Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 21)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 21)
Meri Pathani by RB Writes
” اسلام علیکم۔” حالے نے گھر میں داخل ہوکر اونچی آواز میں سب کو سلام کیا۔
” کس کے ساتھ آئی ہے تو؟” پروین بیگم غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولی تو حالے نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا۔
” کیا مطلب کس کے ساتھ آئی ہوں؟” حالے نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتے کہا۔
” زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں سمجھی چپ چاپ بتا کہ کس کے ساتھ آئی ہے؟” پروین بیگم نے حالے کو ذوہان کی گاڑی سے اترتے دیکھ کر کہا۔ وہاں سے تھوڑی بہت ذوہان کی شکل بھی نظر آرہی تھی۔ تبھی وہ آگ بگولا بنے اس سے سوالات کر رہی تھی۔
ان کے بیچ ہوتی باتوں کی آواز سن کر سکینہ بیگم کچن سے نکل آئی۔
” کیا ہوا ہے آپا؟” سکینہ بیگم نے پروین بیگم کو حالے کو گھورتے دیکھ کر ناسمجھی سے پوچھا۔
” ارے پوچھو اپنی اس لاڈلی کس کے ساتھ منہ اٹھا کر آرہی ہے۔ پڑھنے جاتی ہے یا رنگ رلیاں منانے۔” پروین بیگم اپنی زہریلی باتوں سے حالے کا دل چھلنی کر رہی تھی۔
” بس کر دیں پھپھو۔ کچھ بھی بولیں مگر کبھی بھی میرے کردار کو لے کر کوئی بات مت کیجئے گا کیونکہ مجھے اس کے خلاف بولنا اچھی طرح آتا ہے۔ تو دھیان رکھئیے گا آئندہ سے۔” حالے ان کو دیکھ انتہائی غصے سے بولی۔
ظاہر سی بات تھی کون لڑکی ہوگی جو اپنے کردار کو لے کر کوئی بات برداشت کر جائے۔ ایسے الفاظ تو روح پر اثر کرتے ہیں۔ بولنے والوں کا کچھ نہیں جاتا سہنے والے کمال کر جاتے ہیں۔
حالے غصے سے بول کر وہاں سے چلی گئی۔ سکینہ بیگم نے اسے نہیں روکا کیونکہ پروین بیگم کی ان باتوں کا انہیں بھی بہت برا لگا۔ حالے کے جاتے وہ ان پر ایک افسوس بھری نظروں ڈال کر وہاں سے چل کر حالے کے پاس آگئی۔
” ماما میں اپنی دوست کے ساتھ آئی ہوں اسف۔۔۔۔” حالے نے آنکھوں سے سکینہ بیگم کو صفائی دیتے ہوئے کہا کہ سکینہ بیگم اسے بیچ میں ہی روک گئی۔
” بس میری بچی مجھے پتہ ہے مجھے اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ ہے۔” سکینہ بیگم اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے پیار سے بولی تو حالے نم آنکھوں سے مسکرا دی اسے اپنی امی سے یہی امید تھی۔
” تھینک یو امی ۔” حالے انہیں گلے لگا کر بولی تو سکینہ بیگم مسکرا دی۔
” اچھا یہ بتاو اسفند کہاں ہے؟” سکینہ بیگم نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔
” امی اسے ضروری کام تھا تو بس اسی لئے اس نے مجھے کہا کہ میں لیلی کے ساتھ چلی جاوں۔” حالے نے انہیں اسفند کی بات بتائی تو وہ سر ہلا گئی۔
” اچھا تم فریش ہوجاو میں کھانا لگاتی ہوں۔” سکینہ بیگم بول کر وہاں سے چلی گئی اور حالے بھی گہری سانس خارج کرتی باتھروم چلی گئی۔
♡●●♡![]()
” چل جلدی کر بیٹھ جا ۔” اسفند بائک سٹارٹ کرتے ہوئے بولا۔
” ہاں بیٹھ رہا ہوں نہ صبر کر۔” عادل نے بیٹھتے کہا۔
” صبر ہی تو نہیں کر سکتا یار۔” اسفندیار نے کہا اور ساتھ ہی بائک کی رفتار خطرناک حد تک بڑھا دی۔
بائک کی تیز رفتاری ہی وجہ سے وہ آدھے گھنٹے کا راستہ پندرہ منٹ میں طے کر چکے تھے
وہاں پر پہنچ کر وہ تیزی سے بائک سے اترے اور اندر چلے گئے۔
وہ ایک پیارا سا گھر تھا۔ جہاں داخل ہوئے۔ اندر جانے کے بعد وہ لوگ سیدھا بیسمنٹ میں گئے۔ جس کا دروازہ کچھ یوں تھا کہ کسی کو لگے ہی نہ کہ یہ ایک دروازہ ہے اور اس کے اندر ایک الگ ہی جہاں آباد ہے۔
وہ لوگ نیچے آئے تو وہاں پر ایک میز پر سب آفیسرز بیٹھے نظر آئے جو شاید انہی کہ انتظار میں تھے۔
” اسلام علیکم سر۔” اسفند اور عادل نے وہاں جا کر انہیں سلیوٹ کیا اور سیدھے کھڑے ہوگئے۔
” وعلیکم اسلام۔” ان کے آفیسر نے کہہ کر ہاتھ کا اشارہ کیا جس کا صاف مطلب تھا کہ سارا کچھ بتایا جائے۔ اسفند نے ان کا اشارہ دیکھ سر ہلایا۔
” سر آج میں نے پرنسپل کے آفس کا اچھے سے معائنہ کر لیا ہے اور مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ ڈرگز وہی پر ہیں اور ہمیں یہ بھی خبر مل گئی ہے کہ آج رات وہ لوگ وہاں سے ڈرگز سمگل کرنے والے ہیں۔” اسفند نے سنجیدگی سے انہیں ساری بات سے آگاہ کیا۔
” تو اب کیا پلین ہے ایجنٹ اسفندیار۔” آفیسر نے ساری باتیں تفصیل سے سننے کے بعد کہا۔
” سر تو میں چاہتا ہوں کہ ہماری ٹیم تیار رہے آج رات ان پر اٹیک کر کہ ہم کو پرنسپل کو پکڑنا چاہیے ہمیں کافی کچھ جاننے کو مل سکتا ہے اس سے۔” اسفند نے اپنا دماغ چلاتے کہا تو آفیسر سر ہلا گئے۔
” اوکے دین ریڈی رہیے گا پھر۔” آفیسر نے کہا۔
” تھینک یو سر ۔” اسفند نے جھک کر انہیں شکریہ کہا اور پھر رات میں کرنے والے اٹیک کے بارے میں سوچنے لگا۔ وہ ایسی کوئی بھی غلطی ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا جس کی وجہ سے دشمن ہلکا سا بھی موقع پالے ہوشیار ہوجانے کا۔


اسفندیار نے بارویں کے بعد ہی آرمی جوائن کر لی تھی۔ حالے کو ہمیشہ سے ہی یہ خواہش رہی تھی کہ اس کا بھائی ایک آرمی آفیسر ہو۔
حالے جب تین سال کی تھی تب سے ہی وہ ایسے بیمار پڑ گئی تھی کہ چلنے پھرنے نہیں ہوتا تھا اس سے۔ تقریبا تین سال اس نے اسی طرح اس بیماری میں گزار دئے۔ حالے کی صحت یابی پر سب بہت زیادہ خوش تھے۔
اسفند نے جب آرمی جوائن کی تب خوشی سے حالے کے پاوں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔ اب وہ کسی کو بھی آرام سے ڈرا دھمکا سکتی تھی کہ اس کا بھائی ایک آرمی آفیسر ہے۔
عادل سے دوستی اس کی آرمی میں ہی ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں پکے دوست بن گئے تھے۔
آرمی میں اپنی قابلیت کی وجہ سے اس نے اور عادل نے ایجنسی میں ٹیسٹ دیا۔ اور خوش قسمتی سے وہ دونوں ہی سیلیکٹ ہوگئے۔
مگر یہ بات اس نے اپنے گھر والوں سے چھپا کر رکھی تھی۔ سب کو یہ تو پتہ تھا کہ اسفندیار آرمی میں ہے مگر یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ ایک سیکریٹ ایجنٹ ہے۔
جب سے میرب کو پتہ لگا تھا کہ اسفند ایک آرمی آفیسر ہے تب سے وہ اس کے پیچھے پڑ گئی تھی۔
ورنہ یہی اسفند تھا جب وہ کچھ بھی نہیں تھا وہ اس کو منہ نہیں لگاتی تھی اور اب یوں پاگلوں کی طرح اس کے آگے پیچھے گھومتی تھی۔
اور اس کی اسی خودغرضی سے اسفندیار کو نفرت تھی۔
ایجنسی میں شامل ہونے کے بعد اسفندیار کو اس یونیورسٹی میں مشن ملا۔ جو اس نے خوشی سے قبول کیا۔ یہاں ایک سال سے وہ لوگ تھے۔ اور مشن کے ساتھ ساتھ وہ فائدہ اٹھا کر پڑھ بھی لیتے تھے۔ اور ساتھ ساتھ مستیاں بھی چلتی رہتی۔
جو بھی ڈرگز کا کام کروا رہا تھا وہ کچھ زیادہ ہی شاطر تھا شاید کہ ایک سراغ نہ چھوڑتا مگر اسفند نے ہر ایک بات دھیرے دھیرے جان لی۔ اور آج وہ پرنسپل کو پکڑنے والے تھے۔
♡●●♡![]()
” ارحان دیکھ دوست نہیں ہے میرا۔۔۔” سمیر معصوم سا منہ بنا کر اسے بولا تو ارحان نے مسکراہٹ دبائی۔ اسے سمیر کی یہ حالت کافی مزہ دے رہی تھی۔
حالانکہ وہ تو خود ایسے دور سے گزر رہا تھا اسے تو سمجھنا چاہیے تھا مگر وہ دوست ہی کیا جو تنگ نہ کرے۔ تبھی ارحان آج اسے کافی سارا تنگ کر رہا تھا۔
” تجھے شرم آنی چاہیے ایک بھائی سے تو اس کی بہن سے ملنے کو کہہ رہا ہے۔ ” ارحان نے اسے گھورتے شرم دلانی چاہی مگر دل ان معاملوں میں کچھ زیادہ ہی بےشرم ہوتا ہے۔
نہ عمر دیکھتا ہے نہ وقت دیکھتا ہے نہ حالات دیکھتا ہے۔
دیکھتا ہے تو بس اپنے محبوب کی جھلک جو اسے ہر حال میں چاہیے ہوتی ہے۔
” تو مان رہا ہے کہ نہیں؟ ورنہ میں ناراض ہو رہا ہوں۔” سمیر نے آخری حربہ آزماتے ہوئے کہا۔
ارحان کے ہونٹ مسکرانے کو بےچین تھے۔ اور اب سمیر کی بات سن وہ مزید خود پر قابو نہ پایا۔ تبھی دھیما سا ہنس دیا۔
” اچھا ٹھیک ہے یہ لے یہ لسٹ یہ سارا سامان لے لے۔ ہمارا پتہ نہیں کہ کب واپس آئیں تو جا یہ لے لے اور شکیل چاچا کو دے آ۔ اور ہاں جلدی آجانا۔” ارحان نے کہا تو سمیر خوشی سے پھولے نا سمانے لگا۔
” تھینک یو تھینک یو سو مچ یاررر۔” سمیر اس کے گلے لگ کر بولا اور تیزی سے وہاں سے چلا گیا۔
” پاگل۔” اس کے جانے کے بعد ارحان مسکرا کر منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔
♡●●♡![]()
زینب اس وقت گھر میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ جسے آن کرنا اور آف کرنا ارحان سکھا کر گیا تھا۔
اسے بہت مزہ آتا تھا ان میں لگتے ٹی وی سیریل دیکھتے۔
اب بھی وہ دلچسپی سے کوئی ڈرامہ سیریل دیکھنے میں مگن تھی کہ دروازے کی بیل بجی۔
اس کا دل کیا کہ جا کر نہ کھولے مگر پھر جا کر اٹھی اور دروازہ کھولا۔ دروازہ کھولا تو سامنے سمیر کھڑا تھا۔
سمیر جو سارے راستے یہی دعا کرتا آیا تھا کہ دروازہ کھلتے ہی پہلے دیدار زینب کا ہو۔ اور اس کی قسمت کافی اچھی تھی کہ اس کی یہ دعا بھی قبول ہو گئی تھی۔
زینب نے سمیر کو اپنے سامنے پاکر گھبرا کر نظریں ادھر ادھر گھمائی۔
” شکیل چاچا کدھر ہے؟” سمیر نے اسے نظریں ادھر ادھر گھماتے دیکھ کر کہا۔
” وہ ابا ساتھ والی مسجد میں نماز پڑھنے گئے ہیں اور اماں یہ قریب والے گھر گئی ہے۔ بلا لاوں؟” زینب نے کہتے آخر میں پلکیں جھپکاتے معصومیت سے کہا۔
اس کی اس ادا پر سمیر اپنا دل تھام کر رہ گیا۔
” آآآ نہیں کوئی ضرورت نہیں اس کی میں تو یہ سامان دینے آیا تھا جو ارحان نے بھجوایا ہے۔” سمیر نے اپنے ہاتھ میں موجود تھیلے اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔
” اچھا آپ اندر آجائیں۔” زینب نے اس کے ہاتھ میں موجود سامان دیکھ کر راستہ دیتے ہوئے کہا تو سمیر اندر آگیا۔
” بس یہی پر رکھ دیں۔” زینب نے اسے دروازے کے قریب ہی سامان رکھنے کو کہا تو اس نے اس کی فرمانبرداری کرتے وہی پر رکھ دیا۔
” چائے لاوں آپکے لئے۔” اس کو لاونج کے صوفے پر بیٹھتے دیکھ اس نے سوال کیا۔ تو سمیر نے اس کی جانب دیکھا جو اس کو ہی دیکھتی اپنے سوال کا جواب ڈھونڈ رہی تھی۔
” نہیں مجھے چائے نہیں چاہیے بس دو میٹھے بول ہی کافی ہونگے۔” سمیر نے اس کی جانب دیکھتے گھمبیر لہجے میں کہا کہ زینب کا دل ایک پل کو سمٹا۔
“جی۔۔۔؟” زینب نے کہا۔
” کچھ نہیں آپ بیٹھ جائیں۔” سمیر نے مسکرا کر کہا تو زینب جھجھکتے اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی۔
سمیر یک ٹک اس کی جانب دیکھتا اپنے آپ کو سیراب کر رہا تھا۔
جبکہ زینب اس کی بے باک نگاہوں سے گھبرا کر نیچے دیکھتے اپنی انگلیوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ لوگ کوئی بات شروع کرتے دروازہ ناک ہوا۔ دروازے کی آواز سن کر زینب دوڑ کر گئی تو سمیر گہری سانس بھر گیا کہ اس سے فرار ہونے کو وہ کیسے تیار رہتی تھی۔
زینب واپس آئی تو وہ اکیلی نہیں تھی شکیل صاحب بھی ساتھ تھے پھر کچھ ہی وقت میں شکیل صاحب کی بیوی بھی وہاں آگئی۔ سمیر کچھ دیر وہاں پر بیٹھا ان کے ساتھ باتیں کرتا رہا اس کے بعد وہاں سے چلا گیا۔
