Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 26)Part 2

Meri Pathani by RB Writes

” نور کیا ہوا کہیں درد ہو رہا ہے کیا؟” ذوہان اسے یک ٹک چھت کو گھورتے ساتھ اپنے لب کاٹتے دیکھ پریشانی سے کہا تو حالے نے اس کی جانب دیکھا جس کے چہرے پر فکرمندی صاف نظر آرہی تھی اور وہ کیوں تھی یہ بات وہ نہیں جانتی تھی۔

” نہیں ڈاکٹر ٹھیک ہوں میں۔ بس ہلکا سا درد ہے۔” حالے نے کہا تو اس نے لب بھینچ کر سر ہلایا۔ اور اس کی رپورٹس دیکھنے میں مصروف ہوگیا۔

” آپ مجھے ایک بات بتائیں؟” حالے نے اس کی جانب دیکھتے کب سے اپنے من میں مچلتا سوال پوچھا تو اس نے حالے کی جانب دیکھا۔

” جی پوچھیں۔” ذوہان ایک نظر اس کے من موہنے سے چہرے کو دیکھ کر دوبارہ سے اپنی نظریں اس پر سے ہٹا کر فائل پر مرکوز کر لیں۔

” آپ مجھے نور کیوں کہتے ہیں۔ سب حالے کہتے ہیں تو آپ بھی حالے کہیں نہ۔” حالے نے کہتے اپنی ناسمجھ نظروں کو اسی پر مرکوز رکھا۔

اس کی بات سن کر ذوہان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔

” کیوں کے سب آپکو حالے بلاتے ہیں اسی لئے میں آپکو نور بلاتا ہوں۔ تاکہ میری پکار آپکے دل تک رسائی حاصل کرے۔” ذوہان نے مسکرا کر گھمبیر لہجے میں کہا۔

اس کی بات سن کر حالے کا دل زور سے دھڑکا اپنے دل کی بدلتی حالت پر اس نے فورا سے ذوہان کی طرف سے اپنی نگاہیں ہٹالی۔ اور اسکو یوں نگاہیں چراتے دیکھ ذوہان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔

” یہ ابھی میں اپکو انجیکشن لگانے لگا جس سے پین ختم ہوجائے گا اوکے۔” ذوہان نے انجیکشن اٹھاتے کہا تو حالے نے سہمی نگاہوں سے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں موجود خوف ذوہان نے فورا محسوس کر لیا۔

” کچھ نہیں ہوگا اس کیلونے میں لگاو گا تو پتہ بھی نہیں لگے گا ہمم۔ بازو میں نہیں لگا رہا۔” ذوہان نے نرمی سے کہا تو اس نے سر ہلایا۔ ذوہان کے انجیکشن لگانے کے بعد اس نے سکھ کا سانس لیا۔ واقعی ہی اس کو درد محسوس نہ ہوا تھا۔

” چلو اب تم آرام کرو۔ اسفند ابھی آجاتا تھوڑی دیر میں۔” اسکو ایک آخری نظر دیکھ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔

” ایک تو ان کی بھی سمجھ نہیں آتی کبھی آپ کرتے کبھی تم۔” اس کے جانے کے بعد حالے منہ بنا کر بڑبڑائی اور آنکھیں موند گئی۔

❤
❤

” ہاں بندہ تم نے چن لیا کیا کریم؟” ازمیر کریم کے پاس آتے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے رعب دار لہجے میں بولا۔

” جی سائیں دیکھ لیا ہے باہر ہی کھڑا ہے۔ بہت ہی کام کا ہے۔ بلاو کیا سائیں؟” کریم نے سر جھکا کر کہا۔

” ہاں ہاں بلاو۔” ازمیر نے اپنی مونچھوں کو تاو دیتے کہا۔ تو کریم نے وہاں کھڑے آدمی کو اشارہ کیا جو کہ اس کے اشارے کو سمجھتا سر ہلا کر آگے آگیا۔

” یہ رہا سائیں۔” کریم کی آواز پر اس نے اس لڑکے کی جانب دیکھا جو ہاتھ باندھے نیچے کی جانب دیکھ رہا تھا۔

” ہاں بھئی تمہیں پتہ ہے نہ تم نے کیا کرنا ہے؟” ازمیر نے کہتے اپنی شال درست کی۔

” جی سائیں مجھے پتہ ہے میں نے کیا کرنا ہے۔” اس لڑکے نے اسی انداز میں جواب دیا تو ازمیر سر ہلا گیا۔

” آج سے ٹھیک تین دن بعد تم نے یہ کام کرنا ہے۔ اور اگر کوئی غلطی ہوئی نہ تو پھر دیکھنا۔ تمہارا اور تمہارے خاندان کا نام و نشان تک مٹا دوں گا میں۔” یکدم اپنے لہجے میں سرد پن سموتے اس نے کہا تو وہ لڑکا ڈرتے سر ہلا گیا۔

” اب جا یہاں سے کیا میرے سر پر ہی کھڑا رہے گا۔” ازمیر نے نہایت ہی بدتمیزی سے اسے وہاں سے جانے کو کہا۔ تو وہ اسکی بات سن کر وہاں سے چلا گیا۔

اور ازمیر دوبارہ سے اپنے کرنے والے اس خودکش حملے کے بارے میں سوچنے لگا۔

چند پیسوں کے لئے وہ اپنی دنیا اور آخرت سب خراب کر رہا تھا۔ جس کا اسے اندازہ تھا مگر شاید وہ پھر بھی انجان بن رہا تھا۔ وہ شاید موت کی خبر ہوتے ہوئے بھی اس سے بےخبر بن رہا تھا۔

❤
❤

” لالہ یہ خودکش کیا ہوتا ہے؟” لیلی نے ارحان سے پوچھا جو کے اپنے فون میں گھسا جانے کیا کر رہا تھا۔ اس کی بات پر اس نے چونک کر لیلی کو دیکھا۔

” تم کیوں پوچھ رہی ہو؟” ارحان نے اپنے فون کو سائڈ پر رکھتے کہا۔

” وہ لالہ میں نے فون میں دیکھا نہ یہ لفظ اب تم بتاو نہ یہ کیا ہوتا ہے۔” لیلی نے بیتابی سے اسکی جانب دیکھتے کہا۔

” یہ کچھ دہشت گرد ہوتے ہیں نہ تو وہ اپنے اوپر اسلحہ باندھ کر کسی رش والے ایریا میں جاکر وہ بم پھوڑ لیتے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ ناجانے کتنے ہی معصوم لوگ بھی اس بری موت کے گھاٹ اتار دئے جاتے ہیں۔” ارحان نے سارا کچھ بتایا کر اسے دیکھا جو پھٹی ہوئی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔

” تو لالہ وہ مطلب خود کو بھی مار دیتا ہے۔ تو وہ خود کو کیوں مارتا ہے۔” لیلی کی حیرت کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔

” وہ اس لئے کہ ان کا جو ہیڈ ہوتا ہے نہ وہ ان کی فیملی والوں کو ڈھیر سارے پیسے دے دیتا ہے۔ اور وہ لوگ جانتے ہوتے ہیں کہ اتنے پیسے وہ کبھی نہیں کما پائیں گے اس لئے اپنی فیملی کے لئے وہ یہ سب کرنے پر بھی تیار ہوجاتے ہیں۔زیادہ تر ان کا ہیڈ جو ہے وہ غریب لوگوں کو ہی چوز کرتا ہے تاکہ انکار کی کوئی گنجائش ہی نہ رہے۔” ارحان نے اس کی الجھن سلجھاتے ہوئے کہا۔ تو وہ سر ہلا گیا۔

” ان لوگوں کو سلیپر سیلز کہتے ہیں۔” اس نے ایک اور بات بتا کر اس کے علم میں اضافہ کیا۔

” سلیپر سیلز کیوں لالہ؟” لیلی نے ایک اور سوال کیا۔

” وہ اس لئے کہ یہ لوگ عام زندگی ہی گزارتے ہیں۔ بلکل جیسے ہم لوگ۔ پھر جب انہیں آرڈر ملتا ہے تب یہ جاکر خودکش حملہ کرلیتے ہیں۔” ارحان نے اس کے سر پر سے پھسلتے دوپٹے کو سیٹ کرتے کہا۔

” تو لالہ ان کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کیا؟” لیلی نے اپنی آنکھوں کو حد درجہ کھولتے کہا۔

” امم ہمم نہیں ان کو ختم کرنے کا کوئی راستہ نہیں یوں ہاں ان کو روکا جاسکتا ہے۔ اگر ان کے ہیڈ کو پکڑ لیا جائے تو پھر یہ ساری عمر اپنے آرڈر کا انتظار ہی کرتے رہیں گے اور خود ہی ٹھنڈے پڑ جائے گے۔” ارحان نے کہا تو وہ اووو بول کر سر ہلا گئی۔

” تو لالہ پھر ہم انہیں پکڑتے کیوں نہیں ہیں؟” لیلی شاید آج ساری انفارمیشن اکٹھی کرنے والی تھی۔

” اتنا آسان کام تو نہیں ہے یہ کیوں کہ انکا ہیڈ بہت ہی چالاک ہوتا ہے مگر ایک نہ ایک دن لازمی پکڑا جاتا ہے۔ کیونکہ ہماری آرمی انسان کو پاتال میں سے بھی ڈھونڈ نکالتی ہے۔” ارحان کی بات سن کر وہ مسکرا دی کہ واقعی ہی ہماری آرمی بےمثال ہے۔

❤
❤

” ویسے سر ذوہان اس پیشنٹ کی کچھ زیادہ ہی کئیر نہیں کرتے؟” حالے کے روم میں موجود دو نرسوں نے باتیں کرتے مسکرا کر کہا۔

” ہاں یار میں نے بھی نوٹس کیا ہے۔” دوسری نے اسکی بات سن کر ہنس کر کہا۔

حالے آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی اور ان کو لگ رہا تھا کہ وہ سوئی ہوئی ہے۔ حالے ان کی بات سن کر خود بھی حیران ہوگئی تھی۔

” میں نے سر ذوہان کو آج تک کبھی ایک بار بھی مسکراتے نہیں دیکھا۔ ہر وقت بس سیریس ہو کر کام ہی کر رہے ہوتے ہیں مگر ایک دن جب وہ اس رام میں آرہے تھے تو وہ سمائل کر رہے تھے۔ اور وہ دیکھ کر میں گرنے والی تھی۔

قسم سے اتنے حسین لگ رہے تھے نہ کہ بس کیا بتاوں۔” ان میں سے ایک بولی پھر وہ دونوں ہی ہنس دی۔

” ویسے قسم سے یار بہت اچھے ہیں سر ذوہان ان کے لئے میرے دل میں بہت عزت ہے۔ اور مجھے لگتا کہ وہ نہیں ہیشنٹ حالے کو پسند کرتے ہیں۔ اور اگر ایسا ہے بھی تو اللہ کرے کہ ان کو ان کی محبت مل جائے۔” اس نرس کی بات سن کر حالے کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ اس بات کو ماننا ہی نہیں چاہتی تھی۔

” آمین آمین۔” اس کی بات سن کر دوسری بولی اور پھر وہ دونوں مسکرا کر وہاں سے باہر چل دی۔

ان کے جانے کے بعد حالے نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی اور ان دونوں کی باتوں اور ذوہان کی خود کے لئے کئیر کے بارے میں سوچنے لگی۔

دل بار بار جس چیز کی گواہی دے رہا تھا وہ بار بار اسے جھٹک رہی تھی۔ آخر کب تک وہ اسے جھٹکتی رہے گی یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

❤
❤

رات کے گیارہ بجے اسفندیار جہانگیر ہاوس کے باہر کھڑا تھا۔

جو کہ دکھنے میں بہت ہی عالیشان تھا۔ گھر کے باہر بہت سے گارڈز کھڑے تھے۔

تبھی اسفندیار ان کی نظروں میں آئے بغیر گھر کے سائڈ میں ایک اندھیرے والی جگہ کھڑا اوپر دیکھ رہا تھا۔ جہاں سے عیشا کا کمرہ واضح طور پر نظر ارہا تھا۔

اسفندیار دھیرے سے آگے بڑھا اور پائپ کے سہارے آرام آرام سے اوپر چڑھنے لگا۔ عیشا کے کمرے کی لائٹس جو آن تھی۔ اس نے آف کرو دی۔ اور وہ اوپر اس کے کمرے تک پہنچ گیا۔

” ارے یہ لائٹس کیوں آف ہوگئی؟” لائٹ کے جاتے ہی اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔ اس نے اپنا فون نکال کر اس کی فلیش آن کرنا چاہی کہ تبھی کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا۔

اس اچانک افتداد پر وہ گھبرا گئی۔ اس کے منہ سے نکلنے والی چیخ اسفندیار کے مضبوط ہاتھوں تلے دب گئی۔

اس کاروائی کی وجہ سے عیشا کی جان ہوا ہو رہی تھی۔

” اگر تمہارے منہ سے ہلکی سی بھی آواز نکلی نہ تو یہی پر تمہارا گلہ کاٹ دوں گا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوگی۔” اسفندیار نے اس کے کان کے قریب غراتے ہوئے کہا تو عیشا نے خوفزدہ ہوتے اپنا سر ہاں میں ہلایا۔

اس کو اپنی بات مانتے دیکھ اسفند نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے ہٹایا تو عیشا نے زور زور سے سانس لی۔ اور خوفزدہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا جس کا اندھیرے میں بس وجود ہی نظر آرہا تھا۔

” تم نے کسی بندے کے ہاتھوں ایک معصوم لڑکی پر حملہ کروایا ہے نہ مس عیشا جہانگیر۔” اسفند نے آنکھوں اور لہجے میں غصہ سموتے کہا تو عیشا کی سانس اٹک گئی۔

اس کو اپنا انجام صاف نظر آرہا تھا۔

” تمہیں شرم نہیں آتی ایک لڑکی ہوکر ایسا کام کرتے ہوئے۔” اسفند نے تقریبا دھاڑتے ہوئے کہا تو وہ سہم کر دو قدم پیچھے ہوگئی۔ آنکھوں سے یکدم گرم سیال بہنے لگا۔

” مم۔مجھے مم معاف کردو پلیز میں آئندہ ایسا کوئی کام نہیں کروں گی۔ مجھے چھوڑ دو۔” عیشا نے اپنے ہاتھ جوڑتے روتے ہوئے کہا۔

” تمہاری خطا ایسی نہیں ہے کہ تمہیں معاف کردیا جائے۔” اسفند نے سرد لہجے میں کہا۔ اس کے لہجے کا سرد پن محسوس کر کے عیشا مزید خوفزدہ ہوگئی۔

” تمہیں میں ایک لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں اگر آج بعد تم نے کوئی الٹا سیدھا کام کیا نہ تو اپنی خیر تم منا لینا۔ اور اگر اب تمہارے منہ سے ڈاکٹر ذوہان کا نام نکلا نہ تو پھر دیکھنا۔” اسفند کے منہ سے ذوہان کا نام سن کر وہ حیران ہوئی۔

” میں نے تمہارے اندر ایک ڈوائس لگا دی ہے۔ اس لئے جب تم کچھ بھی بولو گی یا جہاں بھی جاو گی مجھے پتہ چل جائے گا سو بی کئیر فل بے بی۔” اسفند اس کا گال تھپتھپاتے اس کو حیرت میں ڈوبا چھوڑ وہ وہاں سے چلا گیا۔

وہ جانتا تھا کہ عیشا اس کی باتوں میں آجائے گی۔ کیونکہ اس کو اتنی انفارمیشن تو تھی نہیں اس سب کے بارے میں۔ تبھی اس نے اس سے ڈوائس کے بارے میں بھی جھوٹ بولا۔

اور عیشا واقعی ہی اس کی بات پر یقین کر چکی تھی۔

اور اب وہ واقعی ہی ذوہان سے دور رہنے والی تھی۔

❤
❤

‘” نین ابھی سونے کی تیاری کرنے والی تھی کہ اپنے فون پر آنے والے نوٹیفکیشن کی آواز سن کر اس نے اپنا فون اٹھا کر نوٹیفکیشن کھولا تو دل دھڑکا۔

“جس روز حق سے پہلو میں بیٹھو گے آکے تُم..!!

اُس روز ہم بھی چاند کا یوں دل جلائیں گے..!! “

ارحان کی جانب سے موصول ہونے والے میسج کو پڑھ کر دل کی دھڑکنیں بےترتیب ہوگئی۔ فون ہاتھ میں پکڑے وہ اپنے لب کاٹ رہی تھی۔ جواب دینے کی تو ہمت ہی نہ تھی۔

اس سے پہلے وہ فون رکھتی تبھی ایک اور میسج ریسیو ہوا۔

“‏یہ جہاں خوبصورت ہے, بےحد خوبصورت ہے..!!

یہ انکشاف تجھے دیکھنے کے بعد ہوا..!! “

ایک اور خوبصورت شعر کو پڑھ کر اس کے گال گلابی ہوگئے۔ ہاتھ ہلکے ہلکے کانپنے لگے اور سانس بھی دھیرے دھیرے پھولنے لگی۔

” کیسی ہو؟” ارحان کی جانب سے میسج پر اس نے گہری سانس لے کر جواب دینے کی ہمت اکٹھی کی۔

” میں ٹھیک ہوں۔آپ؟” اپنا حال بتاتے اس نے ساتھ اس کی بھی طبیعت کا پوچھا۔

” میں تو اب ہر وقت ہی بیمار رہتا ہوں۔” ارحان کا میسج پڑھ کر اس کے چہرے پر فکرمندی آئی۔

“کیوں کیا ہوا ہے اپکو؟ آپ ٹھیک ہیں؟” اس کی بات سن کر اس نے فورا سے ہی اس سے پوچھا کہ کیا ہوگیا تھا ارحان کو یوں اچانک اور لیلی نے تو کبھی اس بات کا ذکر ہی نہیں کیا۔

” بس یار کیا بتاوں رہنے دو۔” ارحان نے اسے تنگ کرتے ہوئے کہا۔

” ارے کیوں رہنے دے آپ بتائیں نہ کیا ہوا ہے آپکو۔ اور اگر آپکی طبیعت خراب ہے دو آپ ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں جاتے۔” نین نے فورا سے تلقین کی۔ اسکی اتنی فکرمندی پہ وہ مسکرا دیا۔

” نہیں نہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جا سکتا نہ۔” ارحان کا میسج پڑھ کر وہ حیران ہوئی۔

” کیوں کیوں نہیں جاسکتے آپ۔ ڈاکٹر آپ کو کیڈنیپ کرلے گی کیا؟” نین نے ماتھے پر بل ڈالتے کہا۔ اس کو ارحان کی لاپرواہی پر غصہ آرہا تھا۔

” ہائےےےے اتنی قسمت کہاں کہ ڈاکٹر کڈنیپ کرلے۔” ارحان نے کہا تو وہ مزید حیران ہوئی۔

” مطلب” نین نے ناسمجھی سے کہا۔

” مطلب یہ کہ میری ڈاکٹر تو تم ہو نہ۔” ارحان نے ہنستے کہا تو وہ ساری بات سمجھ گئی۔ اس کا منہ غصے سے پھول گیا۔

” ارحان یہ کوئی بہت ہی برا مذاق تھا۔” نین نے خفگی سے لکھا۔

” آئی ایم سوری میری جان۔” ارحان نے فورا سے ہی اپنے مذاق کی معافی مانگی تو اس کا غصہ کم ہوا۔ یوں ہی وہ دونوں کچھ دیر کے لئے بات کرتے نیند کی وادیوں میں گم ہوگئے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *