” ارحان نے کہا تو وہ جی لالہ کہہ کر نیچے چلی گئی۔

جہاں خانزادہ صاحب رضیہ بیگم اور ذوہان انکا انتظار کر رہے تھے۔ لیلی کے آنے پر سب نے اسے دیکھا۔

” لالہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے بھوک نہیں ہے میں نے نہیں کھانا اور خبردار کسی نے مجھے ڈسٹرب کیا تو۔” لیلی نے نیچے آتے جھوٹ کہا تو اسکے پیچھے آتے ارحان کا منہ کھل گیا کہ مطلب اس نے ایسا کب کہا؟

جبکہ باقی سب ارحان کا کھلا منہ دیکھ مسکراہٹ دبا گئے۔

” کیا کہا تھا میں نے؟” ارحان نے اپنا بازو اسکے گردن کے گرد باندھتے دانت پیستے کہا تو لیلی گڑبڑا گئی۔

” لالہ نے کہا تھا کہ وہ آرہی ہے۔” لیلی نے فورا سے گھبراتے ہوئے کہا تو سب کے قہقہے بلند ہوئے جبکہ ارحان سر پکڑ کر رہ گیا۔

” میری بہن آرہی نہیں آرہا۔ منٹ میں میرا جینڈر چینج کر دیتی ہو۔” ارحان اسے گھورتے ہوئے بولا تو وہ دانت نکال گئی۔

” ارے آگئی تم آجاو بیٹھ جاو۔” ذوہان نے بھی لیلی کی طرح کا لہجہ اپناتے اس کا مذاق اڑایا تو اس نے اسے گھورا۔

” مار مت کھا لینا تم مجھ سے۔” ارحان نے کہا تو وہ ہنسنے لگا گیا۔ سارے ہی ارحان کے چڑنے پر محظوظ ہو رہے تھے۔

اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی بات کرتے ارحان کا فون بجنے لگ گیا۔ ارحان نے اگنور کرنا چاہا مگر کمشنر کی کال دیکھ کر رک گیا اور کال پک کی۔

” اسلام علیکم سر۔” ارحان نے کال پک کرتے الرٹ ہوکر کہا۔ باقی گھر والے اسی کی جانب متوجہ تھے۔

” او اوکے تھینک یو سو مچ سر۔ تھینک یو۔” ارحان کے چہرے پر بات کرتے اچانک سے خوشی آئی۔ آگے سے ناجانے کیا کہا گیا تھا۔ جس نے اسے خوش کر دیا تھا۔ مزید ایک بات کر کے اس نے کال کٹ کر دی اور اپنے گھر والوں کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔

” کون تھا اور کیا کہہ کر رہا تھا؟” رضیہ بیگم نے اسکے کال رکھتے کہا تو اس نے گہری سانس لی۔ اب اسے گھر والوں کو بتانا مشکل لگ رہا تھا۔

” وہ مورے میری پوسٹنگ ساتھ کے ایک گاوں میں ہو گئی ہے۔ ایک مشن ملا ہے تو وہ مکمل کر کے واپس یہاں پر لگ جائے گی۔” اس نے جلدی سے اپنی بات مکمل کی۔ اور باقیوں کی جانب دیکھا جو اس کی بات پر پریشان ہوگئے تھے۔

” مم مگر ایسا کیسے۔'” رضیہ بیگم نے فکرمندی سے کہا۔ جبکہ باقی سارے بھی اداس ہو گئے تھے۔ ذوہان اور لیلی کے چہرے پر اداسی واضح دیکھی جا سکتی تھی۔

” مورے یہ میری ڈیوٹی کا حصہ ہے اور ویسے بھی تم نہیں چاہتی کہ تمہارا بیٹا برائی کو ختم کرنے کی وجہ بنے ۔” ارحان نے اپنے لفظوں سے انہیں راضی کرنے کی کوشش کی۔

” وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن۔” رضیہ بیگم کا دل ابھی بھی اپنے بیٹے کو دور بھیجنے پر مطمئن نہیں تھا۔ تبھی وہ بولی کہ ارحان نے انہیں بیچ میں کاٹ دیا۔

” لیکن ویکن کچھ نہیں بس تین دن تک میں وہاں چلا جاوں گا۔ اور مجھے ہر لمحہ آپ سب کی دعاؤں کی ضرورت ہوگی۔” ارحان نے مسکرا کر کہا حالانکہ دل تو اس کا بھی اداس تھا ناجانے اتنے دن اپنوں سے دور وہ کیسے کاٹے گا۔ اور ناجانے پھر کبھی واپسی ہو نہ ہو۔ مگر پھر اللہ کی راہ میں نکلنے کا سوچ دل کو دوبارہ جذبہ دلایا۔ اور اللہ کب اپنے بندوں کو مایوس کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

❤❤

” آپا آجائیں کھانا کھانے۔ میرب آجاو۔” سکینہ بیگم گیسٹ روم میں آکر بولی تو وہ دونوں سر ہلا کر آگئی۔

” بھئی اسفند کہا ہے؟” پروین بیگم نے کھانے کی ٹیبل پر اسفندیار کو نا پاکر کہا۔ جبکہ میرب کی نظریں بھی اسی کو ڈھونڈ رہی تھی۔

” وہ کمرے میں ہے۔ جاو حالے بیٹا جا کر بلا کر لاو بھائی کو۔” سکینہ بیگم نے فورا سے کھانا لگاتی حالے کو کہا جو کہ سر ہلا کر جانے ہی لگی تھی کہ پروین بیگم کہ آواز پر رک گئی۔

” ارے کوئی بات نہیں میرب بلا کر لے آئے گی اسے۔ جاو میرب۔” پروین بیگم نے فورا سے کہا تو میرب بھی خوش ہوکر کھڑی ہوگئی۔ جبکہ حالے مسکراہٹ دبا گئی جانتی تھی کہ اب میرب کی اسفند کے ہاتھوں اچھی خاصی عزت ہوجانی تھی۔

” ارے نہیں آپا میرب مہمان ہے اسے کیسے بھیج دوں یہ حالے جا رہی ہے نہ۔” سکینہ بیگم نے مسکرا کر کہا۔ تو میرب نے منہ بنایا۔ جبکہ سکینہ بیگم کو دیکھ آنکھیں بھی گھما کر رہ گئی۔

“ارے کونسا پرائی ہے۔ جاو میرب جاکر بلا لاو اسفند کو۔” پروین بیگم نے جلدی سے کہا تو وہ فورا سے پہلے اسفندیار کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ پیچھے حالے کندھے اچکا کر کچن کی جانب بڑھ گئی۔

” کون؟” اسفند جو فالحال اپنی پھپھو اور میرب کی نظروں سے تنگ اپنے کمرے میں بیٹھ کر فون یوز کر رہا تھا دروازے پر دستک کی آواز سے چونک گیا۔ کیونکہ حلاے تو ہمیشہ سے ایسے ہی آجاتی تھی۔ اور اسکی امی بھی۔ پھر یہ کون اتنا تمیزدار آگیا تھا۔

” اٹس می اسفی۔ مے آئے کم؟” میرب کی آواز پر اسکا منہ بگڑ گیا دل کیا یہی سے بھیج دے مگر خود پہ قابو کئے رکھا۔

” آجاو۔” اسفند نے منہ بنا کر کہا تو میرب خوش ہو کر آگئی۔ ” کہو کیا کہنا ہے؟” اسفند نے سیدھا مدعے کی بات پر آتے کہا تو میرب نے منہ بنایا۔

” اوو کم آن اسفی اب کیا میں صرف کسی کام سے آوں تمہارے پاس۔ ویسے نہیں آسکتی کیا؟” میرب نے اپنے جھٹکتے ایک ادا سے کہا۔ جو کہ اسفند کو زہر ہی لگی۔

” نہیں تم نہیں آسکتی۔” اسفندیار نے سنجیدگی سے اسے کہا۔ میرب تو اپنی اتنی بےعزتی پر غصے سے لال پیلی ہوگئی۔ مگر پھر بھی ڈھیٹ بنی کھڑی رہی۔

” دیکھنا ایک دن تم خود مجھے لے کر آو گے اس کمرے میں۔” میرب نے شاید کچھ زیادہ ہی خوش فہمیاں پال رکھی تھی۔ تبھی وہ چیلنجنگ انداز میں بولی۔

” اور ایسا میرے مرنے کے بعد ہوگا شاید۔” اسفند نے طنز کرتے کہا۔

” وہ تو دیکھ لیں گے۔ فالحال تم کھانا کھانے آو سب ویٹ کر رہے ہیں تمہارا۔” میرب نے کہا اور چلی گئی۔ پیچھے اسفند کا دل کیا کہ اسکا گلہ دبا دے۔ ہر وقت موڈ ہی خراب کردیتی اسکا۔

❤❤

ذوہان اس وقت اپنے کمرے میں سیدھا لیٹا یک ٹک چھت کو گھورتا رہا تھا۔ نظریں کسی ایک ہی چیز پر ٹکائی ہوئی تھی۔

اس کے دماغ میں اس وقت حالے ہی چل رہی تھی۔

” کاش کہ میں ایک بار پھر سے مل پاوں اسے۔” ذوہان نے سوچا۔

” مگر میں کیسے مل سکتا ہوں وہ کونسا روز روز ہمارے گھر آئے گی۔” دل نے ایک اور بات بتائی تو مایوس ہوا۔

” اگر وہ کسی اور سے پیار کرتی ہوئی تو؟” دل نے یکدم سے ہی ایک سرگوشی کی تو یکدم سے جان جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔

” اگر وہ کرتی بھی ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ صرف اپنی محبت کو کسی اور کا ہوتے ہی دیکھوں گا۔ ” ذوہان نے دل پہ پتھر رکھ سوچا۔ مگر وہ خود جانتا تھا کہ یہ سوچ کر خود پہ کیا بیت رہا تھا۔

” ہوسکتا ہے اللہ پاک اسے میرے نصیب میں لکھ دیں؟” دل نے کہا تو یکدم سے امید کی کرنیں محسوس ہوئی۔ ایک بات پھر سے دل نے امید لگا لی۔

” میں اسے اپنے رب سے مانگوں گا اور میرا اللہ اتنا ظالم نہیں ہے کہ وہ مجھے اسے نہ دیں۔” ذوہان نے سوچا تو چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ دل نے اس بار اللہ سے امید لگا لی تھی۔ اور امید جب اللہ سے جڑ جائے تو پھر کبھی بھی مایوس نہیں ہوتا انسان۔ ۔

ذوہان کو دیکھ کوئی کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ وہی ذوہان ہے جو ہر وقت سنجیدہ سا رہتا۔ لڑکیوں سے تو کوسوں دور رہتا۔ اور آج ایک لڑکی اسے اپنے جینے کی وجہ لگ رہی تھی۔ جس کے لئے وہ بالکل بچوں جیسی سوچ رکھ رہا تھا۔

وہ خود نہیں جانتا کہ ایسا کیا ہوا اور کیوں ہوا۔ مگر اس معاملے میں وہ دل کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔ وہ جتنی کوشش کرتا اسے بھلانے کی اتنا ہی وہ اسکے دل و دماغ میں جگہ بنا رہی تھی۔ ہر پل ہر وقت اسی کا چہرہ گھومنے لگتا۔

اب ناجانے حالے کب اسکا حال سمجھے اور اس پر تھوڑا ترس کھائے۔۔۔۔۔

❤♡<3

” نین آج میں نہیں آرہا یونی ٹھیک ہے۔” لیلی نے نین کو کال کر کے کہا تو نین پریشان ہوئی۔

” مگر کیوں کچھ ہوا ہے کیا؟” نین نے فکرمندی سے کہا۔

” ارے نہیں آج ہمارا دل نہیں ہے بس اسی لئے میں نہیں آرہا۔” لیلی نے صاف بات بتاتے کہا۔

” پھر میں بھی نہیں جا رہی۔” نین نے تیزی سے کہا تو لیلی سر پکڑ کر رہ گئی۔

” دیکھو تم کیوں اب پریشان ہوتا ہے حالے ہوگا نہ تمہارے ساتھ۔پھر کیوں ڈر رہا ہے۔” لیلی نے اسے تسلی دیتے کہا۔

” مم۔مگر۔” نین نے لب کاٹتے کچھ کہنا چاہا۔

” اگر مگر نہیں تم جاو حالے ہوگا تمہارے ساتھ۔ ٹھیک ہے؟” لیلی نے کہا تو اس نے ٹھیک کہہ کر کال کٹ کردی۔ جبکہ دل گھبرا بھی رہا تھا اسکا۔

” کوئی بات نہیں نین حالے ہوگی نہ۔” اس نے خود کو تسلی دی اور جا کر باتھروم میں بند ہوگئی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *