Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 24)

Meri Pathani by RB Writes

“ڈاکٹر پلیز میری بہن کو ٹھیک کردیں۔” اسفندیار کی بھرائی آواز سے وہ ہوش میں آیا اور اپنی سرخ آنکھوں سے اسفندیار کو دیکھا جو روتے ہوئے حالے کے خون میں لت پت وجود کو دیکھ رہا تھا۔

” جلدی سے انہیں آپریشن تھیٹر لے جائیں۔” ذوہان نے نرس کو کہا تو وہ حالے کو آپریشن تھیٹر میں لے گئے اسی کے پیچھے اسفندیار بھی داخل ہونے لگا مگر ذوہان نے اسے روک لیا۔

” آپ یہی رک جائیں۔” ذوہان نے دھیرے سے کہا۔ تو اسفندیار نے بہتی نگاہوں سے اسے دیکھا جس کی آنکھیں ضبط کے مارے لال ہو رہی تھی۔ آنکھوں میں درد واضح تھا جسے دیکھ اسفندیار چونکا۔

اور پیچھے ہٹ کر بینچ پر بیٹھ گیا اور سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا۔

ذوہان کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ اندر چلا جائے۔ وہ کیسے اس کو اس حالت میں دیکھ سکتا تھا۔

جس کی صرف یہ حالت نہیں دیکھی جا رہی تھی اس سے اس کا آپریشن وہ کیسے کر دیتا۔ آنکھوں کے آگے بار بار اس کا ہنسنا اور اسکا بری طرح سے گھورنا گھوم رہا تھا۔

بالآخر وہ ہمت کرتا تھیٹر میں چلا گیا۔

جہاں حالے کا زخمی وجود پڑا ہوا تھا۔ سب آپریشن کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھی۔

ذوہان آگے بڑھا اور آپریشن سٹارٹ کرنے لگا مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس سے نہیں ہو پارہا تھا۔

” ڈاکٹر جلدی کریں ورنہ جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔” ساتھ والے ڈاکٹر کی بات سن کر اس کا دل گویا مٹھی میں لے لیا ہو کسی نے۔ اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور چہرے پر بہہ گیا جو ماسک کی وجہ سے کسی نے نہ دیکھا۔

اس نے آنکھیں مضبوطی سے بھینچ کر دوبارہ کھولی۔

اپنے دل کو مضبوط کر لیا کہ اگر وہ کمزور پڑ کر ہمت ہار گیا تو اسے ہمیشہ ہی کے لئے ہی کھو دیگا۔ اور ایسا وہ بالکل بھی نہ چاہتا تھا۔ تبھی اس نے آپریشن سٹارٹ کر دیا۔

💫
🥀
🖤

عادل بھاگتا ہوا ہاسپیٹل میں داخل ہوا۔ اسفندیار نے اسے کال کر کے بتا دیا تھا۔

وہ جب ہاسپیٹل پہنچا تو اسفندیار سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا وہ تیزی سے اس کے قریب آیا۔

” اسفی۔” عادل نے اس کے کندھے پر ہاتھ کر دھیرے سے پکارا تو اسفندیار نے اپنا سر اٹھایا اور عادل کو وہاں دیکھتے وہ فورا سے کھڑے ہوتے اس کے گلے لگتے رونے لگ گیا۔

” عادل وہ حالے۔۔ ا۔۔اس کو گولی لگی ہے۔” اسفندیار روتے ہوئے بولا تو عادل اس کے گرد اپنا حصار مضبوط کر گیا۔ اس سے اپنے دوست کی یہ حالت نہیں دیکھی جارہی تھی۔ اسفندیار کو دیکھتے اسے خود رونا آرہا تھا۔

” اسفی میرے بھائی حوصلہ رکھو۔ حالے ٹھیک ہو جائے گی اللہ پہ بھروسہ رکھو۔” عادل نے اس کی پیٹھ پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔ تو اسفندیار سر ہلاتے اس سے الگ ہوا اور اپنے آنسو صاف کئے۔

” تمہیں۔۔پتہ عا۔۔عادل وہ وہ آج نہیں آنا چاہتی تھی یونی مگر میں لے آیا اسے۔ کاش میں اسکی مان لیتا کاش۔” اسفندیار یہ کہتے دوبارہ سے رونے لگ گیا۔ اس کے دماغ میں بار بار حالے کا معصوم چہرہ گھوم رہا تھا جو صبح کے وقت اس نے بنایا تھا۔

” یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔ میں ہی اس کی اس حالت کا ذمہ دار ہوں۔” اسفندیار بھرائی آواز میں بولا۔ وہ اس سب کا ذمہ دار خود کو ٹھہرا رہا تھا۔ دل بار بار خود کو ہی ملامت کر رہا تھا۔

” نہیں اسفی اس سب میں تیری کوئی غلطی نہیں۔ تو خود کو ملامت مت کر۔” عادل نے اپنی تئیں اسے سمجھانا چاہا۔

” جس نے بھی ایسا کیا ہے۔ اسے چھوڑو گا نہیں میں۔” اسفند نے اپنی مٹھیوں کو زور سے بھینچ کر کہا۔ اور اپنی اس بات کو وہ کر دینے والا بھی تھا۔ اب تو جس نے بھی یہ کیا تھا اس کی خیر نہیں تھی۔

اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی بات کرتے اسفندیار کا فون بجنے لگا۔ اس نے فون نکال کر دیکھا تو اسکی امی کی کال تھی۔ جسے دیکھ اس کی آنکھیں پھر سے نم ہونے لگی مگر اب کے وہ آنسوؤں کو اپنے اندر ہی اتار گیا۔

اور خود کو ٹھیک کرتا کال پک کر گیا۔

” اسفند کہاں ہو بیٹا؟ پھپھو کو چھوڑنا نہیں کیا۔” سکینہ بیگم نے اسکے کال اٹھاتے ہی کہا۔

” امی وہ میری اور حالے کی کچھ ضروری کلاسز ہیں تو ہم نہیں آسکتی آپ بابا کو بول دیں کہ وہ چھوڑ آئیں۔”

اسفندیار نے دھیمی آواز میں کہا تو سکینہ بیگم چونک گئی۔

” کیا ہوا بیٹا سب ٹھیک ہے۔ اور حالے وہ تو ٹھیک ہے نہ؟” سکینہ بیگم نے اسکی آواز سے کسی گڑبڑ کا اندازہ لگاتے ہوئے پریشانی سے کہا تو اسفندیار ہونٹ کاٹنے لگا۔

” جی جی امی سب ٹھیک یے۔اچھا اب میں رکھتا ہوں فون۔” اس نے جلدی سے فون بند کیا کہ اگر تھوڑی دیر مزید بات کرتا تو شاید ہمت ہات دیتا۔ دوسری جانب سکینہ بیگم عجیب نظروں سے فون کو دیکھ رہی تھی۔ مگر پھر اپنے ذہن کو جھٹکتے وہ پروین بیگم کے پاس چلی گئی۔

🥀
🖤
💫

تقریبا ایک گھنٹے بعد ذوہان آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا تو اسفند اور عادل فورا تیزی سے اس کے قریب گئے۔

” میری بہن کیسی ہے اب؟” اسفندیار نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔ اس وقت وہ کوئی بھی بری خبر سننے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔

” اب خطرے سے باہر ہیں وہ۔” ذوہان آرام سے بول کو ان کے دل کو سکون دے گیا۔ دونوں کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

ان کو ایک نظر دیکھ کر وہ تھکے ہوئے قدموں سے اپنے کیبن میں چلا آیا۔ وہاں آکر وہ بیٹھ گیا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔

آنسو بہہ آئے تھے جو کب سے کنٹرول کئے ہوئے تھے وہ اتنا بھی مضبوط نہ تھا جتنا وہ دکھاتا تھا۔

سب کو لگتا تھا کہ ذوہان انتہائی سخت اور مضبوط انسان ہے مگر ایسا بالکل نہ تھا کسی اپنے کی تکلیف پر وہ تڑپ اٹھتا تھا۔ کبھی بھی کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔

اور یہاں تو بات محبت کی تھی جو خون میں لت پت اس کے پاس آئی تھی۔ جس کے بارے میں وہ صرف سوچ کر ہی خوش ہوجاتا۔ جس سے ملنے کی وہ دعائیں کرتا آج اس کے پاس آئی بھی تو کس حال میں۔۔۔۔

اس سے بہتر تھا کہ وہ نہ آتی۔ کس تکلیف سے وہ اسے دوچار کر چکی تھی۔

ہاتھ پیر ابھی بھی ایسے کانپ رہے تھے جیسے وہ ابھی بھی ادھر ہی ہو۔ اور ابھی بھی اسکا علاج کر رہا ہو۔ دل ابھی بھی ایسے ڈر رہا تھا جیسے دیر کردی تو کھو دے گا۔

اور وہ اسے کھونا ہی تو نہیں چاہتا تھا۔

جس کو کہہ دو کہ وہ ضروری ہے

وہی دامن چھڑانے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔🥀💫

🥀
💫
🖤

” ڈاکٹر کیا ہم مل سکتے ہیں حالے سے۔” ذوہان کے جانے کے بعد وہاں سے نکلتے دوسرے ڈاکٹر کو کہا۔

” دیکھیں ابھی نہیں آپ کچھ وقت بعد۔۔۔۔۔” ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ اسفندیار انہیں بیچ میں ٹوک گیا۔

” میں صرف دیکھ کر آجاوں گا۔” اسفند نے کہا تو ڈاکٹر نے اسکی آنکھوں میں موجود التجا کو دیکھتے اپنا سر ہلا کر اسے جانے کی اجازت دی۔

اجازت ملتے ہی وہ فورا سے اندر گیا۔ جہاں حالے آنکھیں موندے دنیا جہاں سے بےخبر لیٹی ہوئی تھی۔

اس کی یہ خاموشی اسفند کو بہت چبھ رہی تھی۔ کہ ہر وقت تو وہ اس سے لڑتی رہتی آج اگر خاموش بھی تھی تو اس کو رلا رہی تھی۔

” بھائی کی جان۔” اسفندیار نے نم لہجے کے ساتھ کہتے اس کا ماتھا چوما۔ اور پیچھے ہٹ گیا۔

” جلدی سے اٹھ جاو پھر جو کہو گی وہ مانوں گا۔ تنگ بھی نہیں کروں گا پکا۔ جو مانگو گی لا کر دوں گا۔ اب تو اٹھ جاو یارر۔” اسفند اس کو دیکھتے ہوئے نم آنکھوں سے بول رہا تھا۔

اگر حالے اس وقت اپنے بھائی کی یہ حالت دیکھ لیتی تو یقینا خود بھی رونے لگ جاتی۔ اسے کہاں منظور تھا کہ اس کے بھائی کی آنکھ میں آنسو آئے۔ مگر اس وقت تو وہ خود ہوش و حواس سے بے گانہ تھی۔

یوں ہی اسفند دیر تک اس کا ہاتھ تھامے اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کرتا رہا۔

🖤
💫
🥀

” ہاں ہیلو کام ہوگیا؟” عیشا نے فون اٹھاتے کہا۔

” یس میڈم ہوگیا اب تک تو شاید قبر میں پہنچ گئی ہو۔” وہ آدمی مکرو مسکراہٹ لئے انتہائی فضول بول گیا۔ جو اگر اسفند یا کوئی اور سن لیتا تو شاید اسے زندہ ہی زمین میں دفن کردیتا۔

مگر عیشا کو اس کی یہ بات سکون دے گئی۔

” گڈ بہت اچھے۔ اب بس تم لوگ بھول جاو کہ کوئی تھی جس نے تمہیں کسی کو مارنے کے پیسے دئے تھے۔” عیشا ایسا بول کر کال کٹ کر گئی۔

کسی کو بے تحاشا تکلیف دے کر وہ کس قدر سکون میں تھی۔ اس کی وجہ سے تین تین لوگ تکلیف کے مراحل سے گزرے۔ جس کا اسے کوئی افسوس نہیں تھا۔ اس کو تو بس اپنی ضد پوری کرنی تھی۔

اسے لگ رہا تھا کہ اب ذوہان اسکا ہو جائے گا۔ اب ان دونوں کے بیچ کوئی نہ ہوگا مگر یہ اسکی بہت بڑی بھول تھی۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *