Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 27)Part 2

Meri Pathani by RB Writes

اگلے دن کا سورج طلوع ہو چکا تھا۔ اور ہر طرف آپنی کرنیں پھیلا چکا تھا۔ چڑیا اپنے گھونسلوں سے نکلتیں رزق کی تلاش میں نکل چکی تھی۔ ہر طرف ہی امن کی پرسکون سی فضا پھیلی ہوئی تھی۔ سب ہی اپنے دھن میں مگن تھے۔

وہیں ارحان صبح کا جاگتا تیار ہو رہا تھا۔ ساتھ میں اپنی امی کو ہدایت بھی کر رہا تھا۔ آج خلاف توقع لیلی بھی جلدی جاگ کر اپنی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے ارحان کو ادھر ادھر ہوتا دیکھ رہی تھی۔

سب ہی آج گھر پر رکے ہوئے تھے تاکہ اس کو اچھی طرح سے الوداع کر سکیں۔ ذوہان ابھی کچھ دیر پہلے ہی کچھ لینے اپنے کمرے میں گیا تھا۔ جبکہ خانزادہ صاحب بھی وہیں لیلی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔

” کیا ہوا لالے کی جان ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟” لیلی پر نظر پڑتے ارحان نے مسکرا کر کہا تو لیلی نے منہ بسورا۔

” لالہ تم کیوں جا رہا ہے؟” لیلی نے بجھے دل سے دھیرے سے کہا تو ارحان مسکایا۔

” لالے کی جان پروا کیوں کر رہی ہو تم۔ میں کچھ ہی دنوں میں آجاوں گا۔ اور ویسے بھی تم بس شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو جاو۔” ارحان نے شوخ لہجے میں کہا تو وہ بھی مسکرائی۔

ابھی کچھ دیر تک وہ تیار ہو گیا تو سب ہی اس کے ساتھ لاونج تک نکل آئے۔ لیلی اور رضیہ بیگم کا تو اسکو جاتے دیکھ آنکھیں نم ہوگئی۔

جبکہ ذوہان اور خانزادہ صاحب بھی اداس نگاہوں سے اسے تک رہے تھے۔

” مورے رو تو نہیں تم دعاؤں میں رخصت کرو مجھے۔ ” ارحان نے رضیہ بیگم کو روتے دیکھ کر انہیں گلے لگاتے کہا تو وہ بھی سر ہلاتی اس کے اوپر دعائیں پڑھ کر پھونکنیں لگی۔

اپنی ماں سے ملنے کے بعد ارحان خانزادہ صاحب کے پاس آیا جنہوں نے اسے فورا گلے لگا لیا۔

” اپنا خیال رکھنا ہمم۔” خانزادہ صاحب نے اسکا کندھا تھپتھپا کر کہا تو وہ جی بابا بول کر ذوہان کی جانب بڑھ گیا۔ یوں ہی ایک ایک کرتا وہ سب سے مل کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگیا۔

یہ جوان ہمیشہ ہی اپنے ملک کی خاطر اپنے خاندان سے اپنے پیاروں سے سب سے دور ہوجاتے ہیں۔ اور اپنے وطن کے لئے جان قربان کر دیتے ہیں۔

❤●●❤

” اسفند نہیں جاو نہ یار۔” حالے نے اسے جاتے دیکھ منہ بنا کر کہا تو وہ مسکراتا اس کے قریب آیا۔

” میری بہن ابھی ملک کو میری ضرورت ہے۔ اور ویسے بھی فرض سب سے پہلے۔” اسفندیار نے ہنس کر کہا تو وہ بھی ہنس دی۔

” اپنا خیال رکھنا ہمم اور کوئی الٹی سیدھی چیز مت کھانا ابھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوئی تم۔” اسفند اسکا ماتھا چوم کر اسے ہدایت دیتا کچھ دیر میں سب سے ملتا وہاں سے نکل گیا۔

سب نے اسے دل سے یہی دعا دی کہ اس کی منزل کامیابی ہو۔ اور اس کو اس مشن میں فتح نصیب ہو۔

❤●●❤

یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا مگر اتنا بھی چھوٹا نہیں تھا۔ جس میں اسفندیار اور اس کی ٹیم تھے۔

وہاں انکے لئے ایک روم بھی سیٹ تھا جس میں انہوں نے پلینز بنانے تھے۔

ارحان اور باقی سب لوگ بھی اپنا سامان ہر جگہ سیٹ کر چکے تھے۔ کیونکہ وہ سب تھوڑا سا تھک گئے تھے اس لئے انہوں نے تھوڑی دیر کے لئے آرام کرنے کا سوچا تھا۔

تقریبا تین گھنٹے بعد وہ سارے اس روم میں اکٹھے ہوچکے تھے۔ اور وہاں رکھی چیئرز پر بیٹھ گئے۔ جبکہ اسفندیار کھڑا انکو گائڈ کرنے لگا۔

چونکہ اسفند ان سب سے سینئر تھا تبھی وہ انہیں گائڈ کر رہا تھا۔

” ازمیر کو پکڑنا ہمارے لئے نہ تو اتنا مشکل ہے اور نہ ہی اتنا آسان۔

جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے کہ اس کے گھر کے باہر اور اس کے ساتھ ہر وقت سیکیورٹی فورسز رہتی ہیں۔ تو یہ سب آسان نہیں۔ اس لئے ہمیں ساری ڈیٹیلز معلوم ہونا لازمی ہے۔

تو اسی وجہ سے میں نے کچھ دن پہلے ہی ساری معلومات نکلوائی ہیں کہ وہ کب باہر جاتا ہے کب واپس آتا ہے کتنی فورسز ہوتی ہیں اس کے ساتھ سب کچھ۔

جس پر ہم نے کل سے ہی کام شروع کرنا ہے۔ آج میں آپ کے ساتھ سارے پلینز شئیر کروں گا۔ جس پر ہم نے کل عمل کرنا ہے۔ “

اسفندیار نے سب کو کہا تو سب اس کی بات سن کر سر ہلا گئے۔ ارحان اسفند کی اتنی تیزی اور ہوشیاری پر متاثر ہوئے بنا رہ نہ سکا۔

یوں ہی وہ سب کافی دیر بیٹھے ان سب کے بارے میں بات کرتے رہے اور کل کے لئے خود کو تیار کرنے لگے۔

❤●●❤

لیلی اور نین آج حالے کے گھر جا رہے تھے تاکہ اس کا حال چال پوچھتے سکیں۔ ویسے تو وہ دونوں روز ہی اس سے فون پر بات کرتی رہتیں مگر آج دونوں نے ہی اس سے ملنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

چونکہ ارحان تو جا چکا تھا تبھی ذوہان ان دونوں کو وہاں چھوڑنے گیا۔

اور ان دونوں کو وہاں ڈراپ کر کے اس نے واپسی کی راہ لے لی۔

” بیٹا آپ۔۔؟ ” سکینہ بیگم نے دو انجان لڑکیوں کو اپنے گھر میں دیکھ کر کہا۔

” وہ آنٹی ہم نہ حالے کا دوست ہے۔ ہم اس سے ملنے آیا ہے۔” لیلی کے بتانے پر وہ مسکراتی انہیں اندر لے آئیں۔ جبکہ ہمیشہ کی طرح لیلی کے لب و لہجے پر سکینہ بیگم بھی مسکرا دی۔

” بیٹا وہ سامنے حالے کا کمرہ ہے آپ جاو اس سے مل آو۔ میں تب تک کچھ لے کر آتی آپ لوگوں کے لئے۔” سکینہ بیگم نے انہیں حالے کے کمرے کا راستہ بتایا تو وہ دونوں سر ہلا کر اندر چلی گئی۔

حالے جو کہ اسفند کے جانے کی وجہ سے کافی اداس اور بوریت محسوس کر رہی تھی۔ تبھی اپنے فون کو لے کر بیٹھ گئی اور اس میں سے ناول نکال کر پڑھنے لگی۔

دروازے کی کھٹ کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو حیران رہ گئی۔

” لیلی نین تم دونوں یہاں۔۔۔؟” حالے نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لئے کہا تو وہ دونوں مسکرا کر اس کے بیڈ پر اس کے قریب بیٹھ گئیں۔

” ہاں ہم نے سوچا آج تم سے مل آئیں ہم کو تمہارا یاد آرہا تھا۔” لیلی نے کہا تو اس کی بات پر ہمیشہ کی طرح نین نے زوروشور سے سر ہلا کر اس کے بات کی حق میں ہوئی۔

” بہت اچھا کیا تم لوگ آگئے۔ اسفند بھی چلا گیا میں بہت بور ہو رہی تھی۔” حالے نے جلدی میں منہ بسور کر کہا۔ جبکہ اس کی بات پر لیلی ٹھٹھک گئی۔

” کہاں چلا گیا تمہارا بھائی۔” لیلی نے عام سے انداز میں کہا جب کہ دل تو اس کے ذکر بھی عجیب ہی ہوگیا تھا۔

اس کے نام سے اس کی بدلتی دھڑکنیں، بےترتیب ہوتی سانسیں، خون کی روانگی میں یوں لگتا جیسے تیزی سی آگئی ہو۔

” وہ۔۔ وہ ہاں وہ پھپھو کی طرف گیا ہے کچھ دن کے لئے کوئی ضروری کام ہے اسے وہاں تو۔۔۔” حالے سے کوئی بات نہ بنی تو جو من میں آیا بول گئی۔

اگر اسفند سن لیتا کہ اس نے یہ کہا ہے تو دو چار تو لگا ہی دیتا۔ کیونکہ اسے تو ہمیشہ سے ہی پھپھو اور ان کی بیٹی سے چڑ ہوتی۔

” اچھا صحیح۔” لیلی سر ہلا کر بولی اس کے بعد وہ تینوں ہی اپنی باتوں میں مگن ہوگئیں۔ اور ایک خوبصورت سا دن ایک ساتھ بتا کر وہ دونوں اپنے گھر چل دی۔

❤●●❤

کل کا سارا دن لگا کر وہ آج تیار بیٹھے تھے اپنے دشمن کو پکڑنے۔

جوش اور جذبہ انکی آنکھوں سے ٹپک رہا تھا۔ جو اگر کوئی دیکھ لے تو ویسے ہی راستے سے ہٹ جائے۔ مگر شاید ازمیر اور اس کے ساتھی ان کے ہاتھوں ذلیل ہو کر مرنے والے تھے۔

” ہم سب جانتے ہیں کہ دن کے ڈیڑھ بجے ازمیر اپنے ساتھ دو گاڑیوں کو لئے آگے کی طرف جاتا ہے۔ اور آگے کا راستہ بھی سنسان ہے۔ گارڈز بھی باقی دن کے مناسبت سے اس وقت کم ہوتے ہیں۔ تو ہم راستے میں ہی ان کے لئے جان بجھا کر کھڑے رہیں گے۔ اور فورا ہی ان پر حملہ کر دیں گے۔

لیکن یاد رہے ازمیر کو زندہ پکڑنا ہے کسی بھی حال میں۔”

اسفندیار نے انہیں گائڈ کرتے کہا تو سب یس سر بول اٹھے۔

” چلو پھر نکلتے ہیں۔” ارحان نے کہا تو پھر سب ہی اپنے ضرورت کا سامان اٹھائے وہاں سے چلے گئے۔ اور راستے میں تیار بیٹھے اپنے شکار کو جال میں پھنستے دیکھنے کے انتظار میں تھے۔

اب سے ازمیر کے سارے اچھے دن ختم ہوچکے تھے۔ اللہ نے شاید اپنی کھلی چھوڑی رسی کھینچ لی تھی۔

شاید آج سے اسے ان سب مظلوم لوگوں کی بد دعاوں کے لگ جانے کا دن تھا۔

اگر وہ جان جاتا کہ آج اس کے ساتھ اتنا بڑا حادثہ ہونے والا ہے تو وہ اپنے کمرے سے بھی نہ نکلتا۔

مگر اب تو ایسا کچھ نہیں ہونے والا تھا۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *