Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 04)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 04)
Meri Pathani by RB Writes
” اسلام علیکم مورے۔” لیلی گھر آتے ہی صوفے پر بیٹھتے اپنا سر اس کی پشت پر گراتے آنکھیں بند کرتے ہوئے بولی۔
” وعلیکم اسلام رالے؟” ( آگئی)
رضیہ بیگم کچن سے اس کے لئے پانی کا گلاس لاتے اس کے سامنے کرتے بولی جس پر وہ ہاں کرتے پانی کا گلاس تھام کر ایک ہی سانس میں گھٹاگھٹ پی گئی۔
” مورے لویا ستڑے شم نن خو۔”
۔( بہت تھک گئی آج تو۔)
ان کی طرف مندی مندی آنکھوں سے دیکھتی وہ دھیما سا ہنس کر بولی۔
” وئی ذمہ زڑگیہ۔ تہ منڈا لاڑا شا جامے بدل کا زہ ڈوڈئی درتہ لاگا وم۔”
( وئی میرا دل۔ تم جاو جا کر کپڑے بدل لو میں جب تک کھانا لگاتی ہوں )
(صحیح پشتو لکھوائی ہے آج تم لوگوں نے مجھ سے۔
)
رضیہ بیگم بول کر اس کا ماتھا چوم کر چلی گئی تو وہ بھی سر ہاں میں ہلاتی ہمت کرتی اٹھی اور جا کر کمرے میں چلی گئی۔
کچھ دیر میں وہ نیچے آئی اور آکر کھانا کھانے لگی۔
” مورے حان لالہ کدھر ہے؟” کھانے کا نوالہ منہ میں ڈالتی وہ ان کو بولی۔
” وہ اپنے دوستوں کے ساتھ گیا ہے باہر۔ماڑا میں نے کہا بھی کہ کبھی گھر میں بھی ٹک جایا کرے مگر میری تو سنتا ہی نہیں ہے وہ۔” رضیہ بیگم بولی تو وہ مسکرا دی اور کھانا کھانے میں مگن ہوگئی۔
کھانے کے بعد وہ اٹھی اور بیٹھ کر ٹی وی پر ڈرامہ دیکھنے بیٹھ گئی۔ اسے بیٹھے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ ارحان گنگناتے ہوئے داخل ہوا اور اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔
” ہاں بھئی موٹی کیسا گیا پہلا دن۔” اس کی ناک پکڑ کر کھینچتے وہ بولا۔ اس کی اس حرکت سے وہ ہمیشہ چڑتی تھی مگر وہ ارحان ہی کیا جو کسی کو تنگ نہ کرے۔
” لالہ مت کیا کرو ماڑا ایسے ۔” وہ منہ پھلائے خفگی سے بولی ارحان ہنسنے لگ گیا اور اس کو سینے سے لگا گیا۔ لیلی بھی مسکراتے اس کے بازو کے ساتھ لگی رہی۔
” یار یہ کیا دیکھ رہی ہو ادھر دو میچ دیکھنا ہے میں نے۔”
اس کو کوئی ڈرامہ دیکھتے وہ فورا بولا اور اس کے ہاتھ سے رمورٹ لینے لگا جو کہ لیلی نے فورا ہی اس کی پہنچ سے دور کر دیا۔
” نہیں حان لیلی یہ امارا پسندیدہ ڈرامہ ہے۔ تم نے اس کو ہٹایا نہ تو اچھا نہیں ہوگا۔” فورا سے اس سے دور ہوتے وہ انگلی اٹھائے اسے وارننگ دیتے والے انداز میں بولی تو ارحان نے منہ بگاڑا۔
” یار کیا ہر ایک ڈرامہ تمہارا پسندیدہ ہوتا ہے۔ جبکہ سب کی سٹوری ہی ایک جیسی ہوتی ہے کہ بھئی بہو دنیا کی مظلوم ترین لڑکی ہے اور پھر ساس نند جیٹھانی بھائی بھابھی اور تو اور شوہر تک اس بیچاری پر ظلم کر رہا ہوتا ہے اور اینڈ میں وہ سارے معصوم بن کر معافی مانگ لیتے ہیں اینڈ دی گریٹ بہو معاف کر دیتی ہے۔ واٹ ربش۔”
منہ کے زاویے طرح طرح کے بگاڑتا وہ ان سب پاکستانی ڈراموں پر کمنٹ پاس کیا۔
” ہاں تو وہ بیچاری ماڑا دیکھو کتنے لوگوں کو سہہ کر بھی خاموش رہتا ہے کتنا مضبوط ہے وہ مجھے تو رونا آتا ہے ماڑا اسے دیکھ کر۔”
لیلی کو کل کا دیکھا ڈرامہ یاد آیا جس کی ایپیسوڈ دیکھتے وی بہت روئی تھی۔ تبھی اداس شکل بنا کر بولی۔
” بھئی تم ساری لڑکیاں نہ ڈرامے میں جو سب سے مظلوم کریکٹر ہوتے ہیں اسے خود کے ساتھ تصور کر کے پورا دن روتی ہی رہتی ہو۔ نہیں مطلب یہ مذاق ہو رہا۔ عجیب۔”
ارحان اس کو ایک کڑوے سچ سے روشناس کروا گیا۔ جسے سننے کے بعد وہ واقعی لاجواب ہوگئی تھی کیونکہ واقعی وہ ایسا ہی کرتی تھی۔
” حان لالہ تم مجھ سے بات ہی نہ کرو۔” جب کوئی جواب نہ بنا تو اس سے منہ موڑ کر خفگی سے ڈرامہ دیکھنے لگی۔ اس کی خفگی پہ ارحان مسکرا کر رہ گیا۔
” اچھا ادھر آو ذمہ زڑگیہ۔”
اسے دوبارہ سے اپنے بازو کے ساتھ لگاتے وہ اس کے بالوں پہ لب رکھتے اس کے ساتھ یہ ساس بہو والا سیریل دیکھنے لگا۔ جو کہ اسے بہت بور کر رہا تھا۔ مگر بیٹھا رہا۔


” بابا آپ کو پتہ ہے آج نہ مجھے بہت مزہ آیا اور میں نے اور لیلی نے ایک اور دوست بھی بنائی ہے اور آپکو پتہ ہے وہ اتنی اچھی ہے۔ لیلی کی طرح اچھی ہے۔” اپنے بابا کو آج کے دن کی پوری رپورٹ دے رہی تھی۔
ایاز صاحب جو آفس سے آنے کے بعد رات کے لئے نین کی پسندیدہ بریانی تیار کر رہے تھے اور نین کاونٹر پر بیٹھی ان کو دن بھر کی روادار سنا رہی تھی جو وہ مسکرا کر سن رہے تھے۔
ایک ان کے سامنے ہی تو وہ بلبل کی طرح چہچہاتی تھی ورنہ باقی لوگوں سے اس کا خوف ایاز صاحب کو بھی اداس کر دیتا۔ کہ اگر وہ کبھی نہ رہے تو نہ جانے ان کی بیٹی کے ساتھ کیا ہو۔ مگر اللہ پر یقین کر کے دل کو مطمئن کر لیتے۔ اور جو اللہ پہ یقین کر کے سارا معاملہ اس کے سپرد کر دے تو اللہ اس کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔(بے شک)![]()
” بھئی میرا بیٹا اچھا ہے نہ اس لئے اس کو فرینڈز بھی اچھے مل رہے ہیں۔”
ایاز صاحب اس کے گال کھینچتے ہوئے بولے تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔ اس کی ہنسی پر ایاز صاحب بےساختہ ماشاءاللہ بولے اور ہمیشہ ہی اس کی دائمی خوشی کے لئے دعا کرنے لگے۔



ذوہان کو آف ہونے میں ابھی پندرہ منٹ تھے کہ ایک نرس اس کے پاس آئی۔
” سر وہ مسٹر ارحان آئیں ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہیں بہت چوٹ آئی ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے علاوہ وہ کسی کو نہیں دکھائیں گے۔ “
نرس نے اسے بتایا تو اس کے ماتھے پر بل پڑے اور وہ فورا سے کھڑا ہو کر بھاگتے ہوئے وہاں گیا جہاں ارحان تھا۔
دل اس کا بےحد تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
سوچ سوچ کے پاگل ہو رہا تھا کہ ناجانے کیا ہوا ہے اسے۔
وہ فورا سے پہلا وہاں پہنچا تو ارحان کو وہاں بیڈ پر آنکھیں بند کیے لیٹا دیکھ فورا سے اس کے قریب آیا۔
” حان کیا ہوا ہے تمہیں دکھاو مجھے۔” وہ پریشان لہجے میں بولا تو ارحان اٹھتا کر بیٹھا اور مسکرا کر ذوہان کو دیکھا۔ جو اپنے بھائی کی تکلیف کا سنتے ہی بھاگا بھاگا چلا آیا۔
” یار یہ دیکھو کتنی لگی ہے مجھے۔” اپنا ہاتھ اسے دکھاتا جہاں ہلکا سا ناخن کی خراش تھی۔
ذوہان کو جیسے ہی بات سمجھ آئی اسے بہت غصہ آیا۔
” ارحان تمہیں شرم آنی چاہیے اس قدر کا گھٹیا مذاق کرتے ہوئے۔ ” وہ فورا سے اس پر برہم ہوا مگر ارحان ڈھیٹ بنا مسکراتا رہا۔
” اچھا چلو نہ برو غصہ تھوک دو۔ لینے آیا ہوں میں تمہیں تو جاو جلدی سے اپنا سامان لے آو تب تک میں ان حسین لیڈیز کا دیدار کرلوں۔” ارحان دانت نکالتا بولا تو ذوہان اسے گھورتا ہوا نکل گیا۔
