Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Last Episode)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Last Episode)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
وہ دلہن بنی بیٹھی تھی۔ آج اسکا نکاح تھا۔ وہ پور پور سجی تھی۔ سر تا پاٶں۔۔۔ ایک الگ ہی روپ آیا تھا۔ اس پے۔ آٸینے میں خود کو یوں سجا سنورا دیکھ وہ تڑپ رہی تھی۔
یہ سب ۔۔ تیاریاں۔۔۔ آہان کے لیے نہیں کسی اور کے لیے تھیں۔ یہ سوچتے اسے اندر ہی اندر ملال گھیر رہا تھا۔ وہاپنے ہاتھوں پے لگی مہندی کو دیکھتی اب دل کا درد سنبھالےنہیں سنبھال پا رہی تھی۔
میر ہادی کے واپس آنے پے ایک گرینڈ پارٹی رکھی گٸ تھی۔ اس پارٹی میں سبھی آۓ تھے۔ اور کبیر بھی اپنی فیملی کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ سبھی بہتاچھے سے اس سے مل رہے تھے۔ جبکہ اسکی نظریں بس ہانیہ کا طواف کر رہی تھیں۔ اور وہ تو بس ایک فارمیلٹی نبھانے کے لیے وہاں موجود تھی۔
سب سےنظریں بچا کےو ہ ایک گم گوشے پے آکے براجمان ہوٸ۔ اور اسٹیج پے آنیہ کو اسکی چھوٹی سی مکمل فیملی کے ساتھ یکھ دل ہی دل میں انکی داٸمی خوشیوں کی دعا مانگنے لگی۔
ایک ہوا کا تز جھونکا اسے چھو کے گزرا۔ ہنیہ کا دل زور سے دھڑکا۔
ہانیہ کو لگا۔۔ جیسے وہ یہیں کہیں ہو۔۔
اسے دیکھ رہا ہو۔۔ مسلسل اسکی نظروں کا مرکز ہو۔۔۔!
اسطرح عاشقی کا اثر چھوڑ جاٶں گا۔
تیرے چہرے پے اپنی نظر چھوڑ جاٶں گا۔
اور پھر چٹ پٹ فیصلہ ہوا۔ اور آج اسکی شادی تھی۔بنا کسی تاثر کے وہ بس اپنے ہاتھو ںپے لگی مہندی کو دیکھ رہی تھی۔کہ ابرش اندر داخل ہوٸ۔
اللہ میری بیٹی کو نظر بد سے بچاۓ۔
نظر تو لگ گٸ ہے مما۔۔۔! آپ کی بیٹی کی خوشی۔۔۔ کبیر نہیں ہے۔۔۔آہان ہے۔۔ آپ جانتی ہیں۔۔پھر بھی۔۔۔۔آپ۔۔؟
ہانیہ ماضی کو بھول کے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ ایک سال بہت ہوتا ہے۔ کسی کا انتظار کرتے۔۔ اب۔۔ آگے بڑھو۔ سختی سے کہتے وہ اسکا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگیں۔
مما۔۔۔! ڈیڈ بھی اسی طرح ایک دن کہیں چلے گۓ تھے۔۔۔سب نے کہا وہ نہیں۔ رہے۔۔ تو کیا آپ نے انکا انتظار کرنا چھوڑ دیا۔۔؟؟ یاکسی اور کے ساتھ آگے۔۔؟
ہانیہ۔۔۔! کیا بولے جا رہی ہو۔۔؟؟ ہوش میں تو ہو۔۔۔؟ ابرش کو اسکی بات سخت ناگوار گزری۔
سوری۔۔مما۔۔۔! لیکن ایک بات یاد رکھیے گا۔ میں آہان مرزا کی تھی۔ ہوں اور اسی کی رہوں گی۔ آپ صرف ایک زندہ لاش کی شادی کر رہے ہیں۔ آپ کی خوشی اسی میں ہے ناں۔۔؟تو ٹھیک ہے۔۔ آٸیے۔۔ دیر کس بات کی۔۔؟ جب سولی پے چڑھنا ہی ہے تو۔۔۔! کہتے ہوۓ تلخی سے دروازہ کھولتی وہ باہر آٸ۔ سبھی کو اوپر ریلنگ سے دیکھتے وہ بے تاثر انداز میں نیچے اتری۔
سامنے ہی کبیر کھڑا تھا۔ جس کے چہرے پے ایک دلفریب مسکراہٹ تھی۔
ہوۓ بے چین پہلی بارہم نے راز یہ جانا
محبت میں کوٸ عاشق کیوں بن جانتا ہے دیوانہ
اگر اقرار ہوجاٸے کسی سے پیار ہوجاۓ
بڑا مشکل ہے دل کو سمجھانا ۔۔۔
ہانیہ نے رخ پھیرا۔
اس وقت سبھی اسکی حالت دیکھ چپ تھے۔ اندر ہی اندر وہ ڈر بھی رہے تھے۔ کہ وہ اچانک سے کیا ری ایکٹ کرتی ہے۔ ہے بھی تو جذباتی تھی وہ۔
من ہی من صرف آہان تھا۔ اسکے اندر باہر بس وہی تھا۔
تصور کے حسیں لمحے تیرے احساس کرتے ہیں
تیرا جب زکر آتا ہے تو ملنے کو تڑپتے ہیں۔
ہمارا حال نہ پوچھو یہ دنیا بھول بیٹھے ہیں۔
چلےآٶ تمہارے بن۔۔۔ نہ مرتے ہیں نہ جیتے ہیں۔
سنو اچھا نہیں ہوتا۔۔ کسی وک ایسے تڑپانا۔۔۔!
آنکھیں جھٹ سے کھولتی وہخیالوں سے نکلتی ابرش کی جانب مڑی
کہاں ہیں۔۔ مولوی صاحب ۔۔؟؟ بلاٸیں انہیں ۔۔ اور کروادیں اس لاش کا نکاح۔
ہانیہ کی سخت آواز پے سبھی نے حیرت سے اس دلربا حسین دلہن کو دیکھا۔
ہنی۔۔۔؟؟ آنیہ نے آگے بڑھ کے اس سے بات کرنی چاہی۔
کوٸ ضرورت نہیں ہمدردی کے بول بولنے کی۔ انگلی ا ٹھا کے وارن کیا۔
میں سب سمجھتی ہوں۔۔ اب مزید کچھ نہیں سننا۔۔ کریں جو کرنا ہے۔ میں تیار بیٹھی ہوں۔۔! کہتے ہوٸ آنسو صاف کیے۔۔
کہ اسی لمحے مین سے گیٹ سے ایک شخص کو اندر آتا دکھاٸ دیا۔
سبھی کی نظریں اس جانب اٹھی تھیں۔
فلک سے پوچھ لو۔۔ چاہے گواہ یہ چاند تارے ہیں۔
نہ سمجھ اجنبی صدیوں سے ہم تو بس تمہارے ہیں
آہان کی آمد پے جہاں سبھی کے چہرے اندرونی خوشی سے کھل اٹھے تھے۔ وہیں ہانیہ کی نم ہوٸیں تھی۔ ایک بے یقین تھی نظروں میں۔
محبت سے نہیں واقف بہت انجان لگتی ہو
ہمیں ملنا ضروری ہے حقیقت نہ سمجھتی ہو
کوٸ کیسے سمجھ پاۓ کسی کے دل افسانہ۔۔۔؟
آہن نے اسکے آنسو انگلیوں کی پوروں سے چھوۓ جو یک ٹک اسے ہی دیکھتی جا رہی تھی۔ اور آہا ن اکا یہ دیوانہ پن دیکھتا اندر ہی اندر کتنا سرشار ہوا تھا۔ وہ کسی سے کہہ نہیں سکتا تھا۔ وہ اس لڑکی کو تسخیر کر چکا تھا۔
محبت میں کوٸ عاشق کیوں بن جاتا ہے دیوانہ۔۔؟؟
اگر اقرار ہوجاۓ کسی سے پیار ہوجاۓ ۔۔
بڑا مشکل ہوتا ہے دل کو سمجھانا ۔۔
ہانیہ آگے بڑھتے آہان کے سینے سے جا لگی۔ اور بے تحاشا رودی ۔
آہان نے اسے اپنے سینے سے لگاٸے خود میں بھینچا۔ سھی کی آنکھیں اشک بار تھیں۔
انہی ںیقین نہ آرہا تھا۔ ہانیہ آہان سے اتنی محبت کر سکتی ہے۔ ہر وقت کی لڑاٸ جھگڑے آج محبت میں بدل ہی گۓ تھے۔
ابرش ابتسام کے پاس ہوٸ۔سکے چہرے پے بھی فلکش مسکان تھی۔ ابتسام نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔
آپ نے ثابت کر دیا۔ کہ آپ ابتسام پیرزادہ کی بیوی ہیں۔ ابتسام نے اسکے ماتھےپے بوسہ دیا تھا۔
شیر کو کھچارسے نکالنے کے لیے یہ سب ناٹک ضروری تھا۔
ابرش نے آنکھ ونک کرتے کہا ۔ یہ سب پلاننگ تھی۔ آہان کو سامنے لانے کی۔
ابرش ابتسام کے اطمینان کو دیکھ سمجھ چکی تھی۔ کہ ہو نا ہو۔۔ آہان زندہ ہے۔ وہ جانتا ہے۔ لیکن سب کے سامنے آہان کو لانے کے لیے اس نے یہ ڈرامہ رچایا۔
آنیہ جو ہانیہ کے حق میں ماں کے آگے بولی۔ ماں کی پلاننگ کو داد دیے بنا نہ رہ سکی۔ اور خاموش تماشاٸ بن گٸ۔
آہان سب سے ملتا دعاٸیں لینے لگا۔ وہ ایک سال بعد واپس لوٹا تھا۔ جبکہ ابتسام سے تو وہ ایک پل کو بھی جدا نہ ہوا تھا۔
ایم سوری۔۔ ابرش ماں۔۔۔ ! تھوڑا سا لیٹ ہوگیا آنے میں۔
ایک کان کو چھو کے کہتا وہ ابرش کو بہت بھایا۔
بہت بفمعاش ہو تم دونوں باپ بیٹا۔۔۔! لیکن میں نے بھی ثابت کر ہی دیا۔ میرا نام بھی ابرش ہے۔
ابرش نے اسکے بال خراب کیے تھے۔
بجھل فضا ایک م سے خوشگوار تاثر میں بدلی تھی۔ اب اسٹیج پے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہانیہ او آہان کھڑے تھے۔ جبکہ کبیر مسکراتا انک کے پاس آیا۔ ان کومبارک باد دینے۔
سوری یار۔۔۔! اب تک جو بھی ہوا۔ ۔۔ ایک احساس ہوا ہے۔۔ کہ محبت پا لینے کا نام نہیں۔۔! آج۔۔ اس لڑکی کو تمہارے ساتھ خوش دیکھ۔۔۔میرا دل بھی پرسکون ہے۔
کبیر نے دل سے کہا تھا۔ جبکہ آہان نے مزید کس کے ہانیہ کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ جیسے یہ اسی کی ہو۔۔۔ اور کوٸ نہ دیکھے اسے۔
میر ہافی ان کے لیے بہت خوش تھا۔
دے ڈیسرو ٹو ایچ اددر۔۔۔! دوسری جانب اپنی بہن کو دیکھا تو ایک کسک سی اٹھی۔
اللہ نے میری بہن کے نصیب میں بھی کوٸ جوڑ لکھ دیا ہوگا۔۔؟ اللہ اسکی خوشیاں واپس لٹا دے۔ میر نے فل سے بہن کے لیے دعا کی۔
میر۔۔۔ ان سے ملیں۔ یہ فیصل ہیں۔ آرمی میں ڈاکٹر ہیں۔
آنیہ نے فیصل کا تعارف کروایا۔
ہماری نور فاطمہ کو زندگی کی طرف لنے میں سب سے اہم کرداد انکا ہی ہے ۔ پورا تعارف کروایا۔ تو میر چونکا۔ پھر سے اس باتیں کرنے کے درران میر ہادی کو احساس ہوا۔وہ نور کو پسند کرتا ہے۔ اگر نو کے لیے اس جیسا قابل اوردل کا خوبصورت انسان کا جوڑ ہو تو خوش نصیب ہوگی میری بہن۔ہادی دل ہی دل میں سوچتا مسکرایا تھا۔











روم میں آتے ہی آہان نے ڈور لاک کیا۔ اور اپنی جنگلی بلی کے پاس آیا۔ جانتا تھا۔۔پہلے سب کچھ جانے گی۔ تبھی بات کرے گی۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا۔ ایک زور دار پنچ ہانیہ نے اسکے منہ پے رسید کیا۔ کہ آہان کو اپنا منہ دکھتا ہوا محسوس ہوا۔
یہ۔۔۔ منہ دکھاٸ کا تحفہ تھا۔۔؟؟ مسکینی صورت بناتے پوچھا۔
ہانیہ نے ایک اور پنچ دے مارا۔ ایک کے بعد ایک پنچ۔وہ بھی چپ چاپ کھاتا رہا۔
آخر تک جب وہ کچھ نہ بولا۔ تو بے اختیار آگے بڑھ کے ہانیہ آہان کے ہونٹوں پے شدت سے جھکی۔ اس پیش قدمی پے تو آہان دنگ ہی رہ گیا۔ کہاں وہ اسے پنچ نار رہی تھی۔کہاں اچانک سے۔۔؟؟
اسکی پیش قدمی پے وہ دل سے سرشار ہوا تھا۔ اور اسکی شدت سے خود کو پگھلتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔
پیچھے ہوتی وہ اسکی کان کی لو کو دانتوں تلے باتی غراٸ۔
اگر اپنی خیر چاہتے ہو تو مجھ سے دور رہنا۔۔۔ ورنہ وہاں ماروں گی۔ جہاں پانی نہیں ملے گا۔
کہتے ساتھ ہی پیچھے ہٹی تھی۔
آہان نے اسے پیچھے سے کھینچ کے سینے سے لگایا۔ اور مضبوط گرفت سے اسکے کان پے جھکا۔
جینا بھی کون چاہتا ہے… ؟؟ مار ڈالو ۔۔۔! اسکی کان کی لو کو چھوتا وہ خمار آلو لہجے میں بولا۔
اگر اگلے سیکنڈ میں ساری بات نہ بتاٸ۔ تو کمرے سے نکال کے لاک کر دینا ہے میں نے۔ اسکے سامنے ہوتی وہ دل کی دھڑکنوں کو سنبھالتی فیصلہ کن انداز میں بولی تھی۔
آہان نے گہرا سانس لیا۔
ہنی جان۔۔۔! اتنے اچھے موقع پے روٹھنا نہیں اچھا۔۔
ہار جیت کی باتیں کل پے اٹھا رکھیں۔۔
آج دوستی کر لیں۔ ۔۔۔؟؟
اسکے قریب آتے وہ محبت سے بولا تھا۔ کہ ہانیہ نے اک مکہ اسکے پیٹ میں دے مارا۔ وہ تڑپ کے پیچھے ہوا۔
اگر یپنی خیر چاہتے ہو تو۔۔ چپ چاپ سب کچھ بتا دو۔۔۔! دوبارہ سے مکا بناتی وہ آہان کو مسکرانے پے مجبور کر گٸ۔
بہت خطرناک ہو بیوی۔۔۔! ہمممم۔۔ تو سنو۔۔ جب ایکسیڈینٹ ہوا۔ تو میں بمشکل اپنی جان بچا کے پانی میں گرا تھا۔ کچھ مچھیروں نے میری مدد کی۔ مجھے بہت چوٹیں آٸیں تھی۔۔ نجانے کتنے فن وہیں ان کے پاس بے ہوش پڑا رہا۔ پھر جب ہوش آیا تو۔۔ رابطہ کے لیے کچھ نہ تھا میرے پاس۔ وہاں کے ایک مچھیرے کی بیٹی کو میں پسند آگیا۔انہوں نے زبردستی اس سے میرا نکاح کروانا چاہا۔ میں نے انکار کیا۔ تو مجھے قید کر لیا۔ پھر ایک دن ۔۔وہاں سے بھاگ نکلا۔
کہتے کہتے ہانیہ کے چہرے کے تاثرات بھی نوٹ کر رہا تھا۔ دھیرے سے اسکے پاس جا بیٹھا۔ جو بہت غور سے سن رہی تھی۔
وہاں سے بھاگاتو ایک جنگل میں پہنچ گیا۔ وہاں جنگلی لوگوں میں پھس گیا۔ وہاں کتنے دن رہا کوٸ یاد نہیں۔ البتہ آخر میں ان کے ساتھ میری دوستی ہوگٸ۔اور جنگل سے مجھے نکلنے کا راستہ بتا دیا۔
میں جب ۔۔۔ شہر پہنچا تو۔۔ سب سے پہلے تمہیں دیکھنے کا جی چاہا۔ پر ۔۔۔دل پے پتھر رکھ کے ہیڈ کوارٹر پہنچا۔ اپنے زندہ ہونے کی اطلاع دی۔ وہیں مجھے انہوں نے اس بات کو سیکرٹ رکھنے کا کہا۔ میں نہیں جانتا ۔ کیوں ۔۔؟؟ لیکن۔۔۔ مجھے انکی بات ماننا پڑی۔ وہ تھوڑا دکھی ہوتا خاموش ہوا۔
پھر۔۔؟؟ کیا ڈیڈ کو بھی نہیں پتہ تھا۔۔؟؟تم زندہ ہو۔۔؟؟
ہانیہ نے دکھ سے پوچھا۔
نہیں۔۔ انہیں بھی کافی بعد پتہ چلا۔ میری جانچ جاری تھی۔وہ۔۔ مجھے چیک کر رہے تھے۔ کہ میں اتنے دن سے غاٸب تھا۔کوٸ مسٸلہ نہ ہو مجھ میں۔ میرے جسم ۔۔میرے دماغ کا معاٸنہ کیا گیا۔
بالآخر جو وہ نہیں کہنا چاہتا تھا۔ کہہ دیا۔ ہنیہ نے تڑپ کے اسکی طرف دیکھا۔ اور اسکے گرد بانہوں کا حصار باندھا۔
اتنی تکلیف سہی ہے تم نے۔۔؟؟ وہ روتے ہوۓ بولی۔
لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف تب سہی۔ جب اپنی بیوی کو کسی اور کے لیے سجتا دیکھا میں نے۔۔۔!
برجستہ جواب دیتے وہ تلخ ہوا۔
نہیں آہا ن۔۔۔ !قسم لے لو۔۔۔ میں صرف تمہاری ہوں۔۔ دل سے کہہ رہی ہوں۔ میں کسی کی نہیں ہوسکتی۔۔سواۓ تمہارے۔۔ روتے ہوۓ وہ بچوں کی طرح اسے یقین دلا رہی تھی۔
کیسے ۔۔۔کیسے۔۔یقین کر لوں۔۔؟؟ اب کی بار آہان نے اسے آزماٸش میں ڈالا۔
تمہیں بھروسہ نہیں مجھ پے۔۔؟ دکھ سے پوچھا۔
بات بھروسے کی نہیں ہورہی۔۔ یقین دلانے کی ہورہی ہے۔۔! آہان نےمیٹھی سی سرگوشی کی تو ہانیہ کا سر جھک گیا۔
اور پھر آگے بڑھ کے اسکے گال پے بوسہ دیتی وہ شرما کے پیچھے ہٹی۔
کیا۔۔؟؟یہ یقین دلانا ہوتا ہے۔۔ ؟ آہان ایک دم سے اٹھتے ہوۓ بولا۔
بیوی ۔۔۔ تمہیں تو یقین دلانا بھی نہیں آتا۔ گھڑی اتار کے ساٸیڈ ٹیبل پے رکھتا وہ جیسے ہی مڑا تھا۔ ہانیہ کو اپنے پیچھے کھڑا پایا۔ وہ آگے بڑھ کے عقیدت سے اسکے ماتھے پے بوسہ دیتی آنکھیں موند گٸ تھی۔
میں نے ہمیشہ تم سے نفرت کا اظہار کیا۔ درپردہ۔۔ وہ محبت تھی۔ میں انجان تھی۔۔۔ تمہارے ساتھ رہتے تمہیں سمجھا۔۔ تمہیں جانا۔۔۔! تو یہ احساس ہوا۔ تم بہت خاص ہو میرے لیے۔۔۔! تم سےایک سال کی دوری نے مجھے یہ احساس دلایا ۔۔ ڈیٹ۔۔آٸ۔۔ لو۔۔ یو۔۔۔!
دھیرے دھیرے وہ اپنے پردے گراتی جا رہی تھی۔ اور آہان اسکے لفظوں کی سچاٸ کو دل سے محسوس کر رہا تھا۔ آگے ہوتا اسے آٸینے کے پاس لے کے آیا۔ دونوں آگے پیچھے کھڑے ہوتے ایک دوسرے کو مکمل کر رہے تھے۔
ہانیہ آہان میں اور آہان ہانیہ میں زم ہیں۔ یہ دونو ں کبھی جدا نہیں ہوسکتے۔۔دھیرے سے اسکا دوپٹہ اتار کے ایک طرف رکھتے وہ ہانیہ کا سر شرم سے جھکا گیا۔ اسکی کمر سے ہاتھ باندھے اسے اپنے حصار میں لیا۔ آٸ مس یو۔۔۔! خاص تمہاری لڑاٸ کو بہت مس کرتا رہا اس ایک سال میں۔۔۔! اسکا رخ اپنی طرف کرتا وہ شرارت سے بولا تو ہانی نے خفگی سے اسے دیکھا۔
لیکن ایک بات تو طے ہے۔ سر سے پاٶں اسے دیکھتے اب وہ پٹری سے اترنے لگا تھا۔
اس ایک سال میں تم۔۔ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہوگٸ ہو۔۔۔ اسکے دیکھنے کے انداز اور لفظوں کا وار ہانیہ کو دل پے محسوس ہوا۔ دھیرے سے ایک مکا اسکے سینے پے جڑتے وہ اسکے سینے میں ہی منہ چھپا گٸ۔
جبکہ آہان کی جسارتیں بھی بڑھتی جا رہی تھیں۔اور لفظوں کے اظہار بھی ادا ہوہے تھے۔
وہ دل کی دھڑکنو ں کو ایک سو بیس کی رفتار سے پکڑے محسوس کرتی اسی کے سینے میں منہ چھپاتی شرما رہی تھی۔
آج ۔۔ ایک سال بعد دو پیار کرنے والے ایک دوسے سے مل ہی گۓ تھے۔











آہان نے کچھ جھوٹ کچھ سچ کی مدد سے ہانیہ کو یقین تو دلا دیا تھا۔ لیکن وہ سارا سچ ہانیہ سے بھی نہ کہہ سکا۔ وہ ایجینسی کا بندہ تھا۔ اور سارا سچ تو وہ خود کو بھی نہ بتاتا۔۔سلطان کہاں گیا۔۔؟ یہ کوٸ نہیں جانتا تھا۔ اس تمام وقت میں وہ اپنے علاقے میں رہا تھا۔ اپنے وڈ وڈیروں کے زمین و جاٸیداد کو واپس حاصل کرنے میں۔ وہ گاٶں کے سر پنچ کا اکلوتا وارث بچا تھا۔ اور اسے اسکا حقِ وراثت لینا تھا۔ جو اس نے لیا۔ جس میں ابتسام نے اسکی ہر طرح سے مدد کی۔ اور ثابت کیا۔ کہ آہان ہی حمزہ حیات مرزا کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اور تمام زمین وہ جاٸیداد کا اکلوتا وارث۔
او بہت سی باتوں کے ساتھ آہان یہ بات بھی ہانیہ سے چھپا گیا۔ اور من گھڑت کہانی سنا دی۔ جس پے پہلی بار ہانیہ نے بنا کسی تردد کے یقین کر لیا۔ اور وجہ وہ محبت تھی۔ جو وہ اس سے کرنے لگی تھی۔ورنہ سپاٸ گرل۔۔۔؟۔ کبھی یقین نہ کرتی۔ ![]()







یار ابا۔۔وہ دیکھ تیرے پاٶں کے پاس چوہا۔۔۔۔! فیاض نے چلاتے ہوۓ کہا۔
کدھر کدھر۔۔۔ ؟ دور بھگا اسے۔۔۔! شاہان چلایا تھا۔
میرے ہاتھ بندھے ہیں کیسے بھگاٶں۔۔؟؟ فیاض چلایا تھا۔
ابتسام نے شاہان اور اسکے بیٹے کے لیے وہی سزا منتخب کی تھی۔جو اس سے پہلے میر یامین نے اپنی پہلی بیوی کے لیے چنی تھی۔ جتنے گناہ انہوں نے کیے اب ان کو یہیں رہنا تھا ساری زندگی۔








اگلے دن بہت بڑی گرینڈ ریسپشن رکھی گٸ تھی۔
جس میں تقریباً زیادہ تر میجر جنرل کرنل بریگیڈیٸر سب پہنچے تھے۔اور آہان کو مبارک باد دے رہے تھے۔
آہا ن اور ہانیہ کو ایک دوسرے کے ساتھ خوش دیکھ کے ابرش نے بے اختیار آسمان کی طرف شکر گزار انداز میں دیکھا۔ وہ شوہر سے لڑاٸ کے چکر میں ۔۔۔اپنی اولاد کو اسکی خوشیوں کو بھول گٸ تھی۔
حقِ وراثت دلاتے دلاتے حقِ محبت سے محروم کر گٸ تھی۔پر وقت رہتے اسے اپنی غلطی کا نہ صرف احساس ہوا۔ بلکہ اسے سدھارا بھی۔
ابر۔۔۔! ابتسام نے اسکے پاس آتے دھیرے سے اسے پکارا تو وہ چونکی اور آنسو صاف کیے۔
سام۔۔۔۔! میں اچھی ماں نہیں بن پاٸ شاید۔۔؟ وہ ابتسام کے پاس آتےدکھ سے بولی۔ ابتسام نے اسے اپنے حصار میں لیا۔
میری ابر نہ صرف اچھی ماں ہے بلکہ بہت اچھی بیوی بھی ہے۔ کچھ بھی برا مت سوچو۔۔۔ اسکے ماتھ پے بوسہ دیا۔ چلو۔۔ اندر۔۔۔!
دکھوں کے بادل چھٹ گٸے تھے۔ اورخوشیوں نے ڈیرا جما لیا تھا۔
فیصل اور نور کو آپس یں اچھے سے بات چیت کرتے دیکھ یامین اور کشش کے دل میں یہ خواہش جاگی۔ کہ وہ دونوں ایک ساتھ ہوجاٸیں ۔
دل سے دعا کی۔ جو شاید قبولیت کی گھڑی کی تھی۔
فیصل تو سب کچھ جان کے اسکا ہاتھ تھامنا چاہتا تھا۔ جو کچھ بھی ہوا اس میں اسکی کوٸ غلطی نہ تھی ۔۔کیا نور فاطمہ۔۔۔؟ ماضی بھلا کے فیصل کا ہاتھ تھام لے گی۔۔؟ کیا اسے تھام لینا چاہیے۔۔؟
کچھ باتیں کچھ کہانیاں ادھوری رہ جاتی ہیں۔۔ اگر تو آپ ک جواب ہاں ہے۔ تو وہ تھام لے گی۔ اور اگر نہ۔۔ تو یقین جانیں۔۔ فیصل اپنی محبت سے اسے جیت لے گا۔
بس ۔۔۔ہمارے معاشرے نیں ایسے کردار ہونے چاہیٸیں جو ۔۔ ایسی لڑکی کا بھی ہاتھ تھام لیں۔ نا کہ اسے طعنے دیں۔جبکہ ایسا شاز و نادر ہی ہوتا ہے۔
اس کہانی کا بھی اینڈ یہیں ہوتا ہے۔
امید کرتی ہوں۔ یہ کہانی آپ کو پسند آٸ ہوگی۔
اپنی راۓ کا اظہا لازمی دیجیے گا۔
یاد رکھیے۔۔ سوچوں میں یادوں میں باتوں میں۔
جزاك اللهُ
دی اینڈ
