Meri Pathani by RB Writes Season 2 NovelR50539 Meri Pathani (Episode 20)
Rate this Novel
Meri Pathani (Episode 20)
Meri Pathani by RB Writes
” کیا رپورٹ ہے؟” اسفند عادل کے پاس آتا بولا جو شاید آج کے انتظار میں کھڑا تھا۔ اسفند کے آتے ہی وہ اس کے قریب آیا۔
اس کے قریب آتے اس نے اسفند کے کان میں سرگوشی کی جسے اسفندیار سنجیدگی سے سن رہا تھا۔
بات ختم ہوتے اس نے عادل کی جانب دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔
” چلو میں دیکھ لیتا ہوں۔” اسفندیار اس کو دیکھ کر بولا تو عادل سر ہلا کر وہاں سے بھاگتے ہوئے چلا گیا۔
اس کے بعد اسفندیار نے اپنے قدم پرنسپل آفس کی جانب بڑھا دئے۔
وہاں سے جاتے اس نے راستے میں لیلی کو کھڑا دیکھا۔
اس کو دیکھ ایک پل کو اس کے قدم رکے مگرپھر اس سے جلد ہی نظر ہٹا دی اور تیزی سے اس کے قریب سے گزر گیا۔
لیلی جو کہ اسفند کو آتا ہوا دیکھ ایک پل کو چونکی مگر اس کے اسے اگنور کر کے بنا کچھ آگے بڑھ جانے پر ناجانے کیوں اسے برا لگا۔
” ام کو کیا ہے اچھا ہے کچھ بول کر نہیں گیا۔” اس راستے کو دیکھتے جہاں سے اسفند گیا تھا وہ بولی۔
” کسے دیکھ رہی ہو؟” حالے نے اسے دوسری جانب دیکھتے اور خود سے بڑبڑاتے دیکھ ناسمجھی سے دیکھتے پوچھا تو وہ چونک کر نظر ہٹا گئی۔
” اآآ نہیں کسی کو نہیں ام تو بس ایسے ہی۔” لیلی بات کو گول کر گئی تو حالے سر ہلا گئی۔
اسفند وہاں سے تیزی سے جاتے ہی پرنسپل کے آفس پہنچا۔
اس نے صد شکر ادا کیا کہ پرنسپل اس وقت آفس نہیں پہنچے تھے۔
وہاں پہنچتے ہی اس نے باریکی سے ہر چیز کو دیکھنا شروع کیا۔
ویسے تو اسے سب نارمل لگ رہا تھا مگر اچانک ایک جگہ پر آکر اس کی نگاہ ٹھٹھک کر رک گئی۔ وہاں ٹیبل کے پاس کی زمین پر اس کو کچھ غیر معمولی سا محسوس ہو رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ وہاں پر جاکر دیکھتا اچانک پیچھے سے آتی آواز پر چونک کر رک گیا۔
” یہاں کیا کر رہے ہو تم؟” پرنسپل کی کرخت آواز پر وہ چہرے پر مسکراہٹ لاتے مڑا۔
پرنسپل آئبرو اچکائے اسے شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔
ان کے چہرے پر موجود پسینے کی ننھی بوندیں ان کی گھبراہٹ کو واضح کر رہی تھی۔ جسے اسفند دیکھ دل میں مسکرایا۔
” آآ سر وہ میں سر قاسم کو ڈھونڈنے یہاں آیا تھا مجھے لگا یہاں ہیں وہ۔” اسفند نے فورا سے ان کے سوال کا جواب دیا۔ جبکہ پرنسپل ابھی بھی اسے شک کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔
” یہاں نہیں ہے وہ اب جاو یہاں سے۔” پرنسپل نے فورا سے کرخت لہجے میں کہا تو وہ ایک نظر پھر سے ان کے آفس پر ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔
اس کے جاتے ہی پرنسپل گہری سانس لیتے اپنی کرسی پر ڈھیر ہوگئے۔ جبکہ دل ابھی بھی زورو سے دھڑک رہا تھا۔
♡●●♡![]()
سائیں آپکے لئے کال ہے۔” ازمیر کے خاص ملازم کریم نے ہاتھ باندھتے سر جھکا کر ازمیر کے آگے فون کیا۔
ازمیر نے ایک نظر فون کو اور پھر کریم کو دیکھ اس کے ہاتھوں فون لے لیا۔
” ہیلو ۔” سردار ازمیر نے فون کان سے لگاتے رعب دار انداز سے کہا۔ آگے والے کی آواز سن وہ فورا سے سیدھا ہو کر بیٹھے گیا۔
” ہاں بھئی ازمیر کیسے ہو؟'” آگے سے کہا گیا۔
” بالکل ٹھیک ہوں سائیں بتائیں کیا خدمت چاہیے۔” ازمیر نے مسکرا کر مونچھوں کو تاو دیتے ہوئے کہا۔
” ہاہا بس زیادہ کچھ نہیں لیکن وہ اس ڈرگز کا کیا بنا؟” مقابل نے پراسرار لہجے میں پوچھا۔
” بس وہ رکھوائی ہوئی ہیں آج رات سمگل کر دی جائیں گی۔” ازمیر نے سنجیدہ ہوتے ان کو رپورٹ سے آگاہ کیا۔
” شاباش کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے ورنہ تم جانتے ہو نہ۔۔” اس نے بلیڈ پر ہاتھ پھیرتے کچھ اس انداز میں کہا کہ ازمیر کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔
” نن۔نہیں نہیں کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی سائیں بے فکر رہیں۔” ازمیر نے پسینہ صاف کرتے کہا۔
” ہممم صحیح اس کے بعد ایک بلاسٹ بھی کروانا ہے۔ کسی مسجد میں۔ اس کا بھی انتظام کرو میں جس دن آرڈر دوں اس دن میرا وہ کام بھی ہو جانا چاہیے۔” اس بندے نے کہا۔
” جی جی بے فکر رہیں ہو جائے گا۔” ازمیر نے کہا تو آگے سے کال کٹ کر دی گئی۔ پھر ازمیر نے گہرا سانس لے کر فون کریم کو پکڑا دیا۔
جسے اس نے فورا ہی پکڑ لیا اور دوبارہ سے سر جھکا کر کھڑا ہوگیا۔
♡●●♡![]()
“حالے تم ایک کام کرو۔ میں ٹیکسی کروا دیتا ہوں۔ مجھے آج ذرا ضروری کام ہے تو تم ٹیکسی میں چلی جاو۔” اسفند آف ٹائم میں حالے کے پاس آیا جو لیلی اور نین کے ساتھ کھڑی تھی۔
” اوئے تم ٹیکسی نہ کرواو ابھی میرا لالہ آجائے گا۔ تو ہم چھوڑ دیگا اس کو۔” لیلی نے اس کی بات پوری ہوتے ہی اپنی بات کردی۔
” چلی جاو گی اس کے ساتھ؟” اسفند نے لیلی کی بات سن کر حالے کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھ کر پوچھا تو حالے سر ہاں میں ہلا گئی۔ تو اسفند مطمئن ہوا۔
اسفند جانتا تھا ذوہان کو اس لئے اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اگر اسے یہ ضروری کام نہ ہوتا تو وہ خود اسے چھوڑ دیتا۔
” تھینک یو لیلی ۔” اسفند نے ایک نرم مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا تو جواب نے لیلی نے مسکرا کر اسکا شکریہ وصول کیا۔ اسفند فورا ہی وہاں سے چلا گیا۔
” چلو پھر لالہ آگیا ہوگا۔” لیلی نے اسفند کے جاتے ہی کہا تو وہ تینوں یونی سے باہر آگئی۔
ذوہان آنکھوں پہ چشمہ لگائے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ لیلی اور نین کے ساتھ حالے کو دیکھ دل زور سے دھڑکا۔
جبکہ خوشی بھی ہو رہی تھی۔ آج تو قسمت مہربان ہوئی تھی اس پہ خوش کیسے نہ ہوتا۔
حالے نے جب ذوہان کو دیکھا تو پہلے تو پہچان نہ پائی کہ یہ ارحان ہے کہ ذوہان مگر پھر تھوڑی ہی دیر میں وہ پہچان گئی کہ یہ ذوہان ہے۔
ذوہان کو دیکھ اس نے کڑوا سا منہ بنایا۔
” لالہ آج حالے کا بھائی کو ضروری کام ہے تو میں نے کہا کہ ہم چھوڑ دے گا۔ تم چھوڑ آئے گا نہ اس کو۔” لیلی نے اپنی بات کہہ کر اس کی بھی مرضی پوچھی۔
” ہاں بالکل کیوں نہیں۔” ذوہان نے مدھم سا مسکرا کر ایک نظر حالے کو دیکھ کر کہا جو ادھر ادھر دیکھتی خود کو لاپرواہ ظاہر کر رہی تھی۔
” چلو پھر بیٹھو۔” ذوہان نے کہا تو لیلی آگے جبکہ نین اور حالے پیچھے بیٹھ گئی۔
ساری راستے وہ تینوں باتیں کرتے آئے۔ اور اپنی کسی کسی بات میں وہ ذوہان کو بھی شامل کر لیتے۔
جبکہ ذوہان بیک ویومرر سے بس بار بار ایک آدھ نظر حالے پر ڈال کر نظروں کو سیراب کرتا رہتا۔
سوچا نہ تھا کہ یوں اچانک ہی اس سے ملاقات ہو جائے گی۔ اس کا دیدار کر کے خود کو فریش فریش سا محسوس کر رہا تھا۔ اور نہ جانے کیوں آج تو بار بار مسکرا بھی رہا تھا۔
سب سے پہلے اس نے حالے کو گھر چھوڑا پھر نین کو اور اس کے بعد لیلی کو لئے گھر آگیا۔
[
♡●●♡
]
” کیا کیا پتہ لگا ہے؟” عادل نے اسفند کے اپنے قریب آتے سوال کیا تو اسفندیار نے جو کچھ دیکھا ان سب کی رپورٹ اس کو بتا دی۔
” تو اب پھر تو ہمارے پاس بہت ہی کم وقت بچا ہے۔” عادل نے اس کی ساری بات سن کر فکرمند ہوکر کہا۔ تو اسفند نے دانت پیستے سر ہلا گیا۔
” ہاں ہمارے پاس وقت تو بہت کم ہے۔ مگر جتنا جلد ہوسکے اپنا کام مکمل کریں گے۔ ” اسفند نے کہا تو عادل نے سر ہاں میں ہلایا۔
” سارا پلین میرے پاس ہے بس اب آفس چل کر سب کو بتا دیتے ہیں۔ پھر آج رات ہی اس پر عمل کریں گے۔” اسفند نے کہا تو عادل نے ہاں کہا پھر دونوں تیزی سے یونی سے نکلتے چلے گئے۔
اب وہ کس بارے میں بات کر رہے تھے اور کہاں گئے تھے اس بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہ تھا سوائے ان دونوں کے۔
جاری ہے۔
