Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 13)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 13)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
کال بند ہو چکی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو بس یک ٹک دیکھے جا رہے تھے۔ کہ تبھی کال دوبارہ آنے لگی۔ وہی نمبر تھا۔
پک دا کال۔۔۔! میر ہادی نے اسے کہا۔ آنیہ نے نفی میں سر ہلایا۔ جبکہ نظریں ایک پل کو بھی ہادی سے نہ ہٹاٸیں تھیں۔
میر ہادی نے اسے ہی دیکھتے کال پک کر کے موباٸل کا اسپیکر آن کر دیا۔
کیوں نہیں رسیو کر رہی تھی میری کال۔۔۔؟؟ ایک شخص کی آواز کانوں میں پڑی تو میر ہادی کے ماتھے پے بل پڑے۔ آنیہ کا دل بری طرح دھڑکا۔
تمہیں کیا لگتا ہے۔۔؟؟ یہ سب کر کے تم مجھ سے جان چھڑا لو گی۔۔؟ تم مجھے جانتی نہیں ہو۔۔۔ میں کیا کر سکتا ہوں۔۔۔؟؟ تمہیں حاصل کرنے کے لیے میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں سنا تم نے۔۔۔؟؟
وہ شخص بولے جا رہا تھا۔ آنیہ کی آنکھیں پانیوں سے بھرتی جا رہی تھیں۔ لیکن خاموشی کا قفل نہ ٹوٹا۔
اور آج کے بعد۔۔ اگر میری کال پک نہ کی تو ۔۔ تمہارے سسرال آکے سب کے سامنے تمہیں لے جاٶں گا۔۔۔ کوٸ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔۔۔ ! پھر دیتی رہنا سب کو گواہیاں ۔۔۔ کہ کون ہوں۔۔ میں۔۔! ہہہاہاہاہاہا۔۔۔
کہتے ہی اسکا قہقہہ گونجا۔ آنیہ کا سر جھکا۔ جو میر ہادی کو سخت طیش دلا گیا۔
اس سے پہلے کے میر ہادی اسے کوٸ جواب دیتا کال بند ہوگٸ تھی.
بنا آنیہ سے کچھ کہے وہ پلٹا تھا۔
پلیز۔۔۔ میری بات سنیں۔۔ آنیہ تڑپ ہی تو گٸ۔
میر ہادی رکا لیکن پلٹا نہیں۔
یہ۔۔۔یہ۔۔ سب۔۔۔ جھوٹ۔۔۔۔! وہ روتے ہوۓ بولی تھی۔
میں۔۔میں۔۔ نہیں۔۔۔ جانتی۔۔؟۔۔؟؟؟ آنسوٶں پے بندھ باندھے وہ بولی۔ لیکن اسکی بات پوری ہونے سے پہلے میر ہادی وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ آنیہ کی سانسیں وہیں تھمیں۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کیا مطلب اس بات کا۔۔؟؟ آہان کے ماتھے پے بل پڑے۔ جو مطالبہ اب وہ لڑکی نور فاطمہ کر رہی تھی۔ آہان کے لیے ماننا ناممکن تھا۔
مطلب صاف ہے۔ آپ کو میں ان لوگوں کے بارے میں سب کچھ بتا دوں گی۔ لیکن اس کے بعد میرا کیا ہوگا۔۔؟؟ وہ تو پہلے ہی میری جان کے دشمن ہیں۔ ایک سال ہونے کو آیا ۔۔ مجھے وہاں انہوں نے قید کر رکھا تھا۔ کتنی مشکل سے وہاں سے بھاگی ہوں۔۔ یہ صرف میں ہی جانتی ہوں۔ اب وہ پیچھے ہیں میرے ۔۔ مجھے سیو جگہ ہی جانا ہے۔ اور وہ میرے شوہر کے گھر کے علاوہ اور کوٸ ہو ہی نہیں سکتا۔
وہ نور فاطمہ اسکے قریب ہوٸ۔ کہ آہان ایک قدم پیچھے ہٹا تھا۔ نجانےکیوں آہان کو اس سے نیگیٹیو واٸبز آرہی تھیں۔ لیکن جو بھی تھا۔ اسے حقیقت تک پہنچنا تھا۔ چاہے اسکے لیے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔
مجھے ان کے اڈوں کا بتاٶ۔۔ انہیں وہیں جہنم واصل کر کے آپ کو ہمیشہ کے لیے سیکیور کر دوں گا۔
آہان نے نفرت آمیز لہجے میں کہا ۔
سلطان۔۔۔! سلطان نام ہے اسکا۔۔۔ ! کتنا شاطر اور خطرناک انسان ہے اسکی سوچ تک آپ پہنچ ہی نہیں سکتے تو اس تک پہنچنا تو بہت دور کی بات ہے۔ نور نے مذاق اڑایا۔
میں بھی اپنے نام کا ایک ہی ہوں۔۔ سلطان کے گھر میں گھس کے اسے نہ مارا۔ تو میرا نام بھی ابیہان نہیں۔
آہان نے جذبات میں بھی اپنا اصلی نام نہ بولا۔
اسکا ایک نہیں کٸ اڈے ہیں ۔ فی الحال مجھے ایک کا صحیح پتہ ہے۔ جہا ں سے میں بھاگ کے آٸ ہوں۔
وہ فر فر بول رہی تھی ۔
مجھے وہ پتہ چاہیے۔۔۔! آہان نے سنجیدگی سے کہا۔
میں آپ کو وہاں لے جا سکتی ہوں۔ لیکن۔۔ میں بتا نہیں پاٶں گی۔۔۔ مجھے راستہ معلوم ہے۔ وہ کوٸ خفیہ علاقہ ہے۔ اردگر صرف کھیت ہیں۔ اور وہ ایک سرنگ کی طرف جاتا ہے۔ سرنگ اندر سے دو راستے میں کھلتی ہے۔ ایک راستہ بند ہے۔ اور دوسرا سلطان کے خفیہ اڈے تک جاتا ہے۔ جہاں اس نے بہت سی لڑکیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اور ان کے جسم کے مختلف حصوں کو جلایا گیا ہوا ہے۔ وہ بہت بری اور ابتر حالت کرتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بھی داغا۔ یہ دیکھیں۔
نور نے اپنی کلاٸ آگے کرتے آنسو ضبط کرتے بتایا۔
جہاں کسی گرم سلاخ سے ایک ایلفابیٹ کنندہ تھا۔
ایس نام کا۔ جو شاید بہت پرانا تھا۔
یہ زخم اب صحیح تو ہو گیا ہے۔۔ لیکن یہ۔۔۔ نشان کبھی نہیں جاۓ گا۔۔۔ ! وہ لڑکی نور رو دی۔
آہان نے لب بھینچے۔
میں سلطان کو ایسی موت دوں گا۔ کہ وہ کبھی کسی لڑکی کو دوبارہ۔۔۔؟؟
میر ی ایک دوست ہے۔۔ جو اب بھی ان کے قبضے میں ہے۔ ہم دونوں ایک ساتھ بھاگی تھیں ۔ لیکن۔۔ شاید وہ۔۔ پکڑی گٸ ہو۔۔۔! نور نے بات کاٹتے کہا۔
آپ مجھے اس کے اڈے تک لے جا سکتی ہیں۔۔۔؟؟ آہان نے اس سے سوال کرتے فارم میں آتے پوچھا۔
ہاں۔۔لیکن۔۔۔ وہ دو تاریخ کو ہی اپنے اڈے پے آتا ہے۔ باقی دن وہ اڈے پے نہیں ہوتا۔۔ آج کیا تاریخ ہے۔۔؟؟ وہ لڑکی سوچتے ہوۓ پوچھنے لگی۔
آج بیس تاریخ ہے۔۔۔! آہان کے ماتھے پے بل پڑے۔
آپ اس کے اڈے تک تو پہنچ جاٸیں گے۔ لیکن وہ آپ کو ابھی نہیں ملے گا۔ کیونکہ جب وہ آتا ہے تو دو تاریخ ہوتی ہے۔ باہر بیٹھے اس کے آدمیوں کو ایک بار کہتے سنا تھا۔ اس لیے آپ کو اگر اسے پکڑنا ہے تو دو تاریخ کا انتظار کرنا ہوگا ۔
نور نے تفصیل سے بتایا۔ آہان نے گہری سوچ سے ابھرتے اسے دیکھا ۔
ٹھیک ہے۔۔۔ ! ہم انتظار کر لیں گے۔ جہاں ۔۔سلطان اتنے دن جیا وہاں ۔۔۔کچھ دن اور سہی۔۔ اس کے بعد اسکی موت ہی اس تک پہنچے گی ۔
سخت لہجے میں کہتا وہ پلٹا۔
آپ۔۔۔ مجھے یہاں۔۔ چھوڑ کے۔۔ مت جانا۔۔۔! وہ گھبرا کے اسکے پاس آٸ تھی۔
نہیں۔۔۔! آپ کو ساتھ لےکے ہی جاٶں گا۔ اپنے گھر ۔ڈونٹ وری۔ آپ کے لے کچھ کھانےکے لیے بجھواتا ہوں۔
آہان نے اسے تسلی دی۔ اور روم سے باہر نکلتےہی روم کو باہر سے لاک لگا دیا۔
اسکے جاتے ہی نور فاطمہ گہرا سانس خارج کرتے بیڈ کے ایک طرف بیٹھی۔ جبکہ چہرے پے کس قدر اطمینان تھا۔ یہ تو کوٸ نہیں جانتا تھا ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ٹھیک ہے مجھے فوراً اس نمبر کے متعلق مکمل ڈیٹیل چاہیے۔ اور یہ کام سب سے پہلے ہونا چاہیے ۔
میر ہادی فون بند کرتا جیسے ہی اندر آیا ۔ نظر سامنے زمین پے گرے وجود پے پڑی ۔ میر ہادی کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا۔ فوراً اسکی طرف بھاگا ۔
آنیہ۔۔۔؟؟ اسکا چہرہ سیدھا کیا۔
تھپتھپایا ۔ وہ بے ہوش تھی۔ ہادی کا جی چاہا ۔ ساری دنیا کو ہی آگ لگادے۔ فوراً سے اسے بانہوں میں بھرا۔ اور باہر کی جانب بھاگا۔
بیٹا۔۔۔! کیا ہوا۔۔؟؟ آپ کب آۓ۔۔۔؟اور ۔۔آنیہ۔۔؟؟ کیا ہوا۔۔۔ ؟؟ کشش نے میر ہادی کو آنیہ کو اٹھاۓ باہر لے جاتے دیکھا تو فوراً اس تک پہنچی۔
ڈونٹ نو۔۔ممما۔۔۔! ہاسپٹل لے کے جا رہا ہوں۔۔ ! میر ہادی جلدی سے آنیہ کو گاڑی میں ڈالتا دوسری طرف سے ڈراٸیونگ سیٹ پے آیا۔
میں بھی ساتھ چلتی ہوں۔۔ ! کشش بھی ساتھ ہو لی ۔
ہاسپٹل پہنچتےہی آنیہ کو آٸ سی یو میں لے جایا گیا ۔ وہ دونوں ماں بیٹا باہر ہی تھے۔
میر ہادی کچھ تو بتاٸیں ہوا۔۔ کیا۔۔آنیہ کو؟؟ کشش پریشان ہوٸ۔
آٸ ڈونٹ نو۔۔مما۔۔۔! شاید چکر آیا ۔ اور گر گٸ۔ میر ہادی نے بات گڑی۔
اور آگے ہوتا آٸ سی یو کے دروازے کے باہر سے ہی آنیہ کو دیکھنے لگا۔
چکر۔۔۔؟؟ مطلب۔۔؟؟ کشش اپنے ہی تانے بانے بننے لگی تھی۔۔۔کہ اتنے میں یامین سکندر آتے دیکھاٸ دیٸے۔
کیا ہوا۔۔؟کیسی ہے آنیہ۔۔؟؟
یامین کی آواز پے میر ہایی پلٹا ۔
بابا۔۔؟؟ آپ۔۔یہاں۔۔؟؟؟ میر ہادی حیران ہوا۔
ہاں۔۔میں نے بتایا انہیں۔۔ کشش نے مسکراتے ہوۓ میر ہادی کو جواب دیا۔
اور یامین سکندر کو لیے ایک کونے کی جانب بڑھی۔
جبکہ میر ہادی سر پکڑکے رہ گیا
آپ کو پتہ ہے۔۔؟ ہماری بہو۔۔ کو چکر آیا۔۔۔! اوروہ۔۔بے ہوش ہوگٸ۔ کشش نے خوشی سے مسکراتے ہوۓ بتایا۔ میر یامین کو اسکی دماغی حالت پے شک گزرا۔
اس میں اتنی خوشی کی کیا بات ہے۔۔؟ دھیرے سے کہا۔
آپ سمجھےنہیں۔۔؟؟ چکر۔۔۔۔! بے ہوش۔۔۔!! دونوں لفظوں کو کافی لمبا کیا۔
اف۔۔۔ بدھو ہی ہیں آپ۔۔۔! اسکا مطلب سمجھے نہیں۔۔ہم۔۔ دادا دادی بننے والے ہیں۔۔
کشش خوشی سے چہکی۔ تو وہیں دوسری طرف یامین نے ماتھے پے ہاتھ مارا۔
کشش۔شششش۔۔۔۔! شادی کو ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا۔۔۔ اور تمہیں۔۔۔؟؟؟ یامین۔۔ زچ ہوا۔
لیکن میری بات۔۔۔؟؟ کشش نے یامین کو وہاں سے واک آٶٹ ہوتے دیکھا تو منمناٸ۔
کشش۔۔۔! چپ۔۔۔! ایسا کچھ نہیں ۔۔! اس لیے ابھی۔۔ ایسی کوٸ بات نہیں کرنی۔۔ کسی سے بھی اوکے۔
پیار سے ڈپتے ہوۓ کشش کو سمجھا کے وہ میر ہادی کی طرف بڑھے۔ جبکہ کشش منہ بسور کے رہ گٸ۔
کیا ہوا۔۔ ابھی کا چکر۔۔۔ وہ چکر نہیں۔۔ ان شاء اللہ اگلا۔۔چکر۔۔ اسی کا ہو گا۔۔۔! دل ہی دل میں وہ سوچتی مسکراٸ تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آہان ابتسام کی اجازت سے نور کو گھر لے کے جا رہا تھا۔ دونوں اس وقت گاڑی میں تھے۔ اور آہان گاڑی ڈراٸیو کر رہا تھا۔
کہ ایک جگہ پے بھیڑ دیکھتا وہ گاڑی روک گیا
میں ابھی آتا ہوں۔ آپ نقاب میں ہی رہیے گا۔
نور کو کہتے وہ باہر نکلا ۔ ہجوم کو چیرتے وہ جیسے ہی آگے بڑھا۔ اسکے پیروں تلے سے زمین نکل گٸ۔
سامنے ہی ایک لڑکی خون میں لت پت پڑی تھی۔ سب لوگوں کا جھمگٹا لگا ہوا تھا۔ کوٸ ویڈیو بنا رہا تھا اور کوٸ تصاویر۔
آہان لب بھینچے انسانیت کی اس بے حسی پے کڑھتا آگے بڑھا۔ کہ پولیس وین کا ساٸرن سنتا وہ پیچھے ہٹ گیا۔ وہ خود کو سامنے نہیں لا سکتا تھا۔
پولیس پہنچ چکی تھی۔ سب کو دور ہٹایا گیا۔ آہان چھپ کےہی سب دیکھ رہا تھا۔ وہ پلٹنے لگا کہ لڑکی کا چہرہ سامنے ہوتا دیکھ وہ ٹھٹھکا۔
یہ وہی لڑکی تھی۔۔۔ جس نے آہان کو چپ لگاٸ تھی۔ آہان کو کچھ صحیح نہ لگا۔ موباٸل نکالتا وہ اس لڑکی کی تصویر بناتا وہاں سے پلٹ آیا۔ تصویر اس نے فوراً شان کو سینڈ کی۔ اور ساتھ ہی کال ملا دی۔
میں نے تصویر بھیجی ہے۔ ایک ۔۔ مجھے مکمل انفارمیشن چاہیے اسکی۔۔۔ ! کہتے وہ کال بند کرتا واپس آیا ۔ نور جوں کی توں ہی بیٹھی تھی۔
کیا ہوا۔۔؟ کیسی بھیڑ تھی۔۔؟؟ نور کے پوچھنے پے آہان نے ایک سرسر ی نظر اس پے ڈالی اور گاڑی ساٸیڈ سے لیتا آگے بڑھا گیا ۔
کسی لڑکی کا ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔۔۔! آہان نے بھی سرسری بتایا۔
نور نفی میں سر ہلاتی رہ گٸ۔
لیکن یہ نہ پوچھ سکی۔ کہ میری اتنی مدد کرنے والے انسان۔۔۔ اس ایکسیڈینٹ ہوٸ لڑکی کی مدد کیوں نہ کی۔۔۔؟؟ وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔ جبکہ آہان کا دماغ کیا پلان کر رہا تھا وہی جانتا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
یہ۔۔۔ الو کاپٹھہ۔۔۔!اتنی دیر ہوگٸ۔ حاتم طاٸ کی اولاد۔۔ !اتنا انتظار تو آج تک میں نے کسی اپنے کا نہیں کیا۔۔۔! جتنا یہاں کر لیا۔ شاید وہ۔۔ بھول ہی گیا ہے۔ کوٸ اس سے ملنے آٸ ہے۔
ہانیہ اس وقت کبیر کی کمپنی میں ویٹنگ روم میں بیٹھی کب سے اسکا انتظار کر رہی تھی۔ لیکن کبیر میٹنگ میں تھا۔ اور وہ بیٹھے بیٹھے زچ آگٸ۔
کہ تبھی ایک لڑکی اندر آٸ۔
ایکسکیوزمی ۔۔میم۔۔۔!سر نے آپ کو اپنے کیبن میں بلایا ہے۔ بہت مہذب انداز میں کہا۔
چلو۔۔۔! ہانیہ نے لٹھ مارنے والے انداز میں کہا۔
کبیر کے آفس میں آتے ہی ہانیہ کو لگا وہ کسی اور دنیا میں آگٸ ہو۔ پورا آفس ایکیوریم بنا ہوا تھا۔
چاروں طرف دیواروں کی جگہ گلاس والز تھیں۔ جن کے باہر کامنظر ایک بار تو ہانیہ کو مسمراٸز کر گیا۔
واٶ۔۔۔ بیوٹیفل۔۔۔! بے اختیار اسکے منہ سے نکلا۔ کبیر نے گردن اٹھا کے اس نازک اندام حسینہ کو دیکھا۔ تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ کس قدر حسین تھی وہ لڑکی۔۔ تصویر سے بھی زیادہ خوبصورت۔ کبیر تو پہلی نظر میں ہی فلیٹ ہوگیا۔
ہانیہ نے ایکیوریم میں تیرتی مچھلیوں کو دیکھا تو اردگرد کا ہوش ہی کھو بیٹھی۔
اور اس دوران کبیر بہت فرصت سے اسے دیکھتااپنی جگہ سے اٹھتا اسکے قریب آیا۔
بہت پیاری لگی آپ کو۔۔؟ دھیرے سے اسکے کان میں کہا۔
ہمممممم۔۔۔۔ بہت۔۔۔! بنا اسکی جانب دیکھے وہ خیالوں میں ہی بولی۔
ہم اپنے روم کو ایسے ہی بناٸیں گے۔۔۔ تا کہ آپ ان کو دیکھ کے کھو جاٸیں ۔ اور ہم آپ کو۔
کبیر کی معنی خیز بات پے وہ چونکی اور پیچھے مڑ کے ماتھے پے بل ڈالے اس کبیر کو دیکھا۔ جو بہت شوخ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
پیچھے ہٹ کے بھی بات ہو سکتی ہے۔ اچانک سے ہانیہ کا لہجہ اور بات کرنے کا انداز بدلا۔ جسے محسوس کرتا کبیر دو قدم پیچھے ہٹا ۔
جی۔۔ ہو گیا پیچھے۔۔۔ اور کوٸ حکم۔۔۔؟؟ وہ اسے نظروں کی گرفت میں لیے اسکی بات پے سینے پے بازو باندھے کھڑا ہوا۔
اگر۔۔۔ حکم ہی ماننا ہے۔۔ تو۔۔ پھر سن لیں۔ آپ کے گھر والے۔۔۔ کل آرہے ہیں۔۔ میرے رشتے کے لیے۔۔ آپ کے ساتھ۔ ! تو بہتر ہوگا۔ آپ انہیں منع کر دیں ۔
سپاٹ انداز میں کہتے ہانیہ نے ناک سے مکھی اڑاٸ۔
کیا مطلب اس بات کا۔۔؟ کبیر کے ماتھے پے بل پڑے۔
مطلب صاف ہے کبیر صاحب۔۔۔! مجھے آپ سے شادی کرنے میں کوٸ انٹرسٹ نہیں۔ تو آپ براۓ مہربانی انکار کردیں۔
اگر میں انکار نہ کروں تو۔۔؟ بہت ٹہرے ہوۓ انداز میں کہا۔ ایک پل کو ہانیہ دانت کچکچا کے رہ گٸ۔
تو۔۔۔؟؟ بہت پچھاتٸیں گے آپ پھر۔ ۔۔۔ ! ہانیہ نے سخت انداز میں کہا۔
تو میں پچھتانے کے لیے تیار ہوں۔ کبیر نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔
ہانیہ کا منہ بنا۔
اپنے آ پ کو سمجھتے کیا ہو تم۔۔؟؟ ہانیہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھی۔ اسکا غصہ۔۔۔ ! ہمیشہ ہی وہ اپنے غصہ سے نقصان اٹھاتی تھی۔
ہمممم۔۔۔۔ ! سلیمان گروپ آف انڈسٹر ی کا مالک۔ اور لڑکیوں کے لیے ہینڈسم ۔۔۔باپ کا غرور ۔۔۔مما کا لاڈلا۔ دوست کا دوست ۔۔اور ۔۔۔۔؟؟ تھوڑا پاس ہوا۔
دشمن کا سخت دشمن ۔
ہانیہ نے گہرا سانس خارج کیا۔ اور خود پے بمشکل کنٹرول کرتی وہ مڑی۔ لیکن پھر جیسے کچھ دماغ میں نٸ بات آٸ۔
بٹے ہوۓ انسان کے ساتھ آپ کمپروماٸز تو کر سکتے ہیں لیکن ۔۔ ساری زندگی اس کے دل میں اپنے لیے جگہ نہیں بنا سکتے۔
کہتےہی وہ باہرنکلتی چلی گٸ۔ وہ ہوا میں تیر چھوڑ آٸ تھی۔ اس نے آگے کیا سوچاہوا تھا۔ وہ اس پے مطمین تھی۔
جبکہ اندر آفس میں کھڑے کبیر کے ماتھے پے بے شمار بل پڑے۔
مطلب۔۔؟؟ وہ کسی اور سے۔۔؟؟ یہ سوچ آتے ہی کبیر کے دماغ کی رگیں تن گٸیں۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ابتسام نے سب کو ہال میں جمع کیا ہوا تھا۔ اور ایک ساتھ ہی سب کو آہان کے نکاح میں بتایا ۔ تو کچھ پل تو سبھی چپ ہوگۓ۔
بھاٸ اسطرح اچانک۔۔؟؟ ارتسام کو کچھ عجیب سا لگا۔ جبکہ ابرش سر جھکاٸے خاموشی سے سب سنتی بنا کوٸ ری اکشن دیٸے بیٹھی رہی۔
اچانک ہے۔۔ یہ میں بھی جانتا ہوں۔ لیکن اس لڑکی سے آہان۔۔ نے ہمدردی میں نکاح کیا ہے۔ میرے کہنے پے۔ اسکا اس دنیا میں کوٸ نہیں۔۔ اسکے فادر کی ڈیتھ ہوگٸ۔ بیچاری اکیلی تھی۔ آہان نے صرف اسے سہارا دینے کے لیے میرے کہنے پے نکاح کیا۔ ابتسام نے سب کی طرف دیکھتے کہا ۔ جبکہ ساری توجہ اپنی بیوی پر تھی۔ اسکے چہرے کے اتار چڑھاٶ پے تھی۔
سب نے ہی ابتسام کی بات پے سر تسلیم خم کیا۔ ۔ سارے فیصلے آج تک وہی کرتے آۓ تھے۔ اور ابی جان نے بھی ہر فیصلہ اسکے سپرد کر دیا تھا۔
ایک بات اور۔۔ آہان کو وہ ابیہان کے نام سے جانتی ہے۔ اور میں چاہتا ہوں۔ کہ آپ سب بھی آہان کو ابیہان ہی کہہ کے پکاریں۔
ابتسام نے سنجیدگی سے کہا۔
شاید۔۔۔ انکا کوٸ اپنا سیکرٹ ورک ہو۔۔۔ لیکن۔۔ اس بار یہ۔۔ گھر والوں کو کیوں اس میں انوالو کر رہے ہیں۔۔؟؟
ابرش کے دماغ میں یہی سوچیں چل رہی تھیں۔ اپنے شوہر کو وہ اچھی طرح سے جانتی تھی۔ ان کا کوٸ بھی اسٹیپ بنا کسی وجہ کے نہیں ہوتا۔
وہ کچھ ہی دیر میں پہنچنے والے ہیں۔ تو آپ انکا اچھے سے استقبال کریں۔
ابتسام آہان سے فون پے بات کرتا اب ان سب کی جانب واپس مڑا۔
تو سب کے چہرے حیرت زدہ رہ گۓ ۔
مطلب وہ ۔۔ابھی آرہے ہیں۔ ۔۔؟؟ عروش نے حیرت سے پوچھا۔
دروازے پے ہونے والی دستک پے سب ہی چونکے۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آپ کی پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے۔ آپ ان سے مل سکتے ہیں۔
ڈاکٹر نے باہر آتے کہا۔ تو کشش نے شکر ادا کیا۔ اور اندر کی طرف بڑھی۔
ہوا کیا اچانک۔۔۔؟؟ میر یامین وہیں کھڑا ڈاکٹر سے پوچھنے لگا۔ جبکہ میر ہادی وہیں ان کے پاس پیچھے کھڑا تھا۔
کچھ خاص نہیں میر صاحب ۔۔ شاید کوٸ سٹریس لیا ہو۔ اب ٹھیک ہیں۔ وہ۔
ڈاکٹر مسکرا کے کہتی آگے بڑھ گٸ۔
سٹریس۔۔۔؟؟؟ میر یامین نے حیرت سے میر ہادی کو دیکھا۔
جبکہ میر ہادی کا چہرہ سپاٹ تھا۔
جاری ہے۔
