Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Pathani (Episode 10)

Meri Pathani by RB Writes

” حالے کیسا ہےاب تم؟” نین اور لیلی ساتھ کھڑی حالے کو آتے دیکھ اس کے پاس آتے فورا سے اس کا حال چال پوچھتے بولی۔ تو حالے مسکرا دی۔

” میں ٹھیک ہوں میری جان تم بتاؤ۔” لیلی کے گال کھینچتے وہ مسکرا کر بولی۔ جب کہ لیلی نے خفگی سے اسے دیکھتے اپنا گال سہلایا۔ نین بھی اسے دیکھ مسکرا دی۔

” اچھا سر قاصم نے کچھ کہا تو نہیں؟” حالے کو جیسے کچھ یاد آیا تو اس نے پوچھا۔

سر قاسم ایک سخت ٹیچر تھے۔ حالے کی شرارتوں کی وجہ سے ان کی کلاس کی ہر ٹیچر کو اس کا پتہ تھا۔ اس کا نام سب نے نمونہ آف دا کلاس رکھا تھا۔ جو کہ اس نے ہنس کر قبول کیا۔

” ہاں انہوں نے پوچھا تھا تمہارا میں نے بتہ دیا کہ تم بیمار ہو تو وہ بولے کہ ایک بیماری بھی بیمار ہوتا ہے؟” لیلی اس کو بتانے لگی جو وہ مزے سے سن رہی تھی آخر میں لیلی نے اسے دیکھ مزے سے کہا۔ جب کہ حالے کو تو جیسے آگ ہی لگ گئی تھی۔

” ہنہہ سر قاسم کو تو شروع سے ہی کوئی مسئلہ ہے مجھ سے۔” حالے نے جل کڑھ کر دانت پیستے ہوئے بولی تو لیلی اور نین ہنس دی پھر وہ لوگ کلاس لینے چلے گئے۔

❤
❤

” ڈاکٹر ذوہان آپ سے کوئی ملنا چاہتا؟” ذوہان اس وقت اپنے کیبن میں بیٹھا کوفی پی رہا تھا کہ نرس نے آکر اسے اطلاع دی۔ تو اس نے چونک کر اسے دیکھا۔

” کون ہے۔ آپ بھیج دیں انہیں۔” ذوہان نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا تو نرس سر ہلا کر چلی گئی۔

” ہیلو ڈاکٹر ذوہان کیسے ہیں بھول تو نہیں گئے مجھے؟” نرس کو گئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ عیشا اس کے کیبن میں آئی۔ اور لچک دار انداز میں چلتی اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اور مسکراتی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

” مس عیشا آپ کیا کر رہی ہیں یہاں؟” اس پاگل لڑکی کو پھر سے اپنے سامنے موجود دیکھ ذوہان تو کھول اٹھا۔ تبھی وہ غصے سے بولا۔ اس کے غصے کو کسی خاطر میں نہ لاتی وہ ہنس دی۔

” ویسے ہی آپ کو دیکھنے کا دل چاہ رہا تھا تو چلی آئی۔ آپ کو پتہ تو ہوگا دل کہاں کسی کی سنتا ہے؟” اس کو آنکھ کار کر بولتی وہ مسکرا کر بولی۔ ذوہان نے ناگواری سے اس کو مسکراتے دیکھا۔

عیشا نے اس کے سامنے پڑا ذوہان کا کافی کا کپ دیکھا جو کہ آدھا تھا۔ اس نے مسکرا کر وہ کپ تھاما اور اپنے ہونٹوں سے لگایا کر کافی پینے لگی۔

” مس عیشا یہ کیا بدتمیزی ہے؟” ذوہان غصے سے کھولتے اپنی کرسی سے کھڑا ہوتا ہوا بولا۔ مگر ڈھیٹ عیشا پر اس کے غصے کا کوئی فرق نہ پڑا۔

” کیوں ڈاکٹر کیا ہوا غصہ آرہا ہے؟ اس دن نہیں آرہا تھا جب وہ لڑکی آپ کے ہاتھ پہ کاٹ کر گئی تھی۔” عیشا بھی کھڑی ہوتی آنکھوں میں اس لڑکی لئے نفرت لئے بولی۔ تو ذوہان چونک اٹھا۔

” کیا ہوا ڈاکٹر حیران کیوں ہو رہے ہیں۔ ایک بات میری کان کھول کر سن لیں اگر میرے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچا تو وہ اس دنیا میں زیادہ دن نہیں بچے گا۔” عیشا نے انگلی اس کی جانب کئے وارننگ دیتے ہوئے بولی۔

” ہنہہ مس عیشا آپ کو لگتا ہے کہ آپ مجھے دھمکا سکتی ہیں؟ ایک پٹھان کو؟ یہ تو آپ ہیں ایک لڑکی جس کے اتنا کچھ کہنے کے باوجود خاموش ہوں ورنہ کوئی لڑکا ہوتا نہ تو اسی وقت زندہ زمین میں گاڑھ دیتا۔” ذوہان غراتے ہوئے بولا تو پہلی بار عشا کو اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر خوف آیا۔

” اب آئندہ مجھے دھمکی دینے کی غلطی مت کیجئے گا ورنہ جو حال کروں گا میں تمہارا وہ بھول نہیں پاو گی۔ ناو گٹ لاسٹ۔” ذوہان دھاڑا تو عیشا ڈر کےمارے اچھل گئی۔ اہانت سے اس کا چہرہ لال ہوگیا وہ فورا ہی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔

اس کے جانے کے بعد ذوہان نے ٹیبل پر پڑے اس کپ کو دیکھا جس میں عیشا نے اس کی کافی پی ذوہان کو یکدم اس کپ سے بھی نفرت ہوئی۔ اس نے فورا کپ اٹھا کر پھینک دیا اور کیبن سے باہر نکلتا چلا گیا۔

❤
❤

” سمیر یار یہ فائل تو ذرا سٹڈی کر لے؟” ارحان نے اپنے سامنے بیٹھے فون یوز کرتے سمیر سے کہا جس نے اس کی بات پر منہ بنا کر اسے دیکھا۔

” کیوں تمہیں پڑھنا نہیں آتا کیا جو ہر کام مجھ معصوم پہ تھوپ دیتے ہو” سمیر نے اسے گھور کر کہا جو مسکراہٹ دبا گیا۔

” وہ کیا ہے نہ کہ میں پڑھنا لکھنا بھول گیا ہوں تو بس اسی لئے۔” ارحان دانت نکالتا ہوا بولا تو سمیر نے اسے گھورا۔

” دو چار ایسی ڈوز دوں گا نہ سب کچھ یاد آجائے گا۔” سمیر نے ہاتھ کا مکا بناتے ہوئے کہا تو ارحان ہنس دیا۔

” ایسی دو چار ڈوز میرے پاس بھی ہے۔” ارحان نے بھی دوبدو جواب دیتے کہا تو سمیر نے اس کی طرف لعنت بھیجی جو اس نے مسکرا کر قبول کی۔

” اچھا وہ جو میں نے ایک فیملی کا بتایا تھا تمہیں۔ انہیں وہ میرے فلیٹ بحفاظت پہنچا دو۔” ارحان کو جیسے ہی شکیل اور زینب یاد آئے تو اس نے فورا سے سمیر کی جانب دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔

” ڈن ہوگیا باس۔ آج ہی کروا دیتا ہوں اور پھر باقی اس ازمیر کے بارے میں پروف وغیرہ بھی اکٹھے کرنے ہیں ۔” سمیر بھی فورا سے سنجیدہ ہوتے اس کی بات کا جواب دیتے بولا۔

” ہاں اور اس کے لئے ہم ایک عام آدمی بن کر اس گاوں میں جائیں گے پھر ساری معلومات اکٹھی کریں گے۔” ارحان نے کہا تو سمیر سر ہلا گیا۔ یوں ہی کچھ دیر تک وہ لوگ اس معاملے کو ڈسکس کرتے رہے۔

❤
❤

” عجیب چمکادڑ جیسا لوگ ہے اس یونیورسٹی میں۔” اسفندیار کے پاس سے گزرتے اس نے حالے کی جانب دیکھ کر منہ بنا کر تھوڑا اونچا بولا تاکہ جسے سنوانا تھا وہ سن لے۔اور اس کا یہ منصوبہ کام بھی کر گیا۔

” اوئے پاپا کے ٹرک یہ چمکادڑ کسے بولا تم نے؟” اسفندیار اس کے انداز میں ہاتھ کمر پہ ٹکائے غصے سے اسے بولا۔ جبکہ لیلی بھی اسکا خود کو پاپا کا ٹرک کہنا غصہ دلا گیا۔

” تمہارے علاوہ یہاں تمہیں کوئی چمکادڑ کی شکل کا لگ رہا پے۔” اس نے اسفندیار کی ہی بات اسے لوٹاتے کہا تو اسفندیار کا منہ کھلا۔ جبکہ نین اور حالے تو منہ کھولے بلاوجہ دونوں کو لگتا دیکھ رہی تھی۔

” ہاں بھئی موٹی مجھے پتہ اپنا موٹا وجود تمہیں برا لگتا ہے نہ اس لئے دل کی تسلی کے لئے کسی کی بھی بےعزتی کر رہی ہو۔ کوئی بات نہیں آئی انڈرسٹینڈ۔” اسفندیار نے دماغ کو ٹھنڈا کرتے اس کی عزت کردی۔

” اوئے ہمارے منہ مت لگو سمجھا نہ تم۔” لیلی خود ہی لڑائی شروع کرکے جب کچھ جواب نہ بنا تو سارا ملبہ اس پہ ڈالتے بولی۔

‘ ” واہ بھئی آج کل کے پاپا کے ٹرک بھی بڑے عجیب ہیں خود ہی لڑائی کرتے اور خود ہی الزام دوسروں پہ ڈال دیتے۔” اسفندیار نے ایسے کہا جیسے پتہ نہیں کیا ہوگیا ہو۔

لیلی کو دوبارہ منہ کھولتے دیکھ حالے فورا ہی آگے آئی۔

” لیلی چلو نہ یار کیا تم بھی فضول لوگوں کے ساتھ لڑنے بیٹھ گئی ہو۔” حالے اسفندیار کو گھورتے بول کر لیلی کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے لے گئی۔ لیلی کے منہ سے اسفندیار کی عزت سن کر اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اسے نہیں بتائے گی وہ اس کی بہن ہے ورنہ کیا پتہ اس کی بھی عزت کردے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *