Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 11)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 11)
Meri Pathani by RB Writes
” ماما کھانا دے دیں بھوک لگی ہے۔” اسفندیار گھر میں آتا سلام کرنے کے بعد بیگ صوفے پر پھینک کر ساتھ خود بھی گرنے کے انداز میں بیٹھ کر اپنا سر صوفے کی پشت پر ٹکا کر بولا۔
” ہاں بھئی ماما آج زیادہ کھانا دے دیں اسے بچارہ ذلیل بھی تو خوب ہو کر آیا ہے۔” حالے بھی ساتھ بیٹھتی اس پر ہنستی طنز کرکے بولی تو اسفندیار نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا۔
” تم نہ منہ بند رکھو اپنا مار کھا لو گی مجھ سے۔” اسفندیار اسے گھورتے ہوئے بولا۔ جس کا کسی خاطر میں نہ لاتے حالے مزید ہنسنے لگی۔
” ہاں بھئی باہر ذلیل ہوکر گھر میں ہی غصہ نکالو گے تم تو۔” حالے نور اسے مزید غصہ دلاتے ہوئے بولی۔
” ماما یہ حالے کو سمجھا لیں ایوی مار کھا لے گی مجھ سے۔” اسفندیار آخری حربہ آزماتے ہوئے بولا تو سکینہ بیگم کچن سے باہر آئی اور دونوں کو گھورنے لگی۔
” تھوڑی سی بھی شرم ہے تو لوگوں میں ابھی آئے ہو نہیں اور آتے ہی پاگلوں کی طرح لڑنا شروع ہوگئے ہو۔ اب اگر تم لوگوں کی آواز آئی نہ تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا سمجھے تم لوگ۔” سکینہ بیگم دونوں کو سنا کر دوبارہ سے کچن میں چلی گئی۔
ان کے جانے کے بعد اسفندیار اٹھا اور حالے کے بال کھینچ کر ایک سو دس کی سپیڈ میں بھاگ گیا۔ پیچھے حالے حیران رہ گئی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ پھر سمجھ آنے پر غصے سے لال ہوگئی اور دل ہی دل میں اسفندیار کو برا بھلا بولنے لگی۔
کچھ دیر میں وہ بھی اٹھی اور جا کر اپنے کمرے میں گئی اور فریش ہوکر واپس آئی تو اسفندیار کو پہلے سے ہی ٹیبل پر بیٹھ کے کھانا کھاتے دیکھا۔ وہ کھانا کھانے میں اتنا مگن تھا کہ اسے حالے کے آنے کا بھی پتہ نہ لگا۔
” بھائی آرام سے کوئی تمہارا کھانا لے کر بھاگ نہیں رہا ۔” حالے کھانا کھاتی اس کے اوپر طنز کرتی بولی تو اسفند نے اسے دیکھا۔
” بھئی جس گھر میں تمہاری طرح کی بھوکی بہنیں ہوتی ہیں وہاں ہر کوئی اپنا کھانا جلدی ختم کرتا ہے تاکہ تم بھوکی لڑکی نہ آجاو۔” اسفندیار کھانا کھاتا مزے سے اسے آگ لگا گیا۔ حالے اس کے سوال پر جل بھن کر رہ گئی مگر کچھ بولی نہیں۔
” ماما سکون کیا ہوتا ہے؟” حالے کو ناجانے کیا سوجھی جو وہ منہ میں نوالہ ڈالتے اپنے سامنے کھڑی سکینہ بیگم کو دیکھ کر بولی۔
” وہی جو تم دونوں کے ہونے سے پہلے اس گھر میں ہوا کرتا تھا۔” سکینہ بیگم گہری سانس بھر کر بولی تو دونوں نے منہ بنایا۔ جبکہ اسفندیار تو دل میں یہ سوچ کر رہ گیا کہ اس بار تو اس کی کوئی غلطی نہیں تھی تو اسے کیوں اس بات میں لے آیا گیا۔ مگر بولا کچھ نہیں کیونکہ جانتا تھا کہ اگر کچھ بولا تو ڈبل عزت ہوجانی ہے اس لئے خاموش ہی رہا۔
یوں ہی سارا دن انکا شرارتیں کرتے کرتے گزر گیا۔


” ارے زینب جا جا کر دیکھ کون دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔” زینب جو کہ کپڑے دھو رہی تھی دروازہ ناک ہونے کی آواز پر اسے اپنے ابو کی آواز آئی جن کی طبیعت آج کچھ خراب تھی۔
ان کی آواز سن کر وہ اٹھی اور اپنے ہاتھ پونچھ کر دوپٹے کو سر پر اچھی طرح اوڑھ کر دروازے کی جانب گئی۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے کالے شلوار قمیض میں ایک بہت ہی خوبرو نوجوان کو کھڑا پایا۔
سمیر جو کہ ارحان کے کہنے پر ان سب کو ارحان کے فلیٹ پر لے جانے آیا تھا۔ دروازہ کھلتے ہی اس کی نظر اس حسینہ پر پڑی جو کہ سانولی رنگت میں خوبصورت نقوش رکھتی سامنے والے کو زیر کر گئی۔
سمیر ٹکٹکی باندھے اسے دیکھی جا رہا تھا۔ اس کے یوں دیکھنے پر زینب کنفیوز ہو رہی تھی۔ اور اسے ڈر بھی لگ رہا تھا آخر کار ہمت کرتے اسنے سمیر کو پکارا۔۔
” جی؟” اس حسینہ کی آواز سن کر وہ ہوش میں آیا تو فورا سے پہلے نظروں کا زاویہ بدلہ کہ کہیں خد کی ہی نظر نہ لگ جائے۔ اور خود کے یوں بے خد ہونے پر اس نے اپنے آپ کو جی بھر کے ملامت کی۔
” وہ مجھے شکیل چاچا سے بات کرنی ہے۔ کیا وہ گھر پر ہیں؟” اب کی بار وہ نظروں کو تھوڑا ادھر ادھر گھماتے کام کی بات پہ آیا۔
” جی وہ اندر ہیں آپ آئیں۔” زینب نے اسے آنے کا راستہ دیا تو وہ سر جھکا کر اندر آگیا۔ اس کے اندر آتے زینب نے دروازہ بند کر دیا اور اسے لئے اس کمرے میں لے گئی جہاں شکیل صاحب آرام کر رہے تھے۔
شکیل صاحب جو آرام کر رہے تھے اچانک ایک نوجوان کے اپنے کمرے میں داخل ہونے پر وہ گھبرا کر اٹھے۔
” ارے ارے چاچا گھبرائے نہیں۔ میں ہوں انسپکٹر سمیر مجھے ارحان نے بھیجا ہے آپ لوگوں کو یہاں خطرہ ہے اس لئے وہ چاہتا ہے کہ آپ لوگ اس کے ایک فلیٹ میں شفٹ ہوجائیں۔” سمیر انکے گھبرانے پر فورا سے صفائی دیتا نرمی سے بولا۔ تو شکیل صاحب پرسکون ہوئے مگر اس کی اگلی بات سن کر وہ پھر سے پریشان ہوگئے۔
” مگر بیٹا ہم کیسے جا سکتے ہیں۔” شکیل صاحب پریشان لہجے میں بولے۔
” ارے چاچا ہمیں اپنا بیٹا ہی سمجھیں اور اپنے لئے نہ صحیح اپنی بیٹی اور بیوی کا سوچ کر ہی چلیں۔ آپ لوگ یہاں محفوظ نہیں ہیں۔” سمیر انکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولتا انہیں سمجھا کر بولا۔
تو شکیل صاحب نے اپنی ہاری ہوئی نظریں اٹھا کر اپنی بیگم کو دیکھا جنہیں نے اسے دیکھ نم آنکھوں سے مسکرا کر اپنا سر ہاں میں ہلایا تو وہ بھی سمیر کو ہاں بول گئے۔ پھر وہ لوگ اپنا تمام ضروری سامان اٹھا کر سمیر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے۔
سمیر کی سارے راستے بیک سیٹ پر بیٹھی اس حسینہ پر نظریں پڑتی رہی۔ جو کہ اس کی نظروں سے پریشان بار بار پہلو بدل رہی تھی۔ جنہیں محسوس کرتا سمیر مسکراہٹ دبا گیا۔


” آآآآآ۔۔۔۔۔۔۔” عیشا اپنے کمرے میں پہنچ کر ہر ایک چیز کو اٹھا کر پھینکتی چیخ رہی تھی۔ اور اپنے غصے کو قابو کر رہی تھی۔ جو کہ کسی صورت اسے پرسکون نہیں ہونے دے رہا تھا۔
” نہیں ڈاکٹر نہیں تمہیں لگتا ہے کہ عیشا تمہارا پیچھا اتنی جلدی چھوڑ دے گی تو تمہاری بھول ہے۔ تم صرف میرے ہو اور میرے ہی لئے بنے ہو ۔” عیشا غصے سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھنسائے بولی۔ جبکہ دل تھا ہر ایک چیز تہس نہس کر دے۔
اس کے گھر والوں نے اس کی ہر جائز ناجائز خواہشات کو پورا کر کے اسے بگاڑ دیا تھا۔ اب وہ صحیح اور غلط میں فیصلہ نہیں کرسکتی۔ اس کو جو چیز پسند آجائے تو اسے وہ چاہیے پھر چاہے وہ جائز ہو یا ناجائز۔
مگر وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ جو چیز نصیب میں ہوتی ہے وہ ہر حال میں آپ تک پہنچا دی جاتی ہے اور جو نہیں ہوتی وہ آپ کے ہاتھ میں آکر بھی آپسے لے لی جاتی ہے۔


” ابو آج یہ اتنے لوگوں کی کالز کیوں آرہی ہیں آپکو؟” ارحان کھانا کھاتے ہوئے بولا۔ تو سب نے ہی خانزادہ صاحب کی جانب دیکھا۔
” ارے آج ہمیں بزنس میں بڑا پرافٹ ہوا ہے۔ بس اسی لئے سب مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔” خانزادہ صاحب مسکرا کر بولے۔
” ارے ہمیں تو نہیں بتایا کچھ آپ لوگوں نے۔” ارحان منہ بنا کر بولا تو ذوہان اور لیلی بھی اسی کے انداز میں سر ہلا گئے ان تینوں کی یوں بنی شکلیں دیکھ خانزادہ صاحب اور رضیہ بیگم ہنس دئے۔
” ارے بھئی میرے دماغ سے نکل گیا تھا” خانزادہ صاحب انہیں صفائی دیتے بولے تو سب سر ہلا گئے۔
” بھئی پھر تو میں اسی خوشی میں اپنے دوستوں کو ٹریٹ دے گا۔” لیلی خوشی سے چہکتے ہوئے بولی۔ تو ذوہان اور ارحان دونوں نے اس کی جانب دیکھا
” ٹھیک ہے تم انکو گھر بلا لو پھر یہی سب انتظام کرلو ” رضیہ بیگم سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی۔ تو دونوں بھائیوں کو اپنی ماں پر جی بھر کے پیار آیا۔
ارحان نین سے دوبارہ ملنے کی خوشی میں خوش تھا جبکہ ذوہان حالے سے۔ دونوں کو ہی خوشی میں نیند نہیں آنی تھی آج۔۔۔۔
