Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 28)Part 2
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 28)Part 2
Meri Pathani by RB Writes
اگلی صبح کا آغاز ہو چکا تھا۔ وہ سب کشمیر جانے کی تیاریوں میں مگن تھے۔
ان دس دنوں میں وہ ان دشمنوں کو ختم کر دینے والے تھے۔
” ازمیر کو گاڑی میں ڈال دیا کہ نہیں؟” اسفند نے بیگ پیک کرتے عادل سے سوال کیا۔
” ہاں انجیکشن لگا کر ڈال آئے گاڑی میں۔” عادل نے کہا تو اسفندیار سر ہلا گیا۔
” باقی کی تیاریاں بھی مکمل ہوچکی ہیں بس اب نکلتے ہیں کیا کہتے ہو؟” عادل نے اس کی جانب دیکھ کر کہا۔
” ہاں بس پھر چلتے ہیں۔ جاو جاکر باقیوں کو بھی بول آو۔”
اسفند نے کہا تو عادل سر ہلا کر باقیوں کی جانب بڑھ گیا۔
” چلو جوانوں اگر تم لوگ تیار ہو تو پھر نکلتے ہیں۔ ” عادل نے انکے پاس آکر کہا۔
” یس سر ہم تیار ہیں۔” سب نے یک زبان ہو کر کہا۔۔
” گڈ۔ چلو پھر نکلنے کی کرو۔” عادل کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔ اس کے بعد ان سب نے سارا سامان لا کر گاڑی میں رکھ دیا اور پھر وہ سب گاڑی میں بیٹھ کر سٹیشن کے لئے نکل گئے۔
ایک گھنٹے تک وہ لوگ ٹرین میں موجود تھے۔ اور ٹرین چلنا شروع ہو چکا تھا۔
وہ سب اپنے نئے سفر پہ روانہ ہوچکے تھے۔ آگے کے سفر کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ کیا ہونے والا تھا۔
سب اپنے گھر والوں سے دور اپنے وطن کو ان جیسے لوگوں سے بچانے جا رہے تھے۔ جو اپنے ملک میں رہتے ہوئے اس کا کھاتے ہوئے بھی اسی کو نقصان پہنچا رہے تھے۔
اپنے ملک کے لئے کینسر کے جیسے ہیں ایسے لوگ۔
سب ہی اپنی گہری سوچوں میں گم تھے۔
ایک طرف اسفند یہ سوچ رہا تھا کہ:
” کیا وہ دوبارہ اپنے گھر والوں سے مل پائے گا۔ ناجانے حالے کی طبیعت کیسی ہوگی۔
امی ٹھیک ہوں گی کہ نہیں۔ ابو کی ڈانٹ سننے کو تو جیسے دل تڑپ رہا تھا۔
کیا پتہ ان سب سے دوبارہ ملاقات ہو نہ ہو۔ شاید یہ میری زندگی کا آخری سفر ہو۔
امی ، ابو حالے میں آپ سب سے بہت پیار کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔
اور لیلی ۔۔؟
دل میں کہیں سرگوشی ہوئی۔
لیلی کا خیال آتے دل زور سے دھڑکا۔ کیا وہ اپنی پٹھانی سے کبھی مل پائے گا؟ یا پھر اسکا سفر یہی تک تھا۔
وہ تو جانتی بھی نہیں ہوگی کہ مجھے اپنا اسیر کر دیا ہے اس نے۔
اپنی ہی بات پر دھیما سا مسکرایا۔
“ڈرتا ھوں کہنے سے کہ محبت ہے تم سے میری..!!
زندگی بدل دیگا تیرا اِقرار بھی اِنکار بھی..!!
کوئی صلح کرا دے زندگی کی الجھنوں سے..!!
بڑی طلب ہے ہمیں بھی آج مسکرانے کی..!! “
یوں ہی وہ سارے راستے اپنی پرانی یادوں کے سنگ رہا۔
دوسری طرف ارحان بھی یہی سب سوچ رہا تھا۔
گھر میں اس کا لیلی کو تنگ کرنا ذوہان کا کبھی کبھار اس کو ڈانٹنا وہ گھر کی حسین شام دھیرے دھیرے سب یاد آرہا تھا۔ مگر ان کے لئے اس وقت سب سے زیادہ ضروری انکا ملک تھا۔ نین کا خیال آیا تو مسکرا دیا۔
اگر تو زندگی نے اسکو موقع دیا تو وہ جاتے ساتھ ہی اسے اپنا بنانے کا سوچ چکا تھا۔ کہ اب مزید انتظار مشکل تھا۔
سارے ہی نوجوان ٹرین میں موجود اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔
ایک نئے سفر کے آغاز کے لئے وہ لوگ نکل چکے تھے۔ اس سفر میں انہیں کامیابی ملنی تھی یا موت یہ تو اللہ ہی جانتا تھا۔
اک ذرہ بھی اے پاک زمیں تیرا نہ اُٹھانے ہم دیں گے
یہ ظلمت کے بادل سن لیں خالی واپس مڑ جائیں گے ![]()


” امی مجھے اسفی کی اتنی یاد آرہی ہے۔۔۔؟” حالے نے سکینہ بیگم کو دیکھ کر منہ بنا کر کہا۔
اصل میں تو اسے رونا آرہا تھا۔ یہ سوچ کر کہ پتہ نہیں اسفند ٹھیک ہوگا کہ نہیں کیسا ہوگا۔
سکینہ بیگم کو تو خود اسفند کی یاد آرہی تھی مگر اگر وہ حالے کو یوں کہہ دیتی تو وہ تو ساتھ ہی رونا شروع کر دیتی تبھی اس کے سامنے خود کو مضبوط ظاہر کر رہی تھی۔
” بس میری جان آجائے گا وہ جلد ہی تم دعا کرو اس کے لئے۔” سکینہ بیگم اس کا ماتھا چوم کر وہاں سے نکل کر کچن کی جانب بڑھ گئی۔
کمرے سے نکلتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے جو کہ انہوں نے فورا ہی اپنے دوپٹے سے صاف کر لئے۔
اور اس کے لئے دعائیں کرتی کام میں مصروف ہوگئی۔
جب ایک فوجی گھر سے ڈیوٹی کےلئے جاتا ہے نہ, تو اس کی ماں ہر بار یہی سوچتی ہیے کہ میرا بیٹا واپس آۓ گا کہ نہیں ۔
وہ ہر بار ٱسی ترستی نگاہوں سے دیکھتی ہیے۔اور وہ اللہ سے بس یہی دعا کرتی ہیں کہ ” یا رب میرے بیٹے کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا ,اسی ہر دکھ و بلا سے بچا کے رکھنا “۔ اس ٹائم اس ماں پر کیا گزر رہی ہوتی , اس دکھ کا کوئی مداوا نہیں کرسکتا۔ اس ماں کو تو یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ اس بار اس کا بیٹا سلامت آۓ گا بھی کہ نہیں۔
گھر سے دور رہ کر
جان ہتھیلی پر رکھ کر
ملک کی حفاظت کرنا آسان بات نہیں۔
اس لئے ہماری فوج ہمارا فخر ہیں۔۔۔


” لیلی بچے ذرہ ارحان کو فون تو کرو۔ پتہ نہیں میرا بچہ کیسا ہے؟” رضیہ بیگم لیلی کے پاس آکر بولی جو ذوہان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔
” اچھا مورے۔” رضیہ بیگم کی بات سن کر اس نے فون نکال کر ارحان کا نمبر ملا دیا۔
اسکا اس وقت خود دل کر رہا تھا کہ ارحان سے بات کرنے کا۔
” مورے لالہ کا نمبر بند ہے۔” فون کان سے ہٹا کر اس نے منہ بسور کر کہا۔
تو رضیہ بیگم کا چہرہ لٹک گیا۔ جو کہ ذوہان نے محسوس کر لیا تھا۔
” ارے مورے اس کا مشن ہے نہ اس لئے اس نے اپنا فون بند کیا ہوگا۔ فکر نہ کریں ٹھیک ہوگا وہ۔” ذوہان نے ان کو تسلی دیتے کہا تو وہ انشاءاللہ بول کر وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
” پتہ نہیں لالہ کب آئے گا؟” رضیہ بیگم کے جانے کے بعد اس نے تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے دھیرے سے کہا۔
اسکی شکل دیکھ ذوہان کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا۔
” ارے لالے کی جان آجائے گا تمہارا لالہ اور اس کے بعد تو اس کی شادی بھی ہے۔۔” ذوہان نے اس کا دھیان بھٹکاتے کہا۔
جس میں وہ کامیاب بھی ہوا تھا۔
” مگر لالے نے بتایا بھی نہیں کہ کس سے کر رہا ہے وہ شادی۔” نئی بات یاد آنے پر اس نے پھر سے منہ بگاڑا۔
” ہاں تو بتا دیگا آجائے گا کچھ وقت تک۔۔۔” ذوہان نے مسکرا کر کہا۔
” مگر پھر بھی لالہ ام کو پتہ تو ہونا چاہیے نہ کہ کون ہے کیسا ہے۔” لیلی نے ہاتھ نچا نچا کر کہا جیسے وہ اپنی بیٹی کے لئے لڑکا ڈھونڈ رہی ہو۔
” اور اگر میں تمہیں بتاوں توووووو۔۔۔۔۔” ذوہان نے لب کو دانتوں میں کچلتے اپنی مسکراہٹ روکتے کہا۔
اس کہ بات پر لیلی نے کرنٹ کھا کر اسے دیکھا۔
” تم کو پتہ ہے؟” لیلی نے شاک نگاہوں سے اسے دیکھ کر کہا اس کی بات پر ذوہان نے ہنستے سر ہاں میں ہلایا۔
‘” تم نے ام کو بتایا بھی نہیں۔۔۔اب جلدی بتاو کون ہے وہ؟” لیلی نے بے تابی سے پوچھا۔
” نہیں بھئی میں تو نہیں بتا سکتا کیونکہ ارحان نے پھر مجھے نہیں چھوڑنا۔ ” ذوہان نے کندھے اکچا کر صاف انکار کرتے کہا۔
” لالہ پلیز بتاو نہ پلیز پلیز۔۔۔۔” لیلی نے اس کے بازو جھنجھوڑ کر کہا۔
” ٹھیک ہے پھر تم ارحان کو مت بتانا کہ میں نے تمہیں بتایا ہے۔ اس کے سامنے پتہ نہ ہونے کی ایکٹنگ کرنا تم اوکے؟؟” ذوہان نے شاطر بنتے کہا تو اس نے زوروشور سے اپنا سر ہاں میں ہلایا۔
اگر ارحان کو پتہ لگ جاتا کہ ذوہان اس کا سرپرائز خراب کر رہا ہے تو اس کی ہڈیاں توڑ کر اس کو اسی کے ہسپتال پہنچا دیتا۔ مگر بچارہ اس وقت اس بات سے محروم تھا۔
” امممم وہ تمہاری ہی ایک دوست ہے۔” ذوہان نے اس کو ہنٹ دیتے کہا۔
” کون حالے؟” لیلی کے دماغ میں ناجانے کیوں حالے آئی تبھی وہ بولی۔ جبکہ اس کی بات پر ذوہان ہڑبڑا کر سیدھا ہوا۔
” استغفراللہ لیلی نہیں۔۔۔۔۔” ذوہان کا تو انگ انگ ہل گیا تھا یہ بات سن کر۔
” تو پھر۔۔۔؟” لیلی نے کہا۔
” نین۔” ذوہان نے اب کی بار اس سے پہیلیاں بجھوائے بغیر ہی کہا۔ لیلی تو سن کر حیران ہی ہوگئی تھی۔
” نین۔۔۔۔۔۔؟” لیلی نے حیرت اور خوشی سے ملے جلے تاثرات لئے کہا تو ذوہان نے ہنستے سر ہاں میں ہلایا۔
” اوو لالہ یہ کتنی خوشی کی بات ہے نہ۔ ہمارا بچپن کا دوست ہی ہمارا بھابھی بنے گا۔ میں بہت خوش ہوں۔” لیلی نے تقریبا اچھلتے ہوئے کہا۔
” بس بس میری بہن خوشی کنٹرول کرو۔ اور ہاں ارحان کو مت بتانا ورنہ وہ مجھے چھوڑے گا نہیں۔” ذوہان نے ایک بار پھر اسے وارن کرتے کہا تو اس نے خوشی خوشی سر ہلایا۔


” نین بیٹا۔۔۔” ایاز صاحب نے کھانا کھاتے نین کو مخاطب کیا جو کھانا کم کھا رہی تھی پلیٹ میں چمچ زیادہ گھما رہی تھی۔
ایاز صاحب کی آواز سن کر چونک کر ان کی جانب متوجہ ہوئی۔
” جی۔ جی بابا؟” نین نے پوری توجہ ایاز صاحب کو دیتے کہا۔
” بیٹا۔ میں نے کچھ ضروری بات کرنی تھی آپ سے۔” ایاز صاحب تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولے۔
” جی بابا بولیں میں سن رہی ہوں۔” نین نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں پہ رکھتے کہا۔
” بیٹا میرا ایک بہت اچھا دوست ہے۔ اس کا بیٹا ابھی پڑھ کر فارغ ہوا ہے اور اب ایک نوکری کرتا ہے۔ بہت اچھا لڑکا ہے۔” ایاز صاحب نے رک کر اس کی جانب دیکھا۔
” تو بابا آپ یہ سب کیوں بتا رہے ہیں؟” نین نے ناسمجھی سے انہیں دیکھتے کہا۔
” وہ بیٹا وہ لوگ آپ کے لئے رشتہ لانا چاہتے ہیں تو میں۔۔ ‘”
ان کی بات سن کر نین کی آنکھوں میں حیرت اتر آئی۔
آنکھوں کے پردوں پہ ارحان کا چہرہ لہرایا۔
اور اس کی باتیں کانوں میں گونجنے لگی۔
” نن۔نہیں بابا آپ انہیں منع کردیں۔” نین نے نفی میں سر ہلاتے تیزی سے کہا۔ اس کی بات سن ایاز صاحب کے ماتھے پہ پریشانی سے شکن آئی۔
” مگر کیوں بیٹا ایک نہ ایک دن تو آپ نے شادی کرنی ہی ہے تو ابھی کیوں نہیں۔ ایسے کرو گی تو کیسے چلے گا۔” ایاز صاحب نے نرمی سے اسے سمجھاتے کہا۔
” نہیں بابا مجھے نہیں کرنی ابھی شادی آپ منع کردیں ۔” نین نے آنکھوں میں آنسو لئے کہا۔ اس کے آنسو دیکھ ایاز صاحب تڑپ گئے۔
” بیٹا رو تو نہیں نہ آپ۔ اچھا اچھا ٹھیک ہے میں منع کردیتا ہوں آپ رونا بند کرو۔” ایاز صاحب نے اس کے رونے پر گھبراتے کہا تو اس نے اپنے آنسو صاف کئے۔
اب تو دل ارحان کے جلد از جلد واپس صحیح سلامت لوٹنے کی دعا کر رہا تھا۔


” پرسوں ان ساری لڑکیوں کو ہم نے سپلائی کرنا ہے۔ تو آج ہی انہیں بیسمنٹ میں لے جاو۔” جلال نے سیگریٹ پیتے اپنے آدمی سے کہا جو اس کی بات پر سر ہلا گیا۔
” اور ہاں وہ ازمیر نے فون اٹھایا کہ نہیں؟” ازمیر کا خیال آتے اس نے پوچھا۔
” نہیں سر ان کا فون بند جا رہا ہے اور ہم نے ان کے آدمیوں سے پتہ کرنے کی کوشش کی تو وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔” اس کے آدمی نے ساری بات سے آگاہ کرتے کہا تو جلال نے دانت پیسے۔
” پتہ نہیں کہاں چھپ کر بیٹھ گیا ہے حرام خور۔” جلال نے غصے سے کہا۔ اتنے میں اس کا آدمی وہاں سے چلا گیا۔
دوسرے ممالک سے پیسے لے کر وہ اپنے ہی ملک کی عزت کو بیچتا تھا۔
ذرا سا خوف خدا نہیں تھا اس میں۔ یا شاید خود کو ہی اس نے خدا سمجھ لیا تھا۔
مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ خود کو خدا سمجھنے والے فرعون کا کیا حال ہوا۔ کیسی عبرت ناک موت ہوئی اس کی۔
اب ایسا ہی اس کے ساتھ بھی ہونے والا تھا۔
