Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 18)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 18)
Meri Pathani by RB Writes
” اچھا نین میں جاوں تمہارے بابا آرہے ہیں نہ؟” حالے نے جانے سے پہلے اس سے سوال کیا۔
” ہاں ہاں تم جاو بابا آرہے ہونگے۔” نین نے مسکرا کر کہا تو حالے مطمئن ہوئی۔
” چلو اوکے پھر اللہ حافظ۔” حالے نے اس کے گلے ملتے کہا۔
” اللہ حافظ۔” نین نے کہا تو حالے جا کر اسفند کے ساتھ بائک پر بیٹھ گئی اور وہاں سے چلی گئی۔
نین کو یونی کے گیٹ پر یوں اکیلے کھڑے ہوکر بہت زیادہ ڈر لگ رہا تھا۔ وہ حالے کو روک بھی نہیں سکتی تھی۔ کیونکہ وہ کسی کو اپنی وجہ سے پریشان یا تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وہ اپنے ہاتھ مسلتی ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ اسکی نظر کچھ دور کھڑے آوارہ لڑکوں پر پڑی۔ جو کہ اسی کی جانب دیکھتے خبیث سا مسکرا رہے تھے۔ ان کو دیکھ نین کی تو جان ہی نکل گئی۔
وہ ادھر سے بس بھاگ جانا چاہتی تھی کہ وہ اس کے قریب آئے۔ نین نے بھاگنا چاہا مگر وہ اسے چاروں طرف سے گھیر چکے تھے۔
” دد۔دیکھو مم۔مجھے جانے دو پلیز۔” نین نے روتے ڈرتے کہا۔ وہ پہلے ہی اتنا ڈرتی تھی اوپر سے اتنے سارے آوارہ لڑکوں میں خود کو اکیلا گھرا پاکر اس کی تو جان ہی نکلی جارہی تھی۔
” ارے اتنے وقت بعد اتنی حسین بلبل ہاتھ آئی ہے ایسے کیسے جانے دیں۔” اس کے کہنے پر ایک لڑکے نے نظروں میں کمینگی لئے کہا تو سارے ہنسنے لگے۔ نین کے آنسو مزید تیزی سے بہنے لگے۔
♡♡
“اسلام علیکم انکل۔” ارحان نے اپنے فون پر ایاز صاحب کی کال دیکھ کر فورا سے پک کرتے کہا۔
‘” وعلیکم اسلام بیٹا ایک کام ہے مجھے۔” ایاز صاحب نے فورا سے مدعے کی بات پر آتے کہا۔
” جی جی انکل کہیں۔” ارحان نے کہا۔
” بیٹا میں بہت ہی زیادہ کام میں پھنس گیا ہوں اور اگر ابھی نکلا تو ٹریفک بھی بہت ہے آج جلدی نہیں پہنچ پاوں گا تو کیا تم نین کو لے آو گے۔ ” ایاز صاحب نے پریشانی سے کہا وہ جانتے تھے کہ آج لیلی بھی نہیں آئی۔ اور اپنی بیٹی کے خوف سے وہ واقف تھے۔
انہیں بہت زیادہ شرمندگی بھی ہو رہی تھی یہ سب کہتے مگر کیا کرتے وہ مجبور تھے۔ ارحان اور ذوہان کو تو انہوں نے ہمیشہ سے اپنا ہی بیٹا مانا تھا۔ تبھی اسی کے پاس گئے مدد کو۔
” جی جی انکل کیوں نہیں میں ابھی لے آتا ہوں آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں۔” ارحان نے مسکرا کر کہا اور پھر انکی آخری بات سن کر کال کٹ کردی جس می وہ انکا شکریہ ادا کر رہے تھے۔
ارحان فورا سے اٹھا کیونکہ جانتا تھا کہ بس آف ٹائم ہوگیا ہے۔ اگر اسے دیر ہوگئی۔ تو پھر اس نے روتے ہی رہنا ہے۔ اور نین کا رونا وہ کہاں برداشت کر سکتا تھا۔ یہ سوچ وہ خوبصورت سا مسکرا دیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی پورچ سے نکال کر زن سے بھگا لے گیا۔
♡♡♡
” مجھے چھ۔چھوڑ دو۔ مم۔میں نے کیا بگاڑا ہے۔” نین ہچکیوں سے روتے ہوئے بولی مگر اس معصوم پر پھر بھی ان ظالموں کو ذرا رحم نہ آیا۔ الٹا وہ مزید قہقہے لگاتے ہنسنے لگے۔
” بس بھی کردو یار اب۔ چلو چپ کر کے چلو میرے ساتھ۔ ” ان میں سے ایک آگے بڑھ کر اپنا سینہ سہلاتے ہونٹ کا کونا دانتوں میں دبا کر بولا۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتا اس کے منہ پر زوردار مکا رسید ہوا کہ وہ لڑکھڑا کر زمین پر گر گیا۔ باقی سارے بھی اس اچانک افتداد پر گھبرا گئے۔
نین نے بہتی نگاہوں سے سامنے دیکھا تو ارحان کو لال انگارہ آنکھوں سے بے تحاشا کا جنون لئے پایا۔ اس کو دیکھ جیسے جان میں جان آئی۔ جیسے کسی پیاسے کو کنواں مل جائے۔ اس وقت ارحان اسے کسی صحرا میں چھاوں کی طرح لگا۔
” ابے اوو کون ہے تو؟” اس میں سے ایک نے ہمت کرتے کہا تو ارحان کی غصے سے بھری آنکھیں اس پر پڑی۔
” ہمت کیسے ہوئی اسے تنگ کرنے کی۔ ” ارحان دھاڑ کر بولا اور ان پر ٹوٹ پڑا۔
ارحان ایک کی جانب بڑھا اور اس کے منہ پر پہ در پہ مکے رسید کرتا گیا۔ پھر اسے چھوڑ دوسرے کی جانب بڑھا جو خود اسے مار نے کو آگے بڑھ رہا تھا۔
ارحان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر مروڑ دیا کہ اسکی چیخیں بلند ہوگئی۔ اس کے بعد اس کو دھکا دے کر وہ دوسرے کی جانب بڑھا۔ اور اس کا بھی کچھ یونہی حال کیا۔
نین کونے میں کھڑے آنکھیں پھاڑے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ اس کو بھی اس وقت ارحان سے بہت ڈر لگ رہا تھا جس کا غصہ کسی طور کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ ارحان تیسرے کو چھوڑ چوتھے کی جانب بڑھتا وہ چالاکی سے نین کے قریب آیا۔ اور اسے اپنی جانب کر کے اپنا چا۔قو نین کی گردن پر رکھ دیا۔ نین کی چیخ نکل گئی۔
جسے سن ارحان نے سر اٹھا کر دیکھا تو آنکھوں میں جلن مزید بڑھ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتا اس لڑکے نے چا۔قو کا دباؤ نین کی گردن پر بڑھا دیا جس سے نین کو مزید تکلیف ہوئی اور اس کے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔
” آگے مت بڑھنا ورنہ میں مار دوں گا اسے۔” اس لڑکے کے پیچھے ہوتے ہوئے ارحان کو دھماکتے کہا۔
” یہ جس پر تو نے چا۔قو رکھا ہے نہ یہ جان ہے میری اور اگر اسے ذرا سی بھی کھروچ آئی نہ تو تجھے تڑپا تڑپا کر ماروں گا میں۔” ارحان نے جنونی ہوتے دھاڑتے کہا جس کی وجہ سے وہ لڑکا مزید ڈر گیا۔
” میں مار دوں گا۔” وہ لڑکا پھر سے ہمت کرتے بولا۔
” چل مار۔ مار نہ۔ مار ۔” ارحان نے اسے مزید اکسایا جس پر نین کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔ اور اسے اب مزید ڈر لگنے لگ گیا۔
” مم۔میں سچ میں مار دوں گا۔” وہ لڑکا اس بار اٹک کر بولا اس کی آنکھوں کا خوف کوئی بھی آسانی سے پڑھ سکتا تھا۔
” مار دوں گا مار دوں کہہ کر مجھے دھمکا کیا رہا ہے۔ ہمت ہے تو مار ۔ مار کہ دکھا ۔” ارحان نے ایک بار پھر سے آوٹ آف کنٹرول ہوتے کہا۔
کہ اس لڑکے نے نین کو آگے کی جانب دھکا دیا اور خود تیزی سے بھاگ گیا۔ نین گرنے ہی والی تھی کہ ارحان آگے بڑھا اور اسے اپنے حصار میں لے لیا۔
اس کے محفوظ حصار میں آتے ہی نین نے اس کی شرٹ مٹھیوں میں بھینچ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
ارحان نے گہری سانس لے کر اس کو اپنے سینے میں بھینچ لیا۔
” مم۔مجھے مم۔مار دیتا وہ۔” نین نے ہچکیوں سے روتے کہا۔
” کچھ بھی نہیں کہہ سکتا تھا وہ تمہیں۔ بلکہ میرے ہوتے کوئی تمہیں چھونا تو دور دیکھ بھی نہیں سکتا۔” ارحان نے اسکے سر پر ہونٹ رکھتے کہا۔
” مجھے بابا کے پاس جانا ہے۔” نین نے کہا تو ارحان نے سینے میں چھپے اس کے سر کو دیکھا اور گہری سانس بھری۔
” چلو لے کر چلتا ہوں گھر مگر اپنے بابا کو نہ بتانا پھر وہ پریشان ہو جائیں گے ہمم۔” ارحان نے اسے سمجھایا تو اس نے سر ہلایا۔ اس کے بات ماننے پر ارحان کے ہونٹ مسکرا دئے۔ مگر دماغ ابھی بھی پھٹ رہا تھا۔ غصہ کسی طور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
” اب سے اپنے بابا کو کہو کہ روز تمہیں اور لیلی کو ذوہان چھوڑنے بھی جائے گا اور لینے بھی ٹھیک ہے؟” ارحان نے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلا گئی۔ تو ارحان نے اسکی پیشانی پر ہونٹ رکھے اور اسے لے کر گاڑی کی جانب آگیا۔
جاری ہے۔
