Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Last updated: 23 February 2026
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 01)Meri Pathani (Episode 02)Meri Pathani (Episode 03)Meri Pathani (Episode 04)Meri Pathani (Episode 05)Meri Pathani (Episode 06)Meri Pathani (Episode 07)Meri Pathani (Episode 07)Part 2Meri Pathani (Episode 08)Meri Pathani (Episode 09)Meri Pathani (Episode 10)Meri Pathani (Episode 11)Meri Pathani (Episode 12)Meri Pathani (Episode 13)Meri Pathani (Episode 14)Meri Pathani (Episode 15)Meri Pathani (Episode 16)Meri Pathani (Episode 17)Meri Pathani (Episode 18)Meri Pathani (Episode 19)Meri Pathani (Episode 20)Meri Pathani (Episode 21)Meri Pathani (Episode 22)Meri Pathani (Episode 23)Meri Pathani (Episode 24)Meri Pathani (Episode 25)Meri Pathani (Episode 26)Meri Pathani (Episode 26)Part 2Meri Pathani (Episode 27)Meri Pathani (Episode 27)Part 2Meri Pathani (Episode 27)Part 3Meri Pathani (Episode 28)Meri Pathani (Episode 28)Part 2Meri Pathani (Episode 28)Part 3Meri Pathani (Episode 29)Meri Pathani (Last Episode)
Meri Pathani by RB Writes
" یار ڈاکٹر ذوہان کتنے ہینڈسم ہیں نہ۔ جب سے ان کو دیکھا ہے میں تو اپنی نظریں نہیں ہٹا پاتی ان سے۔ کیا ہی پرسنیلٹی ہے یارررر۔" عیشا ڈاکٹر ذوہان کو ساتھ سے گزرتے دیکھ اپنی دوست دانیہ سے ٹھنڈی آہ بھر کر بولی۔
" ہاں یار ہے تو ہینڈسم مگر یہ پٹتا بھی نہیں ہے ناجانے کس مٹی کا بنا ہے۔" دانیہ اسے دیکھ منہ بنا کر بولا جو کسی کو گھاس تک نہ ڈالتا تھا۔
" بیشک یہ جس بھی مٹی کا بنا ہو مگر بنا یہ صرف عیشا سلمان شاہ کے لئے ہے۔ اور اسی کا ہو کر رہے گا۔" عیشا آنکھوں میں جنون ، آگ لئے بولی۔ جس سے دانیہ نے جھرجھری سی لی۔
" عیشا۔۔۔۔ عیشا۔۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے؟" سامنے پڑے ایک کانچ کے ٹکڑے سے اپنی ہتھیلی کو چیر گئی۔ جسے دیکھ کر دانیہ چیختے ہوئے اس کے قریب آئی۔ جس نے اپنے چہرے پہ ایک حسین سی مسکراہٹ سجا لی تھی۔ ایک خطرناک سی مسکراہٹ۔۔۔۔۔۔۔۔
" یار اب اس ڈاکٹر سے بات کرنے کا کوئی تو بہانہ چاہیے نہ۔" اسے دیکھ آنکھ ونک کرتے بولی تو دانیہ نے حیرت سے اسے دیکھا جو اپنے ضد جنون کو لے کر بہت آگے نکل چکی تھی۔ مگر اس بار اس نے ایک غلط شخص کا انتخاب کیا تھا جو کسی کے حسن کا اسیر نہ ہوتا۔
" ڈاکٹر پلیز یہ دیکھیں میرا ہاتھ۔" معصوم شکل بناتے وہ ساتھ سے گزرتے ذوہان کو دیکھتے تیزی سے اس کی جانب بڑھی۔ جس نے ایک نظر اس کے خون سے رنگے ہاتھ کو دیکھا اور پھر مڑ کر ایک نرس کو آواز دی۔
" نرس انکے ہاتھ کی بینڈج کردیں ۔۔۔" نرس کو بولتا وہ آگے بڑھنے لگا جب عیشا کی آواز پر دوبارہ مڑا۔
" نہیں ڈاکٹر میں آپ سے ہی ڈریسنگ کرواوں گی صرف۔"عیشا جلدی سے بولی۔ اس کی بات سنتے ذوہان نے مڑ کر سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔
" دیکھئے مس اپنے یہ فضول کے کام کہیں اور کریں آپ کی طرح فارغ نہیں ہوں میں۔" اس کو سخت الفاظ وہ سنا گیا مگر مجال ہے جو اس نے محسوس کیا ہو۔
" دیکھئے ڈاکٹر اگر میں بینڈج کرواوں گی تو آپ سے ورنہ نہیں کرواوں گی۔ اور پھر میرے ہاتھ سے یہ خون بہتا رہے گا۔ پھر میری طبیعت خراب ہو جائے گی پھر۔۔" اس سے پہلے کے وہ مزید بولتی ذوہان کے بولنے اور ساتھ لے جانے پر وہ خوشی سے چہکتے اس کے ساتھ ہو لی۔
" بیٹھیں۔" اس کو سخت نظروں سے گھورتا وہ دوائی اور بینڈج لئے اس کے قریب آیا اور ٹکٹکی باندھے اس کو دیکھنے میں مصروف تھی۔
" دیکھئے مس عیشا یہ اوچھی حرکتیں کرنا بند کر دیں۔ ایک شریفڑکی کو ایسی حرکتیں زیب نہیں دیتی۔ یہ روز ہسپتال آنا اور یہ فضول کی حرکتوں سے پرہیز کریں۔ میں یہ آپ کے آگے بچھے گئے لڑکوں کی طرح نہیں جو آپ کے حسن کا گرویدہ ہوجاوں گا۔ آئندہ ایسی حرکتوں سے پرہیز کریں۔"
اسے مسلسل اپنی طرف دیکھتے اس کے ہاتھ کی بینڈج کرتا وہ سنجیدگی اور سخت لفظوں میں بولا۔
عیشا کے والد سلمان شاہ جو کہ ایک مشہور بزنس ٹائکون تھے۔ عیشا ان کی اکلوتی لاڈلی بیٹی تھی۔ جو ایک بار اپنی دوست دانیہ کی طبیعت خرابی پر ہسپتال آئی اور وہاں وہ ڈاکٹر ذوہان سے ملی جس نے پہلی ہی نظر میں اسے اپنا گرویدہ کر لیا تھا۔
اس کی بینڈج کرنے کے بعد ذوہان اسے گھورتا وہاں سے چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد عیشا نے اس کی کی گئی بینڈج کو چوما اور مسکرا دی۔
