Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 25)

Meri Pathani by RB Writes

” تم سے اتنی بڑی غلطی کیسے ہو سکتی ہے؟” آگے سے دھاڑ سن کر ازمیر نے اپنا تھوک نگلا۔ اس کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔

” سائیں معاف کردیں۔ہمیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ یوں اچانک سے سب الٹا ہو جائے گا اور کوئی سب اڑا لے جائے گا۔” ازمیر نے دھیرے سے کہا۔

” تمہاری غلطی اتنی چھوٹی نہیں ہے کہ معاف کردیا جائے۔” آگے کی بات سن کر اس نے ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کیا اور خود کے لئے دعائیں کرنے لگا۔

” سائیں معاف کردیں سائیں اب ایسا نہیں ہوگا۔” ازمیر نے اپنے لہجے میں التجا سموئے کہا تو وہ اپنی مٹھیوں کو بھینچ گیا اور گہری سانس بھر کر رہ گیا۔

” اب جو دوسرا پلین ہے اگر اس میں کوئی کوتاہی کی تو تمہارا جو میں حال کروں گا وہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔” مقابل کی سرد آواز سن کر اس نے خود کی جان بخشی پہ لاکھوں شکر ادا کیا۔

” نہیں سائیں بے فکر رہیں اب کوئی غلطی نہیں ہوگی۔” ازمیر نے کہا تو وہ کال کٹ کرگیا۔

جب کہ ازمیر اب اسکے دوسرے پلین کو سر انجام دینے کا سوچ رہا تھا کہ اسے کیا کب اور کیسے کرنا تھا۔

اپنا ضمیر وہ چند پیسوں کے لئے فروخت کر چکا تھا۔

❤
❤

حالے کو ہوش آگیا تھا۔ اس نے آنکھیں کھولی تو پہلے تو کچھ بھی صحیح سے نظر نہ آرہا تھا۔ دماغ اس وقت بالکل ہی سویا ہوا تھا۔ مگر پھر کچھ دیر بعد دھیرے دھیرے سب یاد آنا شروع ہوا تو جسم میں درد بھی اٹھنے لگا۔ اس نے نظریں ادھر ادھر گھمائی مگر وہ اس وقت اکیلی تھی کہ تبھی ذوہان دروازہ کھول کر اندر آیا۔

حالے کو ہوش میں دیکھ خوشی سے نہال ہوتا آگے بڑھا۔ اس کو دیکھ حالے نے بات کرنے کے لئے اپنے چہرے پر لگا آکسیجن ماسک ہٹانا چاہا جسے دیکھتے ہی ذوہان سرعت سے اس کے قریب آیا اور اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا۔

” اسے مت اتارو لگا رہنے دو۔” ذوہان نے کہا تو حالے نے پہلے اپنے اور پھر اس کے ہاتھ کو دیکھا۔ اس کے یوں دیکھنے پر ذوہان نے شرمندہ ہوتے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔ اور اپنی بےخودی پہ خود کو جی بھر کر ملامت کی۔

” اب کیسا فیل کر رہی ہو؟” حالے کے ہاتھ میں لگے کیلونے میں انجیکشن لگاتے اس نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالتے کہا جو کہ اسی کہ چہرے کا ہی طواف کر رہی تھی۔

” اب ٹھ۔ٹھیک ہوں۔” اس کی بات سنتے حالے نے کہا۔

” درد ہو رہا ہے؟” ذوہان نے اس کے سامنے آتے کہا تو حالے نے اپنے پیٹ میں ہوتے درد کی وجہ سے اپنا سر ہلایا تو ذوہان کو کافی تکلیف ہوئی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کے سارے درد اپنے اندر سمو لے۔

” بس ابھی ٹھیک ہو جائے گا میں نے انجیکشن لگا دیا ہے۔” ذوہان نے کہا تو وہ سر ہلا گئی۔

” اا۔اسفی۔۔؟” نظریں ادھر ادھر گھماتے اس نے پوچھا۔

” وہ ابھی باہر گیا ہے آجاتا ہے تھوڑی دیر تک۔” ذوہان نے جواب دیا اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی کہ دروازے سے اسفندیار اندر داخل ہوا۔ اور حالے کو ہوش میں دیکھ کر خوشی سے اس تک آیا۔

” حالے میری جان۔” اسفند نے اس کے قریب آتے اس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔

” درد تو نہیں ہو رہا کہیں۔ اگر ہو رہا ہے تو بتاو۔” اسفند نے پریشانی سے پوچھا۔ اس کی اتنی پریشانی پر وہ مسکرا دی۔

” نہیں ٹھیک ہوں اب۔” حالے نے مسکرا کر کہا تو وہ مطمئن ہوا۔ ان دونوں کو اپنے آپ میں لگا دیکھ ذوہان خاموشی سے باہر نکل گیا۔

” کیا یار جان نکال دی تھی میری۔” اسفند نے کہا تو وہ مسکرائی۔

” بس دیکھ لو حالے نور میں اتنی طاقت ہے کہ اپنے فوجی بھائی کو بھی پریشان کر سکتی ہے۔” حالے نے مغرورانہ لہجے میں کہا تو وہ تاسف سے ہلا گیا۔

” بھئی امی کو کیسے بتاوں اور ابو نے تو مجھے نہیں چھوڑنا۔” اسفند نے روہانسے ہوتے کہا تو وہ مسکرا دی۔

کافی دیر تک وہ اس سے باتیں کرتا رہا پھر دوائیوں کے زیر اثر وہ جلد ہی ہوش کھو گئی اور اسکے سوتے ہی وہ باہر نکل آیا۔

❤
❤

سکینہ بیگم حالے کے سرہانے بیٹھی رونے کا کام بخوبی سرانجام دے رہی تھی۔ حالے اور اسفند کب سے انہیں یہی کہے جا رہے تھے کہ وہ اب ٹھیک ہے مگر وہ کیا کرتی اپنی اولاد پہ گزری تکلیف کا سوچ سوچ کر ہی دل پھٹا جاتا ہے۔

حالے جو پورا دن اپنی شرارتوں سے انہیں تنگ کرتی اب اس کو یوں بیڈ پر پڑا دیکھ وہ روتی نہ تو اور کیا کرتی۔

” امی بس کردیں ٹھیک ہے وہ۔” اسفندیار نے ان کے بہتے آنسوؤں سے جھنجھلا کر کہا۔

” ہاں اب تو تم یہی بولو۔ کیا فائدہ تمہارے آرمی میں ہونے کا جب تم اپنی بہن کی حفاظت نہیں کر سکتے تو ملک کی کیا کرو گے۔” کبیر صاحب نے اسے گھورتے اپنا بیسویں بار کیا گیا طنز کرتے کہا تو اس نے روہانسے ہوتے حالے کی جانب دیکھا جو اس کی جانب دیکھ کر ہنس دی۔

” ابو میں اس وقت۔۔۔۔” اس نے اپنی صفائی میں کہنا چاہا کہ کبیر صاحب نے اسے ٹوک دیا۔

” ہاں ہاں اب تو بولتے رہو تم یہی۔ بس بہانے ہی بنانے آتے ہیں تمہیں کام تو کوئی ڈھنگ سے آتا نہیں۔” کبیر صاحب نے کہا تو وہ فورا سے ان کے گلے لگ گیا۔ دونوں بازوؤں کو ان کے گرد مضبوطی سے باندھ دئے۔

” سوری ابو۔ مجھے معاف کردیں ۔ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔” وہ واقعی ہی میں کافی شرمندہ ہوتے ہوئے بولا تو کبیر صاحب مسکرا دئے۔ اور دونوں باپ بیٹے کا پیار دیکھ حالے اور سکینہ بیگم بھی مسکرا دی اور ان کے اس پیار کو ہمیشہ قائم رہنے کی دعا دی۔

❤
❤

آٹھ بجے تک ذوہان گھر پہنچا۔ اس کا دل بالکل بھی نہیں تھا حالے کو اس حال میں چھوڑ کر آئے مگر کیا کرتا وہ رک بھی نہیں سکتا تھا۔

اس نے کافی دعائیں بھی کی کہ نائنٹ شفٹ والے ڈاکٹر چھٹی کرلیں تو اسکا بہانہ بن جائے مگر ایسا نہ ہوا اور وہ دل کو سنبھالتا اپنے گھر لوٹ آیا۔

” لیلی جاو جاکر دروازہ کھولو ذوہان آگیا ہوگا۔” لاونج میں بیٹھی رضیہ بیگم نے لیلی کو کہا تو وہ ٹھیک ہے مورے کہہ کر جلدی سے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔

” اسلام علیکم لالہ۔” دروازہ کھولتے ہی وہ مسکرا کر بولی تو اس کے اتنے پیار سے بولنے پر ذوہان مسکرا دیا اور اسے گلے لگا گیا۔

آج اسفندیار کی حالت دیکھ کر اسے شدت سے لیلی کی یاد آئی۔ بہن بھائی کی محبت ہی کچھ اس قدر شدید ہوتی ہے کہ وہ بہت لڑ جھگڑ لیں مگر پیار ہمیشہ اس سے دگنا کرتے ہیں۔

ذوہان اسے لئے اندر بڑھا۔ سب سے ملنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلا گیا اور فریش ہوکر واپس نیچے آگیا۔ مجبورا زہر مار کر دو چار نوالے حلق سے اتار کر وہ بھی لاونج میں بیٹھا۔

اس نے سوچ لیا تھا کہ لیلی کو بتا دے۔ اور کل اسے منوانے لے جائے اسی بہانے حالے کا وقت بھی گزر جائے ہسپتال میں اور اس کا دل بھی بہل جائے گا۔

” لیلی۔” ذوہان نے اسے پکارا جو کچھ کھانے میں مصروف تھی۔ اس کی آواز سن کر اس نے اس کی جانب دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔ لیلی کے دیکھنے پر وہ بولا اور اسے ساری بات بتا گیا۔

لیلی چند ثانیے تو بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی کہ جو اس نے سنا ہے وہ ٹھیک ہے یا بس اس کا وہم۔

آنکھیں فورا سے نم ہوگئی۔

” اب ۔۔کیسا ہے وہ۔” وہ روتے ہوئے بولی تو ذوہان نے اسے گلے لگایا۔

” اب ٹھیک ہے وہ۔ ہوش میں آگئی ہے۔ بہتر ہے۔” ذوہان نے اس کا ماتھا چومتے کہا۔

” ام کو ابھی لے کر جاو۔” لیلی نے جذباتی ہو کر کہا۔ کہ اس کا دل ہی نہیں مان رہا تھا کہ وہ تو حالے کو ٹھیک ٹھاک چھوڑ گئے تھے کیسے کچھ ہی وقت میں یہ سب ہوگیا۔

” نہیں میری جان کل لے چلوں گا ابھی اسے آرام کی ضرورت ہے۔ اور رات بھی ہو رہی ہے ہمم۔” ذوہان نے نرمی سے اسے سمجھاتے کہا تو وہ آنسو صاف کرتے سر ہلا گئی اور اس کی صحت یابی کی دعا کرنے لگی۔

❤
❤

آدھی رات کو وہ کمرے سے باہر نکل گیا کچھ ہی دیر میں وہ یونی کے سی سی ٹی وی فوٹیج نکال کے بیٹھا تھا۔

جس میں صاف نظر آرہا تھا کہ دو آدمی بائک پر بیٹھے کب سے انتظار کر رہے تھے۔ اور حالے کے نکلتے ہی وہ موقع پاتے ہی شوٹ کر گئے۔

اور پھر تیزی سے فرار ہوتے بھی وہ نظر آئے۔

یہ اچھا تھا کہ بائک کا نمبر پلیٹ واضح نظر آرہا تھا۔

اس نے فون اٹھاتے اپنے دوست کو کال کی۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت وہ جاگ رہا ہوگا۔ اور یہی تھا آگے سے فورا کال اٹھا لی گئی۔

” ہاں ہیلو یار یہ نمبر پلیٹ سینڈ کر رہا ہوں میں۔ پتہ لگا کس کی ہے اور لوکیشن بھی فورا سے سینڈ کر مجھے۔” اس نے کہا۔۔

” بس ٹھیک ہے میں بتاتا ہوں کچھ دیر تک۔” اس کے دوست نے کہا تو وہ شکریہ بول کر کال ڈسکنیکٹ کر گیا۔

اس نے ٹھان لیا تھا کہ ایک بار پکڑ لے انہیں ایسی سزا دیگا کہ اپنی موت کی دعائیں مانگتے پھرے گے مگر موت نہ نصیب ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *