Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 27)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 27)
Meri Pathani by RB Writes
” ڈاکٹر اب کیسی کنڈیشن ہے حالے کی مطلب کہ کیا اب ہم۔” اسفندیار نے حالے کی رپورٹس دیکھتے ذوہان کو کہا۔ تو سب کی نگاہیں ذوہان پہ ٹک گئی۔
” اب ان کی طبیعت کافی بہتر ہے۔ ہم انہیں ڈسچارج کر دیتے ہیں بس ان کا خیال رکھئے گا۔” ذوہان نے حالے کی جانب ایک سرسری سی نظر ڈال کر مسکرا کر اسفندیار کو کہا تو کمرے میں موجود سب مسکرا دئے۔ اور حالے کی بہتری کا سن سب نے شکر ادا کیا۔
” تھینک یو سو مچ ڈاکٹر ذوہان۔” اسفند نے کہا تو ذوہان نے مسکرا کر سر ہلا کر شکریہ وصول کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
” بس بھئی بہت خدمتیں وصول کرلی۔ اب چپ کر کے گھر جا کر ہماری خدمتیں کرو۔” اسفند ذوہان کے جاتے ہی حالے کے سامنے آتے شرارت سے بولا تو حالے نے اسے گھورا۔
” نہیں جی سنا نہیں تم نے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ان کا خیال رکھئے گا۔ سنا نہیں کیا؟” حالے نے اسے دیکھتے اکڑتے ہوئے کہا۔
” اچھااا۔ پھر تو جو ڈاکٹر نے ڈائٹ چارٹ بنا کر دیا ہے۔ اس پر بھی کافی عمل کریں گی نہ آپ؟ مصالحہ دار کوئی چیز نہیں کھائیں گی آپ ہیں نہ؟” اسفند نے اس کی جانب دیکھتے آنکھوں کو پٹپٹاتے کہا تو حالے گڑبڑا گئی۔
” امی دیکھیں نہ۔” حالے نے فورا سے سکینہ بیگم کی جانب دیکھتے جھنجھلا کر کہا تو اسفندیار ہنس دیا۔
” بھئی تنگ نہ کرو اسفی میری بچی کو۔” سکینہ نے مسکرا کر کہا تو حالے نے اسفند کو زبان چڑائی۔ اس کی اس حرکت سب ہنس دئے تو وہ خجل ہوگئی پھر ان کے ساتھ خود بھی ہنسنے لگی۔


“ارحان ابھی ہم آپ کو ان سے ملانے والے ہیں جن کے ساتھ آپ کا مشن ہے۔ اور آپ دونوں نے کل ہی اس مشن کو تکمیل پہنچانے جانا ہے۔” کمشنر صاحب کے ساتھ کھڑے آفیسر نے ارحان کو دیکھتے کہا جو سیدھا کھڑا تھا ان کی بات سن کر وہ سر ہلا گیا۔
” ایجینٹ اسفندیار آجائیں۔” اپنے سر کی آواز پر وہ اندر آیا اور آکر اس نے انہیں سلیوٹ کیا اور مڑ کر ارحان کی جانب دیکھا جس نے اسے دیکھ سلیوٹ کیا۔
جب کہ ارحان کو دیکھ اسفند حیران ہوا اسے لگا کہ اس کے سامنے ذوہان کھڑا ہے۔ اسے سمجھ ہی نہ آیا کہ یہ ذوہان ہے یا اس کا ہمشکل۔
” ہیلو آئی ایم انسپکٹر ارحان خانزادہ۔” ارحان نے اپنا ہاتھ اسفند کی جانب بڑھا کر کہا تو اسفندیار سمجھ گیا کہ یہ ذوہان کا جڑواں بھائی ہے۔
” ایجینٹ اسفندیار ۔” اسفند نے اسکا ہاتھ تھام کر مسکرا کر کہا تو ارحان بھی مسکرا دیا۔
” ہاں تو بوائز تم دونوں کو پتہ ہے کہ اب تم دونوں کو کیا کرنا ہے۔ تو اب آپ دونوں نے کل سے ہی یہ مشن سٹارٹ کرنا ہے اور اس کی جڑ تک جا کر برائی کو ختم کرنا ہے۔ ” اپنے سر کی بات سن کر دونوں نے یس سر کہا۔
” تو اب آپ لوگ جا سکتے ہیں۔” یہ بات سنتے ہی وہ دونوں وہاں سے نکل آئے۔
” اوہ اب مجھے اپنے سالے کے ساتھ مشن کرنا پڑے گا۔ چلو کوئی نہیں اسی بہانے امپریشن ہی اچھا ڈال لوں گا۔ جلدی مان جائیں گے پھر۔ ” اسفند وہاں سے نکلنے کے بعد اپنے آپ کے ساتھ بڑبڑاتا ہوا جارہا تھا۔ اور اپنی بات پر وہ خود ہی مسکرا کر گھر کی جانب چل دیا۔


“مورے میری پیکنگ کردو۔” ارحان اپنے کمرے سے نکلتا لاونج میں آتا بولا۔ اس کی بات سن کر سب ایک بار پھر سے اداس ہوگئے۔
اس گھر کی رونق کو گھر سے دور جاتا دیکھ وہ کیسے برداشت کر سکتے تھے۔ ان کے چہرے پر اداسی دیکھ ارحان خود بھی اداس ہوگیا۔
مگر وہ کیا کرتا یہ سب تو اسکی ڈیوٹی کا حصہ تھا۔ جو کہ اسے پورا کرنا تھا۔
” آپ سب اداس مت تو مت ہوں ایسے۔ ویسے بھی کچھ ہی دنوں میں لوٹ آوں گا میں۔” ارحان اپنی ماں کے گرد بازو باندھ کر مسکرا کر بولا۔
مگر اس کی بات پر سب صرف سر ہلا گئے۔ ابھی بھی کوئی مسکرا نہ سکا۔
” بھئی ایسے منہ تو نہ بناو نہ سارے۔ ویسے بھی میں جیسے ہی واپس آوں گا تو فورا ہی میری شادی ہوگی سن لو۔” ارحان ان سب کا دھیان اس بات سے ہٹاتے ہوئے شرارت سے بولا۔
مگر اس وقت وہ واقع ہی سیریس تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ جیسے ہی اس مشن کو ختم کرکے اگر وہ زندہ لوٹ آیا تو فورا ہی وہ نین سے شادی کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔
اور اب اس نے شرارت میں ہی صحیح مگر سب کے سامنے یہ بات سامنے رکھ دی تھی۔
اس کی بات پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔ کہ کسی کو ارحان سے اس بات کی توقع نہ تھی۔
” کیا تم سچ بول رہا ہے لالہ؟” لیلی نے فورا سے اچھلتے ہوئے خوش ہوتے کہا۔ تو وہ مسکرا دیا۔ جبکہ باقی سب بھی ارحان کی جانب دیکھتے اس کے جواب کے انتظار میں تھے۔
” ہاں ہاں لالے کی جان یہ سچ ہے۔ بس ہم کچھ ہی دنوں میں یہ مشن ختم کرلیں تو واپسی پہ فورا سے میری شادی کی تیاری کرو۔” اس نے کہا تو لیلی چہک گئی۔ اپنے بھائی کی شادی کا تو اسے ناجانے کتنے عرصے سے ہی انتظار تھا۔
” تو تم نے مطلب لڑکی دیکھ رکھا ہے کیا؟” رضیہ بیگم اس کی جانب مشکوک انداز میں دیکھتی بولی تو اس نے معصوم شکل بناتے سر اثبات میں ہلایا۔
اس کو یوں معصوم سی شکل بتانے دیکھ رضیہ بیگم نے افسوس سے سر جھٹکا۔
” لالہ کون ہے وہ ام کو تو بتاو۔” لیلی نے فورا سے اس کے قریب آتے اس کا بازو تھامتے کہا۔
” نہیں ابھی نہیں جب واپس آجاوں پھر بتاوں گا۔” لیلی کی امیدوں پر پانی پھیرتے اس نے کہا تو لیلی منہ بنا گئی۔
” بس ٹھیک ہے پھر ہم ابھی سے تیاری کر لیتے ہیں کیونکہ تمہیں آنے میں زیادہ سے زیادہ دس دن لگیں گے۔” اتنے وقت میں اب کہ خانزادہ صاحب بولے۔ تو ارحان سمیت سب ہاں میں سر ہلا گئے۔
جبکہ ذوہان صرف سب کا منہ ہی دیکھیں جا رہا تھا۔ اور اسی بات کی امید کر رہا تھا کہ کوئی اس کو بھی بولے کہ اب اس کی بھی کردیں گے۔ مگر اس وقت ایسا کچھ نہیں ہوا۔
” جب ارحان سب کو نین کے بارے میں بتائے گا تب ہی میں بھی ان کو نور کے بارے میں بتا دوں گا۔ ” ذوہان خود ہی دل میں بول کر دل ہی دل میں مسکرا دیا۔
اب اس سے کہاں صبر ہونا تھا۔ جب ارحان کی ہونے لگی تھی تو پھر وہ کیوں پیچھے ہٹتا۔
” بس چلو نہ مورے آپ میری پیکنگ کردو۔” ارحان رضیہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھینچتے ہوئے بولا تو وہ بھی ان کے ساتھ ہی چلی گئی۔ جبکہ لیلی تو خوشی سے اپنا فون اٹھاتے جلدی سے نین اور حالے کو یہ خبر سنانے بیٹھ گئی۔
اور ذوہان خود بھی اپنی شادی کے خیالوں میں کھو گیا۔
جبکہ خانزادہ صاحب خبریں سننے میں مصروف ہوگئے۔


” نین تم کو بتا لالہ ابھی نہ مشن پہ جا رہا اور جب وہ واپس آئے گا تو ہم اس کی شادی کر رہا ہے۔” نین یہ خبر سن کر ایک پل کو تو رک سی گئی۔ کیونکہ اسے لگا کہ شاید ان لوگوں نے لڑکی دیکھی ہے اور اپنی پسند سے اسکی کر رہے۔
” کس۔۔کس سے کر رہے ان کی شادی؟” نین نے دھڑکتے دل سے سوال کیا۔
” وہ لالہ نے خود ہی پسند کیا ہے وہ کہہ رہا ہے کہ واپس آنے کے بعد بتائے گا۔ ” لیلی نے کہا تو وہ پرسکون ہوئی۔ کیونکہ باتوں ہی باتوں میں وہ اس سے یہ بات کر چکا تھا کہ وہ اپنے امی ابو سے اس بارے میں بات کرے گا۔
” اچھا ۔۔۔” نین سے تو کچھ بولا ہی نہ جا رہا تھا۔ ایک طرف اپنی محبت ملنے پر خوش تو دوسری جانب اس ہے یوں دور جانے پر اداس تھی۔
دل میں وسوسے آرہے تھے کہ کہیں اسے نہ کچھ ہوجائے۔ مگر پھر دل کو سمجھا دیتی اور اس کی سلامتی کی دعائیں کرتی۔


” امی کل جا رہا ہوں میں مشن پہ تو سارا سامان پیک کردیں۔” اسفندیار حالے کے کمرے میں آکر بولا تو وہ اداس ہو کر سر ہلاتی اٹھ گئی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ انکا بیٹا اس ملک کا محافظ تھا۔
ناجانے کتنے ہی فوجی جوان اپنے ملک کی حفاظت کے لئے اپنے گھروں سے اپنے ماں باپ بیوی بچوں بہنوں بھائیوں سے دور رہتے ہیں تاکہ وہ اس ملک کی حفاظت کر سکیں۔
تاکہ کوئی بھی میلی آنکھ سے اس طرف دیکھ بھی نہ سکے۔
اسفندیار بہت ہی مرتبہ مشنز پر جا چکا تھا۔ تبھی وہ سمجھ چکی تھی کہ ہر وقت وہ گھر نہیں رہے گا۔ جب جب اس قوم کو اس کی ضرورت ہوگی وہ تب تب وہاں موجود رہے گا۔
” اسفی تم جارہے کل؟” حالے اس کے جانے کا سن کر نم آنکھوں سے بولی تو اسفند فورا سے اس کے قریب آیا اور اسکے قریب بیٹھ گیا۔
” حالے بھائی کی جان تمہیں تو پتہ نہ بھائی کی ڈیوٹی کا۔ تو بس اب رونا نہیں۔ ایک آرمی آفیسر کی بہن ہو تم۔ مضبوط بنو۔” اسفند اس کے ماتھے پر سے بال ہٹاتا مسکرا کر بولا۔تو وہ آنسوؤں کو اپنے اندر ہی اتار گئی۔
” کب آوں گے پھر؟” حلق میں پھنسے آنسوؤں کے گولے کی وجہ سے آواز ابھی بھی بھاری ہو رہی تھی۔
” بس آجاوں گا کچھ ہی دنوں میں۔ زیادہ سے زیادہ دس دن ہی لگے گے۔” اسفند کے بتانے پر وہ پرسکون ہوئی اسے لگا کہ شاید وہ مہینہ یا سال کے لئے جا رہا یے۔ مگر دس دنوں کا سن کر وہ پرسکون ہوگئی اور اس کی سلامتی کی دعا کرنے لگی۔
