Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 08)

Meri Pathani by RB Writes

” اب کیسی طبیعت ہے حالے کی؟” کبیر صاحب نے کھانے کی میز پر بیٹھتے ہوئے فکرمندی سے کہا۔ اس کے ہسپتال آنے کے بعد وہ اس سے ملے تھے۔ اس کے بخار کی خبر سن وہ بہت پریشان ہوئے تھے۔ ایک یہی تو لاڈلی تھی ان کے گھر کی بلبل اسی سے تو گھر میں رونک رہتی۔

” اب بہتر ہے وہ میں ابھی کھانا دے کر آئی ہوں اسے۔” سکینہ بیگم نے اسفند اور کبیر صاحب کو کہا جو حالے کی طبیعت کے بارے میں سننے کو بے چین تھے۔ انکی بات سن کر دونوں مطمئن ہوتے سر ہلا کر کھانے کی جانب متوجہ ہوگئے۔

” تمہاری پڑھائی کیسے جا رہی ہے برخوردار؟” منہ میں نوالہ ڈالتے وی اسفند کو بولے۔ اسفند جو کہ پانی پہ رہا تھا اسے لگا اسکے گلے میں ہی اٹک گیا ہو۔ اس نے بمشکل پانی نگل کر انہیں دیکھا جو اس کے جواب کے منتظر تھے۔

” اچھی جا رہی ہے بابا۔ اچھی جا رہی ہے۔” زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر وہ منمنا کر بولا تو کبیر صاحب نے اسے گھورا۔

” اچھا اچھی جا رہی ہے۔ اور جو تمہارے ٹیسٹ میں مارکس آئیں ہیں نہ وہ بھیجے ہیں مجھے تمہارے ٹیچر نے۔ اور تمہاری شکایت بھی لگائی ہے۔ تم وہاں پڑھنے جاتے ہو یا مستیاں کرنے؟” اس کے جھوٹ بولنے پر کبیر صاحب نے اسے وہ بات بتائی جو سر امجد نے انہیں بتائی تھی۔

اسفند نے دل ہی دل میں سر امجد کو صحیح سنائی جن کو نہ جانے کیا دشمنی تھی اس سے۔ سر امجد کو دل میں سنانے کے بعد وہ اپنے ابو کی جانب متوجہ ہوا جو غصے سے اسے گھور رہی تھے۔

” بابا ایسا نہیں جنہوں نے آپ کو شکایت لگائی ہے نہ ان کی پتا نہیں کیا دشمنی ہے مجھ سے ؟ کلاس میں کوئی اور بول رہا ہوتا ہے۔ اور نکال وہ مجھے دیتے ہیں۔” معصوم سی شکل بنا کر وہ ناجانے کتنی ہی سفیدی سے جھوٹ بول گیا مگر وہ بھول گیا تھا کہ سامنے اسکا باپ بیٹھا ہے۔

” اگر تم فیل ہوئے نہ اسفی تو رکشہ لے کر دوں گا میں تمہیں۔” انہیں نے اسے گھورتے پہلے سے ہی تنبیہ کر دی۔

” بابا اگر لڑکیاں فیل ہوتی ہیں تو انکی شادی کروا دی جاتی ہے اور ہم فیل ہو تو رکشہ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟” ان کا بات سن کو وہ منہ بنا کر بولا۔

” اچھا میں چلتا ہوں مجھے بھوک لگی ہے۔” کبیر صاحب کا ہاتھ اپنی جوتی کو جاتا دیکھ وہ اچھل کر کھڑا ہوتا بھاگتے ہوئے بولا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ پیچھے کبیر صاحب نے مسکرا کر سر تاسف میں ہلایا۔

” یہ لڑکا کبھی نہیں سدھر سکتا۔”

❤
❤

” جاو لیلی جا کر دیکھو لگتا ہے ذوہان آگیا ہے۔” لیلی لاونج میں صوفے پر بیٹھی ارحان کے ساتھ ٹک ٹاک دیکھ رہی تھی کہ تبھی دروازہ بجا تو رضیہ بیگم نے کہا تو وہ موبائل ارحان کو پکڑاتے کھڑی ہوئی۔

“اسلام علیکم ذی لالہ۔” دروازہ کھولتے ہی وہ سامنے ذوہان کو پاتے ہی وہ چہکتے اس کے گلے ملتے بولی۔

” وعلیکم اسلام گڑیا۔” اس نے مسکراتے اس کے سر پر ہونٹ رکھتے کہا۔

” لالہ میرے لئے کچھ لائے نہیں؟” اس سے الگ ہوتے اس نے فورا سے کہا تو ذوہان نے مسکراتے اپنے جیب سے چاکلیٹ نکالتے اسے پکڑایا۔ جو اس نے خوشی سے چہکتے پکڑ لیا۔

ذوہان اندر آتا سب کو سلام کر کے اپنے کمرے میں فریش ہونے کے لئے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد لیلی دوبارہ سے صوفے پر آکے بیٹھ گئی اور چاکلیٹ کھانے لگی۔ ارحان نے کنکھیوں سے اس کی چاکلیٹ کو دیکھا۔

” کیا کھا رہی ہو؟” اس نے آنکھوں میں مخصوص چمک لئے کہا۔ تو لیلی نے اسے گھورا۔

” کیوں بتاوں؟” لیلی نے کہا تو اس نے ہونٹوں کو گول کرتے سر اوپر نیچے ہلاتے اسے دیکھا۔

” ٹھیک ہے نہ دو غصہ کیوں کر رہی ہو۔ رات کو میں بھی ایک سپیشل چیز لاوں گا۔” ارحان نے کمینی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا گویا لیلی کی دھکتی رگ پر ہاتھ رکھا۔ لیلی فورا سے اس کے پاس آئی اور تھوڑا سا چاکلیٹ کا پیس اسے دیا۔

چاکلیٹ لیتے ارحان نے ہنستے اسے اپنے پاس بٹھایا اور دونوں دوبارہ موبائل دیکھنے میں مصروف ہوگئے۔ پھر کچھ دیر میں رضیہ بیگم نے کھانا لگایا جو سب نے مل کر خوشگوار ماحول میں کھایا۔ اور پھر سب کچھ وقت ایک ساتھ گزارنے کے بعد اپنے کمرے میں چلے گئے۔

❤
❤

” بیٹا کن سوچوں میں گم ہو۔” ایاز صاحب نے نین کو گہری سوچ میں ڈوبے دیکھ کہا جو چمچ ہلا رہی تھی پلیٹ میں بس۔ ایاز صاحب کی آواز پر چونکتے اس نے سر اٹھایا۔

” آا نہیں بابا ایسا نہیں ہے۔” اس نے فورا سے ساری سوچیں جھٹکتے اپنے بابا کی طرف دیکھ مسکرا کر کہا جو پریشان دکھائی دے رہے تھے۔

” بیٹا کوئی بات پریشان تو نہیں کر رہی؟ کسی نے کچھ کہا تو نہیں آپ کو؟ آپ شئیر کر سکتے ہو مجھ سے۔” اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے انہوں نے کہا تو نین ان کی فکرمندی پر چاہت سے مسکرا دی۔ اس کے بابا ہی تو اس کے سب کچھ تو۔

” نہیں بابا ایسا کچھ نہیں ہے میں تو بس ویسے ہی سوچ رہی تھی۔” ان کو تسلی دلاتے بولی تو ایاز صاحب مطمئن ہوئے۔ اور کھانا کھانے لگے۔ جب کہ نین آج ارحان کی باتوں کو سوچنے رہی تھی جو اس کا دل دھڑکائے جا رہی تھی۔ جو مطلب ارحان کی باتوں سے نکلتا تھا وہ وہ چاہ کر بھی اخذ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ابھی تو وہ فلحال کے لئے ان سب باتوں کو جھٹک کر اپنے بابا کے ساتھ مصروف ہوگئی۔

❤
❤

اگلی صبح نکل چکی تھی ۔ یہاں کچھ کی زندگی شروع ہونی تھی تو کچھ کا آخری دن تھا۔ اور جن کا تھا وہ اس بات سے انجان دنیاوی زندگی میں مصروف ہیں۔ ارحان صبح اٹھتا جلدی سے ناشتہ کرتا وہ پولیس سٹیشن چلا گیا تھا۔

” انسپکٹر کہاں ہیں ؟” ایک بوڑھے سے آدمی نے حولدار کو کہا ۔ ساتھ میں اس کی بیوی اور ایک سترہ سالہ لڑکی بھی تھی۔

” کیا کام ہے؟” اس حولدار نے فائل میں کام کرتے بیزار لہجے میں کہا۔

” دیکھیں مجھے ان سے ہی کام ہے آپ میری بات کروا دیں ان سے بڑی مہربانی ہوگی آپ کی۔” وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے نم لہجے میں بولے کہ تبھی ارحان باہر آیا ۔ ارحان کو دیکھتے ہی حولدار نے کھڑے ہو کر سلیوٹ کیا۔

” کیا بات ہے ثاقب کیا کہہ رہے ہیں یہ؟” ارحان نے نم آنکھیں لئے بوڑھے آدمی کو کھڑے دیکھ سنجیدگی سے کہا ۔

” انسپکٹر صاحب بڑی مہربانی ہوگی میری بات سن لیں۔” اسی طرح کے التجائی لہجے میں وہ بولے۔

” آپ آئیں اندر بیٹھیں۔” ان کی آنکھوں میں تڑپ اور بے بسی دیکھ وہ نرمی سے بولا اور ان کو اندر اپنے آفس میں لے آیا۔

” جی اب بولیں کیا بات ہے؟” ان کے بیٹھتے ہی وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو الجھائے ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا۔

” جی میرا نام شکیل ہے میں ایک کسان ہوں۔ یہ میری بیوی ہے سلمہ اور یہ میری بیٹی زینب۔” انہوں نے اپنی بیٹی کی جانب اشارہ کرتے کہا جو سر جھکائے اپنی ہاتھوں کی انگلیوں کو گھور رہی تھی۔

” ایک دن میں نے ہمارے گاؤں کے سردار ازمیر سائیں سے ادھار لیا تھا۔ جو کہ میں نے ان کو واپس کردیا مگر سود کا ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔ وہ اب بھی ہمیں تنگ کرتا یے۔ گاؤں کا ہر انسان اس سے خوف کھاتا ہے۔ وہ انسان نہیں ہے۔ اب اس کی نظر ہماری بیٹی پر ہے وہ کہتا ہے یہ دو دن میں پیسے لوٹاو یا اپنی بیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔” اتنا کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ان کی بیوی کی آنکھوں میں بھی نمی آگئی۔ جبکہ زینب کی آنکھوں سے لگاتار آنسو گرتے اس کے ہاتھ گیلے کر رہے تھے۔

ارحان نے ان کی ساری بات سنجیدگی سے سنی۔ دھیرے دھیرے ان کی بات سنتے اس کی آنکھیں خود بخود لال ہوتی جا رہی تھی۔

” چاچا آپ فکر مت کریں ان لوگوں کو میں ایسا سبق سکھاوں گا کہ کبھی گھر سے نکلنے کی زحمت نہیں کریں گے۔” ان کو تسلی دیتا وہ بولا تو شکیل صاحب مسکرائے۔

” اللہ خوش رکھے تمہیں بیٹا۔” وہ مسکرا کر بولے۔ تو زینب نے بھی نم آنکھوں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

” کوئی بات نہیں چاچا زینب میری بہن جیسی ہے اور اپنی بہن کی مدد میں کیوں نہیں کروں گا۔” وہ بھی مسکرا کر بولا تو سب کے دل مطمئن ہوئے۔ مگر ارحان جانتا نہیں تھا کہ جن سے وہ پنگا لینے والا تھا۔ ان کی کتنی پاور ہے یہاں۔ مگر برائی کی جتنی بھی طاقت ہو اسے ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہی پڑتا ہے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *