Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 11)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 11)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
اوہو۔۔۔کشش۔۔!اب چلیں بھی۔۔۔اور کتنا وقت لگاٸیں گیں آپ ۔۔۔؟؟ یامین نے جھنجھلاتے ہوۓ پوچھا۔
بسسس۔۔۔ آگٸ۔۔۔! آپ کا بیٹا۔۔ کہاں ہے۔۔۔؟؟ ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتی وہ اس وقت انتہاٸ خوبصورت لگ رہی تھی۔ سفید ساڑھی میں وہ آج بھی یامین کو بیس سال کی ہی لگ رہی تھی۔ اور سیدھا اسکے دل میں اترتی جا رہی تھی۔ یہی تو محبت ہے۔ کہ محبتیں عمر کہاں دیکھتی ہیں۔۔
لگتا ہے آج آپ کا ارادہ مجھے پھر سے گھاٸل کرنے کا ہے۔ یامین نے اسکے پاس آتے بے خود ہوتے پوچھا۔
بہکنے کی قطعی ضرورت نہیں۔۔ دیر ہورہی ہے۔ جلدی چلیں۔۔ اور صاحبزادے کا بھی کچھ پتہ چلا۔ ۔۔؟؟
ہر کام میں تیزی ہے۔۔ اس لڑکی کی۔۔۔ !
یامین اسکے یوں رومینٹک موڈ کا بیڑا غرق کرنے پے جھنجھلایا۔
لڑکی۔۔۔؟؟ ایک دم خود ہی اپنی بات پے وہ ٹھٹھکا۔
اتنے سال بعد بھی یہ لڑکی۔۔۔ کیا یامین۔۔۔ اس عورت نے دماغ خراب کر دیا ہے۔۔۔
یامین سر جھٹکتا اسی کےپیچھے باہر نکلا۔
سب اس وقت آنیہ کی طرف پیرزادہ منشن جانے کی تیاری میں تھے۔
گل بانو۔۔۔! سامان رکھوا دیا۔۔؟؟؟ اور گفٹس وغیرہ سب۔۔؟؟ کشش نے گل بانو کو مخاطب کیا۔
جی جی۔۔ سب کام ہو گۓ ہیں۔۔۔؟؟ آپ بے فکر ہیں۔۔۔ گل بانو جلدی سے بولی۔
ٹھیک ہے ۔۔آپ اور شازمہ بھی ساتھ چلیں گیں۔ جبکہ۔۔ فریدہ باجی سے کہہ دیں۔ وہ گھر پے رکیں گیں۔
ایک تسلسل سے وہ آرڈر لگاتی یامین کی نظروں کا مرکز بنی ہوٸ تھی۔
یہ لڑکا بھی ناں۔۔۔؟؟ کال بھی پک نہیں کر رہا۔۔؟؟ آپ کو مجھے دیکھنے سے فرصت مل جاۓ تو۔۔ بیٹے کو کال کر کے پوچھیں کہ کدھر ہیں۔۔؟؟
کال بند کرتی وہ یامین کو بولتی اسےگڑبڑانے پے مجبور کر گٸ۔
یامین نے رخ پلٹ کے میر ہادی کو کال کی۔
لیکن کال پک نہ ہوٸ۔
تھوڑی ہی دیر میں میسج ٹون بجی ۔
کیا ہوا۔۔۔؟۔ کیاکہہ رہے ہیں میر ہادی۔۔؟کشش نے پاس آتے پوچھا۔
میسج ہے۔۔ کہ آپ لوگ چلے جاٸیں۔ وہ میٹنگ ختم کرتے سیدھے وہیں آجاٸیں گے۔
ایک تو ۔۔۔یہ لڑکا۔۔۔؟ کشش جھنجھلاٸ۔
اچھا چلیں۔۔ ہم تو چلتے ہیں۔ آگے اتنی دیر ہو رہی ہے۔۔۔!
کشش نے باہر نکلتے کہا۔
ہوا کے گھوڑے پے سوار رہتی ہیں یہ محترمہ ہر وقت۔۔
دادا جی کی طبعیت ناسازی کی وجہ سے وہ نہیں جا پارہے تھے۔ اسی لیے
یامین بھی فرہاد کو دادا جی کے متعلق آگاہ کرتا سکندر صاحب اور سویرا بیگم کے ساتھ باہر نکلا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
آنیہ کے ہاتھ میں وہی پینڈینٹ تھا۔ جو اسکے گلے میں تھا ۔ ایک جیسے دو پینڈنٹ۔۔؟؟ بالکل ایک جیسے۔۔۔؟
کیسے ہوسکتا تھا۔۔؟؟ آنیہ پریشان ہوٸ تھی۔
یہ پینڈنٹ اسکے پاس پورےایک سال سے تھا۔ اور وہ اسے اپنی کبرڈمیں رکھ کے اسکے متعلق یکسر بھول چکی تھی ۔
لیکن اب ویسا ہی پینڈنٹ دیکھ پھر سے اسے یاد آگیا تھا۔
وہ پریشان بیٹھی تھی۔ کہ ہانیہ اندر داخل ہوٸ۔
کیاہوا۔۔؟؟ آپی ۔۔؟؟ آپ یہاں بیٹھی ہیں۔۔ اور باہر آپ کے سسرال والے آچکےہیں۔۔؟؟ اور آپ کا پوچھ رہے ہیں۔۔ اب آبھی جاٸیں۔
ہانی۔۔۔۔! آنیہ نے پریشانی سے اسے پکارا۔
یہ۔۔۔یہ دیکھو! آنیہ نے پینڈیٹ اسکے سامنے لہرایا۔
واٶ۔۔۔۔! سو بیوٹیفل۔۔۔۔! آپ کا منہ دکھاٸ کا ہے۔۔؟ ہانیہ نے اشتیاق سے پوچھا۔
منہ دکھاٸ کا یہ ہے۔۔۔! اب کی بار اپنے گلےمیں پہنے پینڈیٹ کونکال کے سامنے کیا ۔
ہانیہ حیران ہوٸ۔ دونوں کو ہاتھ لگا کے چیک کیا۔
انیس بیس کا بھی فرق نہ تھا۔ دونوں کا سیم ڈیزاٸن تھا ۔
یہ۔۔۔ یہ۔۔کہاں سے ملا آپ کو۔۔؟ سوچتے ہوۓ حیرت سے پوچھا۔
یہ میری گاڑی۔۔۔؟
بی بی جی۔۔۔! آجاٸیں۔۔۔ باہر بلا رہے ہیں۔۔ ملازمہ نے دروازہ کھٹکھٹاتے اطلاع دی۔
بات ادھوری رہ گٸ۔ دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اور خاموشی سے اٹھتی باہر آگٸیں۔
سب نے مل کے کھانا وغیرہ کھایا۔ سبھی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میر ہادی نہ آسکا ۔ جس کا سب کو افسوس تو ہوا۔ لیکن اسکی اہم میٹنگ تھی۔ سب جانتے تھے۔بزنس اسی طرح ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی وہ کل اچھا خاصا وقت گزار کے گیا تھا۔ تو سبھی نے کوٸ زیاہ اعتراض نہ کیا۔
کشش نے سب کو گفٹس دٸیے۔
اس سب کی ضرورت نہیں تھی۔ بھابھی۔۔۔! آپ نے بے وجہ تکلف کیا۔ اچانک سے ابتسام کی بات پے ابرش نے سر اٹھا کے اسے دیکھا۔
کیسے ضرورت نہیں۔۔بھاٸ۔۔۔۔؟؟ یہ تحفے تحاٸف تو آپس کی محبتوں کو بڑھاتے ہیں۔۔ اور اچھا لگتا ہے مل بیٹھنا۔۔۔! اور اب تو ایک ہی ہو گۓ ہیں سب۔۔۔!
ہممم۔۔۔۔! اچھا ہے سب۔۔۔! لیکن۔۔۔ تحفے تو ہم نے بھی لیے ہوۓ ہیں۔ وہ آپ کو لے کے جانے ہیں۔ ابرش نے مسکراتے ہوۓ کشش کی بات کا جواب دیا تو وہ مزید مسکراٸ۔
بے شک۔۔۔ ! ہم بالکل انکار نہیں کریں گے۔ تحفے تحاٸف لینا دینا۔۔ یو نو۔۔۔مجھے کتنا پسند ہے۔۔ کشش پھر سے شروع ہو چکی تھی۔ یامین نے سر جھٹکا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
اب اگر تم نے جواب نہ دیا کہ کس کے کہنے پے تم میرے آفس آۓ تھے۔ تو تمہیں سیدھا اوپر پہنچا دیا جاۓ گا۔
سرد اور خونخوار لہجے میں کہتے میر ہادی سامنے والےکا خون خشک کر گیا۔
سر۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔مجھے چھوڑدیں۔۔۔۔مجھے نام نہیں پتہ۔۔۔ بس ہمیں تو ۔۔ فون آیا تھا۔ کہ آپ کے آفس سے ۔۔۔ بلیو فاٸل ان تک پہنچانی ہے جو آپ کے لاکر میں ہے۔ آپ کے آفس کا سارا پتہ انہوں نے سینڈ کیا۔ اور کہاں پہنچانی تھی۔ وہ ہمیں بعد میں بتانے والے تھے۔ جسکی نوبت ۔۔۔آپ نے نہیں آنے دی ۔
بلیو۔۔۔ کلرکی فاٸل۔۔۔؟؟ ہادی تو وہیں اٹک گیا۔ اور آنکھیں سختی سے میچتا وہ دوبارہ کھولتے سامنے والے کو دیکھنےلگا۔ اسکا جی چاہا ۔ سامنے والے کے ہزار ٹکڑے کر دے۔
مجھے وہ نمبر چاہیے جس پے یہ سب کہا گیا۔۔؟؟ میر ہادی اپنےاندر کے غصہ کو ضبط کرتا اس سے مخاطب ہوا تھا۔
جی۔۔ وہ موباٸل ان کے پاس ہے۔ اس میں ہے۔۔۔! وہ دھیرے سے منمنایا۔
میر ہادی نے عمران کی طرف دیکھا۔ عمران نے اثبات میں سر ہلایا۔ اور دونوں اس روم سے باہر آگۓ۔
عمران نے اس شخص کو اپنے اپارٹمنٹ میں قید کیا ہو تھا۔ اور اچھی خاصی اسکی درگت بنا چکا تھا۔ پولیس کیس بننے سے پہلے وہ خود ہی اسکا قلع قمع کرنا چاہتے تھے۔
میں نے موباٸل چیک کیا تھا۔ وہ کوٸ پراٸیویٹ نمبر تھا۔ سارا ڈیٹا بھی نکلوایا۔ لیکن وہ نمبر کسی کے یوز میں نہیں۔
تم جانتےہو۔۔؟ وہ بلیو فاٸل کس چیز کی ہے۔۔؟؟ میر ہادینے پرسوچ انداز میں دھیرے سے پوچھا ۔ عمران نے سوالیہ نظروں سے میر ہادی کی جانب دیکھا۔
جسکی آنکھوں سرخ انگارہ ہوٸ تھیں۔
انتہاٸ کرب تھا ان آنکھوں میں ۔۔۔ کہ ایک پل کو عمران بھی سہم گیا۔









ناچیں گے ہم۔۔۔۔
گاٸیں گے ہم۔۔۔۔
کیا دن ہوگا وہ۔۔۔
جب تو بنے گی دلہن۔۔۔۔










وہ وقت بہت بے رحم ثابت ہوا تھا۔
ہر طرف دیپ جالتے وہ لمحے اسکی آنھو ںمیں گھومے تھے۔
یہ گلیاں یہ چوبارے تیری یاد دلاٸیں گے۔۔۔
بن تیرے یہ سب مل کے مجھ کو بہت ستاٸیں گے
لیکن اپنے غم سے تیری خوشی سجاٶں گا۔
اپنے ہاتھوں سے سارے گھر میں دیپ جلاٶں گا۔











ایک بھاٸ ا اپنی بہن کے لیے درد۔۔۔ کوٸ لفظوں میں نہں بیان کر سکتا
روۓ گا دل میرا پھر بھی ناچے گاۓ گا۔۔۔
دروازے۔۔۔ پے تیرے۔۔۔۔ بارات لاۓ گا۔۔۔
ڈولی میں بٹھا کے ۔۔ تجھے لے جاۓ گا۔۔۔
گاتا مسکراتا ۔۔تیرا بھیا ۔۔رہ جاۓ گا۔۔۔











کمرے میں اندھیرا کیے وہ دنیا جہان سے بے خبر اپنے درد کے ساتھ جی رہا تھا۔
شدید کرب میں مبتلا تھا۔ وہ درد جسکی کوٸ دوا نہیں تھی ۔ جسکا کوٸ مرہم نہ تھا۔
جسکا کوٸ مداوا نہ تھا۔
ایک سال پرانا زخم تھا۔ کہاں اتنی جلدی بھر سکتا تھا۔۔؟ وہ بظاہر مضبوط نظر آنے والا شخص اس وقت رو رہا تھا۔ وہ اپنا درد کسی سے نہیں بانٹ سکتا تھا۔ وہ اپنے درد کے ساتھ جی رہا تھا۔ وہ درد۔۔۔ جس کے ساتھ اسکے اپنے ماں باپ بھی جی رہے تھے۔ دراز کے لاکر کوکھولتے وہ ایک تصویر نکال چکا تھا۔ وہ تصویر جو اسکی آخری ایک نشانی تھی۔اسکے پاس۔۔











کیا دن ہوگاوہ۔۔۔؟؟
جب توبنے گی دلہن ۔۔۔!
وہ بنی تھی دلہن۔۔۔ !
ایسی دلہن جسکے روپ کی مثالیں پورے شہر نے دی تھیں ۔ ایسی خوبصورتی جو کہیں دیکھنےکو نہ ملی تھی۔ وہ آسمان سے اتری کوٸ حودرپری ہی تھی۔
سب نے اسکے نیک نصیب کی دعا کی تھی۔
لیکن۔۔۔ نصیبوں کو گرہن تو لگ گیا تھا۔ جو سب کچھ اجاڑ کے لے گیا۔۔۔
اپنے سینے کے ساتھ اس تصویر کو لگاۓ وہ ریوالونگ چیٸر پے جھول گیا۔









میرا دل
میری جاں۔۔
میری زندگی۔۔۔
تیری ہر خوشی میں ہے میری ہر خوشی۔۔۔
کیا دن ہوگا وہ۔۔۔۔
جب تو بنے گی دلہن۔۔۔۔











دھیرے سے آنکھیں کھولتا وہ اپنے آنسو صاف کرنے لگا۔
وہ اپنے تڑپتے دل کو کسی صورت قرار میں نہیں دیکھ رہا تھا۔
اسےلگا اسکا سانس رک جاۓ گا۔ اپنی شرٹ کے دو بٹن کھولتا وہ گہرے لمبے سانس لینےلگا۔
روۓ گا دل میرا پھر بھی ناچے گاۓ گا۔۔۔
دروازے۔۔۔ پے تیرے۔۔۔۔ بارات لاۓ گا۔۔۔
ڈولی میں بٹھا کے ۔۔ تجھے لے جاۓ گا۔۔۔
گاتا مسکراتا ۔۔تیرا بھیا ۔۔رہ جاۓ گا۔۔۔











یامین موباٸل پے کال سنتا اب تھوڑا پریشان ہوتا آنیہ کیطرف گیا دروازے پے ناک کیا۔ تو کچھ ی دیر میں کھل گیا ۔
بیٹا۔۔۔! کوٸ پریشانی تو نہیں۔۔۔؟ کسی خیال کے تحت پوچھ لیا
نہیں انکل۔۔۔! آنیہ نے مسکرا کے جواب دیا۔
بیٹا۔۔۔! میر ہادی آفس میں ہیں۔ شاید انہیں آنے میں دیر ہوجاۓ۔ تو آپ فکر مند نہ ہوٸیے گا۔
جی انکل۔۔۔۔! آنیہ نے ابھی بھی مسکراتے ہی جواب دیا۔
میر ہادی کی مما ناں۔۔ انکی بہت ٹینشن لیتی ہیں۔ تو انہیں مت بتاٸیے گا۔ کہ میر ہادی لیٹ آۓ ہیں۔
اصل مدعے پے آتے وہ بولے تو آنیہ نے مسکراہٹ ضبط کی۔
آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔ میں احتیاط کروں گی۔ آنیہ نےقققق انہیں تسلی دی۔ تو وہ مسکراتے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گۓ۔ لیکن سیڑھیاں اترتے انکے چہرے پے سنجیدگی نے احاطہ کر لیا تھا۔ وہ جانتے تھے۔ اس وقت میر ہادی کا ڈارک روم میں ہونے کا کیا مطلب تھا۔۔۔؟
وہ پرانے پلوں کو یاد کرتا افسردہ تھا۔یہ دکھ اور درد دونوں باپ بیٹا سہہ لیتے تھے۔ اکیلے میں رولیتے تھے۔ لیکن ۔۔۔ کشش کے سامنے وہ نارمل رہتے تھے۔
آج وہ پھر ماضی کی ان یاوں میں خود کو غرق کیے ہوۓ تھا۔ اور جبتک گھر آنہیں جاتا ۔۔ میر بن یامین سکندر کو سکون کی پل نہیں آنا تھا۔
ⓜⓤⓝⓣⓐⓗⓐⓒⓗⓞⓤⓗⓐⓝ
دھیرے دھیرے اس نے اپنی آنکھیں کھولیں۔
زخم ایسے تھے کہ مانو جسم کے اندر تک جھاڑیوں نے گھس کے اسے تکلیف پہنچاٸ تھی۔
زرا کی زرا آنکھیں کھولتی وہ کسمساٸ۔
سامنے اجنبی چہرہ دیکھتے اسکی پوری آنکھیں کھل گٸیں۔
کیسی ہیں۔۔ اب آپ ۔۔۔؟؟ سامنے کھڑے شخص نے بہت ادب سے دریافت کیا۔
میں۔۔۔ کہاں ۔۔؟؟ وہ گھبراٸ تھی۔
گھبراٸیں نہیں۔۔۔ آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ ٹنیشن نہ لیں۔ پلیز۔۔۔ اسے پینک ہوتے دیکھ فوراً سے وہ بولا تھا۔
مجھے۔۔۔جانا ہے یہاں سے۔۔۔؟ آپ کون ہیں۔۔؟؟ وہ اٹھتے ہوۓ ڈرتے گھبراتے بولی تھی۔
ریلیکس۔۔۔۔۔۔! آپ محفوظ ہیں۔۔ آپ پلیز۔۔ مجھے دوست سمجھیں۔۔ اور مجھے بتاٸیں وہ کون لوگ تھے۔ جو آپ کے پیچھے پڑے تھے۔۔۔ اور آپ ۔۔کو کیوں مارنا چاہتے تھے۔۔؟؟ آہان کو اسکا انداز کچھ سمکھ نہیں آرہا تھا۔
وہ اسے جھاڑیوں میں گرتے نظر آٸ تھی۔ اس وقت وہاں وہ اپنی گشت میں مصروف تھا۔ کہ جھاصیوں پے کطچھ گرنے کی آواز سے وہ چونکا تھا۔ وہاں پہنچا تو اسے ایک لڑکی نظر آٸ۔ اس سے پہلے کہ وہ استک پہنچتا کطچھ لوگ بھاگتے ہوۓ نظر آۓ ۔ جیسے وہ کسی کو ڈھونڈ رہے تھے۔ اس وقت وہ سامنے نہیں آسکتا تھا۔ وہ سیکرٹ مشن پے تھا۔
لیکن اس نے اس لڑکی کی مدد کرنے کا سوچا اور اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ اسکا ڈاکٹر سے چیک اپ کے بعد وہ اسکے ہوش مثس آنےکا ویٹ کرر ہا تھا۔
تین گھنٹے بعد بالآخر اسے ہوش آگیا تھا۔
مجھے۔۔۔ نہیں۔۔۔ بتانا ۔۔۔آپ کو۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھے جانے دیں۔۔
اس لڑکی نے ہاتھ جوڑے۔ وہ رو دی ۔
آپ۔۔۔ مجھ پے بھروسہ کر سکتی ہیں۔ میں آپ کی مدد۔۔؟ آہان کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کہہ کے اسے مطمین کر سکے ۔
مدد۔۔۔؟؟ آپ کیوں کرنے لگے میری مدد۔۔؟؟ بنا کسی غرض کے۔۔؟؟ کون کرتا ہے کسی کی مدد۔۔؟؟ وہ تلخ ہوٸ تھی۔
انسانیت ابھی بھی زندہ ہے۔۔ آپ کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا ہے تو۔۔۔ حفاظت بھی کر سکتا ہوں۔
آہان نے پورے یقین سے اس نازک سی لڑکی کو باور کروایا۔ تو کچھ پل وہ چپ ہی ہوگٸ۔
مجھے بنا کسی رشتے کے کسی پے اعتبار نہیں کرنا۔۔۔ پلیز۔۔۔ مجھےجانے دیں۔۔ اور میرے حال پے چھوڑ دیں ۔
اس نے پھر بھی آہان کی بات نہ مانی۔
آپ مجھے۔۔۔ ان لگوں کا پتہ بتا دیں۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔۔ آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔! آپ کی حفاظت کا زمہ۔۔۔؟؟؟
کس حق اور رشتے سے۔۔۔؟؟ وہ پھر سے تلخ ہوٸ۔
آہان کو سمجھ نہ آیا وہ کہنا کیا چاہ رہی ہے۔
کیسا رشتہ چاہتی ہیں۔۔؟؟ بھاٸ بہن۔۔؟؟
آہان نے اسکے دل اک حال جاننے کی کوشش کی۔
بھاٸ۔۔۔؟؟ اس نے زیرِ لب دہرایا۔











روۓ گا دل میرا پھر بھی ناچے گاۓ گا۔۔۔
دروازے۔۔۔ پے تیرے۔۔۔۔ بارات لاۓ گا۔۔۔
ڈولی میں بٹھا کے ۔۔ تجھے لے جاۓ گا۔۔۔
گاتا مسکراتا ۔۔تیرا بھیا ۔۔رہ جاۓ گا۔۔۔











بتاٸیں۔۔؟؟ میں آپ کو اپنی بہن۔۔؟؟
نہیں۔۔۔! بھاٸ کا رشتہ سگھا ہو تو ہی پاٸیدار ہوتا ہے۔۔۔مھے۔۔ اپنی عزت بنانا ہوگا آپ کو۔۔۔! مجھ سے نکاح کرنا ہوگا آپ کو۔۔۔! ایک دم سے اس لڑکی کے منہ سے نکلے الفاظ پے آہان تو گم صم ہی ہوگیا۔
نکاح۔۔۔؟ زیرِلب دہرایا۔ جبکہ اپنی اتنی کم آواز اسے خود بھی سناٸ نہیں دی۔
اگر آپ نہیںسکرنا چاہتے تو کوٸ زور زبردستی نہیں۔۔بس مجھے یہاں سے جانے دیں۔
وہ بمشکل اٹھتے ہوۓ بولی۔
پلیز۔۔۔۔! آپ کو کافی چوٹیں آٸ ہیں۔
جو چوٹیں میں ایک سال سے کھا چکی ہوں۔۔ اس کے آگے یہ چوٹیں کچھ نہیں۔۔۔! وہ بے زاری سے بولی۔
آپ۔۔ مجھ پے بھروسہ کر سکتی ہیں۔۔! ضروری نہیں نکاح۔۔۔؟؟
ضروری ہے۔۔۔! آپ ۔۔۔ میری مدد کریں گے تو بدلے میں کچھ نہ کچھ مانگیں گے۔۔۔ اور لڑکی کے لیے اسکی عزت سے بڑھ کے کچھ بھی نہیں۔ اگر آپ مجھے اپنی عزت بنا سکتے ہیں تو ٹھیک۔۔۔ ورنہ میں یہاں نہں رک سکتی۔۔۔!
می آپ کو پولیس پروٹیکشن دوں گا۔
آپ کچھ بھی کہہ لیں۔۔۔ لیکن۔۔ مجھے اعتبار نہیں۔۔۔۔!کسی پے بھی نہیں۔۔۔!
وہ پھر سے بات کاٹتے بولی۔
پھر اس بات پے اعتبار ہے کہ میں نکاح کے بعد آپ کو چھوڑوں گا نہیں۔۔۔؟؟ آہان کو بھی اسکی منطق سمجھ نہ آٸ۔
وہ میرے نصیب ہیں۔۔ لیکن۔۔ بنا کسی ٹھوس رشتے کے میں یہاں ایک پل بھی نہیں رک سکتی۔۔۔
اب کی بار وہ سخت لہجے میں بولی۔ اور اٹھ کھڑی ہوٸ۔
آہان کو اسے روکنا تھا۔ اس کے زریعے ہی وہ اپنا مشن مکمل کر سکتا تھا۔ کیونکہ اسکا پیچھا کرنے والوں میں ایک سلطان کا آدمی تھا۔ جسکی آہان کو تلاش تھی۔
اور یقیناً یہ لڑکی اسکے مشن میں اسکی مددگار ثابت ہوسکتی تھی۔ ان کے اڈے کے بارے میں وہ بہت کچھ جانتی تھی۔
وہ لڑک لڑکھڑاتی ہوٸ دروازے تک پہنچ چکی تھی۔
ایک منٹ۔۔۔۔! آہان کی آواز پے ایک پل کو وہ رکی۔ اور پلٹی۔
اگر اعتبار کا معیار ۔۔۔ نکاح ہی ہے ۔۔ تو۔۔ ٹھیک ہے۔۔ میں نکاح کے لیے تیار ہوں۔
آہان کی آواز میں زرا بھی لغزش نہ تھی۔ البتہ دل نے سختی سے نفی کی تھی۔ جو وہ نظر انداز کر گیا تھا۔











رات کے تین بجے آنیہ کھٹکے کی آواز پے جاگی تھی۔ میر ہای کا رات تین بجے آنا۔۔ وہ پریشان ہو اٹھی تھی۔
آپ۔۔۔ ٹھیک ہیں۔۔؟؟ آنیہ نے پریشانی سے اس سے پوچھا۔ وہ جو رتجگے کا پتہ دے رہا تھا۔
آنیہ کی آواز پے اسکی جانب پلٹا۔
سوجاٸیں۔ آواز میں سرد پن تھا۔ آنیہ ایک لمحہ کاس شخص کو دیکھے گٸ۔
کیا ہوا۔۔۔؟؟ آپ کی طبعیت۔۔۔؟؟ آنیہ فکرمندی سے اسکےپاس آٸ۔
آپ کو ایک بات سمجھ نہیں آرہی۔۔؟؟ سوجاٸیں جا کے۔
اب کی بار ہو بنا اسے دیکھے تلخ ہوا تھا۔ کہ آنیہنے سہم کے دو قدم پچھےلیےنم اسکی آنکھیں نم ہوگٸیں ۔
رخ پلٹ کے میر ہادی سخت قدم لیتا اسٹڈ ی روم کا رخ کر چکا تھا۔
گال پے لڑھکتا اپنا ہی آنسو انگلیکی پور پے اٹھاتے وہ دل چھوڑ بیٹھی تھی۔
میر ہادی کا تلخ انداز اسے اندر تک توڑ گیا تھا۔
اس شخص کے جیسے جیسے قریب ہونے لگتی۔۔۔ یہ شخص ایک نٸے روپ میں سامنے آجاتا۔ اور وہ سوچ میں پڑجاتی۔ اسکا اصل روپ کونسا ہے۔۔۔؟؟
جاری ہے
