Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 22)

Meri Pathani by RB Writes

یہ منظر رات کا تھا۔ آسمان تاروں سے بھرا پڑا تھا۔ جو بہت ہی خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔ مگر اس سب سے بے خبر کچھ لوگ یونی کے بیسمنٹ میں اپنے کالے کاموں کو فروغ دینے کی تیاریاں کر رہے تھے۔

پیسے کی لالچ میں جو اپنے رب کو بھول چکے تھے یہ تک بھول چکے تھے کہ یہ دنیا صرف ایک دھوکہ ہے۔

مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ جن کے دلوں پر مہر لگا جائے انہیں کوئی حق بات دکھائی نہیں دیتی۔

” اوئے جلدی جلدی کرو پھر اور بھی بہت کام ہیں۔” ان سب آدمیوں کو جو جلدی جلدی ان بیگز کو ایک جگہ کر کے اوپر لے کر جانے کی تیاری کر رہے تھے پرنسپل بولے۔

سب ان کی بات سن کر سر ہلا کر مزید تیزی سے ہاتھ چلانے لگے۔

پرنسپل ان سب کو کام کرتا دیکھ سائڈ پر آکر فون پر لگ گیا جہاں ازمیر کے میسج تھے جس نے اس سے حالات کی رپورٹ مانگی پرنسپل نے آل کلئیر لکھ کر سینڈ کر دیا۔

” یو گائز آر ریڈی۔۔؟” اسفند نے اپنی گن کو لوڈ کرتے ان سب سے کہا جس پر سب نے یس کہا تو اسفندیار نے انہیں اشارہ کیا تو سب چوکنا ہوئے اور دیوار کے ساتھ لگ کر آہستہ سے آگے بڑھنے لگے۔ اسفندیار ان سب سے آگے تھا اور اسی کے پیچھے عادل اور باقی کی ٹیم تھی۔

وہ لوگ کچھ قدم آگے بڑھے تو کچھ ہی فاصلے پر دو آدمی بندوق تھامے کھڑے نظر آئے۔ اسفندیار نے انگلی کے اشارے سے باقی سب کو رکنے کا اشارہ کیا تو سب رک گئے۔

اسفندیار نے اپنی بند وق ان کی جانب کی ساتھ ہی عادل نے بھی ایک بندے کو ٹارگٹ کیا۔ دونوں نے ایک ساتھ ہی گو لی چلائی جو دونوں آدمیوں کے ماتھے کے درمیان لگی اور دونوں وہیں پر ڈھیر ہوگئے۔

گولی کی آواز وہاں موجود کسی کو سنائی نہیں دی تھی کیونکہ وہ لوگ بیسمنٹ میں موجود تھے جو کہ ساونڈ پروف تھا اسی لئے وہ لوگ آفس میں گھس کر اسی مخصوص جگہ گئے جہاں پر اسفندیار کو شک ہوا تھا۔

اسفندیار نے اپنا ہاتھ ادھر ادھر گھمایا تو کچھ توقف کے بعد وہ چھوٹا سا دروازہ کھل گیا تو سب ایک ایک کر کے وہاں داخل ہوگئے۔

وہ لوگ جیسے ہی وہاں نیچے پہنچے وہاں ایک بہت بڑا ہال تھا اور دو تین کمرے موجود تھے۔ اسفندیار اور اس کی ٹیم نے وہاں جاتے ہی ان پر حملہ کر دیا۔ پرنسپل اور اس کے آدمی تو اس اچانک حملے پر گھبرا گئے۔ مگر پھر جلد ہی سنبھل کر ان پر جوابی کاروائی کرنا شروع کردی۔

کچھ ہی دیر میں وہ جگہ ایک جنگ کا میدان بن گیا۔ دونوں جانب ہی گو لیاں چل رہی تھی۔ اسفندیار نے سب کو بتا رکھا تھا کہ پرنسپل کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ وہ اسے زندہ چاہیے تھا کیونکہ اس سے کافی معلومات نکلوا سکتے تھے وہ لوگ۔

کچھ دیر میں اسفندیار کی ٹیم نے ان سب کو ڈھیر کر دیا تھا سوائے پرنسپل کے جو اسفندیار کو آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا جیسے یقین ہی نہ آرہا ہو کہ اس کی یونی کا سٹوڈنٹ آرمی آفیسر ہے۔ عادل آگے کی جانب بڑھا اور جاکر اسکے سر کے پچھلے حصے پر گن مار کر اسے بیہوش کر دیا۔

اس سب کاروائی میں اسفندیار کی ٹیم کے دو آفیسرز بھی شہید ہو چکے تھے۔ جن میں سے ایک کی تو ابھی کچھ ہی وقت میں شادی ہونے والی تھی۔ اسفندیار نے اسے منع بھی کیا کہ وہ ساتھ نہ آئے مگر وہ ضد کر کے آگیا۔

اسفندیار گھٹنے کے بل بیٹھ کر ان کی جانب نم آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ جن کے چہروں سے نور پھوٹ رہا تھا۔ لب ہلکے سے مسکائے ہوئے تھے۔ جو اپنے رب سے ملنے کی خوشی میں تھے۔ ان کے چہرے پر نور اور خوشی کیوں نہ ہوتی آخر کو اللہ کی راہ میں جو شہید ہوئے تھے۔

شہادت کا مزہ اور جنوں تو ان نوجوانوں سے پوچھنے چاہیے جو اللہ کی راہ میں شہید ہونے کو ہر وقت تیار رہتے تھے۔

اسفندیار آنکھ میں آئے آنسو صاف کر کے اٹھا اور ان دو کو لئے ساتھ میں پرنسپل کو بھی وہاں موجود تمام ڈرگز کو آگ لگا کر وہاں سے چل دئے۔ اب باہر سے سب یوں لگ رہا تھا کہ جیسے کچھ بھی نہیں ہوا مگر اصل طوفان تو آکر بھی ختم ہوگیا تھا۔

❤♡■■♡❤

اسفندیار پرنسپل کو ٹارچر سیل میں بند کر کے ساتھ ہی ساری بات آفیسر کو بتا کر تقریبا سارے کام نبٹا کر تھکا ہارا رات کے دو بجے گھر کو لوٹا۔

جب وہ گھر میں داخل ہوا تو ہر طرف سناٹا اور خاموشی تھی۔ مگر حالے کے کمرے کی لائٹ آن تھی جو کہ اسکے جاگنے کا پتہ دے رہی تھی کیونکہ حالے کو اندھیرے میں سونا پسند تھا روشنی میں اسے نیند نہ آتی۔

تبھی اس نے اپنے قدم حالے کے کمرے کی جانب بڑھائے اور جاکر اس کا دروازہ کھول دیا۔

حالے جسے نیند نہ آنے کی وجہ سے کافی بوریت محسوس ہو رہی تھی تبھی اس نے موبائل فون میں موجود یقین کا سفر ڈرامہ سیریل لگا لیا اور اسے دیکھنے میں مگن ہوگئی۔ کہ دروازے کے کھلنے کی آواز پر وہ چونک اٹھی۔

مگر اسفند کو وہاں دیکھ وہ بہت خوش ہوئی۔

” اسفی تم آگئے۔” حالے خوشی سے مسکرا کر بولی تو اسفند بھی مسکرا کراس کے پاس آیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا۔

” ہاں آگیا ہوں۔ تم یہ بتاو ابھی تک سوئی کیوں نہیں؟” اسفند اسے جواب دے کر پھر سوال کرتا بولا۔

” یار نیند نہیں آرہی تھی۔” حالے منہ بنا کر بولی۔

” کیوں نہیں آرہی تھی کوئی مسئلہ پریشانی ہے کیا۔ اگر کچھ ہوا تو بتاو؟” اسفند جانتا تھا کہ جب بھی کوئی بات اسے تنگ کر رہی ہوتی تو اسے رات کو نیند نہیں آتی تھی۔

” آج جب میں لیلی کے ساتھ آئی تو۔۔۔۔۔۔۔” حالے نے شروع سے لے کر ساری بات اسفندیار کو بتا دی جسے سن کر اسے اپنی پھپھو پر بےتحاشا غصہ آیا۔کیونکہ وہ کسی کو اتنا حق نہیں دیتا تھا کہ کوئی اس کی بہن کے کردار پر بات کرلے۔

” تم چھوڑو ان کی بات کو سر پر نہ چڑھاو کیونکہ تم تو جانتی ہو کہ ان کی تو عادت ہے اور ویسے بھی کسی کے کچھ بھی بول لینے سے تم ویسی بن نہیں جاو گی۔ تو دفعہ کرو اور مزے کرو۔” اسفند نے اسکا برین واش کرتے آخر میں شرارت سے کہا تو حالے بھی ہنس دی۔

یوں ہی اسفند کچھ دیر بیٹھا رہا اس کے بعد وہ اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔ اس کے جانے کے بعد حالے بھی سونے کے لئے لیٹ گئی اور کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں گم ہوگئی۔

❤♡■■♡❤

” یہ رکھو تم اپنے پاس پیسے اور میرا کام کردو۔” عیشا نے دو ہٹے کٹے آدمیوں کے سامنے پیسے کا بنڈل رکھتے کہا۔

” آپ کا کام ہوجائے گا میڈم۔ بس تصویر دے دیں۔” ان میں سے ایک آدمی بولا تو عیشا نے اپنے ہینڈ بیگ سے ایک فوٹو نکالی جو کہ حالے کی تھی اور ان کے سامنے کی۔

تصویر میں موجود جوان لڑکی کو دیکھ دونوں کی آنکھیں چمک گئی۔

” یہ لڑکی زندہ نہیں بچنی چاہیے ورنہ میں تم دونوں کو اس دنیا سے رخصت کردوں گی سمجھے۔” عیشا نے آنکھوں میں نفرت لئے غراتے ہوئے کہا۔

” آپ فکر ہی نہ کرو میڈم آپکا کام ہوجائے گا۔” وہ آدمی بولے تو عیشا سر ہلا کر آنکھوں پر چشما لگا کر ٹک ٹک کرتی وہاں سے چلی گئی۔۔

عیشا نے ایک دفعہ ہسپتال میں حالے کو دیکھا مگر اس بات کو وہ سرے سے بھول گئی۔ اسے لگتا تھا کہ اب اس لڑکی کا ذوہان کے ساتھ کوئی میل ملاپ نہیں ہوگا۔ مگر یہ اس کی غلطی تھی۔ ایک دفعہ پھر جب وہ ذوہان کا پیچھا کرتے یونی تک آئی تب پھر سے ذوہان کو حالے کی جانب دیکھتے اس کے اندر نفرت کی آگ جل گئی۔ اس نے حالے کی تصویر لی اور اس کا پتہ لگایا۔ پھر وہ سب ان دو بدمعاشوں کو بتا دیا۔ کیونکہ اپنے ضد کی آگ میں وہ کسی کی جان لینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹنے والی تھی۔

اپنی اس ضد کے آگے وہ کسی کی جان لینے والی تھی جس کا اسے کوئی دکھ نہیں تھا۔ شاید ہر خواہش پوری ہوئی تھی مگر ایک نہ ہوئی تو اسی لئے اس کا یہ حال تھا۔

ذوہان کی خوبصورتی اور اس کا دوسروں لڑکیوں کو اگنور کرنا اسے بھا گیا تھا۔ ورنہ اگر یہی ذوہان ہوتا اور کچھ نہ ہوتا یہ اگر بدصورت ہوتا تو یہ اس کی جانب دیکھتی بھی نہ۔

اپنی اٹریکشن جسے وہ محبت کا نام دے رہی تھی ناجانے کتنوں کی زندگیوں سے کھیلنے والی تھی۔

❤♡■■♡❤

” نین کو تو نے ہی پک کیا نہ آج؟” ارحان ذوہان کے پاس آتا بولا۔ وہ جانتا تھا کہ اس نے کر لیا ہوگا مگر ناجانے کیوں ایک بار پوچھ بیٹھا۔

” ہمم ہاں میں نے ہی پک اور ڈراپ کیا تھا۔” ذوہان نے بتایا تو ارحان سر ہلا کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔

” اگر اتنی پسند ہے تو بتا کیوں نہیں دیتے۔” ذوہان نے اس کی جانب دیکھتے دلچسپی سے پوچھا تو ارحان مسکرا دیا۔ نین کے ذکر پر تو ہمیشہ ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا جاتی تھی۔

” بس یہ ایک بار یہ مشن کر کے آجاوں تو پھر مورے کو بتا دوں گا اور اسے اپنے نام کردوں گا ہمیشہ کے لئے۔” ارحان مسکرا کر اس کی جانب دیکھتا ہوا بولا تو ذوہان بھی مسکرا دیا۔

ساتھ میں یہ بھی سوچ لیا کہ اگر ارحان مورے کو نین کے بارے میں بتائے گا تو ساتھ میں وہ بھی ان کو حالے کے بارے میں بتا دے گا۔ یہ سب سوچ کر اسے بہت خوشی ہورہی تھی۔ ناجانے جب یہ دن سچ میں آپہنچے گا تب اس کی کیا حالت ہوگی۔

روح قلب..!!

معلوم نہیں..!!

میری سماعتوں پر..!!

میری بصارتوں پر..!!

یہ کیسا جادو ٹھہر گیا ہے..!!

کہ تم کہیں نہیں ہوتے..!!

تب بھی..!!

دکھائی دیتے ہو..!!

مجھے تم سنائی دیتے ہو..!! ❤💫

جاری ہے۔

❤
❤

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *