Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 07)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 07)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
صبح فجر کی ازان کے ساتھ آنیہ کی آنکھ کھلی تھی۔
اسکا جسم جیسے اکڑ گیا تھا۔ وہ آنکھیں ملتی اٹھی تھی۔ اسکا سر تکیہ پے تھا۔ اسکے باوجود اسکی گردن میں درد کی ایک لہر اٹھی تھی۔
اللہ جی۔۔۔! گردن پے ہاتھ رکھے وہ آنکھیں میچتی درد سے بلبلاٸ تھی۔
گلے پے پہنا زیور اور بھاری بھرکم لہنگا دوپٹہ اسکا سر بھی بھاری ہونے لگا تھا۔
حواسوں نے کام کر نا شروع کیا۔ تو فٹ سے آنکھیں کھلیں۔
وہ اپنے کمرےمیں نہیں۔۔۔بلکہ۔۔۔؟؟ اسے سب یاد آتا گیا۔
ایک نظر گھما کے پہلو میں سوۓ میر ہافی کو دیکھنا چاہا۔ اسکی ایک بازو بالکل سیدھی تھی تو دوسری ماتھے پے۔ اسکا آدھا چہرہ چھپا ہو اتھا۔صرف ہوٹ ہی واضح تھے۔ نظر ایک دم سے اسکے لبوں پے جا کے ٹھہر سی گٸ۔ دل نے عجیب ہی لےپے دھڑکنا شروع کر دیا۔
یہ۔۔۔کب۔۔۔آۓ۔۔؟ انہوں نے۔۔۔مجھے۔۔سوتے ہوۓ دیکھ ۔۔۔کیا سوچا ہوگا۔۔۔؟؟
آنیہ کو شرمندگی نے آن گھیرا۔
دھیرے سے اٹھتی وہ میر ہادی کینیند کے خیال سے بنا آواز کیے ڈریسنگ تک آٸ۔ لیکن چوڑیوں کیکھنک نے خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کر دیا۔
میر ہافیکی نیند میں خلل پڑا۔ آنیہ نے لب دانتوں تلے دباۓ۔
دھیرے دھیرے اس نے بنا آواز کیے اپنا زیور اتارنا شروع کیا۔ جبکہ آٸینے میں میر ہافی کے سوۓ وجود پے بھینظر ڈالنا نہ بھولتی۔ بھاری بھرکم زیور سے جاا چھڑاتی وہ باتھ روم کی جانب بڑھی۔
شاورلیتی کمفرٹیبل ڈریس اپ ہوتے وہ باوضو حالت میں باہر آٸ۔
اسکا ارادہنماز ادا کرنے کا تھا۔ لیکن قبلہ رو کا اندازہ نہ کر پارہی تھی۔
موباٸل بھی پاس نہ تھا۔ کہ چیک کر لیتی۔
لیکن نظر میر ہای کے موباٸل پے پڑی۔
کیا انکے موباٸل سے دیکھ لوں۔۔؟ کہیں غصہ نہ ہوجاٸیں۔۔۔؟؟ سوچتے ہوۓ دھیرے سے موباٸل اٹھاتے قبلہ کس طرف ہے۔ چیککرتی موباٸل واپس رکھ کی تھی۔
جاۓ نماز اسے ڈریسنگ ٹیبل کے ایک دراز سے مل گٸ تھی۔
نماز ادا کرتے اب وہ دعا کےلیے ہاتھ اٹھاۓ سب کچھ بھلاۓ بس رب کو یاد کرتی اسکے تصور میں کھوگٸ تھی۔
میر ہادی کی آنکھ کھلی تو اس نے آنیہ کو بستر پے نہ پایا۔ لیکن سامنے ہی نظر اسکے مہکتے وجود پے جا ٹھہری۔ وہ جاۓ نماز پے بیٹھی آنکھیں بند کیے اللہ سے دعا مانگ رہی تھی۔
اسکے چہرےپے انتہا کی پاکیزگی تھی۔ جسے دیکھ ایک پل کو میر ہادی کو پری کو گمان ہوا۔
دل نے پھر سے عجیب لےپے دھڑکنا چاہا۔ دل تھامے وہ رخ پھیر گیا۔
یہ لڑکی مجھےہارٹ اٹیک کروا کے دم لےگی۔
دل ہی دل میں وہ اسکے لکش سراپےکا اسیر ہوا تھا۔
آنیہ نے دعا مانگتے کافی وقت لگا دیا۔
جاۓ نماز تہہ کرتی وہ اٹھی تھی۔ لیکن میرہافی کو بستر پے نہ پایا۔ باتھ روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔
یہ اٹھ گۓ۔۔۔۔اور مجھے۔۔ پتہ بھی نہ چلا۔۔۔؟؟
آنیہ وہیں صوفے پے ایک طرف بیٹھتے سوچ میں ڈوب گٸ۔
وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی۔ کہ باتھ روم کا درواہ کھلا۔ اور میر ہادی گیلے بالوں کے ساتھ باہر نکلا۔
اسے شرٹ لیس دیکھ کے بے اختیار آنیہبکی پلکیں جھکیں۔
لیکن اگلے ہی پل اسکی نظر اسکے بازو پے جا ٹھہری جہاں سے بلڈ نکل رہا تھا۔
آنیہ کو لگا اسکا دل جیسے دھڑکنا بند ہو گیا ہو.
آپ۔۔۔کی ۔۔۔بازو۔۔پے۔۔کیا ہوا۔۔؟؟ وہ بے چین ہوتی آگۓ بڑھی تومیر ہادی نے بنا اسکی جانب دیکھےہاتھ کھینچ لیا۔
آنیہ نے حیرت سے دیکھا۔ جبکہ وہ اسے نظر انداز کرتا شرٹ پہن رہا تھا۔ جو اسکے لیے مشکل ہو رہا تھا ۔
آپ۔۔۔پلیز۔۔۔ مجھے دیکھنے دیں۔۔؟؟؟ آپ کو چوٹ لگی ہے۔۔۔؟؟ آنیہ نے اصرار کیا۔
کیوں۔۔؟ چھونے کی وجہ۔۔۔؟؟ میں نہیں چاہتا۔ کہ ۔۔آپ مجھے چھوٸیں۔
کہتے ہی ایک طرف بیڈ پے بیٹھتے اس نے اپنے گیلے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کیا۔ جو سلکی ہونے کی وجہ سے بار بار اسکے ماتھے پے بکھر رہے تھے۔
میں۔۔۔ بیوی ہوں۔۔ آپ کی۔۔۔؟؟اور۔۔۔ ایک ڈاکٹر بھی۔
آنیہ نے اسکے سکس پیکس سے نظریں ہٹاتے اسکے سنجیدہ چہرے کی جانب دیکھا۔
فرسٹ ایڈ باکس کہاں ہے۔۔؟؟ آنیہ نےاسکے جواب کا مزید کوٸ انتظار کیے دراز میں سے ڈھونڈنا چاہا۔
بیوی۔۔۔؟؟ ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔! میں اپنے مسٸلے خود سالو کرتا ہوں۔ اسلیے آپ پریشان نہ ہوں۔
کہتے ہوۓ وہ اٹھا اور آٸینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
آپ۔۔۔ مجھ سے ایسے بی ہیو کیوں کر رہے ہیں۔۔؟؟ جیسے۔۔۔؟؟ میں۔۔۔؟؟ آنیہ کو اسکی باتیں کھٹکیں۔
کیا۔۔۔۔۔میں۔۔؟ میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔۔؟؟ اسکا جواب دینا پسند کریں گیں۔۔؟؟ ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ ٹیک لگاۓ میر ہادی نے اسے اب فرصت سے دیکھا۔ اسی کی تھی۔ پورا اختیار رکھتا تھا اس پے۔ پھر کیوں نظریں چراتا۔۔۔؟؟ ہاں ہاتھبےاختیار دل پے گیا تھا جو ابھی بھی اسے روبرو دیکھ کے دھڑکا تھا۔
جی۔۔۔ پوچھیں۔۔۔۔! آنیہ کو اسکا انداز عجیب سا لگا تھا۔
آپ نے آج تک کبھی کسی کو تھپڑ مارا ہے؟ ڈاٸریکٹ اسکے چہرے کے زاویے کو دیکھتا وہ استفسار کرنے لگا۔
اسکی بات پے آنیہ کے چہرے کا رنگ فق ہوا۔ اس دن والا واقعہ اسکی آنکھوں میں پھر سے گھومنے لگا۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ بہت سوچنے لگی ہیں۔ میر ہادی نے اسکی طرف پیش قدمی کی۔
آنیہ کی نظر اسکے چہرے پے جا ٹھہری۔
کیایہ۔۔۔؟؟ کیسے جانتےہیں یہ سب۔۔؟؟ وہ بس سوچے جا رہی تھی۔
آپ نے جواب نہیں دیا۔۔؟ میر ہادی نے ایک انچ کا فاصلہ برقرار رکھتے اپنی بات پے زور دیا۔
مارا تھا۔۔۔! کچھ دن پہلے ۔۔۔! آنیہ نے اسکے چہرے کا بغور دیکھتے بنا پلک جھپکےکہا۔
کیوں۔۔؟؟ اب کی بار وہ مزید قریب ہوا۔ کہ وہ انچ کا فاصلہ بھی مٹا کے اسکے پاس آیا۔ وہ خود کو اسکے قریب جانے سے روک نہیں پا رہا تھا۔
اس نے آپ کو یہ بتایا۔ کہ میں نے تھپڑ مارا ہے۔۔۔ اپنی غلطی نہیں بتاٸ۔۔؟؟ آنیہ نے الٹا اسی سے سوال کیا ۔
اور دو قدم پیچھے ہٹی۔
آپ کے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔ اب کی بار پھر سے قدم گے بڑھاتے وہ اسے نظروں کے حصار میں رکھتے دھیمے لہجے میں بولا تھا۔
جب۔۔۔ کوٸ کسی لڑکی کے ساتھ بدتمیزی کرےگا۔ تو اسے تھپڑ ہی پڑے گا۔ آنیہ نے سخت آواز میں کہا ۔
لڑکی۔۔ اکیلی۔۔۔اسکے ساتھ روم میں کیوں تھی؟
میر ہادی نے تو جیسے سارے سوال تیار کر رکھے تھے۔
اسکے اس سوال پے وہ ہکا بکا رہ گٸ۔
ایک پل کو آنیہ کے ماغ میں جھپاکا ہوا۔ مطلب۔۔؟؟ وہ ۔۔شخص کوٸ اور نہیں۔۔۔ میر ہادی تھا۔۔۔؟؟
آنیہ کا دل بہت بری طرح دھڑکا۔ اسے پسینےآنے لگے۔
آپ۔۔۔آپ مجھے۔۔ آزما رہے تھے۔۔؟؟ آنیہ کو ایک ہی بات سمجھ آٸ۔
اگر آزمانا ہوتا تو شادی کےلیے ہاں ہی نہ کرتا ۔۔ پہلے آزماتا۔
کہتے ہوۓ میر ہادی نے رخ پھیرا۔
پھر۔۔۔؟؟ آپ نےایسی حرکت کیوں کی؟ آنیہاسکے سامنے آگٸ۔
آپ مجھے میری بات کا جواب کیو ں نہیں دے رہیں؟ میر ہادی نے رخ اسکی جانب کرتے دیکھتےکہا۔
آپ کوکیا لگتا ہے۔۔۔؟؟ مجھے کیاکرنا چاہیے تھا۔۔۔؟؟ الٹا اسی سے سوال کیا۔
اگر مجھ سے پوچھ رہی ہیں تو۔۔۔ آپ کو وہاں اکیلے جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔
میر ہادی کی اس بات سے وہ بھی دل ہی دل میں متفق تھی۔ واقعی یہ غلطی اس سے ہوٸ تھی۔ اس کا سر جھکا تھا۔ اور اسکا جھکا سر دیکھ نجانے ہادی کو کیوں برا لگا تھا۔
آپ جانتی ہیں۔ مجھے آپ کے تھپڑ مارنے کا بالکل برا نہیں لگا۔ لیکن غصہ ضرور آیا تھا۔ کہ آپ اکیلی اس روم میں آٸیں کیوں۔۔؟؟ اگر میری جگہ کوٸ اور ہوتا۔۔۔؟؟ تو آپ کو کیا لگتا ہے۔۔؟؟ وہ آپ کو ایسے جانے دیتا؟
میر ہادی کے واشگاف الفاظ پے آنیہ نے جھرجھری لی۔ وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا۔ چاہے غلطی کسی کی بھی ہو۔ لیکن تھپڑ کھانےکے بعد۔۔ اسکے ساتھ کچھ بھی برا ہوسکتا تھا۔
آپ۔۔۔ صحیح کہہ رہے ہیں۔ مجھے۔۔۔ اکیلے نہیں جانا چاہیے تھا۔ سر جھکاۓ اس نے اپنی غلطی کا بھی عتراف کر ہی لیا۔ جو سیدھا میر ہادی کے دل پے جا لگا۔
بینڈیج کرنا آتی ہے؟ اسکی بات کو نظر انداز کرتا دوستانہ انداز میں پوچھا۔
جی۔۔۔۔۔؟؟ آنیہ سوالیہ نظروں سے میر ہادی کو دیکھا۔
پھر کر دیں۔۔۔ وہ سامنے ہے فرسٹ ایڈ باکس۔
سرسری اندز میں کہتے بیڈ پے بیٹھتے آرڈر لگایا تھا۔ اورخود موباٸل اٹھالیا تھا۔
آنیہ نےمزید کوٸ باتکیےبنا اسکے زخم کی ڈریسنگ کرنا شروع کر دی تھی۔
آپ کو۔۔۔ گولی۔۔۔؟؟ آنیہ نے اسکا زخم دیکھ کے اندازہ لگایا۔
ہوگٸ ڈریسنگ؟ میر ہادی نے اسکی بات کاٹتے کھڑے ہوتے کہا۔ اور شرٹ پہننے لگا کہ آنیہ نے پھر سے اسکی مدد کرتے اسے شرٹ پہنانےمیں مددکی۔
اچھی بیویاں کمرے کی بات کمرے تک رکھتی ہیں۔
مڑتے ہوۓ ایک ہاتھ سے کالر ٹھیک کرتے وہ اسکی آنکھوں میں وارفتگی سےد یکھتے وارن کر رہا تھا ۔
آنیہ کو اسکی بات سمجھ آگٸ تھی۔ وہ گولی کی باتکر رہا تھا۔
آنیہ نے سرجھکاتے اثابت میں سرہلایا۔
گڈ۔۔! چلیں نیچے۔۔۔ مما ویٹ کر رہی ہوں گی۔۔! ایک دم سے پیار بھرا انداز۔ آنیہ کو وہ بہت عجیب سا لگا۔
دونوں آگے پچھے روم سے باہر آۓ۔
آنیہ نے پورے میر ولا کو ایک نظر دیکھا۔ ہر چیز اپنے معیار کے مطابق اعلیٰ تھی۔
اَلسَلامُ عَلَيْكُم۔۔۔۔ ! میر ہادی نے ہشاش بشاش انداز میں کہا۔
وعلیکم السلام ۔۔۔! آٶ۔۔بیٹا۔۔۔! کشش نے پیار سے دونوں کو گلے لگایا۔ وہ بہت خوش نظر آرہی تھیں۔
کیسی ہو۔۔ آنیہ بیٹا۔۔؟؟ کشش نے اسے اپنےپاس بٹھاتے پوچھا۔ تو وہ مسکرا دی۔ جبکہ میر ہادی نے کن اکھیوں سے اسکی مسکراہٹ کو دیکھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آج تین دن بعد دروازہ کھلا تھا۔ ایک روشنے پھوٹتی ہوٸ اندر آٸ تھی۔
تین دن سے ان دونوں کو صرف ایک وقت کا کھانا ہی دیا جاتا تھا۔ اور پانی کے نام پے دو بوندیں۔
کب دن ہوا کب رات ہوٸ۔ وہ دونوں ہی نہں جانتی تھیں ۔ کوٸ انہیں قید کر کے بھول ہی گیا تھا۔
نڈھا وجود کے ساتھ وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے کے کاندھے پے سر رکھے بیٹھیں تھیں۔
کونن۔۔۔۔۔؟؟ فضا کو کوٸ امید کیکرن دکھاٸ دی ۔
وہ ماسک میں دھیرے دھیرے انکی طرف بڑھی۔
وہ مکمل کالے کپڑوں میں تھی۔ ماسک بھی کالا تھا۔ بلکہ اسکے کپڑے سپر مین سے مشابہت رکھتے تھے۔ ہرے پے ماسک ہونے کی وجہ سے فضا اسے بالکل نہ یکھ پاٸ۔
لیکن اسکے ہاتھ میں ہنٹر دیکھ وہ لرز گٸ تھی۔
دہل کے ردا کو دیکھا۔ جیسے اسے بھی آنے والے کے ارادے سے باخبر کر رہی ہو۔
اس نے ہنٹر ہاتھ پے لپیٹا۔ اور انکی طرف پیش قدمی کی۔
وہ دونوں سہم کے پیچھے ہٹیں۔ لیکن آنے والی بھی سخت دل خت جان تھی۔ ہنٹر مارنا شروع ہوٸ تو پھر رکی ہی نہ۔۔۔ وہ چینختی چلاتی رہیں۔ اپنا بچاٶ کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ لیکن سب بے کار گیا۔ سپاٸ گرل کو ان پے رحم نہ آیا۔
تڑپ تڑپ کے جب وہ بے ہوش ہوگٸیں۔ تو سپاٸ گرل پیچھے ہٹی۔
اور وہاں سے واپس پلٹ گٸ۔ دروازہ ایک بار پھر سے بند ہو گیا تھا۔
جبکہ وہ دو نڈھال وجود اب بے ہوش ہو چکے تھے۔
شاید ہی ان میں زندگی کی رمق باقی بچی تھی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
یہ چپ بہت زہریلی ہے۔۔ سر۔۔۔! شکر کریں۔۔ یہ بروقت نکال دی آپ نے۔ ورنہ۔۔۔ یہ آپ کو ختم بھی کر سکتی تھی۔ شان نےاس چپ کا تفصیلی جاٸزہ لیتے کہا۔
مھے ڈیٹیل چاہییں۔
گھڑی پے وقت دیکھتے اس نے قطعی انداز میں کہا۔
اس چپ کو ماٸکرو فون کے زریعے لیب ٹاپ کے ساتھ اٹیچ کرتا وہ اسکے سارے پارٹس کو شو کرتا جا رہا تھا۔
اٹس۔۔ ٹوٹلی کنٹرول فار یور برین۔
آپ کے دماغ کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے کا ارادہ ہے کسی کا۔۔۔! اسکی باریک سوٸ جیسی دھاریں۔۔۔ بہت خطرناک ہیں۔ یہ جسم کے کسی بھی حصہ پے آپ چپکا دیں۔ صرف ایک گھنٹے میں یہ آپ کے جسم کے ندر گھس جاۓ گی۔ اور آپ کا دماغ کنٹرول کر ے گی۔
یہ جدید ٹیکنالوجی سے ریلیٹ ہے۔ اور پاکستان میں ابھی اسک اتنا زیادہ استعمال نہیں۔۔! انٹلی جنس والے یا انڈر کر پلہس آفیسرز۔۔۔ ہی شاید اسے یوز کرتے ہوں۔۔۔ یا پھر۔۔۔؟؟ شان رکا تھا۔
آہان نے اسےسسوالیہ نظروں سے دیکھا۔
یا ٹیریرسٹ۔۔۔! اور یہ جو کوٸ بھی ہے۔۔ اسکا رابطہ آٶٹ آف کنٹری سے ہے۔ کیونکہ یہ ابھی پاکستان میں ایویلیبل ہی نہیں۔
مزید شان بات جاری رکھتا کہ اسکی واچ سے ایک رے باہر نکلی۔ آہان چونکا۔
نفیمیں سر ہلاتا وہ اٹھا تھا۔
یہ باز نہیں آۓ گی۔
شان۔۔ ! مجھے مزید انفارمیشن چاہیے اس کے بارے میں۔ شام تک۔۔۔ اور مجھے پتہ ہے۔۔۔ مجھے تم۔۔ بہت اچھی انفارمیشن مہیا کرو گے۔
شان کا کاندھا تھپتھپاتا وہ اٹھا تھا۔۔
بٹ سر۔۔۔ یو ۔۔ بی کٸیر فل۔۔۔! آپ اس ملک کا سرمایہ ہیں۔ اور اگر وہ آپ تک پہنچے تو۔۔ آپ جانتےہیں۔۔ کتنا بڑا نقصان ہوگا۔ آپ کو احتیاط کرنی چاہیے۔ وہ دوبارہ بھی اٹیک کر سکتےہیں۔
شان نے اسے وارن کیا۔
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے۔
شعر پڑھتا وہ وہاں سے نکلتا اپنے کاٹیج کی جانب گامزن تھا۔ ہاں اس نے ان دونوں بہنوں کو قید کر دکھا تھا۔ اور وہ اس وقت محفوظ نہیں تھیں۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
شام کو ولیمہ کا فنکشن تھا۔ جو التاج ہوٹل میں ہی رکھا گیا تھا۔
سبھی رات کے فنکن کی تیار کر رہے تھے۔ ہانیہ بھی بہت للگا کے تیار ہو رہی تھی۔ کہ آہان غصہ سے دوازہ کھولتا اندر داخل ہوا۔ وہ جو ماتھے کی بندیا ٹھیک کر رہی تھی۔ آہان کو جارحانہ انداز مثس اپنی طرف بڑھتے دیکھ اسکی جانب پلٹی۔
آگیا سکون۔۔؟؟ انکو موت کے منہ میں بھیج کے۔۔؟؟ آہان پھنکارا تھا۔۔
کیا مطلب۔۔؟؟ کیا کہنا چاہتے ہو۔۔؟؟ کس کی بات کر رہے ہو تم۔۔؟؟ ہانیہ کے ماتھے پے بل پڑے۔
زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تم۔نے ہی ان دونوں بہنوں کا برا حال کیا ہے۔ کہ وہ آٸ سی یو میں ہیں۔
کون سی دو بہنیں۔۔؟؟ کن کی بات کر رہے ہو۔۔؟؟ منہ بنا کے ہانیہ رخ پھیرا۔ کہ آہان نے اسے کندھے سے پکڑ کےو اپس اپنی طرف موڑا۔
ڈرامے کسی او رکے سامنےکرنا۔ میں تمہار رگ رگ سے واقف ہوں۔۔ تم جیسی بے رحم۔۔۔ لڑکی۔۔۔؟؟
بس۔۔۔ بہت ہوگیا۔۔۔! اب اگر میرے بارے میں کچھ بھی کہا تو۔۔۔ منہ توڑ دوں گی تمہارا۔
انگلی اٹھا کے وارن کرتی و اسکے قریب ہوٸ تھی۔
اچھا۔۔۔ چلو۔۔۔توڑ کے دکھاٶ۔۔۔کم آن۔۔ توڑو۔۔۔! وہ سینے پے ہاتھ باندھے سارے حساب آج بے باک کرنے کا ارادے سے تھا۔
توڑو۔۔ ناں۔۔ ! رک کیوں گٸ۔۔؟؟ توڑو۔۔۔؟؟ آہان نے اونچی اور سخت آواز میں کہتے ہانیہ کو اکسایا۔
میں تم جیسوں کے منہ نہیں لگا کرتی۔۔ نکلو۔۔ میرے روم سے۔
پیچھے ہٹتی اسے وہاں سے جانے کا بول ہی دیا ۔
یس۔۔۔ منہ نہیں لگتی۔۔! لیکن جاسوسی کرتی ہو۔۔ ان کے کمرے تک پہنچ جاتی ہو۔۔۔! یہ ہے تمہارا ظرف۔۔۔؟؟
آہان نے حقارت سے اسے دیکھتے کہا۔
اب تم حد سے بڑھ رہے ہو۔۔مسٹر آہان۔۔۔! ہانیہ نے پھر سے اسے وارن کرنا چاہا۔
تو بتا دو ناں۔۔۔ میری حد۔۔؟؟ کیونکہ تمہاری تو اپنی کوٸ حد نہیں۔۔۔! ہر حد تم تجاوز کر چکی ہو۔۔۔! آہان کے سخت الفاظ پے اسے سخت غصہ آیا۔ کہ اسکا ہاتھ آہان پے اٹھ گیا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
وہ تیار ہوٸ آسماں سے اتری کوٸ پری ہ معلوم ہو رہی تھی۔ کل کی بانسبت آج وہ مطمین تو تھی۔ لیکن میر ہادی کینظرو ں کا ارتکاز وہ خود پے محسوس کر سکتی تھی۔
ابرش نے کافی وقت آنیہ کے ساتھ اسٹیج پے گزارا۔ اور وہ مطمین تھی بیٹی کو خوش دیکھ کے۔
مما ۔۔۔! ہانیہ نہیں نظر آرہی ۔۔؟؟ اچانک سے آنیہ کوہانی کی کمی محسوس ہوٸ۔
ہممممم۔۔یہیں ہوگی۔۔۔! میں دیکھتی ہوں۔
ابرش اسٹیج سے نیچے اتری تو مسز بخاری نے انہیں پکڑ لیا۔ انکا ایک کیس آجکل ابرش ہینڈل کر رہی تھی۔
اسی کو لے کے دونوں باتی ںکرتی ابرش ہانیہ کو بھول ہی گٸ۔
رونق اپنے عروج پے تھی۔ ابی جان آج نہ آسکیں تھیں۔ انکی طبعیت ناساز تھی۔ جبکہ باقی سبھی یہاں موجود تھے۔ زلیخا بیگم تو بس کوٸ نہ کوٸ مرچمصالحہکی چیز ڈھونڈ رہی تھیں۔
اماں۔۔! کھانا کھا لیں ۔ آپ نے تو پلیٹ میں ویسے ہی سجایا ہوا ہے۔ کھایا تو ہے نہیں۔
عروش نے آتے انہیں ٹوکا۔
اے عروش۔۔! میں کیا کہہ رہی تھی۔۔۔ کتنا امیر خاندان ہے یہ صرف ایک ہال نہیں پورے نو شادی ہال ہی انکے۔۔۔! زلیخا بیگم بہت مرعوب نظر آٸیں۔
تو۔۔۔؟؟ عروش نے پلیٹ سے چاول کا چمچ منہ میں ڈالتے سوالیہانداز میں دیکھتے پوچھا۔
تو۔۔۔ ؟؟ ارے پاگل یہ پتہ تو کر۔۔ ! اس۔۔ کیا نام ہے اسکا۔۔؟ ہاں۔۔ میر ہادی۔۔؟؟ کیا اسکی کوٸ چھوٹی بہن ہے کوٸ۔۔؟؟
وہ کیوں۔۔؟؟ عروش کے کان کھڑے ہوۓ۔
ارے اپنے بچوں کے لیے۔۔۔سیف یا سفیان کے لیے۔۔؟؟ اتنا امیر خاندان ہے۔
اماں اللہ کا واسطہ ہے چپ رہو۔ ایسی کوٸ بات کسی اور کے سامنے مت کر دینا۔ مسٸل نہنکھڑا کر دینا میرے لیے۔ عروش تنگ آتے بولی تھی۔
لیکن ہاۓ شومٸ قسمت۔ کہ اسی وقت کشش کو وہا ں سے گزر ہوا۔ اور زلیخا بیگم نے روک ہی لیا عروش ماتھا پیٹ کے رہ گٸ۔
ماشاءاللہ بہت اچھا ارینج کیاہے آپ نے۔۔۔! ب کچھ بہت اچھا ہے۔۔۔ زلیخا بیگمنے تعریف کی۔
بہت شکریہ۔۔ آنٹی۔۔! کسی بھی چیز کی ضرورت ہوتو بتاٸےگا۔ کشش نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔
اور آگے بڑھنے لگی کہ
ہاں۔۔ہاں۔۔ کیوں۔۔نہیں۔۔ ویسے ایک بات تو بتاٸیں۔۔ کیا آپ کیکوٸ بیٹی نہیں۔۔؟؟
زلیخا بیگم کی باتپے وہ ٹھٹھکیں تھیں۔ ایک ایہ سا لہرایا تھا۔۔ اسکے چہرے پے۔
ایک آنکھ کے آگے اندھیرا چھایا تھا۔ وہ چکراٸ تھی۔ کہ بروقت پاس پڑی کرسی کو تھاما۔ اسکے کرسی پکڑنے کے سخت گرفت ک عروش نے حیرت سے دیکھا۔
آپ ۔۔ٹھیک ہیں۔۔؟؟ عروش کو اسکی فکر ہوٸ۔
کشش کا رنگ پل میں پیلا پڑا تھا۔ دور کھڑے میر یامین کی نظر اسی پے تھی۔ فوراً اپنے پاس سے مہمانوں سے ایکسکیوز کرتا وہ کشش کی جانب بڑھا ۔
یامین کوپاس آتا دیکھ کشش نے حوصلہ رکھتے اسے دیکھا۔ جبکہ آنکھیوں کی نمی نہ چھپا پاٸ۔
ایکسکیوز می۔۔۔! ان سے ایکسکیو کرتا وہ کشش کا ہاتھ تھامے اسے وہاں سے باہر لے گیا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
ہانیہ کا ہاتھ ہوا میں ہی بلند رہ گیا۔ آہان کے ہاتھ کی ؟لبوط گرفت نے اسکی کلاٸ تھامی تھی۔ جبکہ اہنیہ دانت پیستی بس اسے دیکھتی رہ گٸ تھی۔
ہاتھ اٹھانےکی غلطی بھول کے بھی مت کرنا ہانیہ ابتسام ۔۔ ورنہاہتھ توڑ دوں گا۔
سختی سے کہتے اسکا ہاتھ زور سے جھٹکا۔ ہانیہ اپنیکلاٸ ہی مسلتی رہ گٸ۔
یہ لاسٹ وراننگ ہے۔۔! آج کے بعد میرے کسی معاملے میں دخل اندازی کی۔۔ تو۔۔ ؟؟ مجھ سے برا کوٸ نہیں ہوگا۔۔۔! یاد رکھنا۔
غصے سے وارن کرتا وہ زور سے دروازہ کھولتا باہر جا چکا تھا۔
آیا بڑا۔۔ مجھے وارن کرنے والا۔۔۔۔ آج کے بعد میرے کسی معاملے میں دخل اندازی کی۔۔ تو۔۔ ؟؟ مجھ سے برا کوٸ نہیں ہوگا۔۔۔! یاد رکھنا۔
تم سے برا کوٸ ہو بھی نہیں سکتا۔۔آہان ایڈیٹ۔۔۔ بدتمیز۔۔۔ ۔۔۔پٹھہ۔۔۔! بے حس۔۔۔!
منہ ہی منہ میں وہ اسے بہت سارے لقب دے چکی تھی۔
تمہثس تو میں نہیں چھوڑوں گی۔۔۔! دیکھنا۔۔۔! اب کیا کرتی ہوں۔۔ تمہارے ساتھ۔ پناہ مانگو گے مجھ سے۔
دل ہی دل میں اسے مخاطب کرتے وہ اپنا حلیہ درست کرنے لگی۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
کہاں تھی۔۔؟؟ بہن سے ملنے کا وقت نہیں مل رہا تھا۔
آنیہ نے ہانیہ کے گلے لگتے گلہ کیا۔
ایسا بالکل نہیں۔۔ ! بس ۔۔وہ دیکھ رہی تھی۔۔آپ فری ہو تو۔۔ ملوں آکے۔۔! ہانیہ نےبہانہ گڑھا۔ جبکہ اسکی نظریں آہان پےہی تھیں۔ جو وہیں تھوڑی دور کھڑا میر ہادی سے باتیں کر رہا تھا۔
کیا ہوا۔۔۔؟ آنیہ اسکا دیکھنا نوٹ کیا۔
نہیں۔۔ کچھ نہیں۔۔ ! آپ بتاٶ۔۔کیا ملا منہ دکھاٸ میں۔۔؟؟ بات کو بدلا
ابھی۔۔نہیں دیا۔۔! آنیہ کا دل بے اختیار دھڑکا۔
ہممم۔۔۔ کوٸ نہیں۔۔ آج مل جاۓ گا۔۔۔! ہاننیہ اسے تنگ کرتےکہا۔ تو وہ مسکرا دی۔
میر ہادی کی نیچر اسے کچھ کچھ اچھی لگی تھی۔ جبکہ دل تو بے اختیار ہی اسکے نام پے دھڑک اٹھتا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
اب بتاٶ۔۔ کیا ہوا۔۔؟؟
باہر گارڈن کی ٹھنڈی ہوا میں آتے ہی کچھ دیر تک کشش کا ہاتھ تھامے وہ یونہی کر لگاتے رہے۔
جب کشش کی حالت بہتر ہوٸ تو وہ پوچھ لیا۔
کاش۔۔ وہ حادثہ ۔۔۔نہ ہوا ہوتا۔۔؟؟ کشش کی آواز روندھ گٸ۔۔
شییییییی۔۔۔۔ بس چپ۔۔۔! بھول جاٶ۔۔۔! یامین نے اسے اپنے سینے کے ساتھ بھینچا۔
کشش کی آنکھیں بھیگ گٸیں۔
میں ہوں۔۔ ناں۔۔ میر ہادی ہے۔۔ ہم آپ کےہیں۔۔ اور آپ ہماری جان۔۔۔! بس اتنا یاد رکھیں۔
کشش کےماتھےپےبوسہ دیتا وہ اسے شرمانے پےمجبور کر گیا۔
کیا۔۔ یامین۔۔ آپ بھی۔۔۔! چلیں اندر چلتے ہیں۔ کشش پل میں سرخ ہوتی بولی تھی۔ اسے واپس اپنی ٹون میں پپتا دیکھ یامین نے سکون کا سانس خارج کیاتھا۔ اور کشش کا ہاتھ تھامے واپس اندر آیا تھا۔
