Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 16)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 16)
Meri Pathani by RB Writes
“امی ہم بتا رہے ہیں ہم نہیں سامنے آئیں گے پھپھو کے۔” اسفند اور حالے بیٹھ کر کھانا کھا رہے کہ تبھی حالے نے منہ بناتے کہا تو سکینہ بیگم نے اسے گھورا۔
“مجھ سے مار مت کھا لینا۔ خبردار جو ایسی حرکتیں کی تو۔ تمہاری پھپھو کا بھی لحاظ نہیں کرنا میں نے ان کے سامنے ہی مارنے لگ جانا ہے میں نے تمہیں۔” سکینہ بیگم نے اسے خطرناک گھوریوں سے نوازتے کہا تو دونوں نے کڑوا سا منہ بنا لیا۔
” ماما ان کے پاس جاؤ تو ہر وقت اپنے بچوں کی تعریفیں کرتی نہیں تھکتی۔ ہر وقت ایک ہی بات کہ میرا بچہ ایسا میری بیٹی ایسی۔۔۔” اسفند نے کڑوا منہ بناتے ان کی نقل کی تو حالے مسکراہٹ دبائی کیونکہ اگر سکینہ بیگم کے سامنے ہنستی تو مار پڑ جانی تھی۔
” بکواس مت کرو۔ اور چپ کر کے آ جانا ان کے سامنے۔” سکینہ بیگم غصے سے بول کر وہاں سے چلی گئی۔ پیچھے اسفند اور حالے منہ بنا کر رہ گئے۔
” میرا تو سب سے زیادہ میرب کے سامنے آنے کا دل نہیں کرتا جب دیکھو ایک ہی بات کرتی ہے یہ میں نے اس برینڈ کا لیا ہے او مائی گاڈ اتنا ایکسپینسو ہے یہ۔ اور یہ میرا آئی فون دیکھا ہے تم نے بابا نے ابھی کل ہی نیا لا کر دیا ہے۔” حالے ٹیڑھی میڑھی شکلیں بنا کر میرب کی نقل کرتے اسفند کو ہنسنے پر مجبور کر گئی۔
” ویسے بات تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے۔ ہر جگہ وہ ہمیں باتیں ہی سناتی رہتی ہے پھر پتہ نہیں میرے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے یہ؟'” اسفند دانت پیستے ہوئے بولا۔
” کوئی بات نہیں اسفند وہ بیچاری اندھی ہے نہ خوبصورت اور بدصورتی میں فرق نہیں کر سکتی اس لئے۔ ” حالے نے یہاں بھی اس کی بےعزتی کرنا لازم سمجھا۔
” بہن تم تو چپ ہی کر جاو۔” اسفند اسے گھور کر بولتا وہاں سے چلا گیا۔ جبکہ حالے کندھے اچکا کر دوبارہ کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔
” عیشاء ڈارلنگ وائے آر یو ناٹ ایٹنگ؟” عیشاء کو بیٹھے پلیٹ میں چمچ ہلاتے دیکھ اس کی ماما بولی تو اس نے چونک کر انہیں دیکھا۔
” نو مام کھا رہی ہوں۔” ایک پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہ بولی۔
” عیشا پرنسس واٹ ہیپنڈ کیا ہوا ہے۔ کوئی پریشانی ہے تو بابا سے شئیر کریں۔” عیشا کے والد بولے۔
” کچھ نہیں ہے ڈیڈ بس ویسے ہی موڈ آف ہے۔” عیشا نے اصل بات ان سے چھپاتے کہا۔
” تو کیوں آف ہے میری بیٹی کا موڈ۔ آپکے بابا کچھ بھی کر لیں گے اپنی پرنسس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے۔” عیشا کے ابو بولے تو عیشا کے دماغ میں کچھ کلک ہوا تو اس کی آنکھیں چمک گئی۔
” جو میں مانگوں گی وہ دیں گے ڈیڈ۔” عیشا نے مکروہ مسکراہٹ چہرے پہ سجائے کہا۔
” بالکل جو آپ مانگو۔” اسکے ابو بولے تو عیشا مسکرا کر رہ گئی۔ اب پتہ نہیں اس کے شیطانی دماغ میں کیا چل رہا تھا۔ یہ تو اب اللہ ہی جانتا تھا۔
” اسلام علیکم آپا۔” سکینہ بیگم پروین بیگم کے گلے لگتے خوشدلی سے بولی۔ تو انہوں نے بھی مصنوئی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ان کے گرد بازو پھیلائے۔
” وعلیکم السلام کیسی ہو سکینہ۔” پروین بیگم نے انہیں خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔ ان سب باتوں کے درمیان میرب بیزار سی آنکھیں گھما رہی تھی۔
” میں ٹھیک ہوں آپا آپ بتائیں۔ اور میرب بیٹا آپ کیسی ہو؟” ان سے حال پوچھنے کے بعد وہ میرب کی جانب متوجہ ہوئی تو وہ بھی زبردستی کا مسکرائی۔
” میں ٹھیک ہوں مامی آپ کیسی ہیں؟” میرب بولی تو وہ انہوں نے بھی مسکرا کر ٹھیک ہے کہا اور انہیں لاونج میں لا کر بٹھایا۔
” بھئی بچے کہاں ہیں نظر نہیں آرہے۔” پروین بیگم نے نظریں ادھر ادھر گھماتے ہوئے کہا۔
” وہ کمرے میں ہیں ابھی بلا کر لاتی ہوں انہیں۔” سکینہ بیگم بولی۔
” یہ بھی صحیح ہے پھپھو اتنے وقت بعد گھر آئی ہیں اور یہ لوگ کمروں میں بند بیٹھیں ہیں۔ بھئی میرا فہد اور میرب تو بالکل ایسا نہیں کرتے۔” پروین بیگم نے اس بارے میں بھی اپنے بچوں کی مصنوعی قابلیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تو سکینہ بیگم شرمندہ سی ہوگئی۔
” تم لوگوں کو کیا کہا تھا میں نے۔ کہ ان کے آنے تک لاؤنج میں ہی بیٹھو ان کو سلام کرنے کے بعد آجانا لیکن نہیں میری سنتا ہی کون ہے۔” سکینہ بیگم کمرے میں داخل ہوتے ہی ان پر پھٹ پڑی۔ تو دونوں نے موبائل سے نظریں ہٹا کر پہلے اپنی امی پھر ایک دوسرے کو دیکھا۔
” امی اتنی دیر ہم باہر کیا کرتے؟” اسفند نے منہ بنا کر کہا تو سکینہ بیگم نے دانت پیستے غصے سے اسے گھورا۔
” دفع ہو باہر مرو اور جا کر سلام کرو انہیں۔” سکینہ بیگم کہہ کر باہر چلی گئی جبکہ وہ دونوں روہانسا ہوکر باہر آئے۔
” اسلام علیکم پھپھو۔ اسلام علیکم میرب۔” حالے نے مسکرا کر دونوں کو سلام کیا جس کا دونوں نے بس مارے مروت کے اسکا جواب دیا۔
” سلام پھپھو۔” اسفند نے میرب کو اگنور کئے پروین بیگم کو جھک کر سلام کیا۔ میرب کو تو خود کا اگنور کیا جانا آگ لگا گیا۔
” ارے ارے وعلیکم السلام میرا شہزادہ بیٹا کیسا ہے؟” پروین بیگم نے اسفند کا ماتھا چومتے اپنے لہجے میں چاشنی سی مٹھاس لئے کہا۔ جو کہ اسفند اور حالے کو ہضم ہی نہ ہوئی۔
” ٹھیک ہوں پھپھو آپ کیسی ہیں؟” اسفند نے بھی صدمے سے نکلتے ان کو مسکرا کر جواب دیا۔ جبکہ میرب بغیر کسی کا لحاظ کئے تب کی اسے ہی دیکھے جا رہی تھی۔
” میں بھی ٹھیک ہوں ابھی یہ پرسوں ہی مجھے میرب کہہ رہی تھی کہ اسفند لوگوں سے مل آتے ہیں تو ہم چلے آئے۔” پھپھو نے کہا تو اس نے دل ہی دل میں میرب کو سنائی۔ جبکہ ہونٹوں پہ مسکراہٹ برقرار رکھی۔
” اس میرب کی بچی کو تو کسی دن اپنی پٹھانی کے آگے کر دوں گا پھر میری پٹھانی نے ٹھیک نہ کردیا اسے تو کہنا۔” اسفند نے لیلی کا سوچ دل ہی دل میں بڑبڑایا جبکہ ہونٹوں پہ مسکراہٹ بھی چھا گئی۔
اور اسکی مسکراہٹ کومیرب نے وجہ اپنا آپ بنا کر خود بھی مسکرانے لگی۔
” اور بتائیں پھپھو۔” اسفند نے روایتی سوال کیا پھر یوں ہی ان کے درمیان باتیں چلتی رہیں جبکہ حالے جان بچا کر وہاں سے نکل گئی تو اسفند نے اسے بھی دل میں سنائی مگر اس وقت وہ مجبور تھا اور کچھ کر نہیں سکتا تھا۔
اوپر سے میرب کے بار بار دیکھنے پر اسے اکتاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔ دل تو تھا کہ اچھی خاصی سنادے مگر اپنی امی کو بھی وہ جانتا تھا اس لئے خاموش ہی رہا۔


لیلی اس وقت اپنی فیملی کے ساتھ بھرپور وقت گزار کر اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی آج کے ہونے والے واقعہ کو سوچ رہی تھی۔
کتنا عجیب تھا نہ سب اچانک سے سلیم کا اس سے بدتمیزی کرنا پھر اسفندیار کا آکر اسے بچانا۔
اگر اسفند نہ آتا تو ۔۔۔۔۔ اس کے آگے کا سوچ کر ہی روح کانپ جاتی۔
پہلے تو اس کا دل کیا کہ ارحان کو بتا دے مگر وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے ارحان کو بتا دیا تو اس نے زمین آسمان ایک کر دینا تھا۔ اور جو اس نے اس لڑکے کے ساتھ کرنا تھا وہ تو اسفند سے بھی زیادہ ہونا تھا۔ اسی ڈر کی وجہ سے اسنے ارحان کو نہیں بتایا۔
” ماڑا وہ اتنا بھی بڑا نہیں ہے۔” اسفندیار کے آج اسکی مدد کرنے پر اسکے خیالات اس کے بارے میں بدل چکے تھے تبھی وہ مسکرا کر دھیرے سے سرگوشی میں بولی اور پھر کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔


اگلے دن کا سورج نکل چکا تھا۔ جو کہ اپنے ساتھ بہت کچھ لایا تھا۔ سورج کی کرنیں ہر جگہ بکھر کر اپنی روشنی پھیلا چکی تھی۔ لوگ صبح صبح ہی اٹھ کر روزگار کی تلاش میں نکل چکے تھے۔
ارحان بھی ناشتہ کر کے اپنے گھر سے نکل کر پولیس سٹیشن چلا گیا۔ اور وہاں پر ازمیر کے کیس کو ڈسکس کرنے لگا۔ ابھی کچھ ہی دیر میں کمشنر سر نے آجانا تھا جس سے اس نے اس گاوں کے لئے پروموشن مانگنی تھی۔
” سر کمشنر سر آگئے ہیں۔” اس وقت وہ اپنے آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا کہ حوالدار نے آکر اسے اطلاع دی تو اس نے اوکے کہہ کر اسے جانے کی اجازت دی اور خود اٹھ کھڑا ہوا اور کمشنر کے پاس گیا۔
“اسلام علیکم سر۔” ان کے پاس پہنچ کر ارحان نے سیلیوٹ کرتے کہا جس کا کمشنر صاحب نے جواب دیا۔
” اور بھئی انسپکٹر ارحان کیسا چل رہا ہے کام؟” انہوں نے اس کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے کہا تو ارحان وہاں موجود کرسی پر بیٹھ گیا۔
” سر الحمدللہ سے سب اچھا جا رہا ہے۔” ارحان نے کہا تو وہ سر ہلا گئے۔
” میں نے سنا ہے کہ تم اس گاوں کے سردار ازمیر کے خلاف ایف آئی آر کاٹ چکے ہو۔ اور اب اس کے خلاف لڑنے کی تیاری کر رہے ہو۔” کمشنر فرہاد نے کہا تو ارحان نے ہاں میں سر ہلایا۔
” جی سر بالکل ٹھیک سنا ہے آپ نے۔” ارحان نے کہا تو ان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
” تم جانتے بھی ہو کہ وہ کس قدر خطرناک انسان ہے تمہیں اس سے نہیں الجھنا چاہیے ارحان۔” انہیں نے اپنے متعلق اسے سمجھاتے کہا تو ارحان طنزیہ سا مسکرا دیا۔
” سر برائی چاہے جتنی بھی خطرناک ہو ایک نہ ایک دن ختم ہو ہی جاتی ہے۔ اور ویسے بھی میں چاہتا ہوں آپ میری پوسٹنگ اس گاوں میں کر دیں تاکہ میں سمیر اور میری ٹیم اس کے خلاف اچھی طرح ثبوت اکٹھے کریں اور اس کو سزا دلوائیں۔” ارحان نے اپنا فیصلہ انہیں سناتے کہا۔
” لیکن ارحان۔۔۔۔۔” کمشنر فرہاد نے اس کی بات پر اعتراض کرنا چاہا۔
” سر لیکن ویکن کچھ نہیں آپ پلیز میری یہ ریکویسٹ ایکسپٹ کرلیں۔” ارحان نے اٹل لہجے میں کہا۔ تو فرہاد سر کو اسکی ضد کے آگے ہار ماننی پڑی۔
” آہ اوکے ٹھیک ہے۔ میں کرتا ہوں بات۔” انہوں نے گہری سانس بھر کر کہا تو ارحان مسکرا دیا۔
” تھینک یو تھینک یو سو مچ سر۔” ارحان نے کہا تو وہ مسکرا دئے اور اسے کامیابی کی دعا دی۔
” ازمیر اب سے تمہارے بڑے دن شروع ہونے والے ہیں۔” ارحان پراسرار سا مسکرا کر بولا۔
جاری ہے۔
