Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 28)Part 3

Meri Pathani by RB Writes

تقریبا ایک لمبا ترین سفر طے کر کے وہ لوگ کشمیر پہنچ گئے۔

سٹیشن سے اتر کر وہ لوگ گاڑی میں بیٹھتے جس کا انتظام وہ لوگ پہلے سے ہی کر چکے تھے اپنے قیام گاہ چلے گئے۔

” سب لوگ کچھ دیر کے لئے آرام کر لو پھر کام شروع کرتے ہیں۔” اسفند جلد از جلد سارا کام ختم کرنا چاہتا تھا مگر ان سب کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار دیکھ کر اس نے ان کے آرام کا سوچتے کچھ دیر کے لئے آرام کرنے کا کہا۔

تو سب لوگ سر ہلاتے فورا سے کچھ دیر کے لئے آرام کرنے کے لئے چلے گئے۔

کچھ گھنٹے آرام کرنے کے بعد وہ سب ایک بار پھر ایک ہی روم میں اکٹھے ہوئے جہاں انہوں نے ازمیر کو رکھا تھا۔

وہ سب سینے پر ہاتھ باندھے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ ازمیر خوفزدہ نظروں سے ان سب کی جانب دیکھ رہا تھا۔

” اس وقت ہم تمہیں جو بولیں وہ تم نے بنا کسی چوں چراں کے بولنا ہے ورنہ پچھلی بار سے زیادہ بھیانک انجام ہوگا تمہارا۔” اسفندیار نے اس خاموشی کو توڑتے سرد آواز میں کہا تو ازمیر نے اپنا تھوک نگلا۔

” اپنے اس ہیڈ کو کال کرو۔ اور کہو کہ تم کشمیر میں ہو۔ اور پھر جو جو ہم بتاتے جائیں وہ سب تم بغیر کسی مزاحمت کے کرتے جانا۔ سمجھے؟” اسفند نے اس کی جانب جھکتے کہا تو اس نے تیزی سے سر ہاں میں ہلایا۔

اس کے ماننے پر اسفندیار نے اس کا فون نکالا جو وہ لوگ قبضے میں لے چکے تھے۔

اور اس کو پکڑایا۔ فون ہاتھ میں لے کر ازمیر نے کپکپاتے ہاتھوں سے جلال کو فون ملایا۔

جلال جو اس وقت کل ہونے والی سمگلنگ کی تیاری کر رہا تھا اپنے فون پر ازمیر کی کال دیکھ حیران ہوا۔

” ہیلو۔” اس نے کال پک کی تو فون سے ازمیر کی ابھرتی آواز اس کے اندر غصے کو بھر گئی۔

اس نے غصے سے فون کو گھورا گویا سامنے ازمیر ہو فون نہیں۔

” کیا ہیلو حرام خور میرے دونوں پلان تم نے خاک میں ملا دئے اوپر سے فون بند کر کے بیٹھے ہو۔ میرے ہاتھ لگ جاو ایک بار تم وہ حال کروں گا کہ سات نسلیں بھی یاد رکھیں گی تمہاری۔ ” اس کے ہیلو بولتے ہی وہ فورا سے اپنے اتنے دنوں کا غصہ اس پر اتارنے لگا۔

” سائیں غلطی معاف ہو سائیں۔ مگر میں نے تو سارا انتظام کروا دیا تھا۔ بم بلاسٹ بھی ہو گیا تھا۔ پتہ نہیں کسی کو کیسے معلوم ہو گیا۔ اب اس میں تو میری کوئی غلطی نہیں ہے نہ سائیں۔”

اسفند کے گھورنے پر خود کو نارمل کرتا وہ جلال کو سمجھانے لگا۔

اور واقعی اس کی بات سن کر جلال سوچ میں پڑ گیا کہ واقعی اس میں ازمیر کی تو کوئی غلطی نہیں تھی۔

” تو پھر تم غائب کہاں ہوگئے تھے اچانک؟” نئی بات یاد آنے پر وہ پھر سے غصے سے دانت پیستے ہوئے بولا۔

” سائیں وہ مجھے اچانک ہی ملک سے باہر جانا پڑ گیا اور فون میرا جلدی میں حویلی میں ہی رہ گیا بس اسی لئے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا۔” ازمیر نے ان کے دیکھنے پر بہانہ بناتے کہا۔

اسفند اور باقی سارے ضبط سے دونوں کی باتیں سن رہے تھے۔ سب کا بس نہیں چل رہا تھا کہ فون میں سے گھس کے اس کو مار دے۔

” ہممم۔” ازمیر کی بات سن کر جلال بس اتنا ہی بولا۔

” سائیں میں کشمیر آیا ہوا ہوں۔” اسفندیار کے اشارہ کرنے پر وہ مدعے کی بات پہ آتے بولا۔

اس کی بات سن کر جلال کے ماتھے پر بل پڑے۔

” کیوں کشمیر کیا کرنے آئے ہو تم؟” جلال نے کھردرے لہجے میں پوچھا۔

” کچھ نہیں سائیں وہ میٹنگ تھی میری۔ اگر آپ کے لائق کوئی کام ہو تو وہ بتا دیں۔” ازمیر کافی ہوشیاری سے اس کو اپنی باتوں میں لا رہا تھا۔

جلال کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ جس پر اس نے سب سے زیادہ اعتماد کیا وہ اپنی زندگی کے لئے اس کے راز فاش کر رہا ہے۔

” نہیں فلحال مجھے تمہاری کوئی مدد نہیں چاہئے۔ کل ہم نے تین سو لڑکیوں کی سمگلنگ کرنی ہے۔ جس کا کام میں خود دیکھ رہا ہوں۔” جلال کی بات پر وہ سارے الرٹ اور حیران ہوئے۔ سب کی رگیں غصے سے تن گئی۔

اسفند فورا تیزی سے ازمیر کے قریب آیا اور اس کو اشاروں میں اپنی بات سمجھانے لگا جو کچھ حد تک ازمیر کو سمجھ آگئی۔

” سائیں میں اپنے ایک آدمی کو بھیج دیتا ہوں۔ کافی زیادہ ذہین اور بھروسے والا ہے۔ اس کے ہوتے آپ کو کوئی کام کرنے کی زحمت ہی نہیں پڑے گی۔” ازمیر نے کہا تو جلال سوچ میں پڑ گیا۔

” نن۔نہیں رہنے دو میں خود دیکھ لوں گا۔” جلال کا دل راضی نہ ہوا تبھی اس نے انکار کرتے کہا۔

” ارے سائیں اپ خود دیکھ لیجیے گا اسے کافی زیادہ عقلمند ہے۔ سارے کام چٹکیوں میں کردے گا۔” ازمیر نے ایک بار پھر کوشش کی اور اس بار اس کی کوشش رائیگاں نہیں گئی۔

” امم چلو ٹھیک ہے پھر صبح کے سات بجے بھیج دینا اسے۔ کیونکہ دن کے ایک بجے ان سب کو بھیجنا بھی ہے۔ ایڈریس میں تمہیں میسج کر دیتا ہوں۔” جلال ناچاہتے ہوئے بھی پتہ نہیں کیوں مان گیا۔

” جی سائیں چلے ٹھیک ہے۔” اتنا کہہ کر اس نے کال کٹ کر دی اور پھر اسی منٹ میں اس کا ایڈریس بھی ان کے سامنے تھا۔

سب بے حد خوش تھے اور ان کی خوشی ان کے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔

” بس اب کل انشاءاللہ سے ہمارے مشن کا آخری دن ہوگا۔ کل ہم نے ان سب لڑکیوں کو نکالنا ہے اور کسی بھی صورت جلال کو بھی پکڑنا ہے۔ ” اسفندیار نے مسکراتے کہا۔

وہ کافی خوش تھا کہ یہ مشن اتنا بھی مشکل نہیں تھا جتنا انکو لگا تھا۔

ان کو لگا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ جلال کو کنوینس کرنا ہوگا مگر یہاں تو اللہ نے سب آسان کردیا تھا۔

بےشک وہی مددگار ہے۔

” بس پھر اب کل صبح میں جاوں گا وہاں اور تم سارے گیارہ بجے تک وہاں پر حملہ کر دینا میں تم لوگوں کو ساری رپورٹ دیتا رہوں گا۔ ” اسفند نے کہا تو سب راضی ہوئے۔

اب بس سب کو کل کا انتظار تھا۔ کل یا تو ان کی جیت ہوتی یا پھر ان کی موت۔۔۔۔۔۔۔

پاک فوج کے بہادر جوانوں کی لازوال قربانیوں کے باعث پاکستان امن کا گہوارہ بنا ہے۔

کوئی عید ہو یا تہوار، پاک فوج کے جری سپوت اپنی خوشیوں پر عوام کی خوشیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

ایک ملک تب مضبوط ہوتا ہے جب اس کی عوام اور افواج کندھے سے کندھا ملا کر چلتے ہیں۔

پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے۔ امن کسی بھی ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لیے ضروری ہے۔

وطن سے محبت ہمارا خاصہ ہے۔ پاکستان ہم سب کا ہے اور ہم سب اس کے رکھوالے ہیں۔

🔺️
🔺️

اگلی صبح آگئی تھی جس کا ان سب کو انتظار تھا۔

وہ سارے چھ بجے سے تیار تھے۔ اسفندیار نے سارا کچھ ان کو سمجھا دیا تھا۔ کہ وہ کیسے اینٹر ہوگا اور پھر اپنا سامان کیسے لے کر جائے گا سارا کچھ وہ ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کر چکے تھے۔

اسفندیار نے اپنا حُلیہ کچھ حد تک بدل لیا تھا۔ کہ وہ یوں ہی لگے جیسے ازمیر کے خاص آدمی ہوتے۔

ازمیر کے فون سے وہ لوگ اسفندیار کا حلیہ اور باقی کی باتیں جلال کو میسج کر چکے تھے کہ بعد میں کوئی مسئلہ نہ پیش آئے ان کے لئے۔

جو جگہ جلال نے بتائی تھی وہ ایک سنسان علاقے میں تھی۔ جس کا فاصلہ ان کے موجودہ جگہ سے تقریبا بیس منٹ کے فاصلے پر تھا۔

تبھی وہ لوگ گھنٹہ پہلے ہی ریڈی ہو چکے تھے۔ کہ بالکل وقت پر جا کر وہ جلال کے اوپر مزید اچھا امپریشن ڈال سکتا تھا۔

” اوکے تو اب میں چلتا ہوں باقی تم سب میرے لئے دعا کرنا اور الرٹ رہنا۔ کسی کو میری کوئی بات بری لگی ہو تو معاف کر دینا باقی اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔” اسفندیار کے نرم لہجے میں بولی گئی بات سن کر سب کے دل میں اس کے لئے عزت مزید بڑھ گئی۔ اور سب نے سچے من سے اسے دعائیں دی۔

” یقینا میرا مددگار تو وہ اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل کی۔ اور صالح بندوں کا وہی پشت پناہ ہے۔”

سورت الاعراف 196

سب سے ملتا وہ وہاں سے نکل گیا۔ اور ایک بس میں بیٹھ کر وہاں گیا۔سارے راستے وہ اپنے کرنے والے پلان کے بارے میں سوچنے لگا۔

وہ کہیں سے بھی ایک چھوٹی سی غلطی بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

اس کی ایک چھوٹی سی غلطی ان کے اتنے دنوں کی محنت کو ختم کر سکتی تھی۔

تبھی وہ ایک ایک چیز پر غور و فکر کر رہا تھا۔ کہ کہیں سے بھی جلال کو اس پر شک نہ ہو جائے۔

🔺️
🔺️

بیس منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ اپنے مطلوبہ پتہ پر پہنچ چکاتھا۔ وہاں پر آکر وہ گہری نگاہوں سے اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا۔

اس نے سامنے دیکھا جہاں سے دو آدمی ہاتھ میں بندوق تھامے اس کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اس نے فورا سے خود کو کمپوز کیا۔ اور یوں ظاہر کرانے لگا جیسے وہ واقعی ہی ازمیر کا آدمی ہو۔

” تم ہو وہ۔۔۔؟” ان آدمیوں کو جیسے پہلے ہی اس کی آمد کے بارے میں بتا دیا تھا اور اس کا حلیہ دیکھ انہیں یقین ہوگیا کہ یہ وہی ہے جس کو ازمیر نے بھیجا ہے۔

” جی جی سائیں ہم ہی ہے وہ جس کا تم کو انتظار ہے یارا۔” اپنا لہجہ تبدیل کرتے وہ شوخ ہو کر بولا۔

ان دو آدمیوں نے ناگواری سے اسے دیکھا۔

” تلاشی دو اپنی۔” انہوں نے سخت لہجے میں کہا تو اس نے اپنے بازو پھیلائے۔ جب ان دونوں نے تسلی کر لی تو وہ پیچھے ہٹ گئے۔

موبائل فون وہ اس کے پاس دیکھ چکے تھے۔ مگر جلال ازمیر کے آدمی پر اتنا تو بھروسہ کر ہی سکتا تھا کہ اسے موبائل فون الاو کردے۔

تبھی انہوں نے اسے کچھ نہیں بولا۔

اس نے بلوٹوتھ کنیکٹ کئے تھے جس سے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔

جب وہ اندر داخل ہوا تو ایک ایک چیز ایک ایک راستے کو باریکی سے دیکھنے لگا۔ اور ظاہر یوں کروا رہا تھا جیسے اسے ان سب میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔

کچھ دور چل کر وہ آدمی اسے ایک کمرے کے پاس لے کر آئے۔ اور اس کو اندر جانے کا اشارہ کرنے لگے۔ اور خود باہر پہرہ دار کی طرح کھڑے ہوگئے۔

اسفندیار بھی ان کے کہنے پر کندھے اکچا کر اندر کی جانب بڑھ گیا۔

اندر آیا تو جلال ایک کرسی پر آنکھیں موندے لیٹنے کے انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔

اس کو دیکھ اسفندیار کی آنکھوں میں نفرت ہی نفرت بڑھ گئی۔ مگر ابھی اسے خود پر قابو کرنا تھا۔ تبھی خود کو نارمل کیا۔

” سلام سائیں۔” اسفند اس کے قریب جا کر ہاتھ باندھے سر جھکا کر کھڑا ہوگیا۔

اس کی آواز سن کر جلال نے دھیرے سے آنکھیں وا کر کے اسے دیکھا۔ اور گہری نظروں سے اس کا جائزہ لینے لگا۔ مگر اسے اسفند کے اندر کچھ بھی مشکوک نہیں لگا تبھی وہ مطمئن ہو گیا۔

” ہممم تو تم ہو ازمیر کے وہ آدمی۔۔؟ نام کیا ہے تمہارا؟” جلال نے اسے دیکھ پراسرار لہجے میں کہا۔

” سائیں ویسے تو سب پیار سے شانو بلاتے ہیں مگر میرا اپنا نام کاشف ہے۔” اسفند نے اپنے لہجے کو بالکل نارمل رکھتے کہا حالانکہ اس وقت وہ کیسے خود پر قابو کئے ہوئے تھا یہ وہ ہی جانتا تھا۔

” ہممم شانو تو تم نے اب پوری احتیاط کے ساتھ سارا کام کرنا ہے۔ میرے آدمی تمہیں بیسمنٹ تک لے جائیں گے۔ وہاں پر موجود لڑکیوں کو تم نے آنے والی گاڑیوں میں بٹھا کر آرام سے اس خفیہ رستے تک لے کر جانا ہے۔ اور یاد رہے کوئی ہوشیاری مت کرنا۔۔۔”

جلال نے اسے سارا کام بتایا جو وہ سنجیدگی سے سنتا رہا۔ آخر میں جلال کے لہجے میں موجود وارننگ وہ محسوس کر گیا تبھی سر ہلا کر اس کے اشارہ کرنے پر وہاں سے چل دیا۔

وہاں سے نکلنے کے بعد وہی دو آدمی اس کو بیسمنٹ کی طرف لے گئے جہاں وہ لڑکیاں قید تھی۔

بیسمنٹ میں آکر تو مانو اس کا خون کھولنے لگ گیا۔

دل کیا ان سب کی چمڑیاں اکھیڑ کر رکھ دے اور ایسی ظالم موت مارے کہ انکی روح بھی کانپ اٹھے۔

مگر ابھی وہ یہ سب نہیں کر سکتا تھا۔ اسے صحیح وقت کے آنے کا انتظار کرنا تھا۔

بیسمنٹ میں موجود ساری لڑکیاں ایک دوسرے میں سمٹی روتی اپنے لئے خیر مانگ رہی تھی۔ جبکہ ان سب مردوں کی گندی ہوس بھری نظریں ان کے وجود میں گڑھی ہوئی تھی۔

اسفندیار بمشکل ہی یہ سب برداشت کر پا رہا تھا۔

“اور یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو کچھ یہ ظالم کرر ہے ہیں، اللہ اُس سے غافل ہے۔وہ تو ان لوگوں کو اُس دن تک کے لئے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔”

‏﴿سورۃ ابراہیم، ۴۲﴾

ان سب کو دیکھ اسفندیار کے دماغ میں قرآن کی یہ آیت آئی تو دل اللہ کی موجودگی کو محسوس کر کے مطمئن ہوا۔

جو کچھ بھی تھا اللہ تو دیکھ رہا تھا نہ۔

وہ تو ان سب سے غافل ہرگز نہ تھا۔ اور دنیا کے عذاب سے زیادہ بھیانک اور خطرناک ہے جہنم کا عذاب۔

” اور ہم نے جہنم کے لئے پیدا کئے ہیں بہت سے جن اور انسان۔ ان کے دل تو ہیں لیکن ان سے غور نہیں کرتے۔ ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں مگر ان سے سنتے نہیں یہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غافل ہیں۔”

سورت اعراف (آیت 179)

ایک اور جگہ پر ہے:

ترجمہ

“ہاں جس نے منہ پھیرا اور کفر کیا۔ تو اسے اللہ بہت بڑا عذاب دے گا۔ بیشک ہماری ہی طرف ان کا لوٹناہے۔ پھر بیشک ہم پر ہی ان کا حساب (لینا) ہے۔”

ان سب کے انجام کو سوچ کر وہ خود ہی مطمئن ہوتاجا رہا تھا۔

پھر وہ دھیرے دھیرے ان لوگوں کے ساتھ مل کر ان کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرنے لگا۔

🔺️
🔺️

” عادل تیار ہو تم لوگ۔؟” اسفند نے اپنے کام میں لگے دھیمی آواز میں اپنے ساتھ کنیکٹ ہوئے عادل سے سوال کیا۔

” ہاں ہم تیار ہیں اور کچھ ہی قدم کی دوری پر ہیں۔” عادل نے گیٹ پر کھڑے دو پہرے داروں کو دیکھتے کہا۔

وہ سب اس وقت پوری تیاری کے ساتھ کھڑے تھے۔

” ٹھیک ہے پھر ابھی اٹیک مت کرنا جب میں تمہیں کہوں تبھی۔” اسفند نے نظریں ادھر ادھر گھماتے کہا۔

” چلو صحیح ہے۔ ہمیں انتظار ہے۔” عادل کی بات سن کر اس نے گہرا سانس بھرا اور موقع کی تاک میں رہنے لگا۔

ابھی وہ کچھ کرتا کہ اسے دور سے جلال اپنی جانب آتا دکھا۔

اسے دیکھ اسفندیار فورا چوکنا ہوا اور خود کو سنبھالتا سیدھا ہوتا کام کی جانب متوجہ ہوا۔

” ارے سائیں آپ کیوں آئے یہاں پر مجھے بلا لیا ہوتا اگر کوئی کام تھا تو۔” اسفند نے اس کو دیکھتے مصنوعی خوشدلی سے کہا۔

” ارے نہیں میں بس کام دیکھنے آیا تھا۔ ویسے ازمیر نے صحیح تعریف کی تھی تمہاری کافی ذہین ہو تم۔ کچھ ہی دیر میں سارا کام سنبھال لیا ہے۔” جلال نے دل سے اس کی تعریف کرتے کہا۔ وہ واقعی ہی اسفندیار کے کام سے متاثر ہوا تھا۔

” ارے نہیں سائیں یہ تو آپ کا بڑا دل ہے ورنہ میں کہاں اتنااااا۔” اسفند نے مسکراہٹ سجائے کہا۔

” چلو اب تم لوگ دھیرے دھیرے لڑکیوں کو ٹرک میں ڈالتے جاو۔ وقت کم رہ گیا ہے۔ جلدی جلدی کام شروع کرو۔” جلال نے وقت دیکھتے جلدبازی میں کہا۔

اسفندیار نے نفرت سے اس کے گھٹیا وجود کو دیکھا۔

جلال اس کو کام کا بول کر وہاں سے چلا گیا۔ جبکہ اسفندیار نے ایک بار پھر سارے لوگوں کو دیکھا جو اس وقت کام کی وجہ سے الرٹ نہیں تھے۔

سب اس وقت میں مصروف تھے۔ کسی کے بھی ذہن میں یہ بات نہیں تھی کہ کوئی اچانک ان پہ حملہ کر دیگا۔

اسفندیار کو یہی موقع لگا ان پہ اٹیک کرنے کا۔

” عادل پانچ منٹ کے اندر اندر اٹیک کرو۔” اسفند نے ہلکا سا سائڈ پہ ہٹتے کہا۔

عادل اس کی بات سن کر فورا الرٹ ہوا۔ اور اپنے باقی ساتھیوں کو اشارہ کیا۔

عادل اور ارحان نے فورا سے سامنے کھڑے دو پہرے داروں کا نشانہ باندھے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور فورا سے تیزی سے آگے بڑھ کر اس گیٹ سے اندر چلے گئے۔

جلال کے آدمیوں نے جب کچھ لوگوں کو اندر آتے دیکھا تو ان پر حملہ کرنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی ان کے بندوق سے نکلتی گولیوں ان کے وجود میں دھنس گئی۔

عادل نے دور سے اسفندیار کو دیکھا۔ اور فورا بچتے بچاتے اس کے تھوڑا قریب ہوتے ایک بندوق جو وہ اسفندیار کے لئے لایا تھا اس کی جانب پھینک دی۔

اسفندیار نے تیزی سے بندوق تھام کر ان کا ساتھ دینا شروع کیا۔

جلال نے جیسے ہی گولیوں کی آواز سنی تو فورا گھبراتے وہ باہر آیا۔ باہر کا منظر دیکھ اس کی آنکھیں پھٹنے کے حد تک پھیل گئی۔

اس نے نظریں گھما کر جب اسفند کو دیکھا تو وہ اسے اپنے ہی آدمیوں کو مارتے نظر آیا۔

یہ سب دیکھ کر اس کا سر چکرا گیا۔

اس نے تیزی سے بھاگنے کی کی۔ اس نے جیسے ہی اپنے قدم موڑے اسفندیار کی نظر اس پر پڑ گئی۔

اس کو بھاگتے دیکھ اسفندیار کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ آگئی۔ اس نے فورا سے اسکی ٹانگ کا نشانہ باندھا اور اس کی ٹانگ پر فائر کر دیا۔

گولی لگتے اس کے منہ سے دلخراش چیخ نکلی اور وہ لڑکھڑا کر زمین پر گر گیا۔

اس کے پاوں سے خون نکلنا شروع ہوگیا۔

اس کے گرتے ہی دو آفیسرز نے اسے گھیر لیا۔ اور باقیوں نے ان سب لوگوں کو جہنم واصل کر دیا۔

ایک نظر سب نے اردگرد ڈال کر مطمئن سی مسکراہٹ لئے ایک دوسرے کو دیکھا۔

یک دم سب زمین پر بیٹھ کر اللہ کے حضور سجدہ میں گر گئے۔ اللہ کا شکر ادا کرنے لگے جس نے انہیں فتح نصیب کی تھی۔ جلال ساکت سی نگاہوں سے سب کو دیکھ رہا تھا۔

” اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں فتح نصیب کی۔ اور برائی کو ختم کرنے کا ایک ذریعہ بنایا۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا ہے۔ ” اسفندیار نے مسکراتے کہا۔ اس وقت وہ سب بے حد خوش تھے۔

” سر اب اس کا کیا کرنا ہے؟” ان آفیسرز نے جلال کی جانب دیکھتے کہا جو بہت خوفزدہ لگ رہا تھا۔

” سب سے پہلے تو ان سب لڑکیوں کو نکالو اور بحفاظت ان کے گھر پہنچانا ہے ہمیں اور باقی اس کو اور ازمیر کو آئی ایس آئی کی دوسری ٹیم کے حوالے کر دیں گے باقی وہ جانے اور یہ جانے۔” اسفند نے اس کے وجود کو نفرت سے دیکھتے مزے سے کہا۔

جبکہ آئی ایس آئی کے نام پر جلال کی آنکھیں پھٹنے کے حد تک پھیل گئی۔ اسے اب اپنا انجام واضح دکھ رہا تھا۔

اس دیس میں لگتا ہے عدالت نہیں ہوتی

جس دیس میں انسان کی حفاظت نہیں ہوتی

مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو

سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی

ہر شخص سر پر کفن باندھ کے نکلے

حق کے لئے لڑنا تو بغاوت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *