Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 13)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 13)
Meri Pathani by RB Writes
” لیلی بچے جاو جلدی سے بیٹا ارحان اور ذوہان کو اٹھا دو جا کر انہیں ڈیوٹی پہ جانا ہوگا۔ دیر ہوجائے گا انکو۔” رضیہ بیگم نے اپنے ساتھ کچن میں کام کرتے لیلی کو کہا تو وہ ٹھیک ہے مورے کہہ کر پہلے ارحان کے کمرے میں چلی گئی۔
وہ کمرے میں داخل ہوئی تو ارحان کو آڑا ترچھا بیڈ پہ لیٹا ہوا پایا۔ وہ نفی میں سر ہلاتے اس کے قریب گئی اور اسکا کندھا ہلایا۔
” حان لالہ اٹھ جاو۔'” لیلی نے اسے اٹھایا مگر اس پر جوں تک نہ رینگی۔ ارحان جو ساری رات کا جاگا۔ فجر کی نماز پڑھ کر سویا تھا۔ اب اٹھنے کا اسکا دل نہیں تھا کیونکہ دماغ جو بیدار نہیں تھا۔
” حان لالہ۔۔۔ لیلی نے ایک بار پھر اسکو کندھے سے ہلایا۔
” ہنہہہ۔” ارحان نے صرف کسمسا کر جواب دیا اس کے بعد دوبارہ سے رخ موڑ کر آنکھیں موند گیا۔
” حان لالہ اٹھ جاو نہ تم کو ڈیوٹی پہ نہیں جانا کیا۔ جلدی کرو پھر مجھے ذوہان لالہ کو بھی اٹھانا ہے پھر میں نے کام کرنا ہے اماری دوستوں نے آنا ہے نہ آج۔۔۔” لیلی نے اسے جھنجھلا کر کہا۔
دوستوں والی بات پہ ارحان کی آنکھیں جھٹ سے کھلی۔ اسکے مائنڈ میں فورا سے کلک ہوا۔ اس کے چہرے پر فورا سے مسکراہٹ چھا گئی۔ اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اسے اٹھتے دیکھ لیلی نے شکر ادا کیا۔
” لالہ تم تیار ہو جاو۔ مورے ناشتہ بنا رہا ہے۔ ” لیلی نے کہا تو اس نے منہ بنایا کہ یہ لوگ آج کے دن بھی اسے بس گھر سے نکالنے کے چکر میں تھے۔ جبکہ جانتا بھی تھا کہ گھر میں کون جانتا تھا کہ یہ جناب اپنی بہن کی دوست سے عشق میں گرفتار ہوجائیں گے۔
” مورے کو بتا دو آج نہیں جا رہا میں چھٹی ہے میری۔” لیلی کو دیکھتا وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا۔ تو لیلی سر ہلا کر چلی گئی۔
اس کے جانے کے بعد ارحان نے ایک پرسکون سا سانس کھینچا۔ کہ صبح کا انتظار تو وہ رات سے کر رہا تھا اب ہو چکی تھی۔ اپنی محبت سے ملاقات کا وقت ہوچکا تھا۔ نین کا ڈرا سہما سا روپ آنکھوں میں آیا تو لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔ وہ سر جھٹک کر اٹھا اور باتھروم چلا گیا۔


” ذوہان لالہ اٹھ جاو۔ سات بجنے والے ہیں ہسپتال نہیں جانا کیا تم نے؟” لیلی اب کے ذوہان کے کمرے میں موجود تھی اور اسے اٹھا رہی تھی۔
” ہاں کیا ہوا؟” ذوہان نے مندی مندی آنکھیں کھول کر اپنے سامنے دیکھا تو لیلی کھڑی تھی۔ اس کو دیکھ ذوہان نے سوال کیا۔
‘” لالہ ٹائم دیکھو کیا ہوگیا ہے۔ تم نے ہسپتال نہیں جانا کیا؟” لیلی کی بات سن کر ذوہان سستی کرتا اٹھا اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ہسپتال جانے کا سن کر اسے ساری بات یاد آئی۔
” آں ں ں آج تو میں نہیں جا رہا ۔” حالے کے آنے کا سن اسنے بھی کسی طرح منتے ترلے کر کے ایک چھٹی مانگ لی تھی۔ جو اسے مل گئی تھی۔ تبھی وہ بولا۔ اس کے بولنے پر لیلی نے ناسمجھ نظروں سے اسے دیکھا۔
” کیوں تم کیوں نہیں جا رہا؟” کمر پہ ہاتھ ٹکائے اسنے ترچھی نظروں سے اسے دیکھ کر سوال کیا تو ذوہان گڑبڑا گیا۔
” نہیں وہ میرا دوست ہے نہ اس کی جگہ میں نے کل ڈیوٹی کی تھی تو اس نے کہا کہ آج وہ میری جگہ کرلے گا۔ کیونکہ اسے کسی کا ادھار رکھنا پسند نہیں ہے۔” جلدی جلدی میں بے تکا سا بہانہ بنا گیا تو لیلی نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا۔
” یہ عجیب بات ہے ادھر حان لالہ نہیں جا رہا ادھر تم بھی نہیں جا رہا۔۔۔” لیلی منہ میں بڑبڑا کر نیچے چلی گئی۔ جبکہ اس نے لیلی کی بات سن کر سر اٹھایا۔ پھر سر جھٹک کر فورا فریش ہونے کے لئے چلا گیا۔


” نین بیٹا اٹھ جاو۔” ایاز صاحب نین کے کمرے میں داخل ہوئے تو نین کو سکون سے نیند کی وادیوں میں گم دیکھا تو مسکرائے اور جا کر کھڑکی سے پردے ہٹائے۔ تو روشنی چہرے پر پڑنے پر نین کسمسائی۔
” نین بیٹا اٹھ جاو۔” ایاز صاحب اس کے سرہانے آ بیٹھ کر اس کے چہرے سے بال ہٹاکر بولے۔ تو نین نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھولی۔ اور اپنے سامنے اپنے بابا کو دیکھ وہ مسکرا دی۔ اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔
” بیٹا جلدی اٹھ جائیں پھر میں نے بھی آفس جانا ہے اور آپ نے لیلی کے گھر بھی جانا ہے نہ ہممم۔” ایاز صاحب بولی تو نین گھبرائی۔
” بابا میرا دل نہیں ہے جانے کو۔” نین نے منہ بنا کر روہانسے لہجے میں انہیں دیکھ کر کہا تو ایاز صاحب نے افسوس سے اسے دیکھا۔
‘” بیٹا دیکھو لیلی نے آپ کے لئے پارٹی رکھی ہے نہ تو اگر آپ ہی نہیں جاو گے تو اسے برا لگے گا نہ۔ تو آپ چاہتے ہو کہ آپ کی دوست کو برا لگے؟” ایاز صاحب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو نین نے ان کی بات پہ نفی میں سر ہلایا۔ تو ایاز صاحب مسکرائے۔
” بس پھر چلو میرا بیٹا اٹھ جاو۔ پھر بابا کے ساتھ ناشتہ ریڈی کرواو۔” نین کا ماتھا چوم کر وہ بول کر چلے گئے پیچھے نین گہری سانس بھر کر رہ گئی۔


” اسفی جلدی کرو یار گیارہ ہو گئے ہیں۔” حالے تیار ہو کر اسفند کے کمرے میں آئی تو اسفندیار کو اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے دیکھ کہا۔ اسفند نے شیشے سے اسکی جھنجھلائی شکل دیکھ کر مسکراہٹ دبائی۔
” صبر کر جاو یار تمہیں کس بات کی جلدی ہے۔” اسفند نے اب کی بار اسے دیکھتے ساتھ اپنے بال بناتے اسے چڑاتے کہا۔اور اس بات پر حالے واقعی چڑ کر رہ گئی۔
” نہ تم کس خوشی میں اتنے تیار ہو رہے ہو تمہارا رشتہ نہیں کروانے جا رہی میں۔” حالے نے اسے گھورتے کہا۔
” یار اگر کروا دو تو بڑی مہربانی ہوگی۔” اسفند معصوم شکل بنا کر پلک جھپکتے ہوئے بولا تو حالے نے دانت پیسے۔
” پلیز اسفی۔۔۔” اب کی بار حالے نے تنگ آکر التجائی لہجے میں کہا تو اسفندیار ہنس دیا۔
” اچھا بھئی چلو۔” اسفند بائک کی چابی اٹھا کر بولا اور باہر نکل گیا حالے بھی خوش ہوتے اس کے پیچھے نکل گئی۔
” ایڈریس تو پتہ ہے نہ تمہیں؟” اس کے بائک پر بیٹھتے اسفند نے بائک سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
” ہاں مجھے لوکیشن سینڈ کی ہے اس نے۔” حالے نے اس کی بات کا جواب دیا تو وہ سر ہلا گیا۔


” ذوہان لالہ تم جاو نہ نین کو لے آو۔” لیلی نے لاونج میں بیٹھے ذوہان سے کہا۔ اس کی بات سن کر ارحان نے چونک کر سر اٹھایا۔ جبکہ دانت پیستے اسے گھور کر بھی رہ گیا۔
” پتہ نہیں یہ میری بھی بہن ہے کہ نہیں۔ ناجانے کیا دشمنی ہے مجھ سے۔ مجھے آکر نہیں کہہ سکتی ہنہہہ۔” ارحان نے لیلی کو دیکھتے جلتے کڑھتے ہوئے سوچا۔
” آاااا گڑیا تم ایک کام کرو ارحان کو بول دو میری نہ ذرا طبیعت ٹھیک نہیں۔” ذوہان نے بہانہ بنایا تو ارحان نے آنکھوں میں دنیا جہان کی محبت سموئے اسے دیکھا۔
” ہاں دیکھا یہ ہے میرا اصلی شہزادہ بھائی۔” ارحان نے دل میں خوش ہوتے سوچا جبکہ چہرہ بالکل سنجیدہ بنا رکھا تھا۔ جس سے اسکی اندر کی کیفیت معلوم کرنا مشکل لگ رہا تھا۔
” ارحان لالہ تم لے آئے گا اسے؟” لیلی نے امید سے بھری نگاہوں سے اسے دیکھ کر کہا۔
” ٹھیک ہے اگر ذوہان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو میں لے آتا ہوں۔” ارحان نے یوں کہا جیسے اسی کا کام کر رہا ہو۔ لیلی اس کی بات پر خوش ہوتے شکریہ لالہ بول کر کچن میں چلی گئی۔
پیچھے ارحان نے جاتے جاتے ذوہان کو فلائنگ کس پاس کی تو ذوہان مسکرا کر رہ گیا۔
وہ ارحان کی نین سے محبت سے واقف تھا۔ تبھی وہ لیلی کے سامنے اپنی طبیعت خرابی کا بہانہ بنا گیا۔


” جاو نین بیٹا لگتا ہے کہ ذوہان آگیا ہے۔” نین تیار ہو کر لاونج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ تو ہارن کی آواز پر ایاز صاحب نے اسے کہا تو اس نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا جب کہ دل کی دھڑکن پھر سے تیز ہوگئی تھی۔
” جاو بیٹا وہ انتظار کر رہا ہوگا۔” ایاز صاحب نے اسے وہی کشمکش میں بیٹھا دیکھ نرمی سے کہا تو دھڑکتے دل کے ساتھ اٹھی۔
” اچھا بابا اللہ حافظ۔” نین نے کہا تو ایاز صاحب نے اس کی پیشانی چومی۔ اس کے بعد نین خود کو یہ کہہ کہ ویسے بھی ابھی تو ذوہان ہی آیا ہے اور کیا پتہ ارحان گھر ہو ہی نہ۔ پرسکون کر کے لائی تھی۔
جب وہ باہر نکلی تو گاڑی میں اس نے ارحان کا سائڈ فیس دیکھا۔ اس نے اسے ذوہان سمجھ کر دل کو تسلی دی۔ پھر گاڑی کے قریب آئی۔
ارحان جو کب سے نین کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ کسی کی آہٹ محسوس کر کے اس نے جب نظریں سامنے کی تو ساکت ہوگئی۔ اسے ٹکٹکی باندھے تکتا وہ اپنی نظروں کی پیاس بجھا رہا تھا۔
جبکہ نین کے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے ذوہان کی جگہ ارحان کو پاکر۔ اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو ذوہان اور ارحقن میں اتنا واضح فرق نہ کرپاتا۔ جبکہ نین ایک جھلک ہی دیکھ کر بتا دیتی کہ یہ ارحان ہے کہ ذوہان۔
نین نے اسے سامنے پاکر پیچھے کا دروازہ کھولا تو ارحان نے ٹوکا۔
” نین آگے آو۔” ارحان نے کہا تو نین نے آنکھیں زور سے میچ لی پھر کھولی۔ اور بیک ڈور بند کیا۔ اور دھڑکتے دل سے فرنٹ سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔ ارحان اسے بیٹھتے دیکھ گہرا مسکرایا۔
” بابا کیسے ہیں تمہارے۔” دونوں کے درمیان کچھ دیر تک خاموشی ہی تھی جو کہ ارحان کو بری طرح چبھ رہی تھی۔ تبھی وہ کوئی بات کرنے کے لئے بولا۔ جبکہ نین سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی۔
” ٹھ۔ٹھیک ہ۔ہے” نین نے اپنی انگلیوں سے کھیلتے ہوئے گھبرا کر کہا۔ اسکی اس حرکت کو ارحان نے مسکراتی نظروں سے دیکھا۔
” اتنا گھبراتی کیوں ہو مجھ سے؟” ارحان نے اپنی چمکتی نگاہیں اس کے وجود پہ ٹکائے کہا تو نین کا سانس مزید رکا۔ اب وہ اسے کیا جواب دیتی کہ کیوں گھبراتی تھی اس سے۔
” نن۔نہیں تو اا ایسی بات نہیں ہے۔” نین نے گھبرا کر اسے دیکھ کر کہا مگر اسکی آنکھوں کی چمک کو زیادہ دیر نہ دیکھ سکی تبھی فورا سے نگاہیں جھکا دی۔
ارحان کو اس کی اس ادا پر جی بھر کے پیار آیا۔
” اچھا ایسی بات نہیں ہے تو کیسی بات ہے۔” ارحان اس سے مزید بات کرنا چاہتا تھا تبھی بولا۔ جبکہ اپنی باتوں سے وہ نین کے لئے مزید مشکلات پیدا کر رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا جواب دے اسے۔
” کیسی بھی بات نہیں ہے۔” نین نے جان چھڑواتے کہا۔
” نہیں کیسی تو بات ہے۔” ارحان نے آنکھوں میں شرارت لئے کہا۔
” آپ کیوں مجھے تنگ کر رہے ہیں۔” نین نے اس کے بے تکی باتوں سے چڑتے جھنجھلا کر کہا۔ اسکی جھنجھلاہٹ سے ارحان بہت محظوظ ہوا۔
اسے ایک بات کی خوشی بھی ہو رہی تھی کہ وہ اپنی باتوں سے دھیرے دھیرے اسے خود کے ساتھ ایزی کردے گا۔ کہ وہ اس سے ڈرنا چھوڑ کر اس کے ساتھ باتیں کیا کرے اس کے ساتھ مسکرایا کرے۔ جیسا کہ وہ لیلی اور ذوہان کے ساتھ ہوتی تھی۔ جیسا وہ اپنے بابا کے ساتھ تھی۔
” میں نے کب تنگ کیا تمہیں۔ میں تو اتنا معصوم سا انسان ہوں۔” ارحان نے معصوم شکل بنا کر کہا تو نین نے حیرت سے اسے دیکھا۔
” آپ اور معصوم ایسا تو نہیں ہے۔” نین نے ایسے کہا جیسے اسی کی معلومات میں اضافہ کر رہی ہو۔ ارحان اس کے انداز پہ مسکرایا۔
” ایسا ہی ہے میں اپنے گھر کا سب سے شریف اور معصوم انسان ہوں۔” ارحان نے کہا۔
” معصوم ایسے تو نہیں ہوتے۔” نین نے منہ بنا کر کہا۔ وہ اب کافی کنفرٹیبل فیل کر رہی تھی اس کے ساتھ۔
” ایسے ہی ہوتے ہیں تمہیں کیا پتہ۔” ارحان نے بھی اسی کے انداز میں کہا تو نین نے اسے دیکھ ناک چڑھایا۔
یوں ہی باتیں کرتے کرتے وہ دونوں گھر پہنچ گئے۔
جبکہ ارحان کا دل تو کر رہا تھا کہ یہ سفر کبھی نہ ختم ہو۔


” ہاں یہی گھر ہے بس یہی پہ روک دو۔” لیلی کے گھر کے باہر آتے اس نے نام پڑھتے اسفند سے کہا جس نے اس کی بات سن کر بائک روک دی۔
” اچھا چلو اب تم جاو۔ اور جب میں کال کروں تو آجانا۔” حالے نے کہا تو اسفند منہ بنا گیا۔ اس کی نظریں اردگرد گھومتے کسی کی تلاش میں تھی مگر اس کو ناپاتے مایوس ہوکر واپس لوٹ آتی۔
” ٹھیک ہے جاو رہا ہوں۔” ایک آخری نظر اس نے لیلی کے گھر کے دروازے پہ ڈالتے کہا اور پھر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد حالے نے نین کے گھر کا دروازہ بجایا۔ اور جس نے دروازہ کھولا اسے دیکھ وہ کافی حیران ہوئی۔
” ڈاکٹر۔۔۔۔”
