Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 26)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 26)
Meri Pathani by RB Writes
اسفند اس وقت کچھ دیر تک کوریڈور میں گھومتا رہا کہ اس کے موبائل پر نوٹیفکیشن آیا۔ اس نے کھولا تو وہ اس کے دوست کا میسج تھا۔
جس پہ ان دو آدمیوں کی ساری ڈیٹیلز تھی۔ وہ جلدی سے باہر آیا اور بائک پر بیٹھ کر اسی جگہ نکل گیا جہاں لوکیشن اس نے سینڈ کی تھی۔
وہ جگہ ہسپتال سے کچھ زیادہ دور نہیں تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ وہاں پہنچ چکا تھا۔
وہ ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ جس کے باہر بہت سارا گند پڑا ہوا تھا اور شیشے کی ٹوٹی بوتلیں تھی۔ جن سے کچھ زیادہ ہی گندی بو آرہی تھی۔
اس نے بائک سے اتر کر اردگرد دیکھا۔ جہاں کوئی نہ تھا۔ چار سوں خاموشی کا راج تھا۔ اسفندیار نے ایک نظر گھر کی دیوار کو دیکھا جو کچھ زیادہ بڑی نہیں تھی۔ اس نے اللہ کا نام لے کر اپنے قدم بڑھائے۔
اس نے دیوار پھلانگ کر ادھر ادھر دیکھا مگر کوئی نہ تھا۔ اس نے گھر میں اپنے قدم بڑھائے۔ جہاں ایک کمرے سے آواز آرہی تھی۔
جب وہ اندر گیا تو وہ دو آدمی نشے میں دھت عجیب و غریب آوازیں نکال رہا تھے۔ ساتھ ہی پاگلوں کی طرح قہقہے لگا رہے تھے۔
ان کو دیکھ اسفندیار کو حالے کی حالت یاد آئی جو ان کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اس کی جان سے پیاری بہن کو اتنی تکلیف سہنی پڑی تھی صرف اور صرف ان کی وجہ سے۔ یہ سوچتے ہی اسفندیار نے غصے سے اپنی مٹھیوں کو بھینچ لیا۔ اور تیزی سے آگے بڑھا۔
اس کو دیکھ وہ دو آدمی چونک گئے اور دھندلی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگے۔
” ابے او کون ہے تو اور اندر کیسے آیا؟” ان میں سے ایک آدمی اسفندیار کو دیکھتے لڑکھڑاتے لہجے میں پوچھنے لگا۔ اسفندیار نے بنا اس کی بات کا جواب دئے اپنے قدم اس کی جانب بڑھائے۔ اور ایک زوردار مکا اس کے منہ پر رسید کیا۔
مکا پڑتے ہی وہ لڑکھڑا کر گر پڑا۔ سارا نشہ اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے بعد اسفندیار نے اس دوسرے کو بھی کچھ اسی طرح مارا کہ دونوں ہوش کی دنیا میں لوٹ آئے اور اپنا بچ بچاو کرنے لگے۔
کچھ ہی دیر میں اسفندیار نے دونوں کی اچھی خاصی درگت بنا دی تھی۔ اور وہ دونوں اس سے معافی مانگتے خود کی جان بخشی کی دعا مانگ رہے تھے۔
” تم جو بھی ہو پلیز ہمیں معاف کردو ۔” ان میں سے ایک نے نڈھال ہوتے ہاتھ جوڑتے کہا تو اسفندیار رک گیا۔
” آج تم نے ایک لڑکی کو گولی ماری۔ جلدی بتاو کس کے کہنے پر کیا یہ سب۔” اسفند جانتا تھا کہ یہ کام کسی کا کروایا گیا ہے۔ ورنہ حالے کی کسی سے کیا دشمنی۔
” بتاتے ہیں بتاتے ہیں۔ ع۔۔عیشا جہانگیر نے کروایا ہے یہ سب وہ بزنس مین کی بیٹی عیشا۔ اب ہمیں چھوڑ دو۔” ان آدمی نے اپنی خیریت جانتے جلدی جلدی سے بتایا تو وہ حیران ہوا۔ کہ یہ سب ایک لڑکی نے کروایا ہے۔ اب اس لڑکی کا حالے سے کیا تعلق ہے وہ تو حالے ہی بتائے گی۔
” ہاں چلو چھوڑ کر آتا ہوں تمہیں۔” اسفندیار نے دانت پیستے ان دونوں کو کالر سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے قریب کے پولیس سٹیشن لے آیا۔ اور تیزی سے ان دونوں کو زمین پہ پھینک دیا۔
” اگر یہ دونوں مجھے پولیس سٹیشن سے باہر نظر آئے تو تم لوگ اپنی خیر منا لینا۔” اسفند نے اپنا کارڈ نکال کر دکھایا تو سب اسے سلیوٹ کرتے سیدھے کھڑے ہوگئے اور اسفندیار کی بات پر یس سر کہتے ان دونوں کو کالر سے پکڑ کر لاک آپ میں بند کر گئے۔
اس کے بعد اسفندیار واپس ہسپتال آگیا۔


“ذوہان لالہ جلدی چلو نہ۔ ” لیلی نے بیٹھے بے چینی سے کہا۔
صبح ہی صبح وہ نین کو بھی کال کر چکی تھے۔ نین کو بھی یقین ہی نہ آیا کہ واقعی میں حالے کو گولی لگی یے۔
اب ذوہان کے ہسپتال جاتے وقت میں وہ دونوں اس کے ساتھ جا رہی تھی۔ جلدی تو ذوہان کو بھی تھی مگر لیلی کو شاید کچھ زیادہ ہی جلدی تھی۔
” بھئی صبر کر جاو۔ گاڑی ہے ہوائی جہاز تھوڑی ہے۔” ذوہان نے اس کی جلدی پہ چوٹ کرتے کہا۔ تو وہ منہ بنا گئی۔
” لالہ صبر ہی تو نہیں سکتا نہ۔” لیلی نے منہ بگاڑ کر کہا۔ تو ذوہان چپ کر گیا۔ اور خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا۔
کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ پھر ذوہان انہیں اس روم میں لے گیا جہاں حالے ایڈمٹ تھی۔
ان کو اس روم کے پاس چھوڑنے کے بعد ذوہان وہاں سے چلا گیا۔اور وہ دونوں اندر روم میں انٹر ہو گئی۔
“حالے۔” اندر آتے ہی لیلی بولی تو اسفند اور حالے کا دھیان ان کی جانب گیا۔ سکینہ بیگم کو اسفندیار گھر بھیج چکا تھا کیونکہ وہ دونوں کل کے ادھر تھے تو اسفند نے انہیں کہا کہ وہ تھک جائیں گے گھر چلے جائیں حالے کا خیال وہ رکھ لے گا۔ پہلے پہل تو وہ نہ مانے مگر پھر اسفندیار اور حالے کے بے حد اصرار کرنے پر وہ دونوں چلے گئے۔
” لیلی نین۔۔؟” حالے نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ لیلی اسفندیار کو نظرانداز کرتی سیدھا حالے کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ جبکہ اسفند تو تب سے بس اسی کو دیکھے جا رہا تھا۔
” یہ یہ تم کو کیا ہوا ہے حالے؟ ” حالے کے پاس کھڑے ہوتے وہ نم آنکھوں سے بولی نین کی بھی آنکھیں حالے کو یوں اس بیڈ پر پڑے دیکھ خد بخود نم ہوگئی تھی۔
” کچھ نہیں ہوا ہے یار ٹھیک ہوں میں۔ تو دونوں رو تو نہ۔” حالے نے ہنستے انہیں اپنے ٹھیک ہونے کا یقین دلایا تو وہ دونوں چپ کر گئی۔
” کس نے کیا ہے یہ تم ہم کو بتاو ہم چھوڑے گا نہیں اسے۔” لیلی نے اپنی آنکھوں میں غصہ لئے کہا تو اسفند اور حالے مسکراہٹ دبا گئے۔ جبکہ نین نے لیلی کی بات پر زوروشور سے سر ہلایا گویا اس کا ساتھ دیا ہو۔
” ہاں ہاں بھئی بتاو اپنی بہادر دوست کو۔ اس نے چھوڑنا نہیں اسے۔” اس کی بات سن کر اسفند نے کہا تو لیلی نے اسے اگنور ہی کیا۔ جواب دینا اسے لازمی نہ سمجھا۔
جبکہ اس کے جواب نہ دینے پر حالے نین اور خود اسفند بھی حیران تھا کہ آج لیلی نے اس کی بات کا جواب نہ دیا۔ ورنہ تو ہر وقت وہ اس سے لڑنے کو تیار رہتی۔
پھر حالے اور نین اور لیلی آپس میں باتیں کرنے میں مصروف ہوگئی۔ایک دو مرتبہ ذوہان بھی آیا اس کو چیک کرنے اور پھر اسے دیکھ وہ واپس چلا جاتا۔ اسفندیار ان کی باتوں سے تنگ آکر موبائل یوز کرنے لگ گیا۔
” تم رکو ذرا میں ذوہان لالہ سے بات کر کے آتا ہے۔” لیلی نے کہا تو وہ دونوں سر ہلا گئی۔ اور لیلی وہاں سے باہر نکل آئی۔ اس کے نکلتے ہی اسفندیار نے اپنے فون کی رنگ ٹون لگائی اور یوں دکھایا کہ اس کی کال آرہی ہے۔ اور باہر نکل آیا۔ ان کے جاتے نین اور حالے باتوں میں مصروف ہوگئی۔
” لیلی۔۔” اسفند نے اسے پکارا تو وہ رک گئی۔ مگر مڑ کر نہیں دیکھا۔۔
” تم ناراض ہو مجھ سے؟” اسفند نے اس کے سامنے آتے پوچھا۔
” نہیں ام کیوں ناراض ہوگا تم سے۔” لیلی نے نگاہیں چراتے ادھر ادھر دیکھتے کہا۔
” مگر مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ تم مجھ سے ناراض ہو۔” اسفند نے ایک آئبرو اچکائے اس سے پوچھا۔
” تم کو غلط لگ رہا ہے ہم ناراض نہیں ہے۔” لیلی نے کہا مگر پتہ نہیں کیوں یہ سب کہتے اس کے لہجے میں خفگی در آئی جو اسفند نے محسوس کر لی تھی۔ اسفندیار کو اس پر جی بھر کہ پیار آرہا تھا۔
” آئی ایم سوری اگر جانے انجانے میں میری کوئی بھی بات بری لگی ہو تو اس کے لئے مجھے معاف کردو۔” اسفند نے کان پکڑتے معصوم شکل بنا کر کہا تو وہ حیرت سے اسے تکنے لگی۔ اسے اسفندیار سے اس چیز کی امید ہرگز نہیں تھی۔
” ام ام نے معاف کیا تم یہ نہیں کرو۔” لیلی نے جلدی سے آگے بڑھتے اس کے ہاتھوں کو نیچے کرتے کہا اور تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔
ڈر تھا کہ اگر تھوڑی دیر بھی زیادہ رکتی تو شاید خود کو اس کے پاس چھوڑ آتی۔ اپنا آپ اس میں ہی کھو آتی۔ اس کی آنکھیں جو اسے ڈبا دینے کا حوصلہ رکھتی۔ ان سے نظریں چراتے وہ چلی گئی۔ مگر یہ بھول گئی تھی کہ خود کو اس کے پاس تو وہ کب کا چھوڑ آئی تھی۔
محبت تو دستک دے چکی تھی دل پہ بس احساس ہونا باقی تھا۔
وہ ایسا ہے کہ…!!
اُس سے مُحبت کرنے کے لیے زِندگیاں اُدھار لی جا سکتی ہیں…!!
وہ ایسا ہے کہ…!!
اُسے سامنے بِٹھا کے تمام عُمر دیکھا جا سکتا ہے…!!
اُس کی وہ آنکھیں…!!
اِتنی حسین ہیں…!!
اِتنی حسین کہ…!!
ایک سو اڑسٹھ چاند کی راتیں
صدقہ واری جائیں…![]()



” سر کیا اب میں کل کے لئے روانہ ہوجاوں۔” ارحان نے کمشنر سر کو کال کر کے کہا۔
اس نے ویسے ہی ساری تیاری کرلی تھی اب بس جلدی ہی نکلنا تھا۔ تبھی اس نے آج کال کر کے اپنے روانہ ہونے کا پوچھا۔
” نہیں ارحان کل نہیں جانا۔” کمشنر نے کہا تو اس کے ماتھے پر بل پڑے۔
” کیوں سر ؟” ارحان نے الجھ کر پوچھا۔
” ایکچولی یہ ایک چھوٹا مشن نہیں ہے ایک بڑا مشن بن گیا ہے۔ اس لئے آپ کے ساتھ ہمارے ایک ایجنٹ ہیں وہ بھی جائیں گے۔ ان کے ہاں کوئی ایشو ہو گیا ہے تو بس ایک دو دن تک آپ دونوں نے ساتھ جانا ہے۔ پلین سارا وہ آپ کو سمجھا دیں گے۔” کمشنر نے ساری تفصیل سے اسے آگاہ کیا تو وہ یس سر کہہ کر کال کٹ کر گیا۔
اب بس یہ تھا کہ اسے اس ایجنٹ کے فری ہونے کا انتظار تھا جو کہ اسفند ہی تھا۔ پھر وہ جلدی سے ازمیر کو پکڑ کر اسے سلاکھوں کے پیچھے کروا دینا چاہتا تھا۔



حالے تم کسی عیشا کو جانتی ہو؟” اسفند نے پوچھا تو حالے کو انجیکشن لگاتے ذوہان نے حیرت سے اسے دیکھا جبکہ حالے نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
” عیشا جہانگیر۔۔؟” ذوہان نے پوچھا تو اسفند نے حیران ہو کر سر ہاں میں ہلایا۔
” آپ جانتے ہیں اسے؟” اسفند نے پوچھا
‘” ہاں وہ ایک سائکو لڑکی ہے۔ امیر ماں باپ کی بگڑی اولاد ہے۔ مگر آپ کیوں پوچھ رہیں ہیں اسکا۔” ذوہان نے کہتے ساتھ سوال بھی کیا۔
” کیوں کہ حالے پر گولی کسی اور نے نہیں بلکہ اسی نے چلوائی ہے۔” اسفند نے کہا تو ذوہان کے ساتھ ساتھ حالے بھی حیران ہوئی کہ جس لڑکی کو وہ جانتی نہیں وہ اسے مارنے کی کوششیں کر رہی ہے۔
” وہ کافی عرصے سے میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ میں نے اسے ہر بار ریجیکٹ کیا ہے مگر وہ نہیں سنتی۔ اس دن ہسپتال میں مجھے نور کے ساتھ دیکھ کر اس نے پتہ نہیں کیا سمجھ کر اب اسے مارنے کی کوشش کی ہے۔” ذوہان نے دانت پیستے کہا۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عیشا اس کے سامنے ہوتی تو وہ اس کا منہ تھپڑوں سے لال کر دیتا۔
” بس ڈاکٹر آپ فکر نہ کریں اس کو کیسے سیدھا کرنا ہے یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ اب یہ کبھی مڑ کر بھی نہیں دیکھے گی۔” اسفند نے شیطانی مسکراہٹ سجا کر کہا۔
اس کے دماغ میں اس وقت کیا چل رہا تھا وہ کوئی نہیں جانتا تھا۔
