Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 02)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 02)
Meri Pathani by RB Writes
” بابا مجھے ڈر لگ رہا ہے۔” نین آنکھوں میں آنسو لئے ایاز صاحب کو بولی۔ جو اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر تڑپ اٹھے۔
” نہیں میری جان ڈرتے نہیں ہیں آپ تو میرا بہادر بیٹا ہو نہ ہمم۔” ایاز صاحب نین کے آنسو صاف کرتے اس کا ماتھا چومتے بولے تو نین نے اپنا سر زوروشور سے ہاں میں ہلایا اس کی یہ معصوم حرکت دیکھ ایاز صاحب مسکرا دئے۔
” چلو اچھا ڈرنا نہیں اور ویسے بھی لیلی ہے نہ آپ کے ساتھ۔ پھر کس سے ڈرتے ہو آپ؟” ایاز صاحب شرارت سے بولے تو نین دھیرے سے ہنس دی۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی باہر ہارن بجنے کی آواز آئی جسے سن وہ اپنے بابا کو اللہ حافظ کہتی ہمت کرتی باہر آئی۔ اس کے جانے کے بعد ایاز صاحب گہری سانس بھر کر رہ گئے۔ اور اپنی بیٹی کے لئے دعا کرنے لگ گئے۔
ایاز صاحب کی شادی اپنی پھپھو کی بیٹی صدف سے ہوئی۔ دونوں میں بے پناہ محبت تھی۔ صدف بھی ایک بہت ہی بھولی سی لڑکی تھی۔ لڑائی جھگڑے یا کسی بھی سخت آواز سے جان جاتی اسکی۔شادی کے سال بعد اللہ نے انہیں بیٹی جیسی رحمت سے نوازا جس کا نام انہوں نے نین رکھا۔
نین کی پیدائش کے دن بدن ان کی طبیعت بگڑتی رہتی۔ دن بدن کمزور ہوتی رہی۔ ایاز صاحب بھی ان کی طبیعت کو لے کر بہت پریشان تھے۔ نین جب تین سال کی ہوئی تو ان کا انتقال ہوا۔
ایاز صاحب یہ خبر سن کر ٹوٹ سے گئے کہ ان کی جان سے پیاری بیوی ان کو چھوڑ کر چلی گئی۔ مگر انہوں نے اس مشکل وقت میں بھی خود کو سنبھالا وہ بھی خود کے لئے نہیں اپنی بیٹی نین کے لئے جسے وہ ان کے حوالے کر کے گئی تھی۔ نین کی پیدائش پھر انہوں نے کی۔ انہوں نے نین کی وجہ سے دوسری شادی بھی نہیں کی۔ لوگوں نے بہت کہا کہ دوسری شادی کر لیں مگر وہ نہ مانے۔ نین کے لئے اس کی ماں بھی بنے اور اس کا باپ بھی۔
نین بھی بالکل اپنی ماں پر گئی تھی۔ مگر صدف بھی اتنا نہیں ڈرتی تھی جتنا نین ڈرتی تھی۔ وہ اجنبی لوگوں سے کافی ڈرتی تھی۔ سکول بھی ڈر ڈر کر جاتی۔ آٹھویں جماعت میں تھی جب اسے لیلی ملی۔ لیلی کو یہ ڈری سہمی سی معصوم لڑکی بہت اچھی لگی۔ اور اس نے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا کو کچھ موقف کے بعد اس نے تھام لیا۔ اس کے بعد لیلی کے ساتھ رہتے وہ کچھ حوصلہ مند ہوتی۔ کیونکہ لیلی کسی سے نہ ڈرنے والی ایک بہادر لڑکی تھی۔
لیلی اس کو اپنے گھر لے کر آئی تب ارحان کی نظر اس ڈری سہمی سی لڑکی پر پڑی تو اسکی آنکھوں میں شیطانی چمک آئی۔ اور وہ پہنچ گیا اس کے سر پر۔ اسے تنگ کرنے۔ وہ اسے تنگ کرنے لگا تو نین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس سے پہلے کہ وہ رو دیتی لیلی آگئی۔ جس نے پھر ارحان کی خوب کلاس لی۔ اس کے بعد ایک بار وہ انکے گھر آئی۔ مگر ارحان نے تب بھی نہ بخشا اس بیچاری کو۔ اس کے بعد سے نین ان کے گھر نہ گئی۔ لیلی اسکو بہت اصرار کرتی مگر وہ نہ آتی البتہ لیلی کو ہی انکے گھر جانا پڑتا۔
آج ان کا یونی میں پہلا دن تھا جس کی وجہ سے نین بہت ڈر رہی تھی۔ مگر لیلی کے ہونے کا حوصلہ تھا اسے۔
” اسلام علیکم اذہان بھائی۔” گاڑی میں بیٹھتی وہ دھیرے سے سلام کرتے گئی اذہان کو۔
” وعلیکم اسلام گڑیا کیسی ہو؟” اذہان محبت سے اس کے سلام کا جواب دیتا بولا۔
” میں ٹھیک ہو بھائی آپ کیسے؟” وہ بھی مسکرا کر بولی۔ اپنے بابا کے علاوہ اذہان ہی وہ مرد تھا جس سے وہ نہیں ڈرتی تھی۔ بالکل یوں لگتا تھا جیسے اس کا اپنا ہی بھائی ہو وہ۔ اور اذہان بھی اس کو ہمیشہ لیلی ہی کی طرح دیکھتا۔
” اووو ماڑا میں بھی یہاں بیٹھا ہے مجھے بھی کچھ پوچھ لو۔” کب سے ان کا بہن بھائی کا پیار دیکھتی وہ زچ ہوتی بولی۔جسے بالکل ہی اگنور کر دیا گیا تھا تبھی اس کا بنتا تھا یہ بولنا۔
اس کے یوں بولنے پر اذہان اور نین دونوں ہنس دئے۔
” لو بھئی اس کو بھی پوچھ لو نین ورنہ ہمیں کچا چبا جائے گی یہ۔” اذہان بولا تو وہ بھی ہنستے لیلی کی جانب متوجہ ہوئی یونہی وہ لوگ باتیں کرتے کرتے یونی تک پہنچ گئے۔ نین نے آنکھیں بند کر کر دوبارہ کھول کر سرد سانس ہوا کے سپرد کرتے ہمت کرتے دروازہ کھولا اور باہر آگئی۔
لیلی اس کا ہاتھ تھامتے یونی میں داخل ہوگئی۔



” چلو جی اسفند صاحب مجھے میرا ڈپارٹمنٹ بتا دو تاکہ میں جاوں۔” بائک سے اترتے وہ قدرے غرور سے بولی۔
” ابے اووو یہ حکم کسے دے رہی ہو ہاں۔ تمیز سے بولو پھر بتاوں گا۔” اسفند بھی کچھ زیادہ ہی شوخا ہوتا بولا۔
” نہ بتاو بھئی میں کسی اور سے پوچھ لوں گی۔” کہتی وہ جانے لگی جب اسفند کی آواز پر مڑی۔
” ہاں ہاں جاو لیکن اگر کسی نے پرینک کر دیا نہ تمہارے ساتھ تو رونے نہ بیٹھ جانا وہاں پر۔” اسفند بولا تو مجبورا اسے رکنا پڑا اور پھر بڑی میسنی شکل بنا کر وہ تمیز سے بولی تو اس بار اسفند نے بھی بغیر کسی چوں چراں کہ اسے بتا دیا۔ اور پھر اپنے گروپ کی طرف بڑھ گیا جو کب سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔
” ہائے کیا ہو رہا؟” اسفند بولا۔
” تیرا انتظار۔” ان میں سے ایک بولا۔
” میرا کیوں۔۔۔۔۔۔اچھا ہاں بھئی آج تو نئے نئے سٹوڈنٹس آئے ہیں ہممم اور تم لوگ تو جانتے ہو اسفند سے کوئی بچ نہیں سکتا۔” اسفند فخریہ بولا تو سب نے آئبرو اچکائے اسے دیکھا۔
” وہ دیکھ اسفند وہ لڑکی اگر اس کے ساتھ تو نے پرینک کر دیا نہ تو مان جائیں گے تجھے۔” عادل جو کہ اسفند کا دوست تھا دور سے دو لڑکیاں جو حجاب میں ٹھیں انہیں دیکھ کر بولا تو اسفند نے بھی ان کی جانب دیکھا۔
ایک بار تو کالے رنگ کے حجاب میں چمکتے چہرے کو دیکھ نظر ایک پل کے لئے ساکت ہی ہو گئی مگر پھر سر جھٹک گیا۔
” بس پھر بیٹا پیسے تیار رکھ اور دیکھتے جاو سارے اسفند کبیر کا کمال۔۔۔۔” اسفند کالر جھاڑ کر فخریہ لہجے میں بولا تو سب نے آئبرو اچکائے اسے دیکھا۔
نین تو بہت گھبرا رہی تھی اتنے سارے لوگوں کے بیچ خود کو پاکر مگر لیلی پراعتماد سی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے کر جاتے دلچسپی سے آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہی تھی۔ کہ تبھی اسفند ان کے پاس آیا ۔ تو لیلی نے اچھنبے سے اسے دیکھا۔
” کیا آپ لوگ نیو سٹوڈنٹ ہیں؟” اسفند نے چہرے پر معصومیت طاری کرتے ہاتھ باندھے ادب سے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تو اس کے پورے گروپ کو غشی کا دورہ پڑتے بچا۔ اسفند اور اس قدر مظلوم توبہ۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر لیلی اور نین نے سر ہاں میں ہلایا تو اسفند کی آنکھیں چمک گئی۔
” کیا آپ لوگ میری مدد کریں گی؟” اسفند نے وہی ایکسپریشن چہرے پر سجائے کہا تو لیلی اور نین نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
” ہم تمہارا کیا مدد کر سکتا ہے ماڑا۔۔” لیلی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے کہا تو اسفند نے اس کی اس قدر پیاری اردو پر اسے دیکھا۔ جو بہت کیوٹ لگی رہی تھی یوں بولتے ہوئے۔ اس نے اپنی بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کا گلی بڑی مشکل سے گھونٹا اور ان کی جانب متوجہ ہوا۔
” میں بہت ہی غریب اور لاچار لڑکا ہوں دن رات محنت کرکے میں اپنی یونی کی فیس بھرتا ہوں۔ ابھی بھی میں بہت مجبوری میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ برائے مہربانی میری مدد کر دیں۔” اسفند بولا تو نین کی نظروں میں اداسی اور نمی آ گئی۔ جبکہ لیلی نے بھی افسوس سے اسے دیکھا۔
اسفند کے گروپ نے داد دیتی نظروں سے اسے دیکھا۔
” اوو ماڑا تم فکر مت کرو ۔ ام ہیں نہ یہ یہ لو دس روپے اس سے کچھ کھا پی لینا اور ہاں نشہ مت کر لینا اس سے۔” لیلی نے اپنے پرس سے دس روپے کا نوٹ نکال کر اسے دیا تو اسفند نے صدمے کی کیفیت میں وہ نوٹ تھاما۔
” حج پے نہ چلا جاو ان پیسوں سے۔” اسفند نے طنزیہ نظروں سے اسے گھورا تو لیلی نے مسکراہٹ دبائی۔
” ہاں چلے جانا مگر پہلے کچھ کھا لو پھر جو بچ جائے اس پے حج عمرہ کر آنا ماڑا پریشان کیوں ہوتا ہے۔” لیلی نے اپنا قہقہہ دباتے کہا اور پھر نین کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے چلی گئی۔ جب کے اسفند اب تک اس کی باتوں سے صدمے میں تھا ہوش تو اسے اپنے گروپ والوں کے قہقہوں کی آواز سے آیا تھا۔
” واہ بھئی واہ کیا ہی ہوگیا اسفند صاحب کے ساتھ۔” عادل ہنستا ہوا اس کے زخموں پر نمک چھڑک گیا۔ جو اب تک صدمے سے اپنی ہتھیلی دیکھ رہا تھا۔
” لو بھائی یہ بھی رکھ لو۔” یوں ہی کرتے سب نے بیس ، پچاس کے نوٹ اس کے ہاتھ میں رکھے۔ مگر اسفند نے شرم نہ کھائی۔
” چلو جاتے ہوئے بریانی لے لوں گا۔” اسفند نے ان پیسوں کو اپنے پینٹ کی جیب میں رکھا۔ تو سب نے اسے لعنت بھیجی۔ جس کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ وہ دانت نکالتا ان کو لئے دوسرے سٹوڈنٹس دیکھنے لگا۔ ٹریپ کرنے کے لئے۔


اسفند کے بابا کا نام کبیر جبکہ ماما کا نام سکینہ ہے۔ یہ لوگ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ بابا ایک سرکاری ملازم ہیں۔
شادی کے دو سال بعد اسفند کی پیدائش ہوئی اور پھر دو سال بعد حالے نور کی۔
اسفند تھرڈ سیمسٹر میں تھا۔ جبکہ حالے کا آج پہلا دن تھا یونی میں۔
دونوں میں پیار بے شمار تھا لیکن لڑائی بھی انکی کبھی نا ختم ہوتی۔ ٹھیک ٹھاک بیٹھے ہوتے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے لگ جاتے۔



” لیلی تم نے ایسا کیوں کیا بیچارہ کتنا غریب تھا۔” نین کو اسفندیار کا غم کھائے جا رہا تھا۔ لیلی نے افسوس سے اسے معصوم کو دیکھا جو آرام سے کسی کی بھی باتوں میں آسکتی تھی۔
” ماڑا تم بہت معصوم ہے تم کو نہیں پتہ یہ بڑا بدتمیز لوگ ہوتا ہے۔ پرینک کرتا ہے۔ میں نے ناول میں بھی پڑھا تھا اور حان لالہ نے بھی بتائی تھی کہ وہ بھی یوں لوگوں کو تنگ کرتا تھا۔” لیلی نے اسے سمجھایا تو وہ سمجھتی سر ہاں میں ہلا گئی پھر وہ دونوں کلاس میں داخل ہوگئیں۔
انکو بیٹھے ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک پیاری سی لڑکی حجاب میں آئی اور ان کے آگے والے بینچ پر بیٹھ گئی۔
اس کو بیٹھے کچھ وقت ہوا تو ایک فیشن ایبل لڑکی بغیر دوپٹے کے غرور سے چلتی اس کے پاس آئی۔
” ہےے یو یہ میری سیٹ ہے اٹھو یہاں سے۔” حالے نے سر اٹھا کر اس بدتمیز لڑکی کو دیکھا جو فضول میں اس کے منہ لگنے کی کوشش کر رہی تھی۔
” کیوں تمہارا نام لکھا ہے کیا اور ویسے بھی میں پہلے آئی ہوں۔ جاو جا کر کہیں اور بیٹھ جاو۔” حالے نے اپنی کینچی جیسی زبان کو بمشکل قابو کرتے آرام سے معاملہ رفع دفع کرنا چاہا۔
” مگر مجھے جو جگہ یا جو چیز پسند آجائے تو وہ میری ہو جاتی ہے تو بے بی تم اٹھو۔” سونیا اپنے بالوں کو کندھے سے ہٹا کر منہ بنا کر ناگواریت سے بولی۔ اب کے حالے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھ پائی اور اسی کے ساتھ سونیا کی شامت آگئی۔
” ابےے اوو یہ اپنا دو کوڑی کا سٹیل کے ڈھونگے جیسا منہ لیکر پانچ سیکنڈ میں غائب ہو ۔ ورنہ اتنے چھید کروں گی تیرے میں کہ کباڑ والا بھی لینے سے انکار کر دے گا۔ چل اب نکل پہلے ہی دن میرا دن اپنی فضول بک بک سے خراب نہ کر۔ ” حالے غصے سے اٹھتی اس کو کھری کھری سنا گئی۔
سونیا منہ کھولے اسے سن رہی تھی۔ آج تک کسی نے اس کی بات سے منع نہ کیا تھا ۔ آج حالے نے اسے اچھا خاصا سنا دیا تھا وہ بھی پوری کلاس کے سامنے۔
” جاتی ہے کہ دوں ایک۔” حالے بولی تو سونیا فورا وہاں سے ہٹا اور شرر بار نگاہوں سے اسے گھورا۔ جیسے نظروں سے ہی قتل کردے گی اسے۔
” دیکھ لوں گی تمہیں میں۔” سونیا غصے سے مڑتی بولی۔
” ہاں ہاں شوق سے۔” حالے بھی جوابی کاروائی کرتی بولی۔
سونیا غصے سے کلاس سے نکل گئی۔
” واہ ماڑا تم نے کیا جواب دیا ہے اس کو۔” ابھی وہ بیٹھی ہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے سے آواز آئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو دو پیاری پیاری لڑکیاں نظروں میں ستائش لئے اسے دیکھ رہی تھی۔
” تھینک یو۔” حالے مسکرا کر بولی۔
” ماڑا مجھے تم بڑا اچھا لگا کیا سبق سکھایا اس کو۔” لیلی بولی تو حالے نے اس کی اردو پر مسکراہٹ دبائی۔
” دوست؟” حالے نے ان کی جانب ہاتھ بڑھایا جو دونوں نے ہی بنا کسی دیری کے ملا لیا۔پھر تینوں ہی مسکرا دی۔
جاری ہے۔


