Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 24)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 24)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
پیرزادہ منشن میں آنیہ کو الگ روم دیا گیا تھا۔ جہاں وہ اب رہنے والی تھی۔ میر ہادی کو اس بات سے بے خبر رکھا گیا تھا ۔ وہ اپنے روم میں ہی تھا۔ لیکن اس رات وہ واپس گھر نہ آیا۔
اگلی صبح بھی گھر میں مکمل خاموشی تھی۔ ملازمہ شازمہ اسکے ساتھ ساتھ رہتی۔ آنیہ چپ سی ہوگٸ تھی۔ اپنا ہی گھر اسے بنا میر کے اجنبی لگنے لگا تھا۔ اسکے بنا رہنا ۔۔۔ اسے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ سوچتے سوچتے اسکا ہاتھ اپنے گلے میں پہنے پینڈیٹ کی طرف چل گیا۔
سارے فسعاد کی جڑ یہ پینڈٹ ہے۔ یہ نہ ہوتا تو ممیری زندگیکتنی پرسکون ہوتی۔۔۔ میر بھی کبھی نہ بدلتے۔۔لیکن۔۔۔ وپ مجھے کس قصور کی سزا دے رہے ہیں۔۔؟ میں نے کیا کیا ہے۔۔۔؟؟ اور مجھے بتا بھی نہیں رہے کچھ۔ کس سے پوچھوں۔۔؟؟ اس ساری بات کا مطلب۔۔۔؟ اسکی آنکھیں نم سی ہوٸیں۔
بی بی جی۔۔ جوس بنا دوں آپ کو۔۔۔؟؟
کچن کارنر میں ایک ٹیبل پے بیٹھے وہ اپنے خیالوں میں گم تھی۔ کہ ملازمہ نے پوچھا۔
نہیں۔۔۔ دل نہیں چاہ رہا۔۔! سولت سے منع کر دیا۔
مما۔۔۔۔مما۔۔۔۔؟؟ میر ہادی کی آواز پے آنیہ کا دل زور زور سے دھڑکا۔
وہ ماں کو آواز دیتا کچن کی جااب ہی بڑھا تھا۔
جی صاحب جی۔۔۔؟؟ شازمہ الرٹ ہوٸ۔
میر نے ایک اچٹتی نظر آنیہ پے ڈالی۔ جو رخ موڑے بیٹھی تھی۔
مما کہاں ہیں۔۔؟ سرد و سپاٹ انداز۔
جی۔۔ وہ تو ۔۔ گھر پے نہیں ۔۔۔ بڑے صاحب جی اور وہ دونوں ہی کسی کام سے کہیں گٸے ہیں۔
ملازمہ کی بات میر ہادی نے لب بھینچے۔
بیٹا۔۔۔؟؟ کچھ چاہیے تھا کیا۔۔؟؟ سویرا بیگم کی اچانک آمد پے وہ انکی طرف متوجہ ہوا۔
جی۔۔۔؟؟ دادو۔۔۔ ایک کپ کافی بھجوا دیں۔۔۔
کہتے ہوٸے وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
آنیہ کے آنسو بہتے لے گۓ ۔۔
ایک بار بھی اس نے آنیہ کو نہ پکارا۔ نہ اسکا حال پوچھا۔
محبت کرنے والے اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہیں۔۔؟
میرا آپ سے رشتہ کاغذ کانہیں۔۔ روح کا ہے۔۔۔جو مرنے کے بعد ہی ٹوٹ سکتا ہے۔۔ جیتے جی تو نہیں۔۔۔
میر کے الفاظ کی بازگشت پے اسکا دل خون کے آنسو رویا۔ یہ کیسا رشتہ تھا۔۔؟؟ جو روح تو کیا جسم کا بھی نہیں تھا۔۔۔ اسکی روح زخمی تھی تو جسم بھی زخموں سے چور تھا۔
نہ روح کی چوٹ نظر آٸ نہ جسم کی۔۔۔
یہ لو بیٹا۔۔۔! جاٶ۔۔ ہادی کو کافی دے آٶ۔
سویرا بیگمنے آنیہ کو خیالوں سے چونکایا۔
جی۔۔۔ دادو۔۔؟؟ میں۔۔۔؟؟ وہ آنسو صاف کرتی انکی طرف مڑی۔
ہاں۔۔ بیٹا۔۔آپ۔۔! جاٶ۔۔ اٹھو شاباش۔۔۔! سویرا بیگم کے اصرار پے وہ اٹھی۔
بڑی بیگم جی۔۔! انکے ہاتھ پے چوٹ لگی ہے۔ میں دے آٶں۔۔۔؟ شازمہ کو اس کی حالت پے ترس آیا۔
نہیں۔۔۔ وہ اسکا شوہر ہے۔ وہ خود جاۓ گی۔ دینے۔ بہت بھاری نہں ہے۔ ایک کپ ہے۔ وہ اٹھا لے گی۔
اور آنیہ بیٹا۔ ! آپ اپنے کمرے میں آرام کریں۔ جب تک آپ کے زخم ٹھیک نہیں ہو جاتے۔ کہتے ہوۓ وہ اب شازنہ کی جانب مڑیں تھیں۔ اور آج کے کھانے کا ڈسکس کر رہی تھیں ۔
آنیہ دبے قدموں میر کے روم کی جانب بڑھی۔
اسکا دل انتہا درجے پے دھڑک رہا تھا۔آج اپنا ہی کمرہ اجنبی لگ رہا تھا۔
ہلکی سی دستک دی۔
کم ان۔۔۔! مصروف سی آواز پے وہ لرزتے ہوٸے اندر داخل ہوٸ۔
رکھ دو یہاں۔
فاٸلوں میں سر دیٸے بنا اسطرف پلٹے کہا ۔
آنیہ نے ساٸیڈ ٹیبل پے کپ رکھنا چاہا۔ کہ کلاٸ میں اسٹیچز کےدرد کی وجہ سے ہاتھ مڑ گیا۔ اور کافی اسکے تمام کاغذات کو رنگتی چلی گٸ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کیا مسٸلہ ہے۔۔؟؟ اب ایسے کیا منہ دیکھ رہی ہو۔۔۔؟
ایک آفر لاٸ ہوں۔۔۔ ہانیہ نے آہان کو نظروں کے فوکس میں لیا۔ دو دن بعد ہانیہ کا نکاح تھا۔ وہاج کے ساتھ۔ اور آہان کے کہنے پے صرف گھر کے افراد نے ہی شرکت کرنی تھی۔ وہاج کا کوٸ تھا نہیں۔ ور ویسے بھی ابھی صرف نکاح کرنا تھا۔ رخصتی وہاج کے سیٹ ہوجانے کے بعد ہونی تھی۔
آہان پہلے ہی اس نور کی وجہ سے جھنجھلایا ہوا تھا۔ اوپر سے ہانیہ کی آفر والا سین اسے کچھ ہضم نہ ہوا۔
کیسی آفر۔۔۔؟؟ ماتھےپے بل ڈالے وہ اسکی جانب مڑا۔ جو ہمیچہ بڑے دھڑلے سے اسکے روم میں آجاتی تھی۔ بنا اجازت کے۔
وہ تھوڑا قریب ہوٸ۔ اسکا پراسرار انداز آہان کو ٹھٹھکا رہا تھا۔
مجھ سے نکاح کرو گے۔۔؟ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ وہ سوال کیا۔ کہ آہان کی تو مانو دل کی دھڑکن ہی رک گٸ ہو۔لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اپنے جذبات کو قابو کرتے اسکی طرف غور سے دیکھا ۔ سوچ میں اسکی یہ کارستانی سمجھ نہ آرہی تھی۔
بنا مطلب کے تو یہ کسی کو تھپڑ نہ مارے۔ اور اس وقت خود کھڑی آفر دے رہی ہے۔ اپنا آپ مجھے سونپنے کی۔۔۔؟؟ کیا وجہ ہو سکتی ہے۔۔؟
آہان نے ماغ کے گھوڑے دوڑاۓ۔
کیا ہوا۔۔؟ یقین نہیں آرہا۔۔۔؟؟ اسکی حالت سے حظ اٹھاتے وہ پھر سے بولی تھی۔
تم تو وہاج کو پسند کرتی ہو۔۔ تو پھر۔۔ اچانک سے۔۔ میں کہاں سے آگیا بیچ میں۔۔؟؟ آہان نے بغور اسکے چہرے کو دیکھا۔
پسند کرتی ہوں۔۔۔ محبت نہیں۔۔
اسکی آنکھو ں میں جھانکتے ہوۓ کہا۔ کہ ایک لمہے کو آہان تو اسکی آنکھوں میں کھو سا گیا۔
اور۔۔۔پسند کا کیا ہے۔۔؟ کبھی بھی کسی بھی موڑ پے بدل جاتی ہے۔۔
اس نے ہمیشہ اپنے دل کو سنبھال کے رکھا تھا۔ لیکن اس وقت وہ بھی دڑنے لگا تھا۔ یہ جانتے ہوۓ کہ سامنے کھڑی لڑکی فتنا ہے۔ اور اس سے کچھ بھی اچھی امید نہیں کی جا سکتی ۔
میں کس امید پے وابستہ اپنی خواہش کرلوں۔۔؟؟
تیرے مزاج کے موسم کا اعتبار نہیں۔
کیا سوچنے لگے۔۔؟؟ آفر اچھی نہیں لگی۔۔؟
ہانیہ نے اسے خیالوں سے چونکایا ۔
آفر تھی کیا۔۔۔؟إ ایک فتنا لڑکی کو اپنی زندگی میں شامل کرلوں۔۔؟اور ساری زندگی کے لیے روتا رہوں ۔۔۔۔؟؟ آہان نے منہ پھیرتے اسکا مذاق اڑایا۔
تم۔۔ سمجھتےکیا ہو خود کو۔۔ ؟ ہانیہ نے اسکا رخ اپنی طرف موڑتے غصہ سے اسکا کالر پکڑتے اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑھیں۔
آہان نے ایک نظر اسکے ہاتھ میں پکڑے اپنے کالر کی طرف دیکھا۔ اور دوسری نظر اس پے ڈالی ۔
تمہارا جو بھی مقصد ہے ناں۔۔ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔۔۔ہاتھ ہٹاٶ۔۔ ہانیہ۔۔۔! سختی سے کہتے اس نے ہانیہ کو ہوش میں لایا۔ تو وہ اپنے ہاتھ پیچھے کر گٸ ۔
ایم سوری۔۔۔۔! ایک دم سے اسکے معافی مانگنے پے آہان کو اچھنبا ہوا ۔
مطلب۔۔؟؟ معافی۔۔۔اور وہ بھی ہانیہ۔۔؟؟ ضرور کوٸ بہت بڑی کھچڑی ہے جو اسکے دماغ میں پک رہی تھی۔ اب تو جاننا اور بھی ضروری ہو گیا تھا۔
دیکھو! آہان۔۔۔! اگر تم۔۔ مجھ سے نکاح کے لیے تیار ہوجاتے ہو تو میں وہاج کو منع کر دوں گی۔ وہ پھر سے پینترا بدلتے بولی۔
اور۔۔۔ تم ایسا کیوں کرنے لگی۔۔؟
محبت تو نہیں ہوگٸ مجھ سے۔۔۔؟؟ آہان نے ابکی بار اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ اسکی بات پے وہ سٹپٹا گٸ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
واٹ دا ہیل از دس۔۔۔؟؟ دماغ درست ہے۔۔۔۔؟؟ وہ غصہ سے چلایا تھا۔ یہ جانے بنا کہ سامنے آنیہ کھڑی ہے وہ سہم کے پیچھے ہٹی تھی۔
تم۔۔۔۔؟؟؟ میر ہادی اسے دیکھ ماتھے پے بل ڈال چکا تھا۔
شازمہ۔۔۔۔؟؟؟ وہ اسے نظر انداز کرتا چلایا تھا۔ جبکہ اسے اس حالت میں دیکھ اسکا دل بری طرح دھڑکا تھا۔
لیکن چہرے سے کچھ عیاں نہ ہونے دیا۔
آپ ۔۔۔انہیں کیوں بلا رہے ہیں۔۔؟؟ میں صاف کر دیتی ہوں۔
آنیہ نے آنسو ضبط کرتے دھیرے سے کہا۔ اور اسکی فاٸل کے سارے پیپرز اٹھانے لگی۔ جبکہ میر ہادی وہاں سے واک آٶٹ کر گیا۔
اس سے آنیہ کا دردمیں کام کرنا نجانے کیو ں برا لگا تھا۔
بمشکل دکھتی کلاٸ سے اس نے ساری فاٸلز کو بمشکل اٹھاتے صاف کیا۔ لیکن کافی کا داغ نہیں نکلا۔ جس رفتار سے وہ صوفے پے بیٹھے ان کاغذات کو صاف کر رہی تھی۔ اس سے کہیں تیز رفتار سے اسکے آنسو بہہ رہے تھے۔
کہ اسی اثنامیں میر ہادی باتھ روم سے نکلا۔ اسے زارو قطار روتے دیکھ لب بھینچے۔ ٹاول ایک ساٸیڈ پے رکھا ۔ اور اسکی جانب بڑھا۔
آنیہ نے سر اٹھا کے اس ظالم کی جانب دیکھا۔
اسکی آنکھوں کے لال ڈوروں کو دیکھ میر ہادی نے نظریں پھیریں۔ جو آنیہ کو مزید دکھ دے رہی تھیں۔
میں۔۔ صاف کر رہی ہوں۔۔ لیکن۔۔۔ یہ۔۔۔ نہیں ہو۔۔۔ رہیں۔۔۔!
آنسو روکے ہچکیوں سے کہتے وہ میر ہادی کے ضبط کو آزما رہی تھی۔
میر ہادی نے اسکے ہاتھ سے تمام پیپرز کھینچے۔
جاٶ۔۔ یہاں سے۔۔۔! رخ پھیرتے سختی سے کہا۔
اور یہیں آنیہ کی بس ہوٸ۔ منہ پے ہاتھ رکھے اپنے آنسوٶں کا گلا گھونٹے وہ روم سے باہر بھاگی تھی۔
اس سے یہ سب سہن نہیں ہو رہا تھا۔ کہ میر ہادی اس سے نفرت کرنے لگا ہے۔ وہ ہر بت کو خود پے سوار کرنے والی نہ تھی۔ لیکن ہادی کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات اس پے اثر انداز ہورہی تھی۔
اپنے روم میں آتے ہی اس نے دروزاہ لاک کیا۔ اور دروازے کے پاس ہی بیٹھتی روتی چلی گٸ۔
اب کبھی بھی نہیں آٶں گی آپ کے سامنے۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔! جھوٹے ہیں آپ۔۔۔ جھوٹ بولا۔۔۔ کہ میں آپ کی۔۔۔ جان ہوں۔۔ آپ کی روح کا حصہ۔۔۔!
آٸ ہیٹ یو۔۔۔۔! وہ وہیں زمین پے ڈھے گٸ تھی ۔
بٹ۔۔۔۔ آٸ لو یو۔۔ میر ۔۔۔۔! نہیں رہ سکتی آپ کےبنا۔۔۔! آپ کی بے رخی مجھے اندر ہی اندر ماررہی ہے۔۔۔ اور میں یوں ہی مر جاٶں گی۔۔۔! آنکھیں موندے اب وہ خاموشی آنسو بہاتی رہ گٸ۔
زندگی میں کبھی کوٸ آۓ نہ ربا۔۔
آۓ تو کوٸ پھر جاۓ نہ ربا۔۔
دینے ہوں اگر مجھے بعد میں آنسو۔۔۔۔
پہلے کوٸ ہنساۓ نہ ربا۔۔۔
جاری ہے
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آہان۔۔۔! دیکھو۔۔۔ تمہیں تمہارے مشن کو مکمل کرنے کےلیے مجھ جیسی بہادر لڑکی کی ضرورت ہے۔ تو بہتر نہیں تم مجھ سے ہاتھ ملا لو۔۔۔ میں تمہاری مدد کروں گی۔ اور ہم دونوں مل کے سلطان کو موت کے گھاٹ اتاریں گے۔
اپنا پلان بتاتی وہ آہان کو گنگ کر گٸ۔ وہ تو اسکی پلاننگ سنتا عش عش کر اٹھا۔
اوہ۔۔رٸیلی۔۔۔؟؟ مجھے اپنے پلان کی تمکیل کے لیے تم جیسی ٹڈی کی ضرورت پڑے گی۔۔۔؟ اسکے چھوٹے قد پے چوٹ کرتا وہ جھک کے سینے پے ہاتھ باندھے بولا تھا۔
تو۔۔ تم اونٹ جتنا قد لے کے کونسا عقل مند ہو۔۔۔؟ سنا نہیں۔۔ لمبے قد والے کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے۔۔ ! فوراً سے بدلہ چکایا۔
ہو گیا۔۔۔؟؟ اب نکلو۔۔۔! آہان نے اسے ہری جھنڈی دکھاٸ۔
تو۔۔ تم انکار کر رہے ہو۔۔۔؟؟ کمر پے ہاتھ باندھے بھنوٸیں اچکاۓ پوچھا۔ آہان گہرا سانس خارج کرتا پھر اسکی جانب مڑا۔ مطلب باز نہیں آرہی ۔۔۔
ہممم۔۔۔ سوچ سکتا ہوں۔۔اگر کوٸ اچھی سی آفر ہو تو۔۔؟
اب زرا معنی خیزی سے بولا۔
کیسی آفر۔۔۔؟؟ وہ فوراً بولی تھی۔
نکاح کے بعد۔۔۔اگر منکوحہ کے ساتھ ۔۔تھوڑا رومینس کرنے کی اجازت مل جاۓ۔۔ تو ۔۔سوچا جا سکتا ہے۔۔۔! آہان نے اب کی بار اسکی دکھتی رگ پے پاٶں رکھا۔ اور ہانیہ کے کانوں سے دھواں ہی نکلنے لگا ۔
تم۔۔۔۔ ایک۔۔۔ انتہاٸ۔۔۔گھٹ۔۔۔۔؟؟؟
خوبصورت۔۔ ہینڈسم اور دلکش۔۔ ہوں۔۔ ہیں ناں۔۔؟؟ ڈیڈ بھی یہی کہتے ہیں۔۔۔!آہان نے اسکی بات کاٹتے میٹھا طنز کیا۔
ڈوب مرو تم۔۔۔! غصہ سے کہتی وہ پلٹتی نکلتی چلی گٸ۔
اسکے جاتے ہی آہان کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔ فوراً سے اپنے آدمی بلال کو فون کیا۔
ایک تصویر بھیج رہا ہوں۔ مجھے اسکے بارے میں تمام معلومات چاہیٸیں۔ وہ بھی کل تک ۔۔ مسٹ۔۔۔! کہتے ہی کال بند کرتے ایک تصویر سینڈ کی۔
اور موباٸل کو ساٸیڈ پے رکھتا ہانیہ کے بارے میں سوچنے لگا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
بالوں کی ایک لمبی چوٹی۔۔تیل میں جڑے بال۔
موٹی موٹی آنکھوں میں بھرا کالا سرمہ۔۔
لمبے او رپیلے دانت جو پان کھانےکی وجہ سے لال ہو چکے تھے۔ ناک کے پاس ایک بڑا سا تل ۔۔۔ اور تھوڈی کے اوپر ایک کٹ کا نشان۔
انوں میں چھوٹی چھوٹی بالیاں۔۔ ہرے دیکھتے ہی دہ ش ت ٹپک رہی تھی۔ سر پے کالا پرنہ رکھے وہ دہ ش ت گ۔ر۔د لگ ۔۔رہا تھا۔
کہاں ہے ہمری بیٹی۔۔؟؟ وہ پان کو تھوکتے ہوۓ اپنے آدمیوں پے چلایا تھا۔
جی۔۔۔۔ وہ۔۔۔؟؟ ایک آدمی سر جھکاۓ منمنایا۔
ایک ہاتھ کا تھپڑ پڑا اور وہ دور جا گرا۔ منہ لبا لب خون سے بھر گیا۔
رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔۔ ہمرا بیٹی سے۔۔۔! اب کہاں سے پتہ کریں ہم۔۔۔ نجانے کس حال میں ہوگی ہمری بیٹی۔۔۔؟؟
سلطان چلا رہا تھا۔ ایک تو اسکا اڈہ تباہ و برباد ہوگیا تھا۔ اوپر سے اسکی بیٹی بھی ان کے ہاتھ لگ گٸ تھی۔ اب وہ ایسے لوگوں میں تھی۔ کہ اسکا واپس آنا ناممکن تھا۔ اور سلطان۔۔ گناہوں کا بادشاہ۔۔ براٸ کا سلطان ۔۔اپنی بیٹی کو ہر حال میں واپس لانا چاہتا تھا۔ اسکی بیٹی اسکی وارث اور اس کے گینگ کی ملکہ تھی۔
سلطان دادا۔۔۔ منع کیا تھا نہ بھیج اسے وہاں۔۔۔! لیکن آپ نے ایک نہیں سنی۔۔۔اور اسے دشمنوں میں بھیج دیا۔ وہ میجر۔۔۔ ! آج بھی ہماری تاک میں ہے۔ اور جب اسے موقع ملا وہ ہمیں برباد کر دے گا۔۔
اسکا بھاٸ اسے سمجھاتے بولا
ارے تم ام کو نہ سمجھا۔۔۔امیں سب کج ملوم ہے۔۔! پر۔۔ نوری کی ہی خواہش تھی۔۔ اس میجر کا کام تمام کرنے کی۔ تو کیا کرتا ام۔۔؟؟ سلطان جھنجھلایا ۔
ایک طریقہ ہے۔۔۔! نوری کو واپس لانے کا۔۔۔!کافی دیر سے چپ عاشق اب بولا تھا۔ نوری اسکی منگیتر تھی ۔ اور وہ اسکا عاشق۔۔ نام بھی عاشق اور کام بھی عاشقوں والے۔
کیا رے چھورے۔۔۔۔؟؟ کیا ہے۔ ؟؟ ام کو بھی بتاٶ۔۔؟۔
سبھی ہمہ تن گوش ہوۓ۔
وہ۔
نور۔۔فاطمہ۔؟؟؟ یاد ہے۔۔۔ناں۔۔؟؟ آنکھیں مٹکاتے وہ انہیں بہت کچھ سمجھا گیا۔ سلطان نے اپنی بڑی بڑی مونچھوں کو تاٶ دیا۔ اور مسکرایا۔
کیا بات بتا دی تو نے چھورے۔۔! اب پٹ بھی ہمری چٹ ہمری۔۔۔!
اور۔۔۔ وہ۔۔ ہمرا سب جاٸیداد کا اکلوتا وارث۔۔۔! اسکا کام کب تمام ہوگا۔۔۔؟؟ سلطان کا بھاٸ تیزی سے بولا۔
ارے۔۔۔۔ فکر کیو ں کرتا۔۔ہے۔۔۔؟؟ پہلے پتہ لگنے دے۔۔۔ اصل وارث ہے کون۔۔؟؟ پھر موت کے گھاٹ اتار دیں گے اسے۔بھی۔۔۔! سلطان بے فکر ہوتے بولا۔
اب وہ نٸ پلاننگ بنا رہا تھا۔
جس میں وہ اپنی بیٹی نوری کو واپس لانے والا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
سر ان تین نمونوں کا کیا کرنا ہے۔۔۔؟؟
شان نے اس کمرے کو لاک لگاتے آہان سے پوچھا۔
فی الحال تو انہیں یہیں رہنے دو۔ بے ضرر سے تو ہیں۔ لیکن۔۔ باہرنکلیں گے تو ضرور فتنا پھیلاٸیں گے۔ اور ابھی ان سے زیاہ اہم کام ہیں جو نمٹانے ہیں۔ تو انہیں ساری سہولتیں فراہم کرو۔ لیکن۔۔۔ باہر کی ہوا بھی نہ لگنے دو۔
فضا ردا ایک روم میں بند تھیں۔ جب کہ انکا بھاٸ الگ روم میں۔
بے فکر رہیں۔ یہ اب یہیں آخری سانس لیں گے۔ شان نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
اب ہمیں اس نوری کو ٹھکانے لگانا ہے۔۔ کیا سمجھے۔۔؟؟
کطچھ سجھا نہیں۔۔ شان کے ماتھے پے بل پڑے۔
چپ یاد ہے۔۔؟ آٸ برو اچکاتے پوچھا۔
شان نے اثبات میں سر ہلایا۔
سلطان اپنی بیٹی کو حاصل کرنے کے لیے کطچھ بھی کرے گا۔ اور وہ حاصل کر کے رہے گا۔۔۔ آگے کیا کرنا ہے۔۔۔ سمجھدار ہو۔۔۔! آہان کے کہنے پے شان نے یس باس کا نعرہ لگایا۔ وہ آہان کے دماغ کو واقعی میں داد دینے لگا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آنیہ کو ابرش کا فون آیا تھا۔ اور ہانیہ کے نکاح کا بتایا۔ وہ باقاعدہ دعوت دینے آنا چاہتے تھے لیکن سب کچھ اتنا آناً فاناً ہو رہا تھا۔ کہ آیا نہ گیا۔ اور معذرت کر لی۔
مما۔۔۔! آپ جلد بازی کر رہے ہیں۔۔ ہانیہ ابھی چھوٹی ہے۔۔ اسے پڑھاٸ تو مکمل کرنے دیں۔
آنیہ کو سب صحیح نہ لگا۔
آنی۔۔۔! بیٹیاں صحیح وقت پے رخصت ہوجاٸیں تو ہی بہتری ہوتی ہے۔ اور ہانیہ کی نیچر سے واقف ہوناں۔۔۔ کتنی سٹریٹ فاروڈ ہے وہ۔۔۔! کب کیا کر جاۓ کچھ بعید نہیں۔ اور آپ کے ڈیڈ اور۔۔میں یہی چاہتے ہیں کہ اس پے زمہ داریاں پڑیں اور وہ اپنی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے باز آجاۓ۔
تفصیل سے سمجھایا۔ آنیہ نے گہرا سانس خارج کیا۔
کون ہے لڑکا۔۔؟ کیا کرتا ہے۔۔؟؟
وہاج نام ہے۔ ہانیہ کے ساتھ یونی میں ہی پڑھتا ہے۔ ابھی اسٹیبلش نہیں ہے۔۔۔ لیکن شریف بچہ ہے۔ ملی ہوں۔۔ میں اس سے۔۔۔! اور ہانیہ کو لاٸیک کرتا ہے۔
اور ہانیہ۔۔۔؟؟ فوراً سے پوچھا۔
اسی کے کہنےپے یہ رشتہ ایکسپٹ کیا ہے آنی۔ ! ابرش نے گہرا سانس خارج کیا۔
چلیں صحیح ہے۔ اگر اسکی پسند شامل ہے توبہت اچھا ہے۔ والدین کو یہی چاہیے۔۔ بیٹی کی پسند نا پسند کا لازمی خیال رکھیں۔ زندگی آسان ہو جاتی ہے۔
آواز دھیمی پڑگٸ۔
کیا ہوا۔۔؟؟ آنیہ۔۔؟؟ سب ٹھیک ہے ناں۔۔بیٹا۔۔۔؟؟ اور۔۔ میر ہادی کیسےہیں۔۔؟؟ ماں تھی اسکا اداس لہجہ سمجھ گٸ۔
جی مما۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔اور میر۔۔ بھی ٹھیک ہیں۔ ان دنوں کام کا بہت بوجھ ہے نا۔ں۔۔ تو کم ہی گھر ہوتے ہیں۔۔ زیادہ تر آفس ہی ہوتے ہیں۔
بہانہ بنایا۔
لیکن۔۔۔ آپ دونوں تو دبٸ جانے والے تھے۔۔۔؟؟ اسکا کیا۔۔؟؟ ابرش کے سوال شروع ہو چکے تھے۔
جی مما۔۔ جانا ہے ناں۔۔۔! بس ان کے ہوٹل کا کچھ کام ہے وہ کر لیں پھر۔۔۔!
اچھا مما۔۔۔ کل ان شاء اللہ ہم پہنچ جاٸیں گے۔ آپ کشش مما سے بھی بات کر لیجیے گا۔ رکھتی ہوں۔۔
الله حافظ
خداحافظ میرا بچہ۔۔۔! ابرش نے کال بند کی تو اسکا دل ناجانے کیوں آنیہ کو لے کے پریشان سا ہو گیا۔
کہیں پھر کچھ تو نہیں ہوگیا۔۔؟؟ اس شاہان نے۔۔ پھر سے کچھ کیا تو نہیں۔۔؟ اس بار۔۔ شاہان اگر میرے کسی بچے کو تمہاری وجہ سے کوٸ تکلیف پہنچی تو۔۔جان سے مار دوں گی تمہیں میں۔
دل ہی دل میں وہ سختی سے کہتی اٹھی تھی۔ اور اب کشش سے بات کر نے والی تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
وہاج احمد ولد احمد علی آپ کو ہانیہ ابتسام ولد ابتسام پیرزادہ سے نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟
مولوی صاحب نے پوچھا تو ایک خاموشی کا سماں چھا گیا۔
پلیز۔۔۔۔ پلیز۔۔۔ وہاج کے بچے ہاں کہہ دو۔۔ ورنہ۔۔ میری عزت کا فالودہ نکل جاۓ گا۔
سفید رنگ کی سادہ سی میکسی میں تیار ہوٸ وہ غضب ڈھا رہی تھی۔ یہ جانےبنا کے ابھی اس پے کتنا بڑا غضب ڈھنے والا تھا۔
صرف گھر کے ہی لوگ شامل تھے۔ بہت ساگی سے نکاح کیا جا رہا تھا۔ وہاج اپنے ساتھ رشتے کے ماموں کو لے کے آیا تھا۔ درحقیقت وہ بھی اسکا کوٸ دوست کا رشتہ دار تھا۔ اور پیسے دے کے لایا تھا۔
اور ہانیہ کا لاسٹ مومنٹ پے نکاح کے لیے وہاج کو تیار کرنا۔
وہ بہت بری طرح پھسا تھا۔ ڈبل پیسوں کی آفر کو وہ ٹھکرا نہ سکا۔ اور ہامی بھر لی۔ رہ رہ کے اب اسے اپنی منگیتر کا خیال آرہا تھا۔ جس سے وہ بے حد محبت کرتا تھا۔ لیکن پیسوں کی ضرورت نے اسے یہ قدم اٹھانے پے مجبور کر دیا تھا۔
وہ تو بس کچھ عرصہ ناٹک کرنا تھا۔ اسی لیے راضی ہوا۔ لیکن اسے کیا پتہ تھا۔ کہ یہ سب کچھ اسکے گلے ہی پڑ جاۓ گا۔
تم صرف نکاح کر لو۔۔۔ بعد میں طلاق لےلینا۔۔۔میں نہیں ہوتی تم پے مسلط مجھے بس میرے کام سے جنون کی حد تک عشق ہے۔ مجھے شادی بیاہ سے کوٸ لینا دینا نہیں۔ میں صرف اپنے پیرنٹس کو سیٹسفاٸ کرنا چاہتی ہوں ۔ بس۔۔۔! تمہاری اپنی زندگی ہوگی میری اپنی۔ اور طلاق تو آج کل بہت عام بات پوگٸ ہے ادھر شادی ہوٸ نہیں ادھر طلاق ہوگٸ۔ اور مجھے تو طلاق سے کوٸ فرق بھی نہیں پڑتا۔ بس۔۔ فی الوقت تممان جانا ۔ یہ راز ہم دونوں تک رہے گا۔
بیٹا۔۔۔! مولوی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں۔
ارتسام کے کہنے پے وہاج ہوش میں آیا ۔
جی۔۔۔جی۔۔؟۔ وہ۔۔۔؟؟ وہاج گڑبڑا گیا۔
یہ الو کا پٹھہ پھساۓ گا مجھے۔ ہانیہ نے دلہن بنے ہی دھیرے سے ماتھے پے ہاتھ مارا۔ جسے آہان نے بہت فرصت سے دیکھا تھا۔
ابھی وہ کچھ کہتا ۔کہ تالیوں کی آواز پے سب پلٹے۔ اور آنے والے کو دیکھا۔
آنے والا کوٸ اور نہیں ۔۔ بلکہ۔۔۔؟؟؟
