Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 14)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 14)
Meri Pathani by RB Writes
” ڈاکٹر آپ؟ لگتا ہے میں غلط جگہ آگئی۔” ذوہان جو اسے دیکھ آنکھوں کی پیاس بجھا رہا تھا۔ اس کی حیرت دیکھ مسکرا دیا۔
” مس نور آپ بالکل ٹھیک جگہ پر آئی ہیں۔ ” ذوہان نے کہا تو حالے نے ناسمجھ نظروں سے اسے دیکھا کہ اسے کیا پتہ کہ وہ کدھر جا رہی کدھر نہیں۔ اس کی ناسمجھ نظروں کو ذوہان محسوس کر گیا۔
” میں لیلی کا بھائی ہوں۔” ذوہان نے کہا تو وہ سمجھ گئی۔
” آئیں اندر۔” ذوہان سائڈ پر ہوگیا تو وہ اندر چلدی۔ جبکہ ذوہان کے ساتھ اپنا پچھلا رویا محسوس کر کے وہ اس کے سامنے تھوڑی شرمندگی سی محسوس کر رہی تھی۔
” ارے حالے تم آگیا؟” لیلی اسے دیکھ کر خوش ہوتی فورا سے اس کے پاس آئی۔ اور اسے اپنے گلے لگایا۔ اسکی خوشی محسوس کر کے حالے اور ذوہان بھی مسکرا دئے۔
” لالہ یہ امارا نیا دوست ہے حالے۔ اور حالے یہ ہمارا لالہ ہے۔ ذوہان لالہ۔” لیلی نے اپنے متعلق دونوں کا تعارف کروایا۔
” نائس ٹو میٹ یو مس نور۔” ذوہان نے گہری نظروں سے حالے کو دیکھتے کہا۔
” می ٹو۔” حالے بھی لیلی کو بتانے کے بجائے مسکرا کر کہا۔
” لیلی نین نہیں آئی کیا؟ ” نین کی غیر موجودگی محسوس کرتی وہ بولی۔
” وہ ارحان لالہ گیا ہے اس کو لینے ابھی تھوڑی دیر تک آجائے گا وہ دونوں۔” لیلی بھی اس کی جانب متوجہ ہوکر بولی۔ دونوں ہی ذوہان کو اگنور کر گئی جس کی وجہ سے وہ منہ بنا کر رہ گیا۔
ابھی وہ کچھ بولتی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
” ارے لگتا ہے کہ نین آگیا ۔” لیلی خوشی سے بول کر دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ جبکہ ذوہان کی نگاہوں کا مرکز اب حالے بن کر رہ گئی۔ اور آج پہلی بار حالے نور جیسی کانفیڈینٹ لڑکی اس کی نگاہوں سے کنفیوز ہو رہی تھی۔ اسے بس دور جانے کی تھی۔
” ہنہہ ٹھرکی کمینہ ایسے دیکھ رہا ہے جیسے پہلی بار لڑکی دیکھی ہے۔” اس کو گھور کر دیکھ کر وہ بڑبڑائی۔ آواز اتنی ضرور تھی کہ ذوہان سن سکتا۔ اس کی بات سن ذوہان کا منہ حیرت سے کھل کر رہ گیا۔
” ایک منٹ مس نور یہ آپ نے ٹھرکی کمینہ کس کو کہا؟” ذوہان اس کو دیکھ بولا تو حالے نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
” مجھے نہیں لگتا ڈاکٹر صاحب کہ آپ کے علاوہ کوئی اور ہے یہاں پر۔” اس پر میٹھا سا طنز کر کے وہ بولی۔ تو ذوہان کو بہت ہی چبھی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا لیلی ارحان اور نین آگئے۔
” ارے حالے تم پہنچی ہوئی ہو۔” نین نے اسے پاکر مسکرا کر کہا۔ ارحان نے اسکی مسکراہٹ کو محبت سے دیکھا۔ ارحان کو دیکھ حالے پہلے تو حیران ہوئی مگر پھر اسے لیلی کی بات یاد آئی کہ اس کے دو جڑواں بھائی ہیں۔
” ہاں بھئی میں تو بڑی پہنچی ہوئی چیز ہوں تمہیں ابھی پتہ لگا۔” حالے نے اسے دیکھ شرارت سے کہا تو سب ہنس دئے۔
” ہیلو بیوٹی فل لیڈیز۔ فرسٹلی میں تم لوگوں کو اپنا آپ انٹروڈیوس کرواتا ہوں۔” ارحان نے فورا سے ان کی گفتگو میں گھستے کہا۔ تو لیلی نے اسے گھور کر دیکھا۔
” نہیں حان لالہ میں ان کو بتا دے گا۔ ہم اپنے کمرے میں جا رہا ہے۔” لیلی نے اسے کہہ کر نین اور حالے کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گئی۔ پیچھے ارحان منہ بنا کر رہ گیا۔ اس کا منہ دیکھ کر ذوہان ہنس دیا۔ تو ارحان نے اسکی جانب دیکھا۔
” کیا ہوا ہنس کیوں رہا ہے؟” ارحان نے خطرناک تیوریوں سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
” کیوں کہ عزت بہت ہوگئی تیری۔” ذوہان نے کہا تو ارحان کو آگ لگ گئی۔
” اپنا منہ بند کر سمجھے۔” ارحان اسے گھور کر بول کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ پیچھے ذوہان بھی کندھے اکچا کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔


” اوئے اس لڑکی کی کوئی خبر ہے کیا؟” سردار ازمیر اپنے نوکر کو بولا۔ جسے ازمیر کی بات سن کر چپ سی لگ گئی۔ اور وہ بےحد گھبرا کر رہ گیا۔ کہ اب وہ اسے زینب کی غیر موجودگی کے متعلق کیا بتاتا۔
” ارے بھونک بھی دو۔ کیا گونگے ہو گئے ہو سارے۔” اس کے کچھ نہ بولنے پر ازمیر غصے سے گرج کر بولا تو ملازم کانپ کر رہ گئے۔
” وہ سائیں۔۔ شکیل اور اس کی بیوی بیٹی گاوں میں نہیں ہیں شاید وہ گاوں سے بھاگ گئے ہیں۔” اس کے گرجنے پر ملازم ڈر سے بولا تو ازمیر کی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیر گئے۔ اور اس نے جا کر ملازم کو کھینچ کر تھپڑ مارا۔
” حرام خوروں تو تم لوگوں کو کس چیز کے لئے رکھا ہوا ہے میں نے۔ مجھے دس دنوں کے اندر اندر وہ لڑکی اگر اس کے گھر والے اپنی آنکھوں کے سامنے چاہئے۔ سمجھے؟” اس کا گریبان پکڑ کر وہ دھاڑتے ہوئے بولا۔
” جی جی سائیں سمجھ گیا میں۔ ” اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر وہ سر جھکا کر بولا۔
” چل اب دفعہ ہو جا میری نظروں کے سامنے سے۔” ازمیر نہایت ہی بدتمیزی سے بولا تو وہ ملازم سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا۔ اور ازمیر اپنا غصہ قابو کرنے کے لئے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔


اس وقت لیلی کے گھر میں سارے کھانے کے ٹیبل پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے اور ساتھ میں خوش گپوں سے محظوظ ہو رہے تھے۔
” ویسے مس حالے آپ ہمیں بتائیں اپ نے کیسے اس چلتے پھرتے کارٹون سے دوستی کر لی؟” ارحان نے لیلی کو نشانہ بناتے حالے سے پوچھا۔ تو لیلی غصے سے لال پیلی ہوگئی۔
جبکہ باقی سارے لیلی کی ناراضگی کی وجہ سے اپنی ہنسی دبا کر رہ گئے۔
” ارے نہیں ارحان بھائی ایسے نہ کہیں میری دوست کو۔ اتنی اچھی پیاری کیوٹ اور۔۔۔” حالے اس کا گال پکڑ کر بولی کہ ارحان نے بیچ میں ٹوک دیا۔
” بس بس کردو میری بہن۔ اتنے قصیدے وہ بھی اس کی شان میں مجھ سے برداشت نہیں ہوتے۔” ارحان اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ کر ڈرامے بازی کرتے بولا۔
” حان لالہ تم تو چپ ہی کر جاو ۔ ہمارا منہ مت کھلواو۔” لیلی اس سے فلوقت نہ لڑنے کا سوچ کر اسے گھور کر دھمکی دیتے بولی۔
” ہاں بھئی تم تو جو بھی بول لو بندے کو ہنسی ہی آتی ہے۔” ارحان نے شاید قسم کھائی تھی کہ آج تو لیلی کو کسی صورت نہیں بخشنا۔
” ہاں اور تم تو جو بھی بول لو نہ آگے والا کو ہنسی بھی نہیں آتا کہ اتنا گندہ بولتا ہے۔” لیلی اپنا حساب برابر کرتے بولی تو ان سب کے قہقہے بلند ہوئے۔ اور ارحان کا نوالہ گلے میں اٹک کر رہ گیا۔
” بھائی اس نے منع کیا تھا تجھے۔” ارحان کی حالت دیکھ ذوہان نے اس کی کمر پر ہاتھ مارتے اسے دلاسہ دیتے کہا تو ارحان اسے گھور کر رہ گیا۔
” تم سے تو میں بعد میں نبٹ لوں گا چھوٹی چوہی۔” ارحان اسے گھور کر بولا تو لیلی نے ہنہہ کیا کہ بعد میں دیکھی جائے گی۔
” ویسے ارحان بھائی شادی نہیں کرنی کیا آپ نے؟” حالے نے اچانک سے کوئی غیر متوقع سوال کردیا تو سب ہی اس کا جواب سننے کے لیے اس کی جانب متوجہ ہوئے۔ جبکہ نین کا ناجانے کیوں دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔
” شادی بس بہت جلد انشاء اللہ۔ آپ میری طرف سے پہلے ہی انوائٹ ہیں۔” ارحان نے کہا تو ذوہان اس کی بات سمجھ کر مسکراہٹ دبا کر نین کی جانب دیکھ گیا جو سر جھکا کر بیٹھی تھی۔
” تو مطلب کوئی دیکھ رکھی ہے آپ نے ہمممم۔ بتائیں تو کہ کون ہے وہ۔” حالے فورا سے چہک کر بولی۔
” بس ہے ایک نازک سی جان۔ پتہ چل جائے گا ۔” ارحان نے ذومعنی انداز میں نین کی جانب اشارہ کیا۔ جبکہ ٹھیک سے نا بتانے پر وہ دونوں منہ بنا گئی۔
♡![]()
سمیر اس وقت نک تک سا تیار ہو کر ارحان کے اپارٹمنٹ جہاں اس وقت زینب اور اس کے امی ابو رہتے تھے وہاں کے دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ دل کو لاکھوں بار سمجھایا مگر دل تھا کہ مانا ہی نہیں۔ تبھی اس وقت دل کے مجبور کرنے پر وہ اس وقت یہاں موجود تھا۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر دروازہ بجایا۔ جو کہ کچھ ہی دیر بعد آکر زینب نے کھولا۔
اس کو اتنا وقت بعد اپنے سامنے دیکھ کر سمیر کی دھڑکنیں شور مچانا شروع ہوگئی۔ وہ ایک بار پھر سے بے قابو ہوتا یک ٹک سا اسے دیکھ رہا تھا۔
” آپ؟؟” زینب اسے اپنے سامنے ایک بار پھر پاکر حیران ہوتے اور گھبرا کر بولی۔ تو سمیر ہوش میں آیا۔
” ااا میں۔ وہ میں۔” سمیر کو سمجھ ہی نہ آیا کہ کیا بولے تبھی اٹکتے وہ بہانہ سوچنے لگا۔ اسکو یوں اٹکتے دیکھ زینب نے عجیب نظروں سے دیکھا۔
” وہ ہاں میں ارحان کے کہنے پر انکل سے ملنے آیا ہوں۔” یکدم کوئی بہانہ سوجھتے وہ جلدی سے بولا تو زینب سر ہلا گئی اور سائڈ پر ہوکر اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔
” ارے بیٹا آپ۔” اندر آیا تو شکیل کی بیوی خوشگوار حیرت سے بولی تو وہ دھیما سا مسکرا دیا۔
” آو بیٹا شکیل اندر ہیں۔” وہ سمیر کو لئے اندر آگئی۔ جہاں شکیل بیٹھے ہوئے تھے۔ اسے دیکھ فورا سے کھڑے ہوکر اس سے ملے۔
” کیسے آنا ہوا بیٹا۔” رسمی سلام دعا کے بعد وہ اس سے بولے۔ تو سمیر نے اپنا سوچا ہوا بہانہ یاد کیا۔
” وہ انکل مجھے ارحان نے بھیجا ہے کہ آپ لوگوں کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟” سمیر نے اپنا گڑھا ہوا بہانہ بنایا۔ جبکہ ارحان پہلے سے ہی ان کی ضرورت کی تمام چیزیں ان کے پاس لا چکا تھا۔
” نہیں بیٹا آپ لوگوں کا بہت شکریہ سب کچھ ہے یہاں پر۔” شکیل صاحب بولے تو وہ زینب کو دیکھ کر سر ہلا گیا جو کہ ایک کونے میں کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
” چلیں پھر میں چلتا ہوں۔” سمیر بولا۔
” نہیں نہیں بیٹا ابھی تو آئے ہو اور فورا جانے کی بات کر رہے ہو۔ چائے پی کے جاو ۔ جاو زینب بیٹا چائے بنا لاو۔” اس کے جانے کی بات سن کر فورا سے زینب کی امی بولی تو زینب سر ہلا کر کچن کی جانب چل دی۔ جبکہ سمیر بھی زینب کے ہاتھ کی چائے پینے کے لئے رک گیا اور شکیل صاحب کے ساتھ باتوں میں مشغول ہو گیا۔
♡![]()
” چلو پھر میں چلتی ہوں میں نے اسفندیار کو بھی کال کر دی ہے وہ ابھی آجائے گا۔” حالے بولی تو ذوہان کا دل کیا کہ اسے کبھی جانے ہی نہ دے بس اپنی آنکھوں کے سامنے ہی رکھے۔
” مگر کیوں تھوڑی دیر بیٹھ جاتا نہ تم۔” لیلی بولی تو نین بھی سر ہلا گئی۔
” ہاں سسٹر رک جائیں تھوڑی دیر۔” ارحان بھی لیلی کی ہاں میں ہاں ملا کر بولا تو ذوہان نے حالے کی جانب دیکھا۔
” میں رک جاتی ارحان بھائی مگر اگر تھوڑی اور دیر رکتی نہ تو امی نے اچھی خاصی دھلائی کردینی میری۔” حالے ہنس کر بولی تو سب ہنس دئے۔
کہ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ تو ذوہان اٹھ کر گیا۔
” ارے آپ یہاں۔” اسفندیار اپنے سامنے ذوہان کو دیکھ کر چونک کر بولا۔
” جی دراصل لیلی میری بہن ہے۔” ذوہان مسکرا کر بولا تو اسفند بھی سمجھتا سر ہلا گیا۔کہ اتنے میں لیلی اور حالے آئے۔
لیلی کو دیکھ اسفند کا دل تو باغ باغ ہو گیا۔ مگر فلحال اپنے تاثرات پر قابو پاگیا۔ جبکہ اسفندیار کو دیکھ لیلی کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
” اوئے یہ تمہارا بھائی ہے؟” بات سمجھتی وہ حالے کا بازو پکڑ کر اپنے سامنے کرتے بولی تو حالے دانت نکال کر مسکرا دی تو لیلی نے اپنے دانت پیسے اور گھور کر اسفند کو دیکھا جو کہ اس وقت ذوہان اور حالے کی موجودگی میں کچھ بول نہ سکا۔
” اچھا چل اوکے اللہ حافظ کل ملتے ہیں یونی میں۔” حالے اس کے گلے مل کر بول کر گئی۔ جیسے ہی وہ ذوہان کے قریب سے گزری تو ذوہان نے سرگوشی کی۔
” اللہ کی امان مس نور۔” ذوہان سرگوشی میں بولا تو حالے نے یکدم اسے دیکھا اور فورا سے اپنی نگاہیں اس کی جانب سے ہٹالی۔ اسکے آنکھوں سے دور ہونے تک ذوہان کی نظریں انکا پیچھا کرتی رہی۔
حالے کے جانے کے بعد پھر کچھ ہی دیر بعد ذوہان نین کو بھی اپنے گھر چھوڑ آیا اور یونہی ایک خوبصورت سے دن کا اختتام ہوا۔
جاری ہے۔
