Mera Haq e Wirasat Season 2 Haq Mehar by Muntaha Chohan NovelR50510 Mera Haq e Wirasat (Episode 36)
Rate this Novel
Mera Haq e Wirasat (Episode 36)
Mera Haq e Wirasat by Muntaha Chohan
دوا سے مرض ٹھیک ہوتا ہے یا دعا سے۔۔۔؟؟
جو بھی ہو لیکن جب مرضِ عشق ہو جاۓ تو نہ دوا۔لگتی ہے ۔نہ دعا ۔۔۔۔!
ابتسام نے ابش سے ہمکلام ہونا چجھوڑ دیا تھا۔ دونوں میں ایک سرد مہری کی دیوار قاٸم ہو چکی تھی۔ جو دونوں میں سے ایک بھی گرانے کو تیار نہ تھا۔
لیکن ابرش اپنی طرف سے ایک چال کھیل چکی تھی۔
خلصع کے پیپرز بی بنوا لیے تھے۔ لیکن ہانیہ کی مسلسل خاموشی اسے بہت کچھ سوچنے پے مجبور کر رہی تھی۔ اس لیے اس بار ابرش نے آہان سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی۔ اسکا کیا ردعمل آتا ہے۔۔؟؟
اسی لیے آج وہ اس سے بات کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
آنیہ ابھی تک یہیں تھی۔ نہ وہ میر کی کالز اٹینڈکر رہی تھی۔ اور نہ ہی واپس جا رہی تھی۔ اسکی طبعیت بھی ان دنوں گری گری رہنے لگی تھی۔ وجہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ شاید۔۔۔ وہ زہنی دباٶ کا شکار تھی۔
وہ جلد از جلد نور فاطمہ سے ملنا چاہتی تھی۔ اسکے بعد ہی وہ یر سے بات کرنے والی تھی۔
لیکن اسکے لیے اسے انتظار کرنا پڑ رہا تھا۔ جب تک آہان خود نہیں ملوا دیتا تھا۔
آنیہ نے ہانیہ سے بھی بات چیت بند کر دی تھی۔ ہانیہ جانتی تھی۔ وہ اس سے ناراض ہے۔ اس لیے فی الحال اسے اسکے حال پے چھوڑ دیا۔












یہ لیں۔۔۔! فیصل نے ایک اسکیچ کھینچ کے نور کی جانب بڑھایا۔
نور نے خالی خالی نظروں سے اسے تھاما۔
اس میں نور کی تصویر تھی۔نور بس یک ٹک یکھے جا رہی تھی۔ بنا کسی ردعمل کے۔ فیصل اسے کافی وقت دے رہا تھا۔ اور اس سے کافی حد تک اٹیچ ہو رہا تھا۔ قلبی طور پے وہ نور سے قرب تر ہوتا جا رہا تھا۔ اسکا یوں چپ چپ رہنا اسے اداس کر رہا تھا۔ وہ اتنی نازک مزاج تھی۔ اور بے انتہا خوبصورت۔ کہ ہاتھ لگاۓ میلی ہوتی تھی۔ جب جب فیصل کو اسکے ساتھ ہوٸ زیادتی یاد آتی۔ اسکا دل بہت سخت دکھتا۔ اس کا بس نہ چلتا کہ وہ ورق وہ لمحہ اسکی زندگی سے نوچ پھینکے۔
وہ جاننا چاہتا تھا۔ کہ یہ لڑکی مسکراتے ہوۓ کیسی لگتی ہوگی۔۔؟؟ لیکن وہ تو بس چیزوں کو گھورتی رہتی۔ یا پھولوں کو پودوں کے ساتھ وقت گزارتی۔
یا زیادہ تر کمرے میں اندھیرا کیے بیٹھی رہتی۔
لیکن لب وہ سی چکی تھی۔جب سے وہ وہاں تھی۔ ایک لفظ اس نے ادا نہ کیا تھا۔ اور فیصل ترس رہا تھا۔ کہ اسکی آواز ہی سن لے۔
وہ اندر جا چکی تھی۔ آہان کی کال پے فیصل نے کال پک کی۔
کیا ہوا۔۔؟؟ کوٸ پریگریس ہوٸ۔۔؟ وہی روز کا سوال۔
نہیں۔۔۔ ! وہ بس چپ نہیں توڑ رہی۔۔۔ شاید۔۔ کی اپنے کو دیکھے۔۔ تو ۔۔۔ کچھ رسپانس کرے۔۔؟؟ فیصل نے اپنی تٸیں مشورہ دیا۔
وہ فوجی ڈاکٹر تھا۔ نور اسکے انڈر ابزرویشن میں تھی۔ وہ اسکا علاج کر رہا تھا۔ جبکہ خود مریضِ عشق بن رہا تھا۔ جو کہ ایک لاعلاج مرض تھا۔
ہمممم۔۔۔۔ کرتے ہیں کچھ۔۔۔! کہتے آہان نے کال بند کر دی۔
جبکہ فیصل اندر کی جانب بڑھ گیا۔
صد شکر تھا۔ کہ وہ خود کو اب کوٸ نقصان نہں پہنچاتی تھی۔ شروع کے دنوں میں تو وہ اپنے آپ کو نوچتی تھی۔ تکلیف پہنچاتی تھی۔ لیمن اب اس میں فرق آگیا تھا۔












وہی تہہ خانہ۔۔۔
وہی گند۔۔
وہی زنجیریں۔۔
وہی حالتِ زار۔۔
بس فرق صرف اتنا تھا۔ کہ پہلے یہاں نور فاطمہ تھی۔ اب نور جہاں تھی۔
اسکی اپنی بیٹی۔
وہی نور جہاں جو اسکا غرورتھی۔اسکامان تھی۔
آج وہ پاگلوں والی حرکتیں کر رہی تھی۔ وہ چاہ کے بھی اپنی بیٹی کا علاج نہیں کروا پارہہا تھا۔ کیونکہ اسکے مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو رہی تھی۔
وہ جب سے آٸ تھی۔ تب سے ہی اسکے دماغ کو انہوں نے اپنی جگہ نہ پایا۔ وہ کچھ سے کچھ کر رہی تھی۔ اور ایک دن تو حد کردی۔ سلطان کے سارے آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ وہ تو باپ کو بھی مار دیتی۔ اگر سلطان کے آدمی اسکا بچاٶ نہ کرتے۔
اس کے بعد سے سلطان نے نور جہاں کو رسیوں میں جکڑ دیا تھا۔
لیکن وہ اس سب پے اندر ہی اندر تڑپتا تھا۔ وہ جو بھی چیز نظر آتی سامنے والے کو اٹھا کے مارتی۔ یا خود کو مارنے لگتی۔
وہی سب کچھ تھا۔ بس لڑکی بدل گٸ تھی۔
منظر وہی تھا۔ بس سزا وار بدل گیا تھا۔
سلطان وہاں سے اٹھا۔ اور آنکھیں پونچھتا باہر نکلا۔
میں اپنی بیٹی کو ضرور ٹھیک کروں گا۔۔۔ یہی تو میری اصل وارث ہے۔
سلطان دادا۔۔۔!ایک اہم خبر لایا ہوں۔ ابتسام پیزادہ نے پنی ساری جاٸیداد اپنے بیٹے ابیہان کے نام کر دی۔
اس کے خاص آدمی نے اسکے کان کے پاس آتے کہا۔
ناممکن۔۔۔! سلطان نے دانت پیسے۔ ام۔۔ غلط نہیں ہو سکتا۔۔۔ وہ لڑکا ہی حمزہ کا بیٹا ہے۔۔ وہ اس ابتسام کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے۔۔؟ سلطان کو یقین نہ آیا۔
لیکن یہی سچ ہے۔۔۔! اس آدمی نے اپنی بات پے زور دیا۔
یہ۔۔۔ امیں گمرازہ کر نے کی سازش ہے۔
تم۔۔ ایک کام کرو۔۔ جہاں بھی موقع ملے۔۔ اس لڑکے کو ختم کر دو۔۔۔! باقی ام خود دیکھ لے گا۔
سلطان ن مونچھوں کو تاٶ دیا۔
جو حکم سلطان دادا۔
وہ خاص آدمی وہا ں سے چلا گیا۔
ام کو۔۔ پاگل بناتا ہے۔۔ اس لڑکے کو تو مار کے ہی دم لوں گا۔۔اپنے نجاٸز بیٹے کو نہیں چھوڑا ام نے۔۔ تو وہ کیا چیز ہے۔۔؟؟ سلطان نے نفرت اور حقارت سے سوچا۔










جی ! آپ نے بلایا۔۔؟؟ آہان کو ابرش کاپیغام ملا تھا۔ اور وہ حیران تھا۔ کہ خود ابرش ماں نے یسے اسے بلا لیا۔
اندر آٸیں۔
ابرش نے اسے بیٹھنے کو کہا۔
آہان سر جھکاۓ وہیں بیٹھ گیا۔
اب تک جو بھی ہوا۔۔ سو ہوا۔۔ لیکن ۔۔ اب میں نے کچھ فیصلہ لیا ہے۔۔۔! ابرش نے اپنی بات شروع کی۔
آہا ن اپنے دماغ کے گھوڑے دوڑانے لگا۔ کہ وہ کیا کہنے والی ہیں۔
آپ نے اور ابتسام نے مل کے ۔۔۔ جو بھی کیا۔۔۔ میں اس می ںکہیں بی شامل نہیں۔۔۔ بلکہ۔۔۔ شاید میں ایک ثانوی حیثیت بھی رکھتی ہوں یا نہیں۔۔ یہ بھی نہیں پتہ۔۔۔۔خیر۔۔۔! یہ ہمارا آپسی معاملہ ہے۔ اس میں آپ کو کچھ بھی کہنے یا بولنے کا کوٸ حق نہیں۔
اپنی کہتے وہ اسے کچھ بھی کہنے سے باز کر گٸ تھی۔
وہ چپ چاپ سن رہا تھا۔
ایک سب سے بڑا سچ۔۔۔! کہ آپ نہ ہی میرے بیٹے ہیں۔ نہ ابتسام کے۔۔۔! لیکن۔۔۔ ابتسام نے ۔۔ اپنی وراثت کا حق دار صرف آپ کو ٹھہرایا ۔ جبکہ آپ کا اس ورثت میں کوٸ حق نہیں بنتا۔ کیونکہ ۔۔ آپ کا ہم سے کوٸ تعلق نہیں۔۔ اور عدالت میں مجھے یہ ثابت کرنے کے لیے ۔۔ بالکل بھی کوٸ وقت نہیں لگے گا۔۔۔
ایک سختی اور عزم بول رہا تھا۔ اور آہان کتنے ضبط سے سن رہا تھا۔ یہ بس وہی جانتا تھا۔
لے پالک کا جاٸیداد یا وراثت میں کوٸ حق نہیں ہوتا۔۔۔ شاید۔۔ ابتسام یہ بات بھول گۓ ہیں۔
ابرش کا کہا گیا ایک ایک لفظ آہان کے دل پے لگ رہا تھا۔ ہاتھوں کی انگیوں آپس میں جوڑے وہ کڑے ضبط کے مراحل سے گزر رہا تھا۔
لیکن۔۔۔ ہانیہ نے جو غلطی کی۔۔ اسکے بد اسکی سزا منتخب کی۔ ابتسام نے۔۔۔! جو مجھے نہ اس وقت قبول تھی۔ نہ اب۔۔۔!ابرش کی اس بات پے آہان کے دل کی دھڑکن سست پڑی۔
اس لیے۔۔۔ میں نے فیصلہ لیا ہے۔۔ اپنی بیٹی کے لیے۔۔۔! کہ آپ اور۔۔ ہانیہ۔۔۔ کا نکاح جو ۔۔ ہوا تھا۔۔۔ وقت کی ضرورت تھا۔ ۔۔اب اسے اینڈ ہو جانا چاہیے۔۔۔!
آہان نے ضبط سے آنکھیں بند کیں۔
وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا۔ کہنا چاہتا تھا۔ کہ ہنیہ یہ تعلق رکھنا چاہتی ہے وہ مجھ سے رشتہ نبھانا چاہتی ہے۔ ابھی وہ کچھ کہتا کہ۔۔؟؟
میں نے خلع کے پیپرز بنوا لیے ہیں۔ آپ اور ہانیہ دونوں کل ہی آفس آجاٸیے گا۔ ہانیہ سے میری بات ہوچکی ہے۔ اسے کوٸ اعتراض نہیں۔
ابرش کی بات پے آہان کا مان ٹوٹا تھا۔ آنکھیں نہیں روٸیں تھیں۔ اسکا دل رویا تھا۔
فوراً سے اٹھا۔
میری بات کا جواب نہیں دیا۔۔؟؟ ابرش بھی اٹھ کھڑی ہوٸ۔
کل۔۔۔ کس وقت آنا ہے۔۔؟ نظریں جھکاۓ بس اتنا ہی پوچھ پایا۔
ابرش نے اسکے لہجے میں چھپا کرب واضح محسوس کیا۔
صبح گیارہ بجے تک ۔۔ دونوں آجاٸیے گا۔ اور۔۔۔؟
ٹھیک ہے۔۔۔! آجاٶں گا۔۔۔! جہاں کہیں گیں۔۔۔ ساٸن بھی کر دوں گا۔
آخری الفاظ کہتے ایک کب بھری نظر ابرش پے ڈالی ۔
ابرش کا دل پل بھر میں پسیجا۔ لیکن خاموش رہی۔
امید کرتی ہوں۔یہ بات ہم تک ہی رہے گی۔
ابرش نے ایک نظر اسکے چہرہ کو ٹٹوالا۔
نظریں جھکاۓ وہ آخری ضرب بھی برداشت کر گیا تھا۔
آہان کے جانے کےبعد وہ گہرا سانس خارج کرتی وہی بیٹھ گٸ۔
کیا۔۔؟؟ میں۔۔ صحیح کر رہی ہوں۔۔۔؟؟؟ کہیں۔۔ دونوں ایک دوسرے سے۔۔۔؟؟ ابرش سوچ میں ڈوب گٸ۔










آنیہ پک اپ دا فون۔۔۔! میر ہادی نے آج بھی اس سے بات کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جواب ندارد۔
ٹھیک ہے۔ اگر ایسا ہے تو۔۔ ایسا ہی سہی۔۔۔
رہیں آپ اپنےگھر۔۔۔! میر ہافی کو بہت غصہ تھا۔
وہیں دوسری طرف ہانیہ نے اس سے رابطہ کرنے سے منع کیا تھا فی الحال ۔
بس وہ یہی جان سکا کہ۔ نور زندہ ہے۔۔ لیکن اسکا بس نہیں چل رہا تھا۔ کہ اڑ کے بہن تک پہنچ جاۓ۔
فیروز۔۔۔؟؟ کال پے اپنے آدمی کو فون کیا۔
آہہن کا پیچھا کرو۔۔ مجھے شک ہے۔۔۔ کہ وہ ضرور جانتا ہے۔۔ میری بہن کہاں ہے۔۔۔! فیروز سے اسکی کوٸ بھی بات چھپی نہ تھی۔
اس لیے اسے آرڈر دیتا وہ آنیہ کے تعلق سوچنے لگا۔ اسکا یوں چپ ہوجانا۔۔۔؟ میر کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔











ایک سب سے بڑا سچ۔۔۔! کہ آپ نہ ہی میرے بیٹے ہیں۔ نہ ابتسام کے۔۔۔! لیکن۔۔۔ ابتسام نے ۔۔ اپنی وراثت کا حق دار صرف آپ کو ٹھہرایا ۔ جبکہ آپ کا اس وراثت میں کوٸ حق نہیں بنتا۔ کیونکہ ۔۔ آپ کا ہم سے کوٸ تعلق نہیں۔۔ اور عدالت میں مجھے یہ ثابت کرنے کے لیے ۔۔ بالکل بھی کوٸ وقت نہیں لگے گا۔۔۔
ایسا لگا کسی نے زور کا تھپڑ اسے رسید کیا ہو۔
لے پالک کا جاٸیداد یا وراثت میں کوٸ حق نہیں ہوتا۔۔۔ شاید۔۔ ابتسام یہ بات بھول گۓ ہیں۔
ایک اور تھپڑ۔۔ !
آہان نے لب بھینچے۔ اور کل کے بارے میں سوچنے لگا۔
