Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 07)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 07)
Meri Pathani by RB Writes
” اسلام علیکم انکل۔” ایاز صاحب آج اتوار کی چھٹی ہونے کی وجہ سے گھر پہ تھے۔ اور اس وقت لاونج میں بیٹھے ہمیشہ کی اپنا پسندیدہ مشغلہ اخبار پڑھنے میں مصروف تھے کہ یکدم سے لیلی کی آواز پر چونک کر سیدھے ہوئے۔
” ارے وعلیکم السلام لیلی بیٹا۔ بھئی آج تو میرا دوسرا بچہ آیا ہے۔ آو بیٹھو۔” لیلی کو دیکھتے وہ مسکراتے ہوئے محبت سے بولے۔ تو لیلی بھی ان کی بات پر مسکراتی ان کے برابر والے صوفے پر بیٹھ گئی۔
” اور بتاو بیٹا کھاو گی کچھ لے کر آوں میں؟” ایاز صاحب اس کے بیٹھتے اسے بولے۔
” ارے ماڑا نہیں انکل بس آج میں نین کو لینے آیا ہے۔ اس کو آپ بولو کہ وہ میرے ساتھ چلے۔” لیلی نے سیدھے مدعے کی بات پر آتے کہا۔
” بیٹا اب آپ تو جانتی ہیں میں کونسا روکتا ہوں اسے آپ کے گھر آنے سے مگر پتہ نہیں وہ کیوں نہیں آتی۔” ایاز صاحب نے بے بسی سے کہا کہ اپنی بیٹی کے ہر وقت ڈرتے رہنے سے وہ بہت پریشان رہتے تھے۔
” ارے انکل ماڑا آپ اجازت تو دو باقی ہم خود منا لے گا اسے۔” لیلی شاید آج پکا انتظام کر کے آئی تھی اسے ساتھ لے کر جانے کی۔
” ٹھیک ہے بیٹا آپ منا سکتے ہو تو منا لو اسے۔” ایاز صاحب کندھے اکچا کر بولے تو لیلی نین کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ جبکہ اس کے جانے کے بعد ایاز صاحب دوبارہ سے اخبار پڑھنے میں مصروف ہو گئے تھے۔

نین بیڈڈ پر بیٹھی فون استعمال کر رہی تھی کہ تبھی اس کے کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔ اسے لگا اسکے بابا نے بجایا ہے۔
” آجائیں بابا۔” نین مسکرا کر فون سائیڈ پر رکھتے ہوئے سیدھے ہوتے ہوئے بولی۔
” اوئے بابا کا بچہ میں ہوں ماڑا۔” نین کمر پر ہاتھ ٹکائے بولی۔ تو نین حیران ہوئی کہ آج یوں اچانک بغیر بتائے۔ مگر پھر اس کے انداز پر ہنس دی۔
” ارے آج کدھر۔۔۔” نین مسکرا کر اس کے قریب آئی اور پھر اسے گلے لگایا۔ لیلی بھی فورا مسکرا دی۔
” آج ہم تم کو لینے آیا ہے۔ مورے بھی پوچھ رہا تھا تمہارا۔ اب چلو جلدی کرو۔” لیلی جلدی جلدی میں بولی۔ تو نین گھبرائی۔ آنکھوں کے پردوں پہ یکدم سے وہ ہری شیطانی چمک والی آنکھیں لہرائی۔
” نن۔نہیں لی۔لیلی میں نہیں جا رہی ۔” نین فورا سے دور ہوتے گھبرائے لہجے میں بولی۔ تو لیلی نے اسے گھورا۔
” چلنا تو تمہیں پڑے گا۔ ورنہ میں ناراض ہو جاوں گا۔” لیلی نے فورا ہی کہا تو نین مزید گھبرائی۔ نین ہمیشہ ہی ارحان کی نظروں سے بچنا چاہتی تھی مگر یہاں تو لیلی ضد پہ آگئی تھی۔ اب نین کو آگے کنواں پیچھے کھائی والا محاورہ خود پہ فٹ ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
کیونکہ اگر وہ نہ جاتی نہ تو لیلی نے ناراض ہو جانا تھا۔ اور اگر لیلی کے ساتھ جاتی تو اگر غلطی سے بھی اس کا سامنا ارحان سے ہو جاتا تو یہ تو طے تھا کہ بغیر تنگ کئے وہ اسے جانے نہ دیتا۔
” نن۔نہیں میرا مطلب ہے کہ آج میرا بہت ہی ضروری کام ہے اس لئے میں آج نہیں آسکتی پھر کبھی آؤں گی۔ ابھی تم آو بیٹھو نہ۔” نین نے بہانہ بنایا اور ساتھ ہی اسے بیٹھنے کا کہتے بات بدلنا چاہا۔۔۔
” تو کیا تمہارا کام تمہارے لئے ہمارے سے زیادہ ضروری ہے ماڑا۔” لیلی جانتی تھی کہ وہ اسی طرح کے بہانہ بنائے گی تبھی اس کو اموشنل بلیک میل کرتے ہوئے بولی۔
” نہیں لیلی ایسی بات نہیں ہے تم۔۔” نین نے فورا سے اس کی بات پہ گھبراتے اپنی بات کی صفائی دینا چاہی۔
” تم ہمارا ساتھ جائے گا یا میں گھر جاوں؟” لیلی نے آخری حربہ آزماتے ہوئے کہا۔ نین کو اب اپنی بے بسی پہ جی بھر کے رونا آرہا تھا۔ اسے سمجھ نہ آرہی تھی کہ کیا کرے وہ۔
” اچھا ٹھیک ہے میں تیار ہو آوں۔” آخر کار اس کی ضد کے آگے ہار مانتے اس نے کہا تو لیلی خوشی سے اچھل پڑی ۔ اس کی خوشی دیکھی نین بھی مسکرا دی۔ اور الماری سے اپنے لئے کپڑے نکالنے کے بعد باتھروم میں بند ہوگئی۔
اس کے جاتے ہی لیلی بھاگ کر ایاز صاحب کو یہ خبر سن سکے۔


” اسلام علیکم ماما۔” اسفند اٹھ کر نیچے آتا ہوا بولا۔
‘” وعلیکم اسلام بیٹا بیٹھو تم میں ناشتہ لگاتی ہوں۔” سکینہ بیگم اس کا ماتھا چوم کر بولی۔
” ماما حالے کہاں ہے ابھی تک نیچے کیوں نہیں آئی وہ؟” حالے کی غیر موجودگی محسوس کرتا وہ بولا۔
” ہاں بیٹا میں بتانا بھول گئی۔ اسے بخار ہے۔ صبح میں جب گئی اسے اٹھانے تو بخار تھا۔ دوائیاں دے دی ہیں میں نے۔”
حالے کا سنتے ہی سکینہ بیگم کو اس کی طبیعت خرابی کا یاد آیا تو وہ فورا سے اداس ہوتے بولی۔
” کیا ماما اسے بخار ہے اور آپ نے مجھے بتایا بھی نہیں۔ آپ مجھے اٹھا دیتی نہ۔” اس کی طبیعت خرابی کا سنتے ہی وہ تڑپ اٹھا۔ اپنی اکلوتی بہن تو اسے جان سے زیادہ عزیز تھی۔
وہ فورا اٹھا اور بھاگ کر حالے کے کمرے میں گیا جہاں وہ خود کو کمبل میں اچھی طرح سے کور کئے لیٹے ہوئی تھی۔ ۔
” حالے میری جان کیا ہوا ہے؟” اسفند بیڈ پر اس کے قریب بیٹھتے ہوئے فکرمندی سے کمبل اس کے چہرے سے ہٹاتے بولا۔ اس کا چہرہ پورا لال ہو چکا تھا۔
اپنے پاس سے اسفند کی آواز سنتے اس نے مندی مندی آنکھیں کھولی۔
” میں ٹھیک ہو اسفی۔” اس کے چہرے پر پریشانی دیکھتے وہ بمشکل مسکرا کر بولی۔
” خاک ٹھیک ہو بولا تم سے جا نہیں رہا اور کہہ رہی کہ ٹھیک ہو۔ چلو اٹھو ہسپتال لے کر چلوں میں تمہیں۔” اسفند اسے جھڑکتے بولا۔
” نہیں اسفی میں ہسپتال نہیں جاوں گی وہاں ڈاکٹر انجیکشن لگائے گا مجھے نہیں لگوانا۔” حالے روہانسے لہجے میں بولی۔
کون بتا سکتا تھا کہ یہ وہی حالے ہے جو کسی سے نہ ڈرتی تھی مگر انجیکشن کے نام سے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
” کوئی بہانہ نہیں چلو اٹھو۔” وہ جانتا تھا کہ وہ نرمی سے نہیں مانے گی تبھی لہجے میں تھوڑی سختی لائے بولا۔
” تم بولنا ڈاکٹر کو کہ وہ مجھے انجیکشن نہ لگائے پھر چلوں گی۔” حالے نے اس کو پہلے ہی اپنی شرط بتا دی۔
” ہاں ٹھیک ہے میں بولوں گا تم چلو۔” وہ بولا اور ساتھ ہی اس کو سہارا دیا بستر سے اٹھایا اور اپنے سنگ لئے نیچے لے آیا۔


” ہائے عیشا کیسی ہو؟” دانیہ نے عیشا کو فون کر کے کہا جو اس وقت اپنے ہاتھ میں ڈریس لئے کھڑی تھی۔ کہ دانیہ کی کال آنے پر ڈریس سائڈ پر رکھتے کال اٹھائی۔
” ٹھیک ہوں۔ تم بتاو؟” اپنے بالوں کو سائڈ پر کرتے وہ بولی۔
” میں بھی ٹھیک۔ اچھا کہیں باہر چلیں؟” دانیہ نے کہا۔
” نہیں یار تمہیں تو پتہ اتنے دن بزی ہونے کی وجہ سے میں ڈاکٹر کا دیدار نہیں کر پائی تو آج جا رہی ہوں۔” عیشا ہنستے ہوئے بولی۔ جبکہ دانیہ اس کی بات پر مسکرا بھی نہ سکی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ ایک ایسے شخص کے پیچھے بھاگ رہی ہے جو اس کے سائے تک سے دور بھاگتا ہے۔
” چلو ٹھیک ہے پھر کل ملتے ہیں۔” دانیہ نے کہا۔
” اوکے ڈن۔” عیشا نے کہہ کر کال کٹ کر دی اور پھر وہی ڈریس اٹھا کر باتھ روم میں بند ہوگئی۔
“یہاں کسی کو بھی حسبِ آرزو نہ ملا….
کسی کو ہم نہ ملے، ہم کو تو نہ ملا…..!!!
