Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Haq e Wirasat (Episode 02)

Mera Haq e Wirasat  by Muntaha Chohan

💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘
💘

تمہیں کیالگا۔۔۔۔؟؟ تم۔۔۔ گناہ پے گناہ کرتے جاٶ گے۔۔؟؟ اور سپاۓ گرل تمہیں معاف کر دے گی۔۔۔؟؟

ماسک پہنے وہ سامنے والے پے وار پے وار کیے جا رہی تھی۔ اور وہ موت کے منہ میں جا چکا تھا۔ لیکن سپاۓ گرل کا دل ہی نہیں بھر رہا تھا۔ اسے چھوڑنے کا۔

لڑکیوں کو محبت کے جھوٹے جال میں پھسا کے کتنی لڑکیوں کی عزت پامال کر چکا تھا۔ آج وہ سپاۓ گرل کے ہاتھ چڑھ گیا تھا۔ ار اب اسکی موت یقینی تھی۔

وہ بے رحم, سفاک, نڈر اور موت کی سوداگر تھی۔

اسکا آخری وار موت ہی ہوتا تھا۔

اسکی گردن پے وارکرتی مروڑ کے ایک طرف کو چھوڑ دی تھی۔ وہ مر چکا تھا۔ اور سپاۓ گرل کےاندر ایک ٹھنڈ سی پڑگٸ تھی۔ ایک سکون اترا تھا۔ اب اسے ہوٹل سے نکلنا تھا۔ اور وہ اسکے باٸیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ وہ بچ بچا کے وہاں سے نکل آٸ تھی۔

لیکن۔۔ہاۓ رے قسمت۔۔۔ ایک بار وہ شخص پھر سے اسکی راہ میں حاٸل ہوا۔ اسے گردن سے پکڑ دیوار کے ساتھ لگاتے وہ اسے لب بھینچنے پے مجبور کر گیا۔

پولیس وین وہاں پہنچ چکی تھی۔ ہوٹل میں ویٹر نے جیسے ہی ایک کھلے فروازے سے اندر پڑے شخص کو یکھا اس نے شور مچا دیا پولیس کو فون کرتے ہی وہاں بھاری نفری پہنچ گٸ تھی۔

گیدڑ کا شکار کرتی یہ شیرنی تو ہو ہی نہیں سکتی۔۔ اسکے ماسک کے پیچھے چھپے چہرے کو جانچتے وہ معنی خیزی سے بولا ۔ کہ ماسک کے پیچھے وہ حسینہ بری طرح اپنے غصہ پے ضبط کرتی سمنے کھڑے شخص کو ایک ہی جست میں دھکا دیتی پیچھے ہٹا چکی تھی۔ اور خود دور ہوتی زرا کی زرا وہ مڑی تھی۔

شیرنی ہمیشہ شکار کرنا جانتی ہے۔۔ پھر سامنے گیدڑ ہو یا شیر۔۔۔! شیرنی کو فرق نہیں پڑتا۔

کہتے ہی وہ جھپاک سے غاٸب ہوگٸ۔ وہ اٹھا۔ اور کپڑے جھاڑے نفیمیں سر ہلاتا منہ پے ڈالا کال کپڑا صحیح کیا۔ اور خود بھی وہاں سے غاٸب ہوگیا۔

💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫

اگلی صبح کشش کا فون آتے دیکھ ابر چونکی۔ ناشتے کی ٹیبل سے اٹھتے اس نے کال رسیو کی۔ ابتسام کی نظروں نے دیر تک اسکا تعاقب کیا۔ کبھی وہ مسکراتی کبھی ماتھے پے بل لے آتی۔ ابتسام کو اسکی مسکراہٹ آج بھی دل کے پار ہوتی تھی۔

وہ۔۔کشش۔۔۔! چاہتی ہیں۔۔ کہ آنیہ۔۔ ان کے ساتھ شاپنگ پے چلے۔ اور اپنی مرضی سے اپنے نکاح کے کپڑے وغیرہ لے لے۔

ابرش نے وہیں موجود سب کے سامنے بات رکھی۔

ابی جان سوچ میں پڑ گٸیں۔

جبکہ آنیہ کا دل پھر سے دھڑکنے لگا۔

کل صرف اسکی آواز ہی سنی تھی۔۔ دیکھنےکی تو ہمت ہی نہ پڑی تھی۔

مما۔۔۔! آج۔۔ پریکٹس۔۔۔ہے۔۔۔؟؟ تو۔۔۔؟؟ آنیہ منمناٸ۔

کوٸ بات نہیں۔۔ کل چلی جاٸے گا۔۔۔ ابتسام نے اسکی مشکل حل کی۔

لیکن۔۔۔ میں ہاں۔۔کر چکی ہوں۔۔ تو۔۔ بیٹا۔۔ آپ ٹاٸم نکال لیں۔

ابرش نے دونوں باپ بیٹی کی بات میں حصہ ڈالا۔ لیکن کسی کی سمت دیکھا نہیں۔

آنیہ نے منہ بناتے باپ کو دیکھا۔ جبکہ ہانیہ بھرپور انداز سے اس سب کو انجواۓ کر رہی تھی۔

ابتسام نے آنکھوں کےاشارے سے اسے چپ رہنے کو کہا۔

کچھ زیادہ جلد باز نہیں۔۔۔؟؟ آپ کی دوست۔۔۔؟؟ ابتسام نے جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے کن اکھیوں سے ابرش کو دیکھا۔

وت رہتے سارے معاملے حل ہو جاٸیں تو اچھ بات ہوتی ہے۔۔ ورنہ۔۔ کب کہا ں کونسا معاملہ بگڑ جاۓ۔۔ کیا پتہ چلتا ہے۔۔۔؟ کہتے وہ عجلت سے اٹھی اور بیگ سنبھالتی باہر کی راہ لی۔ آج اسکا ایک اہم کیس تھا ۔ اور اسے جلی جانا تھا۔

کیونکہ وہ عام عورت نہیں تھی۔

وہ ابتسام پیر زادہ کی بیوی تھیں۔ تو وہ ایڈوو کیٹ ابرش مجیب شمس کے نام سے جانی چاہتی تھی۔

اس نے اپنا سر نیم نہیں چینج کیا تھا۔ وہ باپ کے نام سے ہی جانی جاتی تھی۔

ابرش کے جانے کے بعد ابتسام نے ناشتے سے ہاتھ روک لیا۔

ابرش کے جانے کے بعد وہ بھی خوشی سے اٹھ کے جا چکا تھا۔ جبکہ آنیہ اور ہانیہ ماں باپ کی سرد جنگ بچپن سے دیکھتی آ رہی تھیں۔ سبھی انکو یوں لفظوں کی بوچھاڑ کرتے دیکھتے تھے۔ لیکن کوٸ کچھ نہیں کہتا تھا۔

ہانیہ یونی ساتھ چلنا یا۔۔۔؟؟ سیف نے اٹھتے ہوۓ پوچھا۔ وہ اور ہانیہ ایک ہی کلاس میں تھے۔

نہیں۔۔تم جاٶ۔۔۔ میں آجاٶں گی۔ ہانیہ نے سہولت سے انکار کر دیا۔ سیف سر ہلاتا جا چکا تھا۔

جبکہ سیف کی نانو جو شوہر کی وفات کے بعد کافی عرصہ سے یہاں آکے رہ رہی تھیں۔ انہیں یہ بات ایک اکھ نہ بھاٸ۔

کیا تھا۔۔۔؟؟ ساتھ چلی جاتی۔۔۔؟؟ لیکن۔۔ میں نے دیکھا ہے۔۔۔ تمہارے جیٹھ اور جیٹھانی نے اپنی بچیوں کو بہت ہی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ان کے ساتھ لڑکیوں والا سلوک نہیں بلکہ لڑکوں والا سلوک کیا جاتا ہے۔ جیسے وہ بھی لڑکے ہیں۔ ہونہہ۔۔۔۔

منہ بنا کے وہ بیٹی سے دل کا حال کہنے لگیں۔

اماں پلیز۔۔۔ ! چپ کر جاٸیں۔ عروش نے انہیں چپ کروایا۔ اور خود وہاں سے اٹھ گٸ۔

لیکن زلیخا بیگم کے دماغ نے شیطانی باتیں سوچنا نہ چھوڑیں۔

💫
💫
💫
💫

اَلسَلامُ عَلَيْكُم ،،،،،

بار بار آواز کی بازگشت ہوتی جا رہی تھی۔

میر ہادی چاہ کے بھی اس پری پیکر چہرہ کو بھلا نہیں پا رہا تھا۔ وہ کوٸ بہت بڑا دل پھینک بندہ نہ تھا۔ اسے تو یہ محبت عشق پیار۔۔ سب ایک فضول قدم کی چیزیں لگتی تھیں۔ اور اپنے سرکل میں وہ باپ سے بھی زیادہ کھڑوس گردانا جاتا تھا۔ اور اس نے اپنی زندگی میں کبھی محبتکا چپٹر کھولنےکا سوچا بھی نہ تھا۔ اسی لیے ماں کے کہنے پے سر تسلیمِ خم کر دیا۔

لیکن اب۔۔۔ وہ مسلسل اسی کے بارے میں سوچتا ہ بھی بھول گیا تھا۔ کہ اسکی فارن کلاٸنڈ زسے آج میٹنگ ہے۔ سیکرٹری کی یاد دہانی پے اس نے خود کو سرزنش کیا۔ اور اسکاخیال دماغ سے جھٹکتا میٹنگ کے لیےنکل گیا۔ لیکن خیال دماغ میں ہوتا تو نکلتا ناں۔۔۔؟؟ خیال تو دل میں تھا۔۔۔ اور دل میں پنپنے والا خیال ہمیشہ کے لیے دل میں پیوست ہو جاتا ہے۔

❤
💫
💫
💫
💫
💫
❤

بیٹا۔۔۔! اس جمعہ کو نکاح ہے۔ اور آپ کا ہونا لازمی ہے۔ بس اتنا سمجھ لیں۔ ابتسام نے فون پے آہان کو اطلاع دیتے کہا ۔ آگے سے جی حضوری کے ساتھ کال بندہو گٸ تھی ۔

چیٸر کے ساتھ ٹیک لگاۓ وہ ماضی کی یادوں میں کھونے لگا۔

آپ اسے کہاں سے لے کے آۓ ہیں۔۔؟ ابتسام ۔۔؟؟ ابی جان کی آواز پے وہ مچلا تھا۔

ابیجان۔۔۔! بیٹا ہے یہ میرا۔۔۔! اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گا۔ تین سال کا وہ بچہ ابتسام کا ہاتھ تھامے سہمے انداز میں کھڑا تھا۔ جبکہ سمنے کھڑی ابرش کی آنکھو ں میں نمی اور شکوہ وہ دیکھ چکا تھا ۔

اسکی ماں بی تو ہوگی کوٸ۔۔۔؟؟ ابیجان نے سختی سے دریافت کیا ۔

جی ہے۔۔۔! ابرش ہے۔۔۔! ابتسام کے کہنے پے ابرش نے لب بھینچے رخ موڑا اور وہاں سے چلی گٸ۔

اس نے ابتسام سے کوٸ سوال جواب نہ کیا تھا۔ لیکن اس نے آہان کو اپنایا بھی نہ تھا۔

اسکی ہر ضرورت کا خیال رکھتی ۔۔لیکن اسے ماں کا پیار نہ دے سکی۔

وہ دوری آج تک قاٸم تھی۔ شادی کے پانچ سالوں بعد ہھی ان کے بیچ آہان نامی دراڑ آگٸ تھی۔ جو آج تک قاٸم تھی۔

سر۔۔مس شگفتہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔۔۔! سیکرٹری کے دستک دے کے اندر آنے پے وہ چونکا۔

یہ عورت پھر آگٸ۔

ٹھیک ہے۔ بھیج دو۔۔۔!ماتھے پے پھر سے بل نمایاں وۓ تھے۔

💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫

آنٹی۔۔۔! جو آپ کو مناسب لگے۔۔ آپ لے لیں۔ آنیہ نے کشش سے منمناتےکہا۔

جو ڈھیر سارے ڈریسز کھلوا کے دیکھ رہی تھی۔ اور اسے پسند کرنے کا کہہ رہی تھی۔ جبکہ وہ ان سب سے کوسوں دور تھی۔ صرف ماں کی خوشی کیخاطر وہ یہاں تھی۔

بیٹا۔۔۔ جی۔۔! پہننا آپ نے۔۔ ہے۔۔آپ پسند کریں۔ کشش نے مسکرا کے کہا۔ تو آنیہ بس مسکا ہی سکی۔

یہ دیکھو۔۔ کتنا پیارا ہے۔۔!

راٸل بلو کلر کا کٹ ورک کام والا لانگ فراک جسکی ل آستینیں تھیں ۔ نہایت ہی خوبصورت تھا ۔

واٶ۔۔۔! آنٹی ۔۔یہ تو واقعی بہت خوبصورت ہے۔ آنیہنے بھی دل سے تعریف کی۔

بس یہ پیک کر والیتےہیں۔ اور کونسا پسند ہے۔۔؟ کہتے ہی پھر سے اور سوٹ دیکھنے لگیں۔

نہیں آنٹی۔۔! ایک بہت ہے۔ اور نکاح پے تو ایک ہی پہننا ہے ناں۔۔! آنیہ نے سہولت سے منع کرنا چاہا ۔ جبکہ کشش کہاں سننے والی تھی۔ نہ نہ کرتے بی پانچ ہیوی اور تین لاٸیٹ سے ڈریسز دلوا دیٸے۔

اب شوز شاپ وہ ہیل پہن پہن کے کشش کو دکھا رہی تھی۔ پھر بہت مشکل سے دو ہیل شوز پسند کرتی اب وہ جیولری شاپ پے تھیں۔

گولڈ اینڈ ڈاٸمنڈ کا سیٹ اور چوڑیاں اور کنگن بنوانے کے لیے تو دے دیے تھے۔ لیکن وہ پھر بھی ایک چھوٹا سا گولڈ سیٹ اپنی طرف سے اسے تحفے میں دینا چاہتی تھی۔ اور اس وقت وہ بہت اچھے سے یامین کے کریڈٹ کارڈ کا استعمال کر رہی تھی۔ بے دریغ۔

ایک گولڈ لاکٹ سیٹ پیک کروا کے وہ بی سامان میں رکھتے اب گاڑی کی طرف واپس مڑیں تھیں۔ آنیہ تو سچ میں تھک گٸ تھی۔ اس نے زندگی میں کبھی اسطرح شاپنگ نہ کی تھی۔ اسے اپنی ساس سے ڈر سا لگنے لگا۔ کہ وہ کتنی شاپنگ کرتی ہیں۔

کیا خیال ہے۔۔؟؟ کچھ کھا نہ لیاجاٸے۔۔؟؟ بھوک لگی ہوگی میری پیاری بیٹی کو۔۔؟؟ کشش نے پیار سے آنیہ سےکہا۔ تو وہ بس مسکرا سکی۔ بھوک تو اسے واقعی لگی تھی۔

گاڑی التاج ہوٹل کے باہر پارکنگ میں کھڑی کرتی وہ آنیہ کو لیے اندر داخل ہوٸ۔

کھانےکا آرڈر دیتی وہ اپنی مخصوص ٹیبل پے آکے بیٹھی۔ جو ہمیشہ صرف اسی کےلیے رہزرو ہوتی تھی۔

آنیہ اشتیاق سے ہوٹل کو دیکھنے لگی۔

کافی بڑا اور پیارا ہوٹل تھا۔

ادھر اھر کی باتو ں میں ویٹر نے کھانا بھی لگا یا کہ پتہ ہی نہ چلا۔

اتنا کچھ دیکھ آنیہ حیران رہ گٸ ۔

آنٹی اتنا سب آرڈر کیوں کیا۔۔۔؟؟ کون کھاۓ گا۔۔۔؟؟ یہ تو بہت زیادہ ہے۔

ہمممم۔۔ جانتی ہوں۔۔زیادہ ہے۔۔ بس کھاٶ۔۔ آپ کو جتنا کھانا ہے۔ پلیٹ میں چاول ڈالتے کشش مطمن سی بولی ۔ آنیہ نے بھی پلیٹ میں کباب رکھا۔ جو کہ اسکا فیورٹ ہی تھا۔

موباٸل پے آتی کال دیکھ کشش نے کال رسیو کی اسکے چہرے پے ایک مسکراہٹ تھی۔

آپ یہاں اس وقت۔۔۔؟؟ کیسے۔۔؟

اپنے آفس کی وینڈو سے ہادی نے ماں کی ٹیبل کو فوکس کیا ۔

اطلاع مل گٸ۔۔؟؟ چہکتے ہوۓ کہا۔

اب۔۔۔ آپ یہاں آٸیں۔۔ اور میں بے خبر رہوں۔۔؟؟ ایسا ہو سکتا ہے کیا بھلا؟ الٹا انہی سے پوچھ بیٹھا۔

اوپس۔۔۔۔! اپنے ڈریس پے آنیہ نے ڈرنک گرا لی ۔

اوہو۔۔۔! آپ کی ڈریس تو خراب ہوگٸ۔۔

آنٹی۔۔ میں۔۔ اسے صاف کر کے آتی ہوں۔۔ آنیہ کی آواز موباٸل سے صاف سناٸ دی تھی۔ ہارٹ بیٹ پھر سے مس ہوٸ۔

کشش اثبات میں سر ہلاتی واپس کال کی جانب متوجہ ہوٸ۔ لیکن کال کٹ چکی تھی۔

کشش نے موابٸل ساٸیڈ پے رکھا۔ اور بریانی سے مزے اڑانے لگی۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

ڈریس صاف کرتے وہ نکلی تو دروازے کے باہر رکھا ایک واس گر کے ٹوٹ گیا ۔ جبکہ ایک ویٹرس وہیں کھڑی دیکھ رہی تھی۔

اوہ ماٸ گاڈ۔۔۔؟؟ آنیہ گھبرا گٸ۔

میم۔۔۔! یہ کیا کیاآپ نے؟ ویٹرس پریشانی سے اسکی طرف بڑھی۔

ٕیہ۔۔۔یہ جان بوجھ کے نہیں کیا میں نے۔۔۔!خود ہی ۔۔۔گر گیا۔ اپنی صفاٸ میں کہنا چاہا۔

سوری میم! آپ کو اسکا پے کرنا پڑے گا۔ ویٹرس نے منہ بنا کے کہا۔ آنیہ کچھ کہتی کہ پھر کچھ سوچتی چپ ہوگٸ۔

اوکے۔۔۔ بتا دیجیے۔۔ ! کتنا پے کرنا ہوگا۔۔؟؟ نارضی سے کہتے وہ ویٹرس کو بہت معصوم لگی۔

آپ۔۔۔اسطرف آجاٸیں۔۔کیونکہ اسکی صحیح قیمت کیا ہے۔۔۔ یہ سر ہی بتا سکتےہیں۔ ویٹرس کہتی آگے بڑھ گٸ۔ ناچار آنیہ کو بھی پیچھے جانا پڑا۔

یہاں آپ چلیں جاٸیں۔ایک روم کے باہر رکتے ہوۓ کہتے وہ چلی گٸ۔آنیہ کو کچھ سمجھ نہ آیا۔ کہ یہ سین کیا ہے؟

دروازے کی ناپ پے ہاتھ رکھا۔ اور کلک کی آواز پے دروازہ کھلا۔

جیسے ہی وہ سامنے آٸ ۔ ہادی کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پے گیا۔ اسکا دل کتنے زور سے دھڑکا تھا وہ خود بھی اس احساس سے انجان تھا۔

سامنے ایک شخص کو رخ پھیرے کھڑا دیکھ آنیہ کو سمجھ نہ آیا کہ کیا بولے۔

ایکسکیوز می۔۔۔! آپ کے۔ ۔۔۔ ہوٹل ۔۔کا ایک واس ٹوٹ گیا ہے۔۔مجھ سے۔۔ !لیکن۔۔ سب انجانے میں ہوا۔ آپ مجھے بتا دیں۔۔ اسکی کیا پے منٹ ہے۔۔؟؟ میں ادا کر دوں گی۔

ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ دی۔

ہادی ماتھے پے بل ڈالے سنجیدہ انداز میں اسکی جانب مڑا تھا۔

اور اسی ایک لمحے آنیہ کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا۔ یوں کسی کے روم میں چلے جانا۔۔۔؟؟ وہاپنے لیے مسٸلہ پیدا کر سکتی تھی۔

فوراً سے واپس پلٹتے دروازہ کی ناب پے ہاتھ رکھا ۔ اور اسے کھولنا چاہا۔ لیکن وہ لاکڈ تھا۔ جس کی وجہ سےاسکا دل مزید شدت سے اسے کچھ غلط کونے کا احساس دلا رہا تھا۔

بہت جلدی ہے واپس جانے کی؟ دھیمے لہجےمیں کہتا وہ اسکی جانب بڑھا تھا۔

خبردار وہیں رک جاٶ۔۔۔! مضبوط مگر باریک آواز میں آنیہ نے اسے وارن کیا تھا۔ روم۔میں اندھیرا زیاہ ہونے کی وجہ سے وہ مقابل کا چہرہ اچھے سے دیکھ نہیں پا رہی تھی۔ لیکن اتنا جانتی تھی۔ وہ ایک مرد تھا اور وہ ایک مرد کے ساتھ اکیلے کمرے میں تھی۔ یہی سوچ آتے اس نے جھرجھری لی۔ اور خود کو کوسا۔ کہ وہ آٸ ہی کیوں؟۔

کیوں؟ تم تو قیمت چکانے آٸ تھی ناں۔۔۔؟؟ جانتی ہو۔۔؟؟ اس کی قیمت کیا ہے؟

قریب آتے چند قدم کے فاصلے پے رہتے ہادی نے اسے اچھا خاصا ڈرا دیا تھا۔

جو۔۔۔جو بھی قیمت ہے۔۔۔آپ کو مل جاۓ گی۔۔۔ اس۔۔اس دروازے کو کھولیں ۔۔فوراً۔

اپنے آنسوٶں پے ضبط کرتے وہ سختی سے بولی ۔

دو لاکھ۔۔۔! میرے بابا فارن سے لاۓ تھے۔ ہادی اسکی بات کو نظر انداز کرتا اپنی ہی بول رہا تھا۔

اگر ایک منٹ میں آپ نے یہ دروازہ نہ کھولا۔ تو۔۔میرے بابا آپ کو چھوڑیں گے نہیں۔! سنا آپ نے۔

آنیہ نے غصے بھری آواز میں کہا۔

یہ تو یہاں آنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا ناں۔۔؟؟ اتنی بے وقوف تو نہ لگتی تھی۔۔؟؟ طنز سے کہتے وہ تھوڑا اور قریب ہوا۔

اپنی۔۔۔ بکواس بند کریں ۔ ورنہ۔۔۔؟؟ آنیہ کو گھبراہٹ کے مارےپسینےآنے لگے۔

اچھا۔۔۔۔! میرے آفس میں کھڑے ہو کے۔۔۔ مجھے دھمکی؟ آمیزنگ۔۔۔۔۔! ہادی نے اسکا گال چھونا چاہا۔ اور وہ بھی بے اختیاری عمل تھا ۔ آنیہ نے زور سے ہاتھ جھٹکا۔ اور ہادی کو پیچھے دھکا دیا۔ خود دروازے کے ساتھ جا لگی۔

ہادی اک دم سے ہوش میں آتا ۔ اسکا یہ روپ دیکھ حیران ہوا ۔ بظاہر چھوٸ موٸ سی نظر آنے والی اتنی پاور فل۔۔۔؟؟ کہ ہای کو اپنی جگہ سے ہلا کے رکھ دیا۔

میں آخری بار وارن کر رہی ہوں۔۔ دور رہ کے بات کریں۔

اب کی بار لہجہ میں نمایاں دھمکی تھی۔ اور بنا کسی کپکپاہٹ کے اس نے ہادی کو ایک لمحے کوبہت کچھ باور کروا دیا۔ لیکن اسک دھکا دینا ہادی کو برداشت نہ ہوا۔

پھر سے جارحانہ انداز میں آگے بڑھ کے اسکی بازو کو جھٹکے سے پکڑا اور یہیں وہ سنگین غلطی کر گیا ۔

آنیہ نے بھی بنا ایک لمحے کی دیری کیے ہادی کے منہ پے تھپڑ رسید کر دیا۔ وہ جو کچھ کہنے والا تھا۔ ایک دم سے میمراٸز ہوگیا۔

وہ ہرنی جیسی آنکھیں اسی پے اٹھیں اسے اپنی جگہ پے کھٹکا گٸیں تھیں۔ اسکا ہاتھ اٹھانا ہادی کو برداشت نہ ہوا تھا۔ وہ اسکے ساتھ کچھ بھی غلط کرنے کااراہ نہ رکھتا تھا۔ لیکن۔۔۔ اسکا یہ عمل۔۔۔؟؟ ہادی کے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح برسا تھا۔

وہ کچھ غلط کرتا کہ ۔۔۔

بیٹا۔۔۔! ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔ عورت کی عزت وہی کرتاہے جس کی ماں عزت دار ہوتی ہے۔اور اپنی اولاد کو عورت کی عزت کرنا سیکھاتی ہے۔

سختی سے آنکھیں میچتے اس نے اپنے اندر کے غصہ کو کنٹرول کرنا چاہا۔

آگےبڑھ کے نامحسوس انداز میں دروازہ کی ناب گھوماٸ ۔ آنیہ اپنی جگہ سٹل تھی۔

ایک منٹ سے پہلے یہاں سے دفعہ ہو جاٶ۔۔۔ ! اس سے پہلے کہ میں۔۔۔؟؟؟ اتنے سرد انداز میں کہے الفاظ کہ آنیہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گیا۔

وہ پلک جھپکتے وہاں سے باہر نکلی۔ اور اندھا دھند ہی بھاگتے سیڑیاں اترتی کشش کی پاس جا پہنچی۔

آآننننٹی۔۔۔۔! پلیز۔۔۔ چلیں یہاں سے۔۔۔! کہتے ہوٸے اسکی آنکھیں بھیگ گٸیں۔

کیا ہوا۔۔آنیہ۔۔؟؟ آپ ٹھیک ہیں۔۔؟ کشش اسکا کاگی دیر سے انتظار کر رہی تھی۔ اسکا یوں آنا اور رونا۔۔۔! انہیں تکلیف دے گیا تھا۔

پلیز۔۔۔آنٹی کچھ نہ پوچھیں۔۔ مجھے گھر جانا ہے۔۔۔!اس نے اپنے آپ پر ہر ممکن طریقے سے ضبط کرنے کی کوشش کی۔

کشش نے اسکے حالت کے پیشِ نظر خاموش رہنا زیادہ مناسب سمجھا۔ اور اسے لیے ہوٹل سے باہر نکل آٸ۔

گاڑی میں بیٹھے بھی وہ خاموش رہی ۔ وہ بہت بری طرح ڈری ہوٸ تھی۔ اسکا اچانک سے ہاتھ اٹھانا۔۔؟ اسے محسوس ہوا تھا۔ وہ زیادتی کر گٸ ہے۔ لیکن سب کچھ بہت اچانک سے ہوا تھا۔ اور اس شخص کی پیش قدمی نے اسے ہاتھ اٹھانےپے مجبور کیا تھا ۔

پیر زادہ منشن کے باہر گاڑی روکتے کشش نے آنیہ کی جانب دیکھا ۔

بیٹا۔۔! کوٸ بات ہے تو مجھے بتاٶ۔؟ کیا ہوا۔۔؟

نہیں۔۔آنٹی۔۔۔ کوٸ بات نہیں۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ پریشان نہ ہوں۔۔ آنیہ نے قدرے مسکرا کے کہا ۔

اندر آٸیں ناں۔۔ آنٹی۔ !

سارا سامنا ملام کے ہاتھ اندر بھجوا کے آنیہ نے کشش کی جانب دیکھتے پیار سےکہا۔

ارے بیٹا۔۔! پھر آٶں گی۔ ابھی بہت دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔ اور ۔۔آپ اپن خیال رکھنا۔۔ پیار سے اسکے گال پے ہاتھ پھیرا۔ تو آنیہ مسکرا دی۔

کشش کے جانےکے بعد وہ اندر آتی کسی کی موجودگی محسںوس نہ کرتی سیدھا اپنے کمرے میں چلی گٸ ۔

اسکا دل اب بی زوروں سے دھڑک رہا تھا۔

وہ شخص جو کوٸ بھی تھا۔ اس سے ایک پل کو وہ ڈر گٸ تھی۔ اور اگر وہ ہاتھ اٹھانے کے بعد اس کے ساتھ کچھ غلط کر گزرتا تو۔۔۔؟؟

یہ سوچ آتے ہی پھر سے اس نے جھرجھری لی ۔

ا

یہ سب اسکے ساتھ پہلی بار ہوا تھا۔ اسکا رشتہ طے ہوچکا تھا۔ اور یہ سب۔۔ کوٸ بات نکل آتی تو۔۔؟ اسکے پیرنٹس کیا سوچتے۔۔۔؟؟

وہ بہت حد تک خود کو ریلیکس کر چکی تھی ۔

لیکن اپنا ہاتھ اٹھانا نہیں بھول پا رہی تھی۔

💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫

وہ رولونگ چیٸر پے مسلسل جھولے جا رہا تھا۔

کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔

اسے رہ رہ کے وہ تھپڑ یاد آرہا تھا ۔ جو آنیہ نے اسے ۔۔۔!

وہ اب تک اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر پایا تھا۔

وہاں سے اٹھتا وہ جم روم میں چلا گیا۔ اور باکسنگ کٹ پے اپنا غصہ اتارنےلگا۔

میں آخری بار وارن کر رہی ہوں۔۔ دور رہ کے بات کریں۔

اب۔۔ تمہیں بتاٶں گا۔۔۔ مس آنیہ ابتسام ! کہ میں کون ہوں۔۔؟؟ اور کیا کر سکتا ہوں۔۔؟؟

گلوز اتارتے وہ پسینے میں شرابور اپنے ماغ میں بدلہ لینے کی پلاننگ کر چکا تھا۔

وہ کسی صورت بھی وہ تھپڑ بھولنے والا نہ تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *