Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 15)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 15)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
ہاہاہا ۔۔۔ تم کیا تمہارے افسر میں سے بھی کوٸ سلطان کو چھو نہیں سکتا۔ پہنچنا تو بہت دور کی بات ہے۔
وہ شخص اچھی خاصی مار کھا چکا تھا۔ لیکن اس نے اب تک زبان نہ کھولی تھی۔ آہان نے اسکو ایک مکا جڑا۔
ڈی ٹو!اسے تھرڈ ڈگری چارج کرو۔ خود منہ سے پھوٹے گا۔
تم جو چاہے کر لو۔۔۔۔! سلطان تک تم تو نہیں پہنچو گے۔۔ لیکن وہ بہت جلد تم تک پہنچے گا۔ اور تمہیں چھوڑے گا نہیں ۔۔۔ ! وہ چلایا تھا ۔ لیکن آہان رک نہ تھا۔
آہان اپنا غصہ ضبط کرتاباہر نکلا۔
چارلی دیکھ لو۔۔۔کہیں وہ مر ہی نہ جاۓ ۔۔۔ کل سے دو بار بے ہوش ہو چکا ہے وہ۔
اس کے ایک ساتھی نے آہان کو دھیرے سے کہا۔
نہیں مرتا۔۔۔! اور نہ ہی مرنا چاہیے۔ مجھے ہر حال میں سلطان کا پتہ چاہیے۔ آہان نے سختی سے کہا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کبیر اور اسکے گھر والے آج ہانیہ کو دیکھنے آۓ تھے۔ سبھی نے خوب آٶ بھگت کی۔
آہان وہاں موجود نہ تھا۔ لیکن نور وہیں تھیں۔ وہ یہ سب دیکھ رہی تھی۔ لیکن خاموش تھی۔
بھٸ ہمیں تو آپ کی بیٹی بہت پسند ہے۔۔۔۔ہماری طرف سے تو رشتہ پکا ہی سمجھیں۔
غزالہ سلیمان نے پاس سر جھکاۓ بیٹھی ہانیہ کو پیارکرتے کہا۔ جبکہ کبیر کی شوخ نظروں نے اسکے چہرے کے اتار چڑھاٶ ملاحظہ کیے تھے۔
ابرش نے ابتسام کی طرف ایک نظر دیکھا۔ جبکہ ابتسام کا چہرہ سپاٹ تھا۔
ہمیں کچھ سوچنے کا وقت چاہیے۔۔۔۔ آپ کو جلد ہی جواب دیں گے۔ ابتسام نے جلد بازی نہ کی تھی۔۔ اور ہامی نہ بھری ۔ اور ابرش کو اسکی یہ بات اچھی لگی۔ جبکہ ابتسام رات کو آہان کی بات پے گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
شکر ہے۔ کچھ تو ہوش آیا۔
ردا نے ساتھ بیڈ پے لیٹے اللہ کاشکر ادا کیا ۔ کہ وہ بچ گٸ تھی۔ لیکن اپنے ساتھ دوسرے بیڈ پےلیٹی فضا کو دیکھا۔ جو مسلسل چھت کو گھور رہی تھی۔
فضا۔۔۔؟؟ دونوں ابھی زخموں سے چور تھیں۔ بس ہوش ہی آیا تھا۔ ایک نرس انکی دیکھ بھال کرتی تھی۔ وہ بھی ماسک پہنے۔
جبکہ ان دونوں کے ہاتھ بیڈ کے ساتھ ہتھکڑیوں میں جکڑے تھے۔
ہمممممم۔۔۔ بنا اسکی جانب دیکھے بس اتنی ہی آواز آٸ۔
ہم یہاں سے کب نکلیں گے۔۔ ردا کو اپنی فکر ستاۓ جا رہی تھی۔ اس وقت وہ میر ہادی کوبھی بھول چکی ہے ۔
معلوم نہیں۔۔۔! فضا نے گہرا سانس خارج کرتے کہا ۔
میرا تو ابھی تک جوڑ جوڑ دُکھ رہا ہے۔
ردا نے اسکینجانب کروٹ بدلی۔
یہ لوگ بہت ظالم ہیں۔ نہ ہمیں چھوڑ رہے ہیں۔ نہ کوٸ سوال جواب کر رہے ہیں۔ بس قید کیا ہوا۔۔ نجانے کب تک یونہی قید کیے رکھےیں گے۔ ردا نے پھر سے کروٹ بدلی۔ اسکا درد سے ب بھی برا حال تھا۔ کھانا اب بھی بس اتناملتا تھا۔ کہ وہ زندہ رہ سکیں۔ نجنے وہ ان سے چاہتے کیا تھے۔۔؟؟؟جبکہ فضا وہا ں سے بھاگنے کی پلاننگ کر چکی تھی ۔ بس اسے موقعے کی تلاش تھی۔اور وہاں سے نکل کے وہ کسی طرح بھی ان میں سے کسی کے ہاتھ نہ لگتی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
بات سنیں۔۔۔۔!آنیہ رات کی بانسبت اب کافی بہتر محسوس کر رہی تھی۔ میر ہافی کو تیا رہوتا دیکھ اسکے پاس آن کھڑی ہوٸ۔ میر ہادی نے آٸینے سے ہی اسے نہارا۔
وہ۔۔۔آپ مجھے۔۔ ہاسپٹل چھوڑ دیں گے۔۔۔؟؟ نظریں جھکاٸے کہا۔
آپ کا جانا ضروی ہے کیا۔۔؟ پنے اوپر پرفیوم کا سپرے کتا وہ آنیہ کے حواس معطل کر رہا تھا۔
جی وہ۔۔۔ آج سے ڈیوٹی گاٸنی وارڈ میں ہوگی۔ تو اتنا ٹینشن کی بات نہیں۔ اور ۔۔ارتسام چاچو بھی تو وہیں ہیں۔۔۔!
معصوم سی لڑکی نے معصوم سے تاویل پیش کی ۔
آپ تیا رہوجاٸیں۔ ڈراپ کر دیتا ہوں۔لیکن۔۔۔سیکیورٹی گارڈز آپ کے ساتھ رہیں گے۔ قطعی انداز میں کہتے وہ کوٹ اٹھاتے اسکی طرف رخ پھیرا۔ کہ آنیہ نے آگے بڑھ کے اسے کوٹ پہنایا۔
وہ۔۔۔۔ ہاسپٹل سے باہر ریں گے ناں۔۔؟؟ دھیرے سےمنماٸ۔
ہممممم۔۔۔ اگر ضرورت پڑی تو وہ اندر بھی جا سکتے ہیں۔۔۔۔! لیکن۔۔ سب باتو ں کی ایک بات۔۔۔! آپ کو اپنی حفاظت خود کرنا آنی چاہیے۔ ناکہ کسی پے بھروسہ کرنا چاہیے۔ اسے کندھوں سے تھام کے اپنےمقابل کھڑا کرتا وہ اسے بہت حوصلہ دے گیا تھا۔ ایک پل کو دونوں کی نظروں کا تبادلہ ہوا۔ اور دونوں کا دل ایک ہ تان پے دھڑکا۔
میرا خیال ہے چلنا چاہیے۔۔ دیر ہو رہی ہے۔۔۔! میر ہادی نے نظروں کا زاویہ بدلا۔ تو آنیہ بھی ہوش میں آٸ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
میں ایسے ہی پریشان ہورہی تھی۔ وہ لڑکی تو ابیہان کی بہن نکلی۔ اور ابتو اسکا رشتہ بھی ہو رہا ہے۔ اور مجھے لگا۔۔۔ شاید وہ۔۔۔؟؟ میں بھیکتنی بدھو ہوں۔۔۔
ابیہان ابتسام پیر زادہ۔۔۔ صرف میرا ہے۔۔۔! میرے ساتھ نکاح کےبندھن میں ہے۔
کیسا نکاح۔۔۔؟؟؟ دل کے اندر سے آواز آٸ تو دل نے دھڑکنا ہی بند کر دیا۔
وہ نکاح جسے ابیہان مانتا ہی نہیں۔۔! اور بہت جلد کام پورا ہوتےہی تمہیں چھوڑ دے گا۔۔۔
اب کی بار ضمیر کی عدالت میں کھڑی ہوگٸ۔
ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔جن حالات میں بھی نکاح ہوا ہو۔۔وہ میرے شوہر ہیں۔ او انہیں مجھ سے کوٸ نہیں چھین سکتا۔۔۔ وہ خود بھی نہیں۔۔۔
بے چینیسے ٹہلتے ہوۓ اپنے سوالوں کے خود ہی جواب دینے لگی۔
لیکن۔۔۔ جب اسے تمہار ی ساری سچاٸ پتہ چلے گی۔ تب۔۔؟؟ وہ کیا تمہیں معاف کرے گا۔۔۔؟؟
اس بات پے تو وہ بالکل ہی چپ رہ گٸ۔
شاید نہیں۔۔۔ لیکن۔۔ تب تک۔۔ میں اسے خود سے محبت کرنےپے مجبور کر دوں گی۔ کہ وہ میرے بنا رہ ہی نہں سکے گا۔
ابھی وہ سوچوں کا تانا بانا بن رہی تھی۔ کہ آہان روم۔میں داخل ہوا۔ نور بھاگتے ہوۓ اسکے سینے سے جالگی۔ اور رو دی۔
آہان کو اسکی یہ حرکت سمجھ ہی نہ آٸ۔ کہ اسے اچانک ہوا کیا ہے۔ لیکن اسکا یوں گلے لگنا اسے ایک آنکھ نہ بھایا۔ اور اسے بازو سے پکڑ کے پیچھے کی طرف جھٹکا۔
کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔؟؟ وہ غصہ ضبط کرتے بولا تھا۔
بیوی ۔۔ہوں آپ کی۔۔۔ حق ہے آپ پے میرا۔ ۔۔! آپ کیوں خود سے دور کرتے ہو مجھے۔۔۔؟؟ وہ روتے روتے بولی تھی۔
کیا مطلب اس بات کا۔۔۔؟؟ کیاکہے جارہی ہیں۔۔؟؟ ہوش میں تو ہیں۔۔۔؟؟ آہان کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔ اس بات پے۔
وہ دھیرے دھیرے چلتے اسکے پاس آٸ۔
بیوی ہوں۔۔ تو بیوی والے حقوق بھی چاہیں مجھے۔ اور وہ بھی آج۔۔۔!
اپنی بات پے زور دیتےکہتی وہ آہان کو شدید طیش دلا گٸ۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ ! اگر میں لحاظ کر رہا ہوں تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں۔۔ کہ میں نےآپ کو بیوی مان لیا ۔ اپنی لمٹس میں رہیں آپ۔۔ ورنہ مجھے سخت قدم اٹھانا بھی آتا ہے۔
مجھ سے دوری کی وجہ۔۔۔ وہ لڑکی تو نہیں۔۔۔؟؟ جو کل۔۔۔؟ نور کے اندر جیلس پن بولا۔
ہانیہ کے زکر پے آہان کی دماغ کی رگیں تن گٸ تھیں۔ اور ہانیہ جو دروزاے تک پہنچی تھی۔ آہان کی بات منتظر تھی۔ کہ وہ کیا جواب دیتا ہے
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ہاسپٹل کا ٹف ٹاٸم گزار کے وہ ڈراٸیور اور گارڈز کے ساتھ گھر آگٸ تھی۔ روم میں انٹر ہوتے اسکا دل عجیب سا ہوا۔ لیکن کیابات اسے پریشان کر رہی تھی۔ وہ نہ سمجھ سکی۔ شاور لیتی وہ باہر کشش کے پاس جا بیٹھی ۔ ان سے باتیں کرتے وقت کا احساس ہی نہ ہوا۔
میر یامین اور میر ہادی ایک ساتھ اندر داخل ہوۓ۔
کشش انہیں دیکھتے مسکراٸیں۔ تو وہیں میر ہادی اور آنیہ کی نظریں بھی ٹکراٸیں۔
ایک نیوز ہے۔۔ میم آپ کے لیے۔۔
یامین سکندر اکثر کشش کو میم کہہ کے پکارتا تھا۔
اچھا وہ کیا۔۔۔؟؟ کشش ہمہ تن گوش ہوٸ۔
داو او کرن آرہے ہیں نیکسٹ ویک۔۔۔ اپنے بچوں کے ساتھ۔
رٸیلی۔۔۔۔؟؟؟ ہاٶ۔۔۔ کیوٹ۔۔۔! کتنے عرصے بعد سب کو دیکھنے کا موقع ملے گا۔۔۔وہ تو باہر جا کے ہمیں بھول ہی گۓ تھے۔ کشش نے اداس ہوتے کہا۔
لیکن ۔۔ شاید اب وہ ہمیشہ کے لیے آرہے ہیں۔۔۔! یامین سوچتے ہوۓ بولا۔
یہ تو اور اچھی بات ہے۔۔۔! کشش اور زیادہ خوش ہوٸ۔
ملازم یا مین کے لیے چاۓ لے آیا۔ جبکہ میر ہادی آتے ہی کھانا کھاتا تھا۔ اس نے چاۓ نہیں لی۔
بیمو۔۔۔! کھانا لگا دو۔۔۔ میں آرہی ہوں۔۔ ! اور ہاں۔۔ دادا جی پرہیزی کھانا کھا چکے ہیں۔ انہیں دودھ کا گلاس لازمی دیجیے گا۔
ملازم کو ہدایت کرتی وہ اب میر ہادی کی طرف مڑی تھی۔
بیٹا۔۔! آپ فریش ہوجاٸیں۔ پھر کھانا کھاتے ہیں۔
کشش کے کہنے پے میر ہادی سر اثبات میں ہلاتا اٹھا۔
آپ۔۔۔۔زرا روم میں آٸیں۔ دھیرے سے آنیہ کے کان میں کہتا وہ اٹھتا روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
آنیہ کا تو دل ہی دھڑک اٹھا ۔
می ہافی کے پیچھےآتے وہ سوچوں میں گم تھی۔ کہ آخر کیوں بلایا۔۔ایسے۔۔۔۔؟؟
جی۔۔۔۔؟؟ روم میں آتےہی بہت سادہ انداز میں دریافت کیا۔
آپ کا موباٸل کہاں ہے۔۔۔؟؟ ماتھےپے بل ڈالے پوچھا۔
مجھے۔۔۔ مجھےنہیں پتہ۔۔۔؟ کل آپ کو دیا تھا۔۔۔!اس کے بعد سے۔۔ دیکھا نہیں۔۔۔! آنیہ سوچتے ہوۓ بولی تھی۔
میر ہادی نے آگے بڑھ کے دراز سے موباٸل نکال اس کے سامنے کیا تھا۔
ایک بار آپ دیکھ لیتیں تو۔۔ یہ نوبت نہ آتی۔۔۔ آپ کو پتہ ہے۔۔ کتنیکالز کیں میں نے آج۔۔۔۔! کتنا پریشان ہوگیا تھا۔ آپ کے ہاپٹل کا نمبر بھی نہیں تھا پاس۔کہ وہاں سے آپ کی خیریت پوچھ لیتا ۔ میر ہای غصہ میں بھی دھیمی آواز میں ہی بول رہا تھا۔ جبکہ آواز میں سختی واضح تھی۔
ایم سوری۔۔۔۔! میں نے دیکھا نہیں۔۔۔ صبح۔ ورنہ۔۔ ساتھ لے کے جاتی۔ آنیہ منمناٸ۔
جب۔۔ کہیں سے پتہ نہیں چلا۔ تو ۔۔۔ آپ کے ہاسپٹل آیا تھا۔ دھیرے سے کہتے وہ چلتا ہوا اسکے قریب آیا۔
سیریسلی۔۔۔۔؟؟ آپ ہاپسٹل آۓ تھے۔ اور مجھ سےلے بھی نہیں۔۔۔؟؟؟ آنیہ کو دیکھ ہوا ۔
کیا لنا چاہیے تھا۔۔۔؟؟ جبکہ آپ۔۔۔ شاید کسی سے میٹنگ میں مصروف تھیں۔ میر ہادی نے اب کی بار طنز کیا۔
میٹنگ۔۔۔؟؟ آنیہ یاد کرنے لگی۔ پھر اسے جلد ہی یاد آیا۔ وہ ڈاکٹر فرحان سے کوٸ کیس ڈسکس کر رہی تھی۔
اوہ۔۔ہاں۔۔۔! لیکن۔۔۔ وہ میٹنگ آپ سے زیادہ ضروری نہیں تھی۔ میر ہادی۔۔۔! آپ ۔۔ سب سے زیادہ ضروری ہیں۔
اپنی رو میں وہ رونی سے بولتی چلی گٸ۔ جبکہ اسکے الفاظ پے میر ہادی دل پے ہاتھ رکھے اسے دیکھے گیا۔
اپنے کہے الفاظ کا احساس ہوا۔ تو فوراً سے پلکیں بھاری ہوٸیں۔
وہ۔۔۔وہ۔۔میں۔۔۔؟؟ آنیہ سے بات نہ بن پاٸ۔
آپ بھی اتنا ہی ضروری ہیں۔ میرے لیے۔۔ جتنا یہ سانسیں۔۔۔! کہتے ہی میر ہادی نے آنیہ کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے خود سے قریب کیا۔ کہ آنیہ لرز ہی گٸ۔
وہ میر ہافی سے ایسی قربت کی خواہمشند تو تھی۔ لیکن۔۔۔امید نہ تھی۔
میر۔۔۔۔؟؟ اسکی طرف بمشکل دیکھتے وہ زیرِ لب کہتے آنکھیں موند گٸ۔
جبکہ میر ہادی سے اپنے جذبات آج قابو میں نہیں رہے تھے۔ اور دھیرے سے سامنے کھڑی اس مومی گڑیا کے چہرے پے جھکا ۔
کہ دروازے کی ناک پے ٹھٹھکتا منہ بنا گیا ۔
آنیہ نے آنکھیں کھولیں ۔ جبکہ میر ہادی کو ابھی بھی اپنے چہرے کے ساتھ چہرے جوڑے دیکھ پھر سے بے قابو ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالنے لگی۔
دروازے پے پھر سے ناک ہوٸ۔
باہر۔۔۔ کوٸ۔۔۔؟؟ آنیہنے دروازے کی طرف اشارہ کیا ۔
لیکن میر ہافی اپنی پیا بجھاتا ہی پیچھے ہٹا تھا۔
ایوری ڈے از ناٹ سنڈے۔۔۔۔!ایک آنکھ ونک کرتا پیچھے ہوتا۔ وہ آنیہ کے ہرے پے کھتا گلال دیکھ چکا تھا۔
ملازمہ کھانے کے لیے کہنے آٸ تھی۔ دونوں آگے پیچھے دل کو سنبھالتے باہر نکلے تھے۔ جبکہ آج میر ہافی کی نظروں کا مفہوم ہی بدلا ہوا تھا۔ اور دل تھا کہدھڑک دھڑک کے اسکیجان نکال رہا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
چپ۔۔۔۔! ایک دم چپ۔۔۔! اور خبردار۔۔ اس گھر کے کسی بھی فرد کے متعلق کچھ بھی کہا ہو تو۔۔۔! میں لحاظ نہیں کروں گا۔ چار دن بعد دو تاریخ آجاۓ گی۔ اپنی بات پے قاٸم رہنا۔ سمجھیں آپ۔
آہان غصہ ضبط کرتا جیسے ہی باہر نکلا۔ منہ کے آگےکھڑی ہنیہ سے ٹکرایا۔
تمہیں سکون نہیں۔۔ اپنے کمرے میں۔۔؟؟ دانت پیستا وہ اسے یوں چھپ کے باتیں سنتا دیکھ بھڑکا تھا۔
نہیں۔۔۔! پہلی بار وہ دل سے مسکراٸ تھی۔
آہان نفی میں سر ہلاتا وہاں سے واک آٶٹ کرتا نیچے اترے گیا۔
ارے بات تو سنو۔۔۔! تم سے۔۔ کچھ کہنا تھا۔ وہ بھی پیچھے لپکی۔
جبکہ نیچے پہنچتےہی اپنےکمرے میں داخل ہوتے ہی زور سے ہانیہ کے منہ پے دروازہ بند کیا تھا۔ کہ وہ ایکدم پیچھےہٹی۔
کھڑوس۔۔ نک چڑا۔۔۔۔! دروازہ کھولو۔۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔؟؟
ورنہ۔۔کیا۔۔۔؟؟ ہانیہ خود سےسوچنےلگی۔ کیا دھمکی دوں اسے۔۔۔؟؟
ہاں۔۔۔۔؟؟؟؟
دروازہ کھولو۔۔۔ کھڑوس انسان۔۔۔۔! ورنہ سب کو بتا دوں گی۔۔ تم اپنی بیوی کے ساتھ۔۔۔!
ابھی اس کے الفاظ پورے نہ ہوۓ تھے۔ کہ آہان نے دروازے کھولتے اسے اندر کیا ۔ اور جھٹ سے پھر سےبند کر دیا۔ جبکہ اوپر سے دیکھتی نور کے تن بدن میں آگ لگ گٸ۔
کیا بول رہی تھی۔۔۔؟؟ کیا میں اپنی بیوی کے ساتھ۔۔۔؟ اسے دروازے کے ساتھ پن کیے وہ اسکے بہت قریب کھڑا ہوتا پھنکارا تھا ۔
یہی۔۔۔کہ۔۔ت م۔۔۔ اپنی۔۔بیوی کو۔۔اوپر۔۔۔ کمرے میں۔۔اکیلا۔۔ چھوڑ کے نیچے۔۔ ہوتے ہو۔اور۔۔ اس لڑکی سے شادی۔۔۔ کے پیچھے تمہارا کیا مقصد ہے۔۔ اگر بتا دو گے تو۔۔ تمہارا راز راز رکھوں گی ۔ پکا پرامس۔
آہان کو وہ تڑیاں لگاتی اس وقت انتہاٸ زہر لگ رہی تھی۔
اور اگر نہ بتاٶں تو۔۔۔؟؟ اسکے بالوں کو مٹھی میں لیتے وہ سرد لہجے میں بولا۔
پھر۔۔۔ اس لڑکی کو تمہاری سچاٸ بتا دوں گی ۔ تم اسے بے وقوف بنا رہے ہو۔ تم اس سے پیار نہیں کرتے۔۔۔!
ہانیہ بنا کچھ بھی سوچے سمجھے بس بولے جا رہی تھی۔
وہ جانتی ہے۔ وہ اسکے بہت قریب ہو چکا تھا۔ ہانیہ نے دانت پیستے اسے خود سے پرے دھکیلا ۔ وہ بھی پیچھے ہٹ گیا ۔
زیادہ فری مت ہو۔۔۔ اور مجھے بتاٶ۔۔۔ کہ کون ہے وہ لڑکی۔ جسے تم ہمارے گھر میں لے کے آۓ ہو۔ اب کی بار وہ سختی سے بولی۔
تمہارا گھر۔۔۔؟؟ اوہ۔۔رٸیلی۔۔۔؟؟؟
آہان نے مذاق بنایا۔ ہانیہ کےماتھے پے بل پڑے۔
ایک سرپراٸز ہے تمہرے لیے۔ وہ ڈرسنگ پےبیٹھتا اب کی بار اسے چڑانے کے فل موڈ میں تھا۔
ڈیڈ نے اس لنگور آٸ مین۔۔۔کبیر کے گھر والوں کوتمہارے رشتے کے لیے ہاں کر دی ہے۔۔۔۔! کانگریٹس۔۔۔!
آہان کی بات پے ہانیہ کا میٹر ہی گھوم گیا۔
بکواس بند کرو۔۔۔اپنی۔۔۔! میں کبھی اس سے شادی نہیں کروں گی۔ اس نے انگلی اٹھا کے وارن کیا۔
All the best for your mission impossible.
And now get lost.
اپنی جگہ سے اٹھتے وہ دھاڑا تھا ۔ ہانیہ نفرت سے اس سے منہ پھیرتی باہر نکل گٸ تھی۔ اب کی بار اسکا رخ ماں کے کمرے کی طرف تھا۔ وہ جانتی تھی۔ ابتسام ڈیڈ آج گھر نہیں۔ اسے ماں کو اپنی طرف کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ وہ بھی سنہرا موقع۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
مما۔۔۔! آپ ڈیڈ سے کہہ دیں۔ مجھے اس لنگور سے شای نہیں کرنی۔
آج ہی ہانیہ کو پتہ چلا تھا۔ کہ اس کے ڈیڈ نے اسکے رشتے کے لیے ہاں کر دی تھی۔ وہ آپے سے باہر ہورہی تھی۔
کیا مطلب۔۔؟؟ کیوں نہیں کرنی۔۔؟؟ ابرش کو اسکی خود سری پھے بے انتہا غصہ آیا۔
مما۔۔۔۔! میں۔۔۔ نہیں کرنا چاہتی۔۔اس سے شادی۔۔ اسلیے۔۔۔! ہانیہ بے بسی سے بولیم
کیا۔۔۔؟؟ تم۔۔کسی اور سے۔۔۔۔؟؟ کسی ڈر کے تحت ابرش نے پوچھا۔
ہانیہ کو جان چھڑانے کا موقع مل گیا ۔
اور سر جھکایا۔
جی مما۔۔۔! بہت مکینی صورت بناٸ۔ ابرش نے خود پے قابو رکھتے گہرا سانس خارج کیا۔
کون ہے وہ۔۔۔؟؟ جبکہ اپنی آواز بھی آج اجنبی لگ رہی تھی۔
یونی فیلو ہے۔۔۔! ابھی بھی دھیرے سے جواب آیا ۔
نام۔۔۔؟؟ ابرش اس سے ابھی تفتیشی انداز میں سوال کر رہی تھی ۔
وہاج۔۔۔۔! مما وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ نیک اور شریف۔۔۔ بس۔۔ ایک چیز کی کمی ہے۔ کہتےکہتے منہ بناتے اداسی سے بولی۔
کیا۔۔۔؟؟ وہ جو اسے ہی سن رہی تھیں۔ اسکے اٹکنے پے چونکیں۔
وہ ہمارے اسٹینڈرڈ کا نہیں ہے۔۔۔ مطلب۔۔۔امیر نہیں ہے۔۔۔
ہانیہ کے دکھی انداز میں کہنے پے ابرش نے نفی میں سر ہلایا ۔
وہ۔۔ کچھ بننا چاہتا ہے۔۔۔اپنے پیروں پے کھڑا ہون چاہتا ہے۔۔ پھر ہی میرے لیے ڈیڈ سے۔۔۔؟؟ بات ۔۔کرے۔۔گا۔۔۔
آخری الفاظ اٹک اٹک کے بولے۔ ابرش کی گھوری نے اسے ڈرا دیا تھا۔
اسے کہو ۔ کل مجھے آفس میں آکے ملے۔
ابش نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔
سچ مما۔۔۔؟؟ مطلب۔۔ اس لنگور۔۔۔ آٸ مین۔۔۔ اس کبیر سے میری جان چھوٹ جاۓ گی۔
اسکے چہطہانے پے ابش نے اسے پھر گھوری سے نوازا۔
اوہ۔۔۔ تھینک یو مما۔۔۔! یو آر سو سویٹ۔۔۔ ہانیہ نے ابرش ک گلے سے لگایا۔
ہانی۔۔۔! کوٸ بھی فیصلہ کرنے سے پہلے میں اس سے ملوں گی۔ اگر وہ مجھے اچھا لگا۔ تو آپ کے ڈیڈ سے بات کروں گی۔
اور میں جانتی ہوں۔۔ڈیڈ اپنی جند جان کی بات کبھی نہیں ٹالیں گے۔
ہانیہ روانی میں بولتی چلی گٸ۔ ابرش کے تنبیہہ انداز میں دیکھنے پے وہ سوری کرتی باہر نکل گٸ۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
اپنی زندگی کو میرہادی کے سنگ شروع کرنے پے وہ بہت خوش تھی۔ میر ہادی جتنا پولاٸٹ تھا ۔ اس کے لیے اسکی محبت نچھاور کرنے کا ہر انداز اسے بھایا تھا ۔
وہ خود کو خوش قسمت لڑکی تصور کرنے لگی تھی۔
آنے والے وقت سے بے خبر وہ اپنی آج کی حسین صبح کو اپنے شوہر کے میر ولا کےگارڈن میں ایک ساتھ واک کرتے جی رہی تھی ۔ میر ہادی نے اسکا ہاتھ تھام رکھا تھا ۔
آج آپ کچھ زیاہ نہیں شرما رہیں۔۔۔؟؟ میر ہادی نے اسکے چہرے کے گلابی پن کو دیکھا۔ جس پے اسکی محبتوں کا رنگ کچھ الگ انداز میں ہی چڑھا تھا۔
نہیں تو۔۔۔۔۔! کیوں۔۔؟ آنیہ اگنور کر گٸ۔
میرِ آن۔۔۔! میرے پاس آپ کے لیے ایک سرپراٸز ہے۔ میر ہادی کو کچھ یاد آیا تو جھٹ سے بولا۔
کیسا سرپراٸز۔ ۔۔؟؟ وہ پرشوق انداز سے اسکی طرف متوجہ ہوٸ۔
ہم۔۔ہنی مون پے جا رہے ہیں ۔ دبٸ۔
میر ہادی کےبتانے پے آنیہ کے چہرے کی رونق ایک دم ماند پڑی۔
کیا ہوا۔۔؟ سرپراٸز پسند نہیں آیا۔۔۔؟؟
ایسی۔۔۔ بات نہیں۔! کب جانا ہے۔۔؟؟ اب کے بار دھیرے سے پوچھا ۔
دو دن بعد۔۔ فلاٸیٹ ہے۔ میر ہادی اسکے چہرے کے اتار چڑھاٶ نوٹ کر رہا تھا۔
اتنی جلدی۔۔۔؟؟ آنیہ پریشان ہوٸ۔
کوٸ ایشو ہے کیا۔۔؟؟ میر ہادی کو اسکا منع کرنا پسند نہ آیا۔
وہ۔۔میری ڈیوٹی ان دنوں گاٸنی وارڈ میں لگی ہے ۔ ایک ہفتے تک کے لیے تو میں وہاں سے ایک چھٹی بھی نہیں لے سکتی۔ بہت مشکل۔ہوجاۓ گا۔۔۔ کیا کروں میں۔۔؟؟ آنیہ کے چہرے پے پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ جو میر ہادی کو بالکل نہ بھاۓ۔
کب جانا چاہتی ہیں آپ۔۔؟؟ میر ہادی کی بات پے وہ چونکی۔
ایک ہفتے بعد چلیں۔۔۔؟؟ آنیہ نے اسکے کندھے پے ہاتھ رکھتے لاڈ سے پوچھا۔
اوکے۔۔۔ جیسے آ پ کی خوشی ۔
میر ہادی نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔ اور اندر کی طرف بڑھا۔ جبکہ دور اوپر اپنے روم سے کشش انہیں یوں ہنستا مسکراتا دیکھ بے انتہا خوش تھی ۔
اور آج ہی انکی نظر اتارنےکا سوچتی وہ ونڈو سے دور ہٹی تھی۔
