Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 01)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 01)
Meri Pathani by RB Writes
” ہائے برو تم تیار ہوگئے؟” ارحان خان اچانک ہی ذوہان کے کمرے میں نمودار ہوا۔ اور ذوہان کو دیکھ کے بولا جو نکھرا نکھرا سا ڈاکٹر کا کوٹ پہنے شیشے کے سامنے کھڑا پرفیوم لگا رہا تھا۔ بلیک جینز پر وائٹ شرٹ پہنے وہ شہزادہ لگ رہا تھا۔
ہری آنکھیں، براون سلکی بال، عنابی کٹاو دار لب، ہلکی ہلکی شیو وہ بے حد خوبصورت تھا۔
ذوہان خان اور ارحان خان دونوں جڑواں بھائی تھے۔ دونوں ہی کی ہری آنکھیں تھیں۔ دونوں میں فرق صرف اتنا تھا کہ ذوہان کی آئبرو کے اوپر ایک تل تھا جبکہ ارحان اس تل سے محروم تھا۔
ارحان ایک شوخ و چنچل لڑکا تھا۔ ہر وقت ہنسی مزاق کرنے والا اور مسکراتے رہنے والا جس سے اس کے گال کا ڈمپل ہر وقت اپنی جھلک دکھاتا رہتا۔
جبکہ اس کے برعکس ذوہان ایک سنجیدہ طبیعت کا مالک تھا۔ کبھی کبھی ہنس دیتا ورنہ تو ہر وقت برف کی طرح سرد ہی رہتا۔ اس کا ڈمپل بھی بہت ہی کم جھلک دکھاتا۔
اس کی اس سنجیدہ طبیعت کی وجہ سے ارحان ہر وقت اس کو کہتا کہ انسان کو ہنستے رہنا چاہیے سیریس تو آئی سی یو کے مریض بھی ہوتے ہیں مگر ذوہان ہمیشہ اپنی ایک گھوری سے اسے خاموش کروا دیتا اور ارحان منہ بنا کر رہ جاتا۔
” ہاں میں ہوگیا تیار۔ تم نے نہیں جانا کیا پولیس سٹیشن؟” ذوہان ہاتھ میں گھڑی پہنتا آئینے سے ایک نظر اس پر ڈال کر بولا جو جا کر اس کے بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔
” نہ آج میری چھٹی ہے ۔ مزے ہیں۔” ارحان آنکھ ونک کرتا مسکراتے ہوئے بولا۔ اسے دیکھ ذوہان نے سر نفی میں ہلایا کہ یہ کبھی سیدھے طریقے سے بات نہیں کر سکتا۔
” اچھا چل مورے بلا رہی ہے ناشتے کے لئے۔” ارحان اٹھتا بولا تو ذوہان بھی سر ہلاتا اس کے ساتھ آگیا۔ دونوں ایک ساتھ ہی نیچے آگئے۔ اور آکر ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھ گئے۔
” مورے ناشتہ لادو نہ۔” ارحان ٹیبل پر ہاتھ بجاتا چیخ کر بولا۔
” لا رہا ہے ماڑا صبر کرو دو منٹ۔” رضیہ بیگم جلدی سے کچن سے آتے ارحان اور ذوہان کے سامنے ناشتہ رکھتے بولی۔
” مورے لیلی کہاں ہے آج یونی نہیں جانا کیا اس نے؟” ذوہان ناشتہ کرتا ہوا بولا۔
” وہ بس آرہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ لو دیکھو آگیا۔” رضیہ بیگم اسے جواب دینے لگی کہ تبھی لیلی وہاں آگئی۔
سفید کپڑوں میں وہ کالے رنگ کا حجاب لئے بہت حسین لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں ہری نہیں تھی بلکہ گرے کلر کی تھی۔ ہونٹ گلابی تھے۔ وہ بھی اپنے بھائیوں کی طرح کافی حسن رکھتی تھی۔
” اسلام علیکم ذی اور حان لالہ۔” لیلی اپنا بیگم ساتھ والی کرسی پہ رکھتے بیٹھتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ان کو سلام کرتے بولی۔ جس کا ان دونوں نے ہی جواب دیا۔
” اوئے موٹی یونی جا رہی ہو کیا؟” ارحان نے ہمیشہ کی طرح لیلی کو تنگ کرنا اپنا فرض سمجھتے ہوئے کہا۔
” لالہ پہلی بات میں موٹی نہیں ہوں۔ اور دوسری بات کہ میں جہاں بھی جاوں آپکو کیوں بتاوں؟” لیلی ناک چڑھا کر بولی۔
” بھئی دیکھو تو صحیح موٹے لوگوں کی بھی زبانیں چل رہی ہیں۔ یہی تو قیامت ہے۔” ارحان ایسے آنکھیں نچا نچا کر بولا جیسے ناجانے کیا ہوگیا ہو۔
” ماڑا لالہ دیکھو نہ یہ تنگ کر رہا ہے مجھے۔” لیلی نے معصوم شکل بنا کر آخری حربہ ذوہان کو بناتے ہوئے کہا۔
” ارحان اگر اب تمہاری زبان مجھے چلتی نظر آئی تو میں نے کاٹ کے رکھ دینی ہے۔” ذوہان ارحان کو گھور کر بولا تو ارحان منہ بسور گیا جبکہ لیلی کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ جسے ارحان نے شرر بار نگاہوں سے گھورا۔
” ویسے اوو میرے گڈے تمہاری وہ ڈرپوک دوست بھی جائے گی گیا تمہارے ساتھ۔” ارحان بولا تو لیلی کو مزید آگ لگا گیا۔
” حان لالہ میرا دوست ڈرپوک نہیں ہے۔ بس تھوڑا سا ڈرتا ہے وہ مگر دیکھنا میں اس کو مضبوط بنا دے گا ماڑا۔” لیلی حان کی بات پر غصہ ہوتے بولی۔
” اوو میری جان تم باقی سب تو چھوڑو پہلے اپنی اردو تو ٹھیک کرلو۔” حان اسکو مزید تنگ کرتے ہوئے بولا۔ تو ذوہان بھی مسکراہٹ دبا گیا کہ اگر لیلی دیکھ لیتی تو اس سے ناراض ہوجاتی اور وہ اپنی جان سے پیاری بہن کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔
” کیوں ماڑا کیا ہوا ہمارا اردو کو ٹھیک تو ہے اور تم نہ اپنے کام سے کام رکھو ہمارا اردو پہ دھیان نہ دو۔” لیلی خجالت سے بولی تو ارحان قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔
” اچھا اب ہم جا رہا ہے بیٹھا رہو تم۔ چلو ذی لالہ ہمیں یونیورسٹی چھوڑ آو۔ مورے اللہ امان ۔” لیلی اٹھتے اپنے گرد شال اوڑھتی بولی جبکہ ذوہان باہر جاچکا تھا۔
لیلی جاتے ہوئے ایک تھپڑ حان کے سر پر مار گئی اور قہقہہ لگاتے بھاگ گئی۔
” موٹی تم واپس آو تمہیں دیکھ لیتا ہوں میں۔” ارحان اپنا سر سہلاتے اونچی آواز میں بولا اور پھر مسکراتے ناشتہ کرنے لگا۔


” امی یار ناشتہ دے دیں جلدی سے لیٹ ہو رہا ہوں۔” اسفندیار جلدی سے بھاگتا ہوا ناشتے کی ٹیبل پر جاکر بیٹھ گیا اور سکینہ بیگم کو آواز لگاتا بولا۔
” اوئے ادھر دو یہ ناشتہ مجھے۔ یہ میرا ہے۔” حالےنور کے ہاتھ میں گرم گرم پراٹھا دیکھ وہ اس سے چھینتا ہوا بولا۔
” دیکھو اسفی بھائی میرے منہ مت لو پہلے میں یہاں بیٹھی تھی اس لئے مجھے ملا ہے۔ ” حالے پراٹھا اپنے پیچھے چھپاتے ہوئے انگلی اس کی طرف کئے غصے سے بولی تو اسفندیار نے آنکھیں گھمائی۔
” یہ لو اسفند یہ رکھ لو یہ بن گیا لڑائی کرنا بند کرو۔” اس سے پہلے اسفندیار جوابی کاروائی کرتا سکینہ بیگم پراٹھا لائے اس کے سامنے رکھتے بولے جا چکی تھی۔
” رکھی رکھو تم اپنا جھوٹا پراٹھا مجھے تو لا دیا ماما نے ہنہہ۔” اسفند ایسے بولا جیسے پراٹھا نہیں جانے کیا رکھ دیا ہو اس کے سامنے۔
” ہاں ہاں پہلے اسی پراٹھے کو چھین رہے تھے مجھ سے اب یہ میرا جھوٹا پراٹھا ہوگیا واہ بھئی واہ کیا کہنے ہیں اسفندیار صاحب کے۔” حالے نور اس پر حقیقت کا پردہ فاش کرتے بولی مگر اسفند کو اس سے بھی کوئی فرق نہ پڑا۔
” یہ لو بیٹا یہ دودھ پی لو طاقت آئے گی۔” سکینہ بیگم دودھ کا گلاس اسفند کے سامنے رکھتے بولی۔
” شکریہ امی۔” اسفند مسکرا کر بولا۔
” ہاں بھئی سارا پیار تو بیٹے سے ہی ہے میں تو جیسے کچھ لگتی نہیں نہ۔” ان کے پیار سے جلتی وہ سڑ کر بولی تو اسفند ہنس دیا۔
” لاتی ہوں تمہارے لئے بھی رکو زرا۔” سکینہ بیگم کہہ کر چلی گئی۔
” ویسے تمہیں کیسے پتہ لگا؟” اسفندیار اس کے قریب ہوتا رازداری سے بولا تو حالے نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
” ارے یہی کہ تم میری سگی بہن نہیں اور ہم تمہیں کچرے سے اٹھا کر لائے تھے۔” اسفند یوں بولا جیسے کہ اس کی معلومات میں اضافہ کر رہا ہو۔
” جھوٹ مت بولیں بھائی مجھے پتہ ہے میں ماما کی سگی بیٹی ہوں۔” حالے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے قتل کرتی دانت پیستے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے بولی۔
” ارے بھئی میں تو تمہیں سچ سے آگاہ کر رہا تھا مگر اب تم نہیں مان رہی تو میں کیا کہوں اب ۔ ایسے جا کے امی سے پوچھ لو کچرے سے ہی اٹھا کر لائے تھے ہم تمہیں۔” اسفند اسے مزید تنگ کرتا بولا۔
” ماما دیکھیں نہ اسفی بھائی تنگ کر رہے ہیں۔” حالے تنگ آکر سکینہ بیگم کو آواز مارتے بولی۔
” اسفند مت کرو بہن کو تنگ۔” سکینہ بیگم کچن سے آواز لگا کر بولی۔
” اچھا چلو بھئی اٹھو شاباش جلدی کرو لیٹ کرواو گی تم۔ بہت ٹھوس لیا۔” اسفند اٹھتا اسے بھی بولا اور جا کر کچن میں سکینہ بیگم کے پاس گیا۔
” ماما پیٹرول کے لئے پیسے دیں دے۔” اسفند ان کو بولا۔
” ارے اسفی ابھی کل جو دئے تھے ان کا کیا کیا؟” سکینہ بیگم حیرانی سے بولی۔
” ارے ماما آپ کو پتہ نہیں ہے پیٹرول اتنا مہنگا ہوگیا ہے۔ وہ تو کل ہی خرچ ہو گئے اور جو بچ گئے تھے اس کی میں نے اور حالے نے بریانی کھا لی تھی۔ اچھا لائیں جلدی کریں دیں نہ۔” اسفندیار اپنی ہتھیلی ان کے آگے بڑھاتا بولا تو سکینہ بیگم نے اپنے دوپٹے کے ساتھ بندھے ہزار روپے نکال کر اسے دیا جو وہ جلدی سے اپنی جیب میں ڈال گیا۔
” ویسے بھائی تھوڑا نہ اپنے اندر رعب اور تھوڑا کنجوسی کم کردیں امیر لگیں گے ایک دم۔” اس کے ساتھ بائک پر بیٹھتے حالے نے کہا۔
” نہ پین اسی غریب ہی چنگے آں۔” اسفند ناک چڑھا کر بولا اور بائک سٹارٹ کر کے زن سے بھگا لے گیا۔
جاری ہے۔
