Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 03)

Meri Pathani by RB Writes

” ہاں تو کیسا گزرا تمہارا یونی کا پہلا دن؟” اسفند نے اس کے بائک پہ بیٹھتے بائک سٹارٹ کرنے کے بعد پوچھا۔ جس کی شکل سے پتہ لگ رہا تھا کہ کافی اچھا گزرا تھا اس کا دن۔

” یار اسفی کیا بتاؤں میں تمہیں کہ کیسا گزرا میرا دن مجھے پہلے ہی دن اتنی اچھی اور پیاری دوستیں مل گئی نہ کہ بس نہ ہی پوچھو۔ اور تمہیں پتہ میری ایک فرینڈ پٹھان ہے تو اس کا پشتو ایکسینٹ ( accent ) اتنا کیوٹ ہے نہ کہ بندے کو پیار آجائے۔”

حالے لیلی کے بارے میں سوچ آتے ہی خوشی سے بولی۔ تو اسفند کے خیالوں کے پردوں پر بھی صبح والی لڑکی آئی جو پہلی لڑکی تھی جو اسفند کی باتوں میں نہیں آئی تھی۔ اسفند کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی تھی۔

چونکہ اسفند حالے سے صرف دو سال بڑا تھا۔ اور دونوں کی بونڈنگ ایسی تھی کہ جب حالے کا دل چاہتا وہ اسے بھائی کہہ دیتی اور جب دل کرتا وہ اسفی ہی کہہ دیتی۔

جبکہ اسفی کبھی کبھی اس پر اپنا رعب ڈالنے کی کوشش کرتا تو وہ بھی اس پر خاصہ اثر نہ کرتی جس پر اسفندیار منہ بنا کر رہ جاتا۔

” اچھا یہ بتاؤ کچھ کھاو گی یا کھا کر آئی ہو؟” اسفند اسے اپنی دوستوں کی بات کو لے کر لمبا نکلتے دیکھ اسے ٹوکتا بولا۔

” نہیں یار قسمے کچھ نہیں کھایا۔ پورا دن یونی کا وزٹ کرتے ہی گزر گیا اور کچھ کھانے کا وقت ہی نہیں ملا۔” حالے مظلوم سی آواز میں بولی جیسے صدیوں کی بھوکی ہو۔ اس کی مظلوم آواز پر اسفندیار ہنس دیا کہ اس کی بہن کے ڈرامے کبھی ختم نہ ہونے تھے۔

” اچھا چلو پھر بتاو پیسے ہیں تمہارے پاس؟” اسفند بولا تو حالے نے منہ بنایا اور پھر اپنے بیگ سے کچھ پیسے نکالنے کے بعد اسے دئے۔

” چلو آدھے یہ ہوگئے اور کچھ میرے پاس ہیں۔ بریانی کے ساتھ ٹھنڈی ٹھنڈی ربڑی بھی لے آتے ہیں کیا کہتی ہو؟” اسفند بولا تو حالے نے خوشی خوشی اس کی ہامی بھری۔ پھر وہ لوگ سامان لے کر گھر کی طرف نکل دئے۔

💙
💙
💙

” مورےےےےے” ارحان معصوم سی شکل بنائے کچن میں داخل ہوا جہاں رضیہ بیگم کھانے کا انتظام کر رہی تھی۔ اس کی آواز پر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جیسے کہنا چاہا ہو کہ بولو کیا کام ہے۔

” مورے تمہارا دل نہیں کرتا کہ کوئی تمہارا ہاتھ بٹائے کاموں میں۔ اور تمہیں آرام کرنے کا موقع ملے۔” ارحان آنکھوں میں مخصوص چمک اور شرارت لئے ان کو ذومعنی انداز میں بولا جیسے رضیہ بیگم سمجھنے سے رہی۔

” بس بیٹا ماڑا کیا کروں لیلی کو میں بولتی ہے کہ کام کر لیا کرو میرے ساتھ تھوڑا سا بوڑھی ماں کا بھی خیال کرو ۔ مگر نہیں تم اور وہ تو اس عمر میں بچہ بنا پھرتا ہے۔ میں کام کروں کہ تم لوگوں کو سنبھالتی رہوں۔ کبھی تو کوئی کام خود سے بھی کر لیا کرو۔”

رضیہ بیگم اس کی بات کا مطلب نہ سمجھتے بات کو دوسرا موڑ دے کر اس کی عزت کر گئی۔ جس سے ارحان کا منہ بن گیا۔

” ماڑا مورے تم تو رہنے ہی دو۔ بات کیا تھی اور تم کہاں سے کہاں چلی گئی ہو۔ تمہیں تو سمجھانا دنیا کا مشکل کام ہے۔”

ارحان بولا تو رضیہ بیگم نے خطرناک تیوریوں سے اسے گھورا۔

” وائی تہ مور تہ دا وائے۔ لگ صبر اوکہ پلار دے دا راشی بیا بہ تہ لہ گوری۔”

( ہائے تم اپنی ماں کو ایسے بول رہے ہو۔ تھوڑا صبر کرو تمہارے ابو آجائیں پھر بتاتے ہیں وہ تمہیں۔ )

(دراصل ہماری پشتو اس والی پشتو سے چینج ہے تو اگر کوئی لفظ غلطی سے غلط لکھ لیا جائے تو معاف کیجئے گا۔)

” ماڑا مورے یو خو تاسو۔۔۔۔”

( یار مورے ایک تو تم )

ارحان منہ بنا کر بولتا وہاں سے چلا گیا۔ اور پیچھے رضیہ بیگم بڑابڑاتی سر جھٹک کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔

💙
💙
💙

” یار ڈاکٹر ذوہان کتنے ہینڈسم ہیں نہ۔ جب سے ان کو دیکھا ہے میں تو اپنی نظریں نہیں ہٹا پاتی ان سے۔ کیا ہی پرسنیلٹی ہے یارررر۔” عیشا ڈاکٹر ذوہان کو ساتھ سے گزرتے دیکھ اپنی دوست دانیہ سے ٹھنڈی آہ بھر کر بولی۔

” ہاں یار ہے تو ہینڈسم مگر یہ پٹتا بھی نہیں ہے ناجانے کس مٹی کا بنا ہے۔” دانیہ اسے دیکھ منہ بنا کر بولا جو کسی کو گھاس تک نہ ڈالتا تھا۔

” بیشک یہ جس بھی مٹی کا بنا ہو مگر بنا یہ صرف عیشا سلمان شاہ کے لئے ہے۔ اور اسی کا ہو کر رہے گا۔” عیشا آنکھوں میں جنون ، آگ لئے بولی۔ جس سے دانیہ نے جھرجھری سی لی۔

” عیشا۔۔۔۔ عیشا۔۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے؟” سامنے پڑے ایک کانچ کے ٹکڑے سے اپنی ہتھیلی کو چیر گئی۔ جسے دیکھ کر دانیہ چیختے ہوئے اس کے قریب آئی۔ جس نے اپنے چہرے پہ ایک حسین سی مسکراہٹ سجا لی تھی۔ ایک خطرناک سی مسکراہٹ۔۔۔۔۔۔۔۔

” یار اب اس ڈاکٹر سے بات کرنے کا کوئی تو بہانہ چاہیے نہ۔” اسے دیکھ آنکھ ونک کرتے بولی تو دانیہ نے حیرت سے اسے دیکھا جو اپنے ضد جنون کو لے کر بہت آگے نکل چکی تھی۔ مگر اس بار اس نے ایک غلط شخص کا انتخاب کیا تھا جو کسی کے حسن کا اسیر نہ ہوتا۔

” ڈاکٹر پلیز یہ دیکھیں میرا ہاتھ۔” معصوم شکل بناتے وہ ساتھ سے گزرتے ذوہان کو دیکھتے تیزی سے اس کی جانب بڑھی۔ جس نے ایک نظر اس کے خون سے رنگے ہاتھ کو دیکھا اور پھر مڑ کر ایک نرس کو آواز دی۔

” نرس انکے ہاتھ کی بینڈج کردیں ۔۔۔” نرس کو بولتا وہ آگے بڑھنے لگا جب عیشا کی آواز پر دوبارہ مڑا۔

” نہیں ڈاکٹر میں آپ سے ہی ڈریسنگ کرواوں گی صرف۔”عیشا جلدی سے بولی۔ اس کی بات سنتے ذوہان نے مڑ کر سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔

” دیکھئے مس اپنے یہ فضول کے کام کہیں اور کریں آپ کی طرح فارغ نہیں ہوں میں۔” اس کو سخت الفاظ وہ سنا گیا مگر مجال ہے جو اس نے محسوس کیا ہو۔

” دیکھئے ڈاکٹر اگر میں بینڈج کرواوں گی تو آپ سے ورنہ نہیں کرواوں گی۔ اور پھر میرے ہاتھ سے یہ خون بہتا رہے گا۔ پھر میری طبیعت خراب ہو جائے گی پھر۔۔” اس سے پہلے کے وہ مزید بولتی ذوہان کے بولنے اور ساتھ لے جانے پر وہ خوشی سے چہکتے اس کے ساتھ ہو لی۔

” بیٹھیں۔” اس کو سخت نظروں سے گھورتا وہ دوائی اور بینڈج لئے اس کے قریب آیا اور ٹکٹکی باندھے اس کو دیکھنے میں مصروف تھی۔

” دیکھئے مس عیشا یہ اوچھی حرکتیں کرنا بند کر دیں۔ ایک شریفڑکی کو ایسی حرکتیں زیب نہیں دیتی۔ یہ روز ہسپتال آنا اور یہ فضول کی حرکتوں سے پرہیز کریں۔ میں یہ آپ کے آگے بچھے گئے لڑکوں کی طرح نہیں جو آپ کے حسن کا گرویدہ ہوجاوں گا۔ آئندہ ایسی حرکتوں سے پرہیز کریں۔”

اسے مسلسل اپنی طرف دیکھتے اس کے ہاتھ کی بینڈج کرتا وہ سنجیدگی اور سخت لفظوں میں بولا۔

عیشا کے والد سلمان شاہ جو کہ ایک مشہور بزنس ٹائکون تھے۔ عیشا ان کی اکلوتی لاڈلی بیٹی تھی۔ جو ایک بار اپنی دوست دانیہ کی طبیعت خرابی پر ہسپتال آئی اور وہاں وہ ڈاکٹر ذوہان سے ملی جس نے پہلی ہی نظر میں اسے اپنا گرویدہ کر لیا تھا۔

اس کی بینڈج کرنے کے بعد ذوہان اسے گھورتا وہاں سے چلا گیا۔

اس کے جانے کے بعد عیشا نے اس کی کی گئی بینڈج کو چوما اور مسکرا دی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *