Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 27)Part 3
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 27)Part 3
Meri Pathani by RB Writes
” وہ دیکھو گاڑیاں آرہی ہیں انکی۔” ارحان نے دور سے آتی دو گاڑیوں کو دیکھ کر کہا۔ تو سب نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔
جہاں سے دو کالی گاڑیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں جنہیں دیکھ وہ جلدی سے اپنی پوزیشن سنبھال چکے تھے۔
اور خود کو چھپا لیا۔
“کیا ہوا گاڑی کیوں روک دی۔” گاڑی کے رکنے پر ازمیر نے اپنی نگاہیں موبائل سے ہٹاتے کہا۔
” سائیں وہ درخت گرا ہوا ہے۔” ازمیر کے ڈرائیور نے مڑکر اسکو دیکھتے کہا۔
” تو جاو جاکر سائڈ پر کرو اسے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو۔” ازمیر نے نہایت ہی بدتمیزی سے کہا تو وہ فورا سے باہر نکلا۔
اس کے ساتھ والی دوسری گاڑی میں سے بھی اس کے گارڈز باہر نکل آئے اور راستے میں پڑے اس کو بڑے سے درخت کو ہٹانے لگے۔
ان کو درخت ہٹاتے ابھی دو منٹ ہی ہوا تھا کہ اسفندیار اور اس کی ٹیم نے ان کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔
اپنے اردگرد اتنے سارے بندوں کو بندوقیں تھامے دیکھ وہ سارے گھبرا کر اپنی بندوقیں ان کی جانب کر گئے۔
جب کہ ازمیر بھی اس اچانک ہوئی کارروائی پر گڑبڑا گیا۔
” اسفند اور اس کی ٹیم نے بغیر وقت ضائع کئے ان پر حملہ کر دیا۔ دونوں طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ ہونے لگی۔
مگر اسفند ارحان عادل اور باقی کے لوگ تو کافی ٹرینڈ تھے اور ان کی آنکھوں میں ہر چیز کر دکھانے کا جذبہ تھا تبھی کچھ ہی دیر میں ان کے آدھے سے زیادہ ساتھیوں کو انہوں نے ڈھیر کر دیا۔
یہ سارا واقعہ دیکھا ازمیر حد سے زیادہ گھبرا گیا۔ اسکو بس کسی طرح کر کے یہاں سے بھاگنے کی جلدی تھی۔
ان سب کو آپس میں لگا دیکھ اس نے آرام سے بنا آواز پیدا کئے گاڑی کا دروازہ آہستہ سے کھولا اور وہاں سے چھپ چھپ کر نکلنے لگا۔
اس کو لگا کہ شاید وہ ان سب میں کامیاب ہو رہا ہے مگر ارحان کی نظر اس پر پڑ چکی تھی۔ تبھی وہ اس کو بھاگتے دیکھ مسکرایا۔ اور تیزی سے اس کے پاس آیا۔
” ارے ارے سائیں کدھر جارہے ہیں ذرا ہمیں بھی تو خدمت کا موقع دیں۔” ارحان نے اس کے سامنے جاتے کہا۔
جبکہ ارحان کو اپنے سامنے دیکھ وہ گھبرایا اور اس پر وار کرنے لگا جو ارحان ناکام بناتا گیا۔
کچھ ہی دیر میں ارحان نے اسے نڈھال کر دیا۔ اور اس کے سر کے پیچھے وار کیا جس سے ازمیر اپنے حواس کھو گیا۔
ازمیر کو گھسیٹتے وہ ان کے قریب لے کر آیا جو ان سب کو سبق سکھاتے اب سکھ کا سانس لے رہے تھے۔ ازمیر کو اپنے سامنے دیکھ سب کی آنکھوں میں اس کے لئے نفرت پیدا ہوئی۔
” پھینک دو اسے گاڑی کی ڈگی میں۔” اسفندیار نے نفرت سے اس کے وجود کو دیکھتے کہا تو دو آفیسرز نے مل کر اس کے وجود کو اٹھایا اور گاڑی کی ڈگی میں رکھ کر بند کر دیا۔
اور پھر وہ سارے وہاں سے نکلتے دوبارہ سے اپنے اس گھر میں آگئے جہاں وہ قیام کر رہے تھے۔


” ہوش میں لاو اسے۔” اسفند نے ساتھ کھڑے عادل کو کہا تو اس نے سر ہلا کر پانی کی بالٹی ازمیر کے اوپر انڈیل دی۔
اپنے اوپر گرنے والے پانی کی وجہ سے ازمیر ہڑبڑا کر ہوش میں آیا۔
ہوش میں آتے ہی کچھ دیر تو وہ سمجھ نہ پایا کہ وہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے۔
مگر جیسے ہی دماغ بیدار ہوا دھیرے دھیرے سب یاد آنا شروع ہوا تو جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔
اس نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو اسفندیار ارحان عادل اور سب اسے مسکرا کر دیکھ رہے تھے۔
ازمیر سمجھ گیا کہ وہ آرمی کے ہاتھ لگ گیا ہے اور اب اسکی خیر نہیں ہے۔
اسنے خوفزدہ نظروں سے سب کو دیکھا۔
” دیکھو مجھے جانے دو۔ تم جو کہو گے میں کروں گا۔ جتنے پیسے مانگو گے وہ دوں گا۔ اتنے کے ساری عمر بیٹھ کر کھاو گے۔” ازمیر نے اپنی تئیں ان کو لالچ دی۔
اس کو لگ رہا تھا کہ شاید ہر کوئی ہی پیسے کا بھوکا ہوتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ کچھ اپنے رب کے اچھے اور سچے بندے بھی ہوتے ہیں۔
ازمیر کی بات سن کر سب قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔ ان کو یوں ہنستے دیکھ ازمیر نے ناسمجھی سے دیکھا۔
اسے سمجھ نہ آئی کہ اس نے ایسی کونسی بات کر دی ہے جس کی وجہ سے وہ سب ہنس رہیں ہیں۔
” اچھا تو کتنے پیسے دوگے تم ہمیں۔” اسفند نے اس کے قریب جھکتے کہا۔
” جج۔جتنے تم مانگو میں دوں گا تمہیں۔” ازمیر نے فورا سے کہا تو اسفندیار طنزیہ مسکرایا۔
” چلو بس اب ہنسی مزاق بند کرتے ہیں اور مدعے کی بات پہ آتے ہیں۔” اسفند نے سنجیدہ ہوتے کرسی گھسیٹ کر عین اس کے سامنے رکھتے اس پر بیٹھتے کہا تو سارے سنجیدہ ہوگئے اور ازمیر کی جانب دیکھنے لگے جو کافی خوفزدہ لگ رہا تھا۔
” تو میری بات سنو ازمیر سائیں اگر تو جو میں پوچھوں اس کا تم نے فورا اور ٹھیک ٹھیک جواب دیا تو تمہاری صحت ٹھیک رہے گی۔ ورنہ تم ابھی ہمیں جانتے ہی کہاں ہو۔” اسفند نے ہلکے پھلکے لہجے میں اسے دھمکایا۔ تو ازمیر نے تھوک نگلا۔
” جو ڈرگز یونیورسٹی سے سپلائی کر رہے تھے تم۔ وہ خود کر رہے تھے یا کسی کے کہنے پر؟” اسفند نے سرد لہجے میں کہا تو ازمیر اس کے سوال اور انداز دونوں پر گھبرایا۔
” مم۔میں خخ۔خود کر رہا تھا۔” ازمیر نے بجائے اس بندے کا نام لیتے الزام اپنے سر لے لیا۔
جب کہ اس کا جواب سن کر اسفند مسکرایا وہ جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔
” تو تم ایسے نہیں مانو گے ہممم؟ عادل سامان لے کر آو۔” اسفند نے اس کی جانب دیکھتے کہا تو عادل سر ہلاتا اسفند کا بڑا سا ڈبہ جس سے وہ مجرموں کو ٹارچر کرتا تھا وہ اس کے سامنے رکھا۔
ازمیر اس ڈبے کو دیکھ بہت ڈر رہا تھا کہ ناجانے اس میں کیا ہو۔ مگر جب اسفند نے وہ کھولا تو اس کی آنکھیں پھٹنے کے حد تک پھیل گئی۔
اسفند نے اس میں وہی فنگر کٹر نکالا جس سے اس نے پرنسپل کی انگلی کاٹی تھی۔
اسفند نے اس کٹر کے درمیان ازمیر کی انگلی رکھی تو ازمیر تڑپ گیا اور مزاحمت کرنے لگا۔
” نن۔نہیں نہیں پلیز مت کرو یہ پلیز۔” ازمیر تڑپ کر روتے ہوئے بولا۔ اس سے یہ تصور بھی نہیں ہو رہا تھا کہ کوئی اس کی انگلی کاٹ رہا ہے۔
آج جب اس پہ وقت آیا تھا تو روح ایسے کانپ رہی تھی۔
مگر جن جن کے ساتھ وہ اس سے بھی زیادہ برا کر چکا تھا ان کے درد کی اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلام نے فرمایا:
” کہ اللہ تعالٰی ظالم کی رسی دراز کرتا ہے تو کچھ وقت کے لئے کرتا ہے مگر جب کھینچ لیتا ہے تو کبھی نہیں چھوڑتا۔”
اسفند نے ازمیر کی حالت دیکھتے کہا تو ازمیر اس کی بات سن کر ساکت ہوگیا۔
” تو کیا اب وہ مر جائے گا۔ یہ سب چھوڑ جائے گا۔ وہ اتنا پیسہ۔” اس سخت وقت میں بھی ازمیر کو اپنے گناہوں کی نہیں بلکہ ان دنیاوی چیزوں کی پڑی تھی۔ جو محض ایک دھوکا ہے۔ جو فانی ہے ختم ہوجانے والی ہے۔
مگر ازمیر کو یہ کون سمجھائے۔ اس کے وہم و گمان میں بھی یہ سب نہیں ہوگا جو آگے اس کے ساتھ ہونے والا تھا۔
اس کی رسی کھینچ لی گئی تھی۔ اور اب جلد ہی وہ اپنے رب کے ہی پاس لوٹنے والا تھا۔ مگر اس کو لگ رہا تھا کہ بس یہ ہی دنیا ہے اور یہی پر سب کچھ ہے۔
آخرت کو وہ بھول چکا تھا۔ اپنے رب کو وہ بھول چکا تھا۔
” مم ۔ میں بتاتا ہوں بتاتا ہوں پلیز مجھے کچھ مت کہو۔” ازمیر نے فورا ہی اپنے انجام سے گھبراتے ہوئے کہا۔
اس کی بات سن کر اسفند نے اپنا کٹر ہٹالیا۔
” وہ مم۔میں نے خود نہیں کیا تھا سائیں کے کہنے پر کیا تھا۔” ازمیر نے کہا تو سب کے ماتھے پر بل پڑے۔
” کون کس کی بات کر رہے ہو صحیح سے بتاو۔” اسفند نے فورا سے اس کے قریب ہوتے سخت لہجے میں کہا۔
” نن۔نہیں میں نن۔نہیں بتا سکتا۔” ازمیر نے فورا انکار کرتے کہا تو اسفندیار نے کٹر اس کی انگلی کے بیچ رکھا اور اس کی ایک انگلی کاٹ دی۔
انگلی کے کٹتے ہی اس کی دردناک چیخیں اس کمرے میں گونجنے لگے۔ جبکہ ارحان کا تو یہ سب دیکھ کر دل ہی منہ کو آگیا تھا۔
اس نے پولیس میں ٹارچر کیا تھا مجرموں کو مگر ایسا اس نے کبھی کیا نہ تھا اور نہ کبھی دیکھا تھا۔ اس نے فورا سے ہی اپنا چہرہ موڑ لیا۔
جبکہ اسفندیار اور عادل تو اس سب کے عادی تھے تبھی آرام سے اسے چیختے دیکھ رہے تھے۔
کچھ وقت بعد ازمیر پرسکون ہوا تو وہ سب اس کی جانب متوجہ ہوئے۔
” بتاتے ہو یا کاٹوں اگلی انگلی؟” اسفند نے کٹر اس کی آنکھوں کے سامنے لہراتے کہا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔ پہلے ہی اس ایک انگلی کا درد اس سے سہا نہیں جا رہا تھا کجا کہ اگلی کا۔
” وہ اس۔ کک۔کا نام جلا۔جلال ہے۔ ان سلیپر سیلز کا ہیڈ۔ اور۔۔۔” ازمیر بولتے بولتے رک گیا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ جب وہ نہیں بچے گا تو یہ لوگ کیوں آرام سے رہیں تبھی اس نے انکا بھانڈا پھوڑنے کا سوچ لیا تھا۔
” یہ ادھر کشمیر کے ایک علاقے میں رہتا ہے۔ اور کل ہی اس نے اس گاوں کی ایک بڑی مسجد میں خودکش کروانے کا حکم دیا ہے جو کہ کل ہوجائے گا۔” ازمیر کی بات سن کر وہ تینوں گھبرا کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
کیونکہ کل جمعہ تھا تو گاوں کی یہ مسجد پوری بھر جاتی تھی۔ تبھی انہوں نے اس دن کا انتخاب کیا تھا۔
” پورا پورا بتاو۔۔۔” اسفند نے اس کا جبڑا پکڑتے کہا تو ازمیر اس کو وہ ساری باتیں بتا گیا جو جو وہ جانتا تھا۔
اب وہ سارے اس بات سے پریشان تھے کہ اگر وہ اس بم کو پھٹنے سے روک نہ پائے تو؟
مگر آگے کیا ہونا تھا وہ اللہ ہی جانتا تھا۔ اور بےشک اللہ اپنے نیک بندوں کا مددگار ہے۔


” اب کیا کریں گے ہم؟” ارحان نے گہری سوچ میں ڈوبے اسفند کو دیکھتے کہا جو اس کی آواز سن کر چونک گیا۔
” ہم ہاں کیا کہہ رہے تھے؟” اسفند جو اپنی ہی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا اس کی بات نہ سن پایا تبھی چونک کر بولا۔
” وہ اب ہم کیا کریں گے مطلب۔۔” ارحان نے دوبارہ اپنی بات دوہرائی۔
” کل ہم چلیں گے اس مسجد اور اپنا سو فیصد دیں گے۔ کسی بھی حال میں ہمیں اس حملے کو روکنا ہے۔ چاہے اس کے لئے ہمیں اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”اسفند نے پر عزم لہجے میں کہا تو سب سر ہلا گئے۔
اب کل کیا ہونا تھا۔ وہ وقت ہی بتانے والا تھا۔


” آج کتنا گھر عجیب لگ رہا ہے نہ۔” لیلی نے ذوہان کے کندھے پر سر رکھتے منہ بنا کر کہا اس کے انداز پہ ذوہان مسکرا دیا۔
” کیوں بھئی میری جان کو کیوں عجیب لگ رہا ہے یہ گھر آج۔” ذوہان نے اس کی ناک پکڑ کر کہا۔
” ارحان لالہ نہیں ہے نہ آج اس لئے۔” لیلی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ اچھااااا کہہ کر سر ہلا گیا۔
” کوئی بات نہیں میری جان آپ دعا کرو اپنے ارحان لالہ کے لئے۔ اللہ اسے کامیابی دے۔ اور صحیح سلامت اسے واپس بھیجے۔ آمین۔” ذوہان نے نرمی سے اسے سمجھاتے کہا۔
تو وہ بھی آمین بول گئی۔


” اسفند کا فون نہیں آیا کیا؟” کبیر صاحب نے کھانے کی میز پر بیٹھے سکینہ بیگم کو دیکھتے کہا۔
” آیا تھا۔بات ہوئی ہماری لیکن صرف دو منٹ کے لئے۔” سکینہ بیگم نے کھانا کھاتے کبیر صاحب کو کہا۔
” کیا کہہ رہا تھا کیسا ہے۔” کبیر صاحب جو ویسے تو ہر وقت اس کو ڈانٹتے ہی رہتے مگر اب بیٹے کی جدائی پر کافی بےچین تھے۔
” ہاں کہہ رہا تھا ٹھیک ہوں باقی آپ لوگوں کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔” سکینہ بیگم نے کہا تو کبیر صاحب سر ہلا گئے۔ اور دل ہی دل میں اپنے بیٹے کی کامیابی کی دعائیں مانگنے لگے۔
