Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 23)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 23)
Meri Pathani by RB Writes
اسفندیار صبح چھ بجے اٹھا اور جلدی سے تیار ہوا اور خاموشی سے بنا کوئی آواز پیدا کئے گھر سے خاموشی سے نکل آیا۔ بائک کو تھوڑا سا آگے لے جاکر سٹارٹ کیا اور وہاں سے تیزی سے نکلتا چلا گیا۔
تقریبا پندرہ منٹ کی مسافت کے بعد وہ ایک گھر کے قریب آکر رکا جہاں کوئی گنے چنے ایک دو گھر تھے وہ بھی کافی فاصلے پر تھے۔
گھر کے قریب رکنے پر وہ بائک سے اترا اور گنگناتے ہوئے گھر میں داخل ہوا۔
گھر میں چاروں طرف خاموشی ہی چھائی ہوئی تھی۔ ہر سو خاموشی کے ساتھ ساتھ اندھیرا بھی پھیلا ہوا تھا۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر ساری لائٹس آن کی۔
لائٹس آن کرنے کے بعد وہ بلکل سامنے والے کمرے میں گیا۔
جہاں ایک وجود بیہوش پڑا ہوا تھا۔
منہ پر اس کے ٹیپ تھی اور اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔ سر نیچے کو لڑک رہا تھا۔
یقینا وہ وجود پرنسپل کا ہی تھا۔ جس کی حالت اس وقت قابل رحم تھی۔
اسفند نے وہاں قریب رکھی چیئر اٹھائی اور بلکل اس کے سامنے رکھدی۔ اور اس کرسی کے قریب پڑا ایک بڑا سا باکس اٹھایا اور کرسی پر بیٹھ کر اسے اپنے گود میں رکھ لیا۔
” اوئے اٹھ چل شاباش۔۔۔” اسفند نے اس کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ تو پرنسپل نے مندی مندی آنکھیں کھولی اور دھیرے دھیرے اپنا سر اٹھایا۔ جبکہ اسفندیار کو اپنے سامنے پاکر اس کی آنکھیں پھٹنے کے قریب ہوگئی تھی۔
اسفندیار نے وہ باکس کھولا تو اس میں مختلف قسم کے خطرناک اوزار پڑے ہوئے تھے۔ جسے دیکھ کر ہی پرنسپل کی جان ہوا ہو رہی تھی۔
اسفندیار نے بغیر کچھ کہے پہلے ایک اوزار نکالا جو کہ قینچی کی طرح کا تھا۔ مگر یہ قینچی کی نسبت کچھ زیادہ تیز اور دکھنے میں کچھ خطرناک سا تھا۔
اس نے واپس رکھ دیا اور یوں ہی ایک دو مزید نکالے مگر پھر واپس رکھ دئے۔
پھر ایک اوزار نکالا جو کہ بہت ہی تیز تھا۔ اس کو نکالتے اسفندیار نے باکس بند کر کے نیچے رکھ دیا۔
اس کے بعد اسفندیار نے بغیر پرنسپل کی پھٹی آنکھوں میں دیکھے اس کے ہاتھ کی چھوٹی انگلی کو تھاما۔
پرنسپل اس کا ارادہ سمجھ گیا تھا تبھی اس نے اپنا سر تیزی سے نفی میں ہلانا شروع کردیا۔ وہ چیخنا چاہتا تھا مگر اس کے منہ پر بندھی ٹیپ اس کو اس بات کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔
اسفندیار نے اس کی انگلی کو اس اوزار کے درمیان رکھ دیا اور جھٹکے سے اسے کاٹ دیا۔
اس کو کاٹتے ہی پرنسپل چیخنا شروع ہوا مگر آواز اتنی تیز سنائی نہ دے رہی تھی۔
اس کی آنکھوں سے پانی نکلنا شروع ہوگیا۔ ساتھ ساتھ ہی وہ زور زور سے ہلنے لگا۔ اسفندیار نے اس کی انگلی کاٹنے کے بعد اس پر بینڈج بھی کردی پھر اس کے بعد وہ دوبارہ آرام سے اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
“کچھ پوچھنے سے پہلے ہی میں نے تیری انگلی اس لئے کاٹی تاکہ میں جب تجھ سے کچھ پوچھوں تو کوئی چوں چراں نہ کرے۔
چل اب بتا کس کے کہنے پر ڈرگز سمگل کر رہا تھا تو۔؟” اسفندیار نے کہتے ہی اس کی ٹیپ کھینچی تو وہ فورا سے ہانپتا ہوا بولا۔
” اا۔ازمیر سردار نن۔نے۔” پرنسپل جلدی سے بولا تو اسفند نے دوبارہ سے ٹیپ اس کے منہ پر لگا دی۔
” دیکھو ہو گیا سمپل۔” اسفندیار نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ دروازے وغیرہ کو وہ اچھی طرح سے بند کر چکا تھا کہ اس کے بھاگنے کا کوئی راستہ نہ بچتا تھا۔
اس کے دماغ میں اس وقت صرف ازمیر تھا۔ اب تک اسے اس کے بارے کچھ پتہ نہیں تھا۔ مگر اب وہ سب کچھ نکلوانے والا تھا۔
گھر سے باہر آکر اس نے گہری سانس بھری اور بائک پر بیٹھ کر دوبارہ سے گھر کے لئے روانہ ہوگیا۔



” ماما آج میرا دل نہیں ہے یونی جانے کا میں چھٹی کرلوں۔” حالے سکینہ بیگم کے پاس آکر منہ بنا کر بولا تو سکینہ بیگم نے مڑ کر اسے گھورا تو وہ چپ ہوگئی۔
” کیا ہو رہا ہے بھئی۔؟” اسفندیار بھی کچن میں آتا ہوا بولا۔
” اٹھ گیا میرا بیٹا۔” سکینہ بیگم نے محبت سے اسفندیار کو دیکھتے ہوئے کہا۔ تو حالے نے جل کر اسے دیکھا۔
اسفند نے اسے دیکھ کر مسکراہٹ پاس کرتے مزید جلایا۔
“جی ماما اور تم نے کیوں منہ بنایا ہوا ہے۔” سکینہ بیگم کو جواب دیتا وہ حالے کے گرد بازو پھیلائے ہوئے بولا۔
” میرا دل نہیں ہے آج جانے کا۔” حالے نے کہا تو اسفندیار مسکرایا۔
” آج ویسے بھی تم لوگوں کی پھپھو جا رہی ہے تو۔۔۔” سکینہ بیگم مصروف انداز میں بول رہی تھی کہ دونوں نے انکی بات کاٹی۔
” کیا سچی ماما ہائے۔۔۔” دونوں خوشی سے بولے کہ ان کو اپنی آواز تیز ہونے کا بھی پتہ نہ لگا۔
سکینہ بیگم نے انہیں خاموش ہونے کا اشارہ کرتے گھورا۔
” چپ ہو جاو بدتمیزوں سن لیں گی وہ۔ تو تم دونوں یونی جاو اور جلدی آجانا اسفی پھر تم نے چھوڑ کر آنا ہے انہیں۔” سکینہ بیگم نے بولا تو دونوں نے سر ہلایا۔
پھر ناشتہ کرنے کے بعد وہ دونوں یونیورسٹی کے لئے نکل گئے۔



سائیں آپکے لئے کال ہے۔” کریم صبح صبح ازمیر کے سر پہ کھڑے ہوتے بولا۔ تو ازمیر نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
” لاو۔” ازمیر نے ہاتھ بڑھاتے کہا تو کریم نے فون اسے پکڑا دیا۔ فون کو کان سے لگاتے اس نے اپنی شال درست کی مگر آگے سے جو خبر اسے ملی تھی وہ اس کے ہوش ٹھکانے لگانے کے لئے کافی تھی ۔
وہ اب تک بےیقین تھا اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ جو دوسری جانب سے سنا گیا ہے وہ صحیح ہے۔
” تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟ تمہیں پتہ بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔” ازمیر یکدم اٹھ کر کھڑا ہوتا غصے سے دھاڑتا ہوا بولا۔
پھر غصے سے پاگل ہوتے اس نے موبائل فون زمین پر دے مارا جو کہ ٹوٹ کر دور جا گرا۔ اس کے غصے سے کریم گھبرا کر رہ گیا تھا۔
” اب اگر اس کو پتہ چلا تو وہ تو مجھے جان سے ہی مار دے گا۔” ازمیر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پریشانی سے کہا۔
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جس کا یہ کام ہے وہ اپنا اتنا بڑا نقصان ہونے پر چپ نہیں بیٹھے گا بلکہ وہ تو اسے زندہ زمین میں گاڑھ دے گا۔
اب وہ ڈر کے مارے یہی سوچ رہا تھا کہ کیسے بچا جائے۔



” حالے آجاو چلیں۔” اسفندیار حالے کے پاس آتا ہوا بولا جو لیلی اور نین کے ساتھ کھڑی تھی۔
لیلی نے اسے دیکھ کر رخ موڑ لیا۔ شاید یہ کل کا اگنور ہونے کا بدلہ تھا جسے سمجھتا اسفند مسکراہٹ دبا گیا۔
وہ اس سے ناراض ناراض اس کو بہت پیاری لگ رہی تھی۔
جبکہ لیلی کو نہیں پتہ تھا کہ وہ کیوں اس سے روٹھ رہی ہے۔ آخر کو اس کا کوئی رشتہ ہی نہیں تھا اس سے۔
تو کیوں اس کو برا لگ رہا تھا۔ یہ تو شاید بعد میں ہی پتہ لگے اسے۔
” ہاں چلو۔ اوکے نین اور لیلی خدا حافظ۔” حالے نے اسے جواب دیا۔ تو وہ سوچوں سے باہر آئی اور مسکرا کر حالے کو خدا حافظ کہا۔
اسفندیار ایک آخری نظر لیلی پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔
” او یار تم رکو ذرا میں بس دو منٹ میں آتا ہوں۔ ” اسفندیار بولا اور تیزی سے دوبارہ اندر کی جانب بڑھ گیا۔
حالے بائک کے قریب کھڑی اردگرد دیکھ رہی تھی۔
کچھ ہی دور ایک بائک پر وہی دو بندے بیٹھے ہوئے تھے۔ حالے کو دیکھتے وہ پہچان گئے تھے کہ یہ وہی لڑکی ہے۔ اس کو دیکھ کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔
تبھی انہوں نے تیزی سے اپنی گ ن نکالی اور حالے پر تان دی۔ ایک پل کر تو ناجانے کیوں وہ رک گیا مگر پھر جلد ہی سر جھٹک کر ٹریگر دبا گیا۔
اس کے ٹریگر دباتے ہی گولی تیزی سے نکلی کو حالے کے پیٹ میں جا لگی۔ گولی لگتے ہی حالے کی دلخراش چیخ گونجی۔ اس کا منہ پورا کھل گیا تھا۔ درد کی شدید لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی۔ اس کو لگا کہ کوئی گرم سریہ اس کے پیٹ میں جا دھنسا ہو اپنا وجود اسے درد سے جلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
اسفندیار حالے کی چیخ سنتے ہی رک گیا اور تیزی سے دوڑتا ہوا واپس آیا۔ اور حالے کو یوں زمین پر بیہوش لیٹا دیکھ وہ چیختا فورا سے اس کے قریب آیا اور اس کا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا۔
” حالے حالے میری جان۔” اسفند گھبراتا ہوا بولا اس کی حالت دیکھ اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
اس نے اردگرد دیکھ کر پتہ لگانا چاہا کہ کس نے گولی چلائی مگر وہ دو بندے تو تیزی سے وہاں سے نکل چکے تھے۔
اس نے فورا سے ایمبولینس کو کال کی دس منٹ میں ایمبولینس وہاں پر آگئی تھی اور وہ فورا سے ایمبولینس میں بٹھا کر ہاسپیٹل لے گیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ہاسپیٹل پہنچ چکے تھے۔
” ڈاکٹر ذوہان جلدی کریں ایمرجنسی ہے۔” نرس جلدی سے بھاگتی ہوئی آئی تو وہ تیزی سے اٹھا اور باہر آیا
مگر پھر سٹریچر پر لیٹے وجود کو دیکھ جیسے سب رک گیا تھا۔ آنکھوں میں حد درجہ بےیقینی تھی۔
خون میں لت پت اس کے وجود کو دیکھ اس کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔
یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ابھی دھڑکن رک جائے گی۔
