Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mera Haq e Wirasat (Episode 04)

Mera Haq e Wirasat  by Muntaha Chohan

ابتسام آنیہ کو لیے اندر کمرے میں چلے گۓ ۔

سبھی حیران تھے کہ اچانک سے آنیہ کو ہوا کیا؟ کیوں اس نے نکاح سے انکار کر دیا۔

مجھے سب کچھ بتاٶ۔ آنیہ۔۔؟ کیا ہوا۔۔۔؟ کون مار ڈالے گا۔۔؟ ابتسام نے بیٹی کو حوصلہ دیا ۔

ڈیڈ۔۔۔؟؟ وہ۔۔۔لوگ۔۔۔؟؟ آنیہ سے کچھ بھی بولا نہ جا رہا تھا۔ لیکن اب وہ چھپا نہیں سکتی تھی۔

کون لوگ۔۔؟؟ کسے مار ڈالیں گے۔۔؟ مجھے بتاٶ۔۔ بیٹا۔۔؟؟

ابتسام نے زور دیتے پوچھا۔ تو آنیہ نے اپنے گالوں پے آۓ آنسوٶں کو صاف کیا۔

میں۔۔ میں۔۔ نہیں۔۔ جانتی۔۔ وہ کون لوگ ہیں۔۔؟؟ لیکن۔۔ وہ ہانی کو مار دیں گے۔۔۔!بلآخر وہ بول ہی پڑی۔

کیا مطلب۔۔۔؟ آپ کے نکاح سے ہانیہ کا کیا تعلق۔۔؟؟

ابتسام کے پوچھنے پے آنیہ نے سختی سے آنکھیں میچیں۔

جبکہ دروازے سے اندر آتے آہان کے قدم وہیں تھمے۔

اسکی سماعت بھی آنیہ کے جواب پے ٹکی تھی۔ اور دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ کیا کہنے والی تھی؟

آنیہ نے گہرا سانس خارج کرتے اپنا موباٸل باپ کے حوالےکیا۔

یہ۔۔۔ان ناٶن نمبر ہے۔۔آج صبح سے اس نمبرسے مجھے تھریڈز مل رہے ہیں۔۔ پہلےتو۔۔ میں نے پرواہ نہ کی۔ اور نہ ہی سیریس لیا۔۔۔

لیکن۔۔۔ آج شام۔۔۔ کو آٸے میجسز نے مجھے بری طرح چونکا دیأ۔ آنیہ سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا۔

موباٸل ابتسام کے ہاتھ میں تھا۔ اس میں دو تصاویر تھیں۔ جہنیں وہ باپ ہوتے دیکھ نہ پایا۔ اور آنکھیں میچ لیں۔

یہ سب۔۔۔ مجھے پہلےکیو ں نہ بتایا۔۔؟؟ ابتسام کے ماتھےپے بل پڑے۔

آہان کو تجسس ہوا۔ کہ موباٸل میں ابتسام نے کیا دیکھا۔

ڈیڈ۔۔۔؟ یہ۔۔کچھ دیر پہلے کی پکس ہیں۔۔ اور۔۔ شاید ہانیہ جانتی بھی نہیں۔۔اس نے کل ہی شاپنگ کی ہے۔۔۔اور چینجگ روم اے اسکی یہ پکس لی گٸ ہیں۔۔۔ ! وہ جو کوٸ بھی ہے۔۔ ڈیڈ۔۔ ! ہانیہ سے بہت قریب ہے۔۔۔ ! ورنہ۔۔ یہ سب۔۔؟

اس سب کاآپ کے نکاح سے کیا تعلق۔۔۔؟ ابتسام کو اب بھی آنیہ کے انکار کی وجہ سمجھ نہ آٸ تھی۔

ڈیڈ۔۔! آپ نے میجسز نہیں پڑھے۔۔؟؟ کہ اگر ۔۔ میں نے یہ نکاح کیاتو۔۔؟ وہ۔۔۔ ہانی کی پکس ۔۔ واٸرل کر دیں گے۔۔۔ اور۔۔ اسے ۔۔۔مار۔۔۔؟؟ آنیہ رو دی۔ تو ابتسام نے اے سینےسے لگایا۔

بیٹا۔۔! گھبرا کیوں رہی ہیں؟ آپ کے ڈیڈ ابھی زندہ ہیں۔۔ ! اور ابتسام پیرزادہ کے ہوتے اسکی اولاد کے بال کو بھی کوٸ چھو نہیں سکتا۔

آپ پریشان نہ ہوں۔ میں سب حل کر لوں گا۔ آپ نکاح کی تیاری کریں۔ باہر مولوی صاحب موجود ہیں۔ لڑکے والے موجود ہیں۔ آپ نکاح کی اجازت دیں۔ باقی اپنے ڈیڈ پے چھوڑ دیں۔

ابتسام نے اسے سمجھایا۔ پوری تسلی کرواٸ۔ فون کر کے ارتسام کو اندر بلایا ۔ اسے مختصراً بات سمجھا کے آنیہکو باہر لے جانے کا کہا ۔

ڈیڈ۔۔۔؟؟ ہانی۔۔؟؟ آنیہ کی سوٸ پر وہیں اٹکی۔

سب صحیح ہوجاۓ گا۔ لیکن اس وقت سب سے پہلے آپ کا نکاح ہوگا۔ جو کہ دونوں خاندانوں کی عزت پے ٹکا ہے۔ میری بات سمجھ رہی ہیں ناں۔۔آپ۔۔؟؟ ابتسام نے اسے سنجیدہ انداز میں سمجھایا۔ تو آنیہ اثبات میں سر ہلاتی ارتسام کے ساتھ گھونگھٹ نکالے باہر آگٸ۔

میر ہادی جو کافی دیر سے یہ سب ڈرامے بازیاں دیکھ رہا تھا۔ اس کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوا۔ وہ جارحانہ انداز میں اٹھتا کشش کی طرف بڑھا۔ کہ اسی وقت آنیہ گھونگھٹ نکالے باہر آتی دکھاٸ دی۔

مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔ ارتسام نے مسکرا کے کہا۔

مولوی صاحب نے پھر سے اللہکانام لےکے نکاح شروع کیا۔ اس بار آنہ نے ایک منٹکی دیری کیےبنا قبول ہے۔ کہا۔

آنیہ کے قبول و ایجاب کے بعد مولوی صاحب میر ہادی کی جانب بڑھے۔ اس سے بھی قبول ایجاب کروا کے دعاۓ خیر کی۔

میرہادیکے چہرے کی سجنیدگی کسی سے چھپی نہ تھی۔ اسکے اندر کیا چل رہا ہوگا۔۔؟؟ کشش کو اسکا چہرہ پڑھتے سمجھ آرہا تھا وہ خود حیران تھی کہ اچانک سے ہوا کیا تھا۔۔؟؟ لیکن فی الحال خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔

مبارک ہو۔۔۔! مولوی صاحب نے میر ہافی کو سب سے پہلے گلے لگا کے مبارک دی۔ سبھی باری باری دلہا دلہن کو مباک باد دے رہے تھے۔ سبھی کے چہروں پے چھاٸ پریشانی اب دور ہو چکی تھی۔ سبھینے نکاح ہوتے ہی سکون کا سانس لیا تھا۔ خاص طور پے کشش اور ابرش نے۔ دونوں ہی اب ایک دوسرے کےپاس کھڑی تھیں ۔ ایک دوسرے سے بات کرتے وہ دونوں ہی الجھی ہوٸ تھیں۔ کیونکہ آنیہ نے ایسا کیوں کیا وہ دونوں ہی نہیں جانتی تھیں۔

عروش آنیہ کو میر ہادی کےپاس اسٹیج پے لے گٸیں۔ میر ہادی کے ساتھ بٹھاتے ہی میر ہادی اپنیجگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اسکے چہرے کے اعصاب تنے ہوٸے تھے۔ ماغ کی رگیں ابھر ی ہوٸ نظر آرہی تھیں۔ اسکا غصہ بہت شدید ہوتا تھا۔ اور اب بھی وہ شدید غصہ میں تھا۔

کشش فوراً اسٹیج کی جانب بڑھیں۔

اس سے پہلے کہ میر ہادی اسٹیج سے نیچے اترتا۔ وہ اس تک جا پہنچیں۔

ہادی۔۔! کیا ہوا۔۔؟ آپ اٹھ کیوں گۓ۔۔؟ ایک ڈر تھا۔

میرہادی نے لب بھینچتے ماں کو دیکھا۔ جیسے کہہ رہا ہو جہ آپ نہیں جانتیں۔۔؟؟

ہادی۔۔۔! پلیز بیٹھ جاٸیں۔

اردگرد نظریں دوڑاتے وہ مسکراتے ہوۓ ہادی سے بولیں۔

مما۔۔۔! یہ نکاح صرف آپ کی خوشی کی خاطر کیا ہے۔ ورنہ جو یہاں ہوا۔ میں ایک منٹ بھی یہاں کھڑا ہونا گوارا نہ کروں۔ اور ابمزید مجھ سے کوٸ امید مت رکھیے گا۔

سخت گیر لہجہ۔ پاس بیٹھی آنیہ نےایک ایک لفظ اپنے دل میں اترتا محسوس کیا ۔ اسکی اتنی آواز تھی۔ کہ اس تک باآسانی پہنچ گٸ۔ دو آنسو ٹوٹ کے بہےتھے۔

ہادی۔۔۔۔! ڈونٹ گو۔۔۔ پلیز۔۔۔ جسٹ فار می ۔۔۔! کشش نے دھیمے لہجےمیں بیٹے کی کلاٸ تھامی۔ ایک درخواست تھی۔ لہجے میں۔ اور آنکھ نم۔

ہافی ماں کی آنکھوں کے آنسو کہاں دیکھ سکتا تھا۔۔۔؟؟

اپنے ضطراب پے قابو پاتا خاموشی سے واپس بیٹھ گیا۔

کشش نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا ۔

ہادی کے بیٹھتے ہی آنیہ کا دل زور سے دھڑکا۔ اسکا پورا وجود دھیرے دھیرے لرز رہا تھا۔ اور اسکا لرزنا ہای سے چھپا نہ تھا۔

💖
💖
💖
💖
💖
💖
💖

نکاح ہو چکا ہے۔ ۔۔ کیا فاٸدہ۔۔۔؟؟ تمہارا سارا پلان فیل ہوگیا۔۔۔! ہادی ۔۔۔ہادی دورہوگیامجھ سے۔۔۔۔! وہ رو رہی تھی چلا رہی تھی۔ جبکہ فضا غصہ سے ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی۔

کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔؟؟ اتنا پاور فل پلان تھا۔ کیسے وہ ۔۔۔؟؟ راضی ہوگٸ۔۔۔! بہت بڑی غلطی کر دی۔ آنیہ نے۔۔۔! اب۔۔۔ اب اسکا خمیازہ۔۔ اسکی بہن بھگتےگی۔ جب اسکی تصویریں ہر موباٸل کی زینت بنیں گیں ۔ نفرت اور غصے سے کہتی اس نے اپنے قریبی دوست سرمد کو کال کرنا چاہی کہ اسی وقت سرمد کی کال آگٸ۔

نکاح کر لیا ہے۔۔ اس نے۔۔۔! سارا پلان چوپٹ ہو گیا۔ اب کیا کریں۔۔؟؟

فضا نے غصہ ضبط کرتےکہا۔

جو کرنا کرانا ہوا بعد میں کرنا۔ پہلے یہاں سے جتنی جلدی ہو سکے۔ نکل جاٶ۔۔۔ ! اس آنیہ نے اپنے باپکو سب کچھ سچ سچ بتا دیا ہے ۔ کسی بھی وقت وہ تم تک پہنچ جاٸیں گے۔ اور۔۔ اریسٹ ہو جاٶ گی ۔

سرمد نے اسے وارن کیا۔ تو اسکے چہرے کا رنگ پل میں فق ہوا۔

فون بند کرتی وہ ردا کی جانب مڑی.

پھس گۓ۔۔۔ ! ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔

فوراً سے دردا کو ساتھ لیا اور کمرے سے باہر نکلیں لفٹ میں داخل ہوتے فضا کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ اسکی چھٹی حس اسے کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔

جیسے ہی لفٹ کھلی۔ سامنے پولیس کی وردی میں دو آدمیوں کو دیکھ وہ گنگ رہ گٸ۔

اتنی بھیکیا جلدی ہے۔۔۔۔؟؟ لینےآگۓہیں آپ کو ہم۔…

آنے والے نے ایک اداسے کہا۔ فضا نے وہاں سے بھاگنا چاہا لیکن پکڑی گٸ۔ ردا کو بھی حراست میں لےلیا گیا۔

انہیں پولیس وین میں لے جاکےبٹھا دیا گیا ۔ ردا بہت سخت ڈر گٸ تھی۔ جبکہ فضا کی حالت بھیاس سے مختلف نہ تھی۔

سر۔۔۔۔! انہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ فون پے اطلاع دیتے اس پولیس والے نے فخ سے بتایا۔

آگے سے اسےکچھ ہدایات ملی تھیں۔

اوکے سر۔۔۔!

وہ فون بند کرتا وین کی جانب بڑھا ۔

موباٸل فون کدھر ہے۔۔۔؟؟ لاٶ۔۔ادھر۔۔! غصہ سے اس پولیس والے نے فضا کو کہتےاسکے اہتھ سے موباٸل کھینچا۔ وہ تڑپ کر ہی رہ گٸ۔

موباٸل واپس کریں۔ وہ خود پے ضبط کرتی وہ آہیستہآواز میں چلاٸ تھی۔

بکواس بند کرو۔ وتنہ جیل کی بجاۓ سیدھا اوپر پہنچا دوں گا۔ اسکا موباٸل اپنی پاکٹ میں ڈالتے وہ غراتے ہوۓ بولا تھا۔ اور فرنٹ سیٹ پے بیٹھتا ڈراٸیور کو چلنے کا اشارہ کیا ۔

اب کیا ہوگا۔۔۔؟ ردا نے دھیرے سے فضا کے کان میں گھستےہوۓ کہا۔

فضا نےاسے ایک گھوتی سے نوازا۔

سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔ ! ابھی چپ کر کے بیھ جاٶ۔ اور مجھے ۔۔سوچنے دو۔

فضا نے اسے گھرکا تو وہ دل مسوس کر کے رہ گٸ۔

💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫

اف کیا مصیبت ہے۔۔؟؟ یہ آج نیٹ ورک کیوں نہیں چل رہا۔۔۔؟؟

سہج سہج کے چلتی وہ اوپر کی جانب اپنے ہی دھیان میں سیڑھیاں چڑھتی جا رہی تھی۔ کہ کسی کے زور سے بازو سے کھینچنے پے وہ بے اختیار کھینچی چلی گٸ۔

دیوار کے ساتھپن کیے وہ اسے غصہ کی آخری حد تک دیکھے جا رہا تھا۔ جبکہ ہانیہ نے ماتھےپے بل ڈالےاسے دیکھا ۔

کیا بے ہودگی ہے یہ۔۔۔؟؟ دانت پیستے ہوۓ بولتی وہ آہان کو سخت بری لگی تھی ۔

یہی اگر میں تم سے پوچھوں تو۔۔؟ اسی کے انداز میں پوچھتا وہ ہانیہ کو سر سے پاٶں تک سلگا گیا۔

دور رہ کے بات کرو۔۔ ہاتھ سے اسکے سینے پے پش کرتی وہ حتی المکان خود پے قابو کرتی بولی تھی۔

تمہارےپاس آنےکا شوق ہے بھی نہیں مجھے۔ لیکن۔۔ اپنی لمٹس کو کراس مت کرو۔۔ اتنی تیزی مت کھاٶ۔۔ کہ خود ہی ٹھوکرکے ایسی گرو ۔۔۔ کہ سنبھلنے کا بھی موقع نہ ملے۔

آہان کی سخت گیر باتیں ہانیہ نے لب بھینچے اسے دیکھا۔

کہنا کیا چاہتے ہو تم۔۔۔؟ کیسی ٹھوکر۔۔۔؟؟ بھنوٸیں اچکاتے دریافت کیا ۔

آہان نے پیچھے ہٹتے نفی میں سر ہلایا ۔

جس انسان کو دوست اور دشمن کی پہچان نہ ہو۔ وہ ہر مقام پے ہار جاتا ہے۔۔۔۔ ! صرف بڑی بڑی باتیں کرنا ہی نہیں سب کچھ ہوتا۔ کچھ۔۔۔کر کے۔۔؟؟

اپنی بکواس۔۔۔؟؟؟ ہانیہ نے انگلیاٹھا کے اسے وارن کرنا چاہا ۔

اپنے لہجے اور الفاظ پے قابو رکھو ۔ ہانیہ ابتسام۔۔۔! ورنہ آہان۔۔کیا کر لے ۔۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی۔

اسکے قریب ہوتے وہ غراتے ہوۓ بولا۔

اچھا۔۔۔۔؟؟ کیا کر لو گے تم۔۔۔؟؟ آخر تم۔۔؟؟ سمجھتے کیا ہو خود کو۔۔؟؟ بہت کوٸ تیس مار خان ہو۔۔۔؟ بھولو۔۔۔مت۔۔ میرے ڈیڈ کی وجہ سے آج تم سر اٹھا کے چلنے کے قابل ہوۓ ہو۔۔ ورنہ۔۔ تم۔۔۔ اور تمہاری زات۔۔۔؟؟

خبردار ۔۔۔! زور سے دیوار پے مکا مارتے وہ ہانیہ کو ایک دم سے چپ کرا گیا۔

ایک لفظ اور نہیں۔۔! غصہ سے آہان کی رگیں تن گٸیں۔ آنکھیں خطرناک حد تک لال ہو چکی تھیں۔

میری زات پے انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لو۔۔۔! آج ۔۔۔ جس پے تم۔۔ انگلی اٹھا رہی ہو۔۔۔ اسی کی وجہ سے تمہاری زات مٹی میں ملنے سے بچی ہے۔

بہت حد تک خود پے ضبط کرتا آخر ناچاہتے ہوۓ بھی وہ اسے آٸینہ دکھا ہی گیا۔

کیا۔۔۔۔؟؟ کیا۔۔۔مطلب۔۔۔؟؟ ہانیہ کو کچھ غلط ہونےکا احساس ہوا۔

بنا کچھ کہے۔۔۔ موباٸل اسکےہاتھ میں تھماتا وہ پیچھے ہٹا تھا۔

موباٸل اسے جانا پہچانا لگا تھا۔ اسکی سکرین اپن کی تو ہانیہ کے پیروں تلے سے زمین ہی کھسک گٸ۔

اسے لگا گھر کی چھت اسکے اوپر آن گری ہو۔

کل شاپنگ مال کے لمحات اسکی آنکھوں کے گرد گھومے۔

یار یہ ببلیک ڈریس تم پے بہت سوٹ کرے گی۔۔۔پلیز۔۔ پہن کے دیکھو ناں۔۔۔! فضا کے اصرار کرنے پے ناچاہتے ہوۓ چینجنگ روم جا کے ا نے ڈریس پہن کے چیک کی تھی۔ اور یہیں وہ غلطی کر گٸ تھی۔ سنگین غلطی۔

اسکی تصاویر فضا نے ہی کھینچیں تھیں۔

ہانیہ موباٸل پہچان گٸ تھی۔

نفی میں سر ہلاتی اسکی آنکھیں اشک بار ہوٸ تھیں۔

ایک پتھریلی نظر اس نے سامنے کھڑے آہان پے ڈالی۔اور کانپتے ہاتھوں سے وہ تصاویر ڈیلیٹ کرنے لگی۔ کہآہان نے موباٸل اسکے ہاتھ سے اچک لیا ۔ ایک زخمینظر اس پے ڈالتا وہ واپس مڑا کہ ہانیہ اسکے سامنے دیوار بن کے کھڑی ہوگٸ۔

مجھے۔۔ موباٸل دو۔۔۔! خود پے ضبط کے باوجوداسکا لہجہ کانپ رہا تھا۔

اچھا۔۔۔ ؟؟ کیا کرو گی اسکا۔۔؟؟ بھنوٸیں اچکاتا اب کی بار پرسکون ہوتا بولا تھا وہ۔

سب۔۔۔ سب ڈیلیٹ۔۔؟ ہانیہ سے بمشکل الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کے ادا ہوۓ تھے۔

اس کے علاوہ اگر کسی اور بھی موباٸل میں ہوٸیں تصویریں۔۔؟ تب۔۔؟؟ تب کیا کرو گی۔۔۔؟ اور اگر ۔۔سوشل میڈیا تک پہنچ گٸ ہوٸیں۔۔تو۔۔۔؟

آہان نے اسے اچھا خاصا آٸینہ دکھا دیا تھا آج ۔ اسکی باتوں پے وہ اندر ہی اندر تڑپ گٸ تھی۔

آنسو ٹوٹ کے گالوں پے بہہ نکلے تھے۔ وہ کتنی ہی بہادر کیوں نہ ہوتی۔۔؟؟ تھی تو ایک لڑکی ہی ناں۔۔؟؟

اور ہر لڑکی کی طرح اسے اپنی عزت اپنی جان سے بھی بڑھ کے تھی۔

نننہیں۔۔۔ ! اس سے پہلے۔۔۔ ہانیہ مر جاۓ گی۔۔ لیکن۔۔ اپنی عزت پے۔۔ داغ نہیں لگنے دے گی۔

مضبوط انداز میں کہتی وہ پلٹی تھی۔ کہ آہان نے فوراً آگے بڑھتے اسکی کلاٸ تھاے اسے اپنی طرف کھینچا۔

چھوڑو۔۔ مجھے۔۔۔! وہ خود کو چھڑاتی بری طرح رو دی تھی۔ اسے کچھ سمجھ نہ آرہا تھا۔ کہ وہ کیا کرے۔ اسکا دماغ ماٶف ہو چکا تھا۔

ڈیڈ کی عزت ۔۔خاندان کی عزت۔۔ اس نے انجانے میں ہی داٶ پے لگا دی تھی۔ صرف دوستی میں وہ دھوکا کھا گٸ تھی۔

اچھا۔۔۔!اس سب کا حل موت ہے۔۔؟ ہانیہ ابتسام۔۔ ایسی غلطی بھول کے بھی مت کرنا۔۔۔!ورنہ جس عزت کی ےم بات کر رہی ہو۔ اسے مٹی میں مٹی ہوتے ایک لمحہ سے بھی کم وقت لگے گا۔

ایک غلطی تم کر چکی ہو۔۔۔ اب اس پے دوسری غلطی کرنے جا رہی ہو۔۔؟؟ آہان نے بھنوٸیں سکیڑ کے اس سے سمجھانا چاہا۔

اور کیا۔۔۔حل ہو سکتا ہے۔۔؟ میں۔۔ دوستی میں سب۔۔۔برباد کر چکی ہوں۔۔ سب کچھ۔۔۔!!! یہ سوچ۔۔۔کہ۔۔۔ میں۔۔میری۔۔ تصویریں۔۔۔؟؟ سب۔۔کے فون۔۔۔؟؟؟ روتے ہوۓ اس سے بولا بھی نہ جا رہا تھا۔

سب ٹھیک ہے۔۔! کچھ نہیں۔۔ ہوا۔۔۔ سب کچھ ڈیلیٹ ہو چکا ہے۔۔۔ ڈونٹ وری۔

آہان سے اسکا یوں رونا نہ دیکھا گیا۔ تو اسے سچ بتا دیا۔

مطلب۔۔۔؟؟ ہانیہ سر اٹھا کےاسکی جانب سوالیہننظروں سے دیکھا ۔ ایک پل کو آہان کو لگا اسکی جھیل سی آنکھیں اسے اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔ لیکن اگلے ہی پل اس نے خود پے سرد مہری کا لبادہ اوڑھ لیا۔

اور پیٹھ پھیرتا جانے لگا کہ رک کے صرف چہرہ اسکی طرف کر تا ایک نظر اسے دیکھا۔

آہان۔۔۔ ہوں میں۔۔ ! جو مشن ہاتھ میں لیتا ہوں۔ اسے مکمل کر کے ہی دم لیتا ہوں۔ صرف اس موباٸل میں ہی رہ گٸ تیں یہ پکس۔۔۔! اور اب وہ بھی ڈیلیٹ ۔۔۔! کہتےہوۓ موباٸل سے ساری تصویریں ایک ہی بار بھی ڈیلیٹ کرتا وہ موباٸل جیب میں ڈالتا جا چکا تھا۔

اسکے جانے کے بعد ہانیہ نے رخ پلٹتے اپنے آنسوٶں کو صاف کیا۔

آج پہلی بار اسے آہان کے سامنے شرمندگی سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ جسے اس نے کبھی کوٸ اہمیت نہ دی تھی۔ آج اس پے احسان کرگیا تھا۔

ایک شدید نفرت کی لہر اسکے تن بدن میں سرایت کرگٸ۔

آٸ سوٸیر۔۔۔ ! فضا۔۔۔ آٸ ول کل یو۔۔۔!

چہرے پے سختی لیے وہ باہر کی جانب بڑھی۔

💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫
💫

آپ کو لگتاہے۔۔۔کہ وہ گھبرا گٸ تھی۔۔؟؟ آپ کسے تسلیاں دے رہی ہیں۔۔؟؟ مما۔۔!!

گھر آتے ہی وہ اپنے کنرے میں بند ہوگیا تھا۔ ایسے میں کشش نے ہی اس سے بات کرنے کی ٹھانی تھی۔ وہ بہت غصہ میں تھا۔ اور اسکا غصہ بجا تھا۔

لیکن کشش ہرگز نہیں چاہتی تھی۔ کہ ان کے رشتے کا آغاز کڑواہٹ سے ہو۔ اس لیے بیٹے کو سمجھانے چلی آٸیں۔ پر وہ تو ہتھے سے ہی اکھڑ گیا۔

بیٹا۔۔! تھوڑا برداشت کا مادہ پیدا کریں۔ ضرور نہیں حالات و واقعات ہمیشہ ویسے ہی ہوں۔۔ جیسا ہم سوچتے ہیں۔۔ ! اللہ پے بھروسہ رکھیں۔۔ سب ٹھیک ہوگا۔

جی بالکل۔۔۔! آج نکاح کے وقت۔۔ جو تماشا لگا۔۔ اب کل مہندی کے وقت بھی لگے گا۔ اور پھر رخصتی کے وقت بھی۔ بس۔۔۔ سب برداشت کرتے رہیں۔۔ اور اپنی عزت کا مذاق ۔۔؟؟

ہادی۔۔۔؟؟ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ وہ گھبرا گٸ تھی تھوڑا۔ پہلی بار ایسا ہوتا ہے تو سبی گھبرا جاتی ہیں ۔

اچھا۔۔۔! تو آپ کے کہنے کا مطلب۔۔؟؟ کہ اگلی بار نہیں گھبراۓ گی۔۔؟؟ مما۔۔ واٹس رانگ ود یو۔۔؟؟

سب کی لاٸف میں یہ وقت ایک ہی بار آتا ہے۔ اور ہم دونوں کی لاٸف میں بھی ایک ہی بار آیا ہے۔

اچھا خاصا وہ بہت کچھ ماں کو باور کروا رہا تھا۔

اچھا۔۔!اب غصہ ختم کریں نا۔۔تا کہ آپکی مما کو سکون آۓ۔

غصہ نہیں ہوں مما۔۔۔! ایک گہرا سانس خارج کیا۔

اگر آج وہ ۔۔ نکاح سے انکار کر دیتی۔۔۔ اور یہ نکاح نہ ہوتا۔۔ تو آٸ سوٸیر اسے بھی جان سے مار دیتا اور خود کو بھی۔

سرد پن سے کہتا وہ کشش کو اند رتک ہولا گیا تھا۔

ہو گیا ناں۔۔ نکاح۔۔۔! اب سب کچھ ٹھیک ہوگا۔ میرے ہادی کی دلہن آنیہ ہی بنے گی۔ اور رخصت ہو کے گھر آۓ گی۔ مسکرا کے کہتے اسکے بال خراب کیے۔ جو سلکی ہونے کی وجہ سے ماتھے پے بکھر گۓ تھے۔ رخصتی تو ہو کے رہے گی۔۔۔ ! نہیں تو جان سے جاۓ گی۔

دل ہی دل میں وہ کہتا ماں کو سینے سے لگا کے انہیں مطمین کر گیا تھا۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *