Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 06)

Meri Pathani by RB Writes

آج ہفتہ تھا اور ان سب کی یونیورسٹی کی چھٹی تھی۔ اسفندیار اور حالے ناشتہ کرنے کے بعد آرام سے بیٹھے موبائل فون یوز کر رہے تھے۔ دونوں اس وقت حالے کے کمرے میں بیٹھے تھے۔

” بھئی آج تو بیٹھ کر یہ پورا ناول ختم کروں گی آرام سے ہائےےے۔” اسفندیار فون پر میمز دیکھ کر ہنس رہا تھا کہ اس کے کانوں میں حالے کی آواز آئی۔ اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جبکہ اس کی بات پر اسنے منہ بنائے کہ اسے ہمیشہ یہ سب فضول ہی لگتا تھا۔

” کبھی ان ناولز کی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں آو محترمہ۔” اسفند نے فون پر ہی نظریں جمائے کہا گویا اسے مشورہ دیا ہو۔

” بھئی حقیقی دنیا میں نے بچپن سے ہی دیکھ رکھی ہے۔ تم جیسی فضول کی شکلیں ہی ہیں بسس۔” حالے نے اس کو دیکھ کر کہا تو اسفندیار کو آگ لگی۔

” ہاں بھئی ناولز میں لڑکیاں بھی کتنی اچھی اور سویٹ اور حسین ہوتی ہیں تمہاری طرح کی جن۔گی طیا رے کے منہ والی نہیں ہوتی۔” اسفندیار نے بھی اسے کرارا جواب دیا۔ تو حالے غصے سے اسے گھورنے لگی۔

” میرے منہ مت لگو تم بدتمیز۔” حالے نے غصے پر قابو نہ پاتے اس کے بال پکڑ کے کھینچ کر کہا تو اسفند نے بھی اسے لڑائی میں پہل کرتے دیکھ اس کے بال پکڑ لئے۔

اب منظر یہ تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے بال کھینچ رہے تھے جبکہ ساتھ ساتھ ان کی زبانی لڑائی بھی جاری ہے۔

ان کی لڑائی نہ جانے کب تک جاری رہتی کہ یکدم سکینہ بیگم غصے میں تلملاتی ہاتھ میں وائپر اٹھائے آئی۔

ان کو دیکھ دونوں ایک دوسرے کے بال چھوڑ کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے۔

” یہ لو یہ لے لو ۔ اس سے لڑو اور ایک دوسرے کے سر پھاڑ دو۔ ” وائپر ان کی جانب بڑھاتے وہ غصے سے بولی تو دونوں ادھر ادھر دیکھنے لگے۔

” اتنے ہلکے میں کیسے لڑ رہے ہو تم لوگ ہاں پڑوسیوں کو بھی تو پتہ چلنا چاہیے کس کے بچے ہو تم لوگ۔ یہ لو یہ لے کر سر پھاڑ دو ایک دوسرے کا۔” ان کا غصہ کسی طور کم نہ ہو رہا تھا۔ دونوں کو یوں خاموش دیکھ وہ ایک تیز نظر ان پر ڈال کر واپس چلی گئی۔

” تمہاری وجہ سے ہوا ہے سب۔” حالے اس کو دیکھ دھیمی مگر غصے بھری آواز میں بولی تو اسفند کو حیرت ہوئی۔

” میری وجہ سے نہیں تمہاری وجہ سے ہوا ہے اچھا نہ پہلے تم نے میرے بال کھینچے تھے۔” اسفندیار نے سچ ہی تو کہا مگر وہ حالے ہی کیا جو اپنی غلطی تسلیم کرلے۔

” تم نہ بات ہی مت کرو مجھ سے۔” حالے نور غصے سے بول کر اٹھ کر چلی گئی۔ جبکہ اسفندیار بچارہ اتنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ اور یہ سوچتا رہا کہ کیا واقعی اس کی غلطی پہلی تھی۔

💜
💜

چونکہ آج ہفتہ تھا تو آج خانزادہ صاحب گھر میں ہی تھے۔ جبکہ خوش قسمتی سے آج ذوہان اور ارحان دونوں کی چھٹی تھی۔ ورنہ بہت کم ہی ایسا موقعہ دیکھنے کو ملتا تھا۔

” بھئی میرا شہزادی آگیا دیکھو۔” سب ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے کہ تبھی لیلی بھی وہاں آگئی اور اسے دیکھ کر خانزادہ صاحب مسکرا کر محبت سے بولے تو لیلی سمیت باقی سب بھی مسکرا دئے۔

” اسلام علیکم ابو۔” خانزادہ صاحب کے اس کے لئے پھیلائے گئے بازو میں سماتے اس نے ان کے سینے سے لگتے دھیمی آواز میں سلام کیا۔

” وعلیکم اسلام بچیا۔” خانزادہ صاحب اس کے بالوں پہ لب رکھتے بولے اور اس کو اپنے برابر والی کرسی پر بٹھایا۔

” بہن ہم بھی مسلمان ہیں ہم سے بھی سلام دعا کر لو۔” ارحان نے اس کو بیٹھتے دیکھ اس پر طنز کرتے ہوئے کہا۔

” نہیں حان لالہ میں تو صرف ابو کو سلام کریگا۔” اس کو منہ چڑاتے کہا تو ارحان نے چپکے سے ہلکے سے اس کے بال کھینچے اور یوں بیٹھ گیا جیسے کچھ کیا ہی نہ ہو اس نے۔

” ابو دا اوگورا کانہ۔”

(ابو اسے دیکھیں نہ)

اس کے بال کھینچنے پر اس نے فورا سے اپنے ابو کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے انہیں شکایت لگاتے کہا۔

” مہ خو سہ نہ دی کڑی”

( میں نے تو کچھ نہیں کیا )

اس نے معصوم سا چہرہ بنا کر کہا تو لیلی نے دانت پیستے اسے دیکھا۔

” دروغ مہ وایا ارحان ما اولی دلے۔”

(جھوٹ مت بولو ارحان میں نے دیکھا تھا)

ذوہان نے فورا سے لیلی کی سائڈ لیتے کہا کہ ایسے موقعے کم ہی آتے تھے کہ جس میں ابو کے ہاتھوں اس کی واٹ لگتی تھی۔

” ابو۔۔۔۔۔”

اس سے پہلے کہ وہ بولتا خانزادہ صاحب نے اسے ٹوکا۔

” بس چپ شئی ٹول او ناشتہ کوئئ۔ او ارحان تہ سم کینا۔”

( بس خاموش ہو جاو سب اور ناشتہ کرو۔ اور ارحان تم صحیح ہوجاو۔)

خانزادہ صاحب نے کرخت اور سخت لہجے میں کہا تو وہ منہ بنا کر بیٹھ گیا۔ اس کی شکل دیکھ سارے مسکرا دئے۔

💜
💜

” بابا ہم کہیں چلتے ہیں نہ باہر۔” ایاز صاحب آنکھوں پہ نظر والا چشمہ لگائے اخبار پڑھ رہے تھے کہ تبھی نین وہاں آئی اور ان کے بازو سے چپک کر بولی۔

” کہاں جانا ہے میری بیٹی نے۔” اپنے بازو کے گھیرے میں اسے لیتے اپنے سینے سے لگاتے مسکراتے اس سے استفسار کیا۔

” کہیں بھی چلتے ہیں نہ۔ اور ویسے بھی میں نے نہ کچھ کپڑے بھی لینے ہیں اور کچھ چوڑیاں بھی ۔” فورا سے ان کی بات کا جواب دیتے وہ بولی۔

” اچھا چلو ٹھیک ہے جاو میرا بچہ شال لے آو پھر میں باہر انتظار کر رہا ہوں۔” اس کا ماتھا چومتے وہ اٹھ کر بولے تو وہ فورا سے خوش ہوتے اندر بھاگ گئی اور شال لے کر واپس آئی۔

یوں ہی پورا دن دونوں نے باہر گزارا پھر ڈنر بھی دونوں باہر ہی کر کے آئے تھے۔ اپنے بابا کے سنگ وہ ایک خوبصورت سا دن گزار کر وہ واپس آگئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *